ننھے کیل نما ربڑ کے ذرات ٹائرز پر کیوں ہوتے ہیں؟

تحریر: فضل حسین اعوان

| شائع اکتوبر 12, 2016 | 15:34 شام

اسلام آباد (شفق ڈیسک) نبینز کو صاف کرنیکے کئی طریقے ہیں اور یہ عام طور پر مہنگے ٹائرز میں نظر نہیں آتے۔ گاڑی کے ٹائرز بناتے وقت ان پر ربڑ کے کیلوں جیسے ذرات ’’نبینز‘‘ خود ہی وجود میں آجاتے ہیں۔ گاڑی کے ٹائرز پر ربڑ کے کیلوں جیسے ننھے ذرات کا کوئی مقصد نہیں ہوتا اور یہ بغیر کسی کوشش کے خود ہی وجود میں آجاتے ہیں، ٹائرز ایک بڑے ٹھوس سانچے میں تیار کئے جاتے ہیں اور ربڑ کو سانچے میں ڈال کر ٹائر کی شکل دی جاتی ہے جب ٹائر کو سانچے سے باہر نکالا جاتا ہے تو اسکے سوراخوں میں موج

ود ربڑ کو کھینچ کر باہر نکالا جاتا ہے۔ ربڑ کو کھینچنے کے بعد وہ ننھے کیل نما ربڑ کے ذرات ٹائر پر پھیل جاتے ہیں جنہیں نبینز بھی کہا جاتا ہے، انکو صاف کرنیکے کئی طریقے بھی ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ مہنگے ٹائرز میں عام طور پر یہ نظر نہیں آتے۔