پیشن گوئیوں میں بابا وانگا کا ریکارڈ بھی توڑ دیا گیا

تحریر: فضل حسین اعوان

| شائع نومبر 13, 2016 | 18:07 شام

لاہور (شفق ڈیسک) شیخ رشید نے عجیب و غریب پیشن گوئیاں کر دیں۔ بابا وانگا کی پیشن گوئیوں کا ریکارڈ بھی توڑتے ہوئے سربراہ پاکستان عوامی مسلم لیگ شیخ رشید احمد نے کہا کہ پانامہ لیکس کے معاملے میں اگر سپریم کو رٹ سے بھی انصاف نہ ملا تو ملک میں خانہ جنگی ہو جائیگی۔ سپریم کورٹ سے ہی انصاف کی امید ہے، 2016ء نواز حکومت کے خاتمے کا سال ہے۔ میرا سیاسی استخارہ یہ کہتا ہے کہ جنرل راحیل شریف توسیع نہیں لیں گے، اگر صرف نوازشریف کی جگہ متبادل وزیر اعظم آ جائے اور سارا نظام یونہی چلتا رہے تو پھر عمران خان کو

اور مجھے کوئی فائدہ نہیں کیونکہ ہم تو چاہتے ہیں کہ میاں نواز شریف کی حکومت جائے۔ نجی ٹی وی کو انٹر ویو کے دوران شیخ رشید احمد نے کہا کہ پانامہ لیکس کے معاملے میں اگر سپریم کو رٹ سے بھی انصاف نہ ملا تو ملک میں خانہ جنگی ہو جائیگی اور جمہوریت ایک تماشا بن جائے گی، لیکن ہم پھر بھی کسی صورت پانامہ سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ سپریم کورٹ کی خواہش ہے کہ ملک کو تشدد اور انتشار سے بچایا جائے اس لئے مجھے سپریم کورٹ سے ہی انصاف کی امید ہے۔ 2016ء نواز حکومت کے خاتمے کا سال ہے۔ (ن) لیگ میں وزیر اعظم کے استعفیٰ کی تجویز زیر غور ہے۔ صرف نواز شریف ہی نہیں بلکہ انکی جماعت کے دوسرے لوگوں کا بھی ٹرائل ہو نا چاہیے۔ ڈان لیکس پانامہ لیکس سے بھی بڑا ایشو ہے، یہ حکومت کے گلے پڑ چکا ہے اگر اس کو حکومت نے منطقی انجام تک نہ پہنچایا تو صورتحال مزید پریشان کن ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرا سیاسی استخارہ یہ کہتا ہے کہ جنرل راحیل شریف توسیع نہیں لیں گے، 2 نومبر سے پہلے اسلام آباد میں حالات جتنے خراب ہو گئے تھے فوج مداخلت کر سکتی تھی لیکن فوج نے مداخلت نہ کر کے صرف اچھا ہی نہیں بلکہ بہت اچھا کیا کیونکہ اس سے صورتحال مزید خراب ہو سکتی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وزیر اعظم کے استعفیٰ کی طرف بات چلی گئی تو پھر نواز شریف نئے انتخابات کروانے کا اعلان بھی کر سکتے ہیں اگر صرف نوازشریف جائے اور انکی جگہ کسی اور کو وزیراعظم نامزد کر دیا جائے اور سارا نظام یونہی چلتا رہے تو پھر پی ٹی آئی اور عوامی مسلم لیگ کو کوئی فائدہ نہیں کیونکہ ہم تو چاہتے ہیں کہ میاں نوازشریف کی حکومت جائے۔ انہوں نے کہا کہ بلاول اگر باپ کی طرز کی سیاست چھوڑ کر اپنی سیاست کرتا تو مزید اچھی بات تھی۔