سپریم کورٹ سے کرپشن کا تابوت نکلنے کے دعویدار پریشان

2017 ,اپریل 21



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک / نوازرضا): بالآخر سپریم کورٹ آف پاکستان کے لارجز بنچ نے پانامہ پیپرز لیکس پر کم وبیش دو ماہ تک محفوظ فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت عظمٰی نے 3 ججوں نے پانامہ پیپرز لیکس کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم قائم کرنے کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے جب کہ دو ججوں نے وزیراعظم کو نااہل قرار دینے کے بارے میں رائے دی ہے پچھلے ایک سال پانامہ پیپرز لیکس پر اٹھنے والا طوفان بظاہر تھم گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے 3 ججوں کی رائے ہی عدالتی فیصلہ ہے۔ تحریک انصاف اور عوامی مسلم لیگ نے اپنی پٹیشن میں وزیراعظم محمد نوازشریف کو ناہل قرار دلوانے کی استدعا کی تھی جسے سپریم کورٹ نے مسترد کر دیا۔ سپریم کورٹ نے وزیراعظم محمد نوازشریف کو نااہل قرار نہیں دیا بلکہ انہیں پانامہ پیپرز لیکس کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ یہ کمیٹی 7 روز میں قائم کر دی جائے گی جسے 60 روز کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ جو ہر 15 روز بعد سپریم کورٹ کے خصوصی بنچ کو آگاہ رکھے گی۔ سپریم کورٹ 5 رکنی لارجز بنچ جو جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں قائم ہے نے عمران خان اور شیخ رشید کی وزیراعظم محمد نوازشریف کو نااہل قرار دینے کی استدعا مسترد کرکے عملا سردست وزیراعظم کو اہل قرار دے دیا ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی بار وزیراعظم اپنے خلاف کرپشن کے الزامات کی تحقیقات کے لیے پیش ہوگا۔ ان کے ساتھ ان کے دونوں صاحبزادے حسن اور حسین بھی پیش ہوں گے یہ اپنی نوعیت کی غیر معمولی تحقیقات ہوگی۔ یہ کمیٹی اس بات کی تحقیقات کرے گی کہ کس طرح قطر میں رقم منتقل کی گئی۔ سپریم کورٹ نے کمشن قائم کیا اور نہ ہی چیئرمین نیب کو ہٹایا۔سپریم کورٹ نے چیئرمین نیب کے بارے میں اس حد تک ریمارکس دئیے ہیں کہ وہ غیر رضا مند پائے گئے ہیں اس بات کی تحقیقات ہونی چاہیے سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ’’وائٹ کرائم‘‘کرائم کی تحقیقات کرنے میں ناکام رہے۔ سپریم کورٹ نے جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کی تشکیل دینے کا جو فیصلہ کیا ہے اس میں سٹیٹ بنک‘ ایم آئی‘ آئی ایس آئی‘ ایس سی پی‘ نیب اور ایف آئی اے کے سینئر افسران شامل ہوں گے ۔ سپریم کورٹ کے لارجر بنچ نے سزا میں پانامہ پیپرز لیکس پر جب فیصلہ سنایا تو اس وقت سناٹے کی کیفیت تھی۔ مسلم لیگ ن ‘ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی پوری قیادت کورٹ روم میں موجود تھی جب جسٹس آصف سعید کھوسہ نے وزیراعظم محمد نوازشریف کے حق میں فیصلہ دیا تو مسلم لیگی رہنماؤں کے چہرے کھل اٹھے تحریک انصاف کے رہنماؤں کے چہروںپر مایوسی دیکھی جاسکتی تھی۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ مجموعی طورپر 540 صفحات پر مشتمل ہے ۔ جس میں پانچوں ججوں نے اپنے اپنے الگ الگ ریمارکس تحریر کئے ہیں ۔ فیصلہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سنایا جبکہ جسٹس اعجاز افضل نے تحریر کیا۔ یہ بات قابل ذکر ہے سپریم کورٹ نے وفاقی وزیر خزانہ واقتصادی اسحق ڈار اور کیپٹن محمد صفدر کو نااہل قرار نہیں دیا جب کہ پٹیشن میں ان کو نااہل قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی ۔ سپریم کورٹ نے تحقیقات کے لیے کمشن بنانے کی بجائے جے آئی ٹی بنانے کو ترجیح دی ہے اس معاملہ کی تحقیقات کے لیے 60 روز کی مدت مقرر کی گئی ہے اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے پی ٹی آئی اور عوامی مسلم لیگ اور جماعت اسلامی نے وزیراعظم محمد نوازشریف اور ان کے خاندان کے خلاف جو دستاویزات سپریم کورٹ میں پیش کیں جن کو تحقیق طلب قراردی گئی ہیں وزیراعظم سے ان دستاویزات کے بارے میں سوالات کئے جائیں گے بظاہر عمران خان شیخ رشید احمد اور سراج الحق سپریم کورٹ میں پیش کا وزیراعظم محمد نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف کرپشن کا کیس لے کر گئے تھے لیکن اس پٹیشن کی آڑ میں اپنے ’’سیاسی مقاصد‘‘ حاصل کرنا چاہتے تھے۔ جو وہ حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے نوازشریف نااہل قرار نہ دیئے جانے سے نوازشریف کی فتح ہوئی ہے سپریم کورٹ سے کرپشن کا ’’تابوت‘‘ نکلنے کے دعوے کرنے والوں کو مایوسی ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے ملکی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ بظاہر پانامہ۔ 1 ختم ہو گیا ہے عمران خان شیخ رشید احمد اور سراج الحق کو عدالتی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اس کے بعد پانامہ۔ 2 شروع ہوگا پانامہ پر سیاست ختم نہیں ہوئی عمران خان نے اس فیصلہ سے قبل ہی پریڈ گراؤنڈ میں ’’یوم تشکر‘‘ منانے کا اعلان تھا لیکن اب جسہ ہوتا نظر نہیں آتا۔ عمران خان اپنی عدالتی شکست کو ’’جیت جیت‘‘  میں تبدیل کرنے کی کوشش کریں گے۔ اب وہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے اپنے لئے جیت تلاش کریں گے۔ وزیراعظم محمد نوازشریف نے وزیراعظم ہاؤس میں سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ سنا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف‘ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور اپنی صاحبزادی مریم نواز بھی موجود تھے۔ وزیراعظم اﷲ تعالیٰ کے سربسجود ہو گئے اور اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جس نے نہیں سرخرو کیا۔ سپریم کورٹ کے پانامہ پیپرز پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سیاسی ماحول کا ٹمپریچر مزید بڑھ جائے گا۔ سر دست اپوزیشن ’’بیک فٹ‘‘ پر چلی گئی ہے۔ عمران خان نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وزیراعظم محمد نوازشریف سے استعفے کا مطالبہ کر دیا ہے ان کی سیاست کا بنیادی مقصد ہی یہی ہے اب وہ اسی نعرے پر اپنی آئندہ سیاست کے تانے بانے بنیں گے۔ پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کے سربراہ نے بھی قدرے نرم لہجے میں وزیراعظم محمد نوازشریف نے استفعا کا مطالبہ کر دیا اور اس سپریم کورٹ کا فیصلہ مسترد کر دیا ہے ۔ وزیراعظم محمد نوازشریف کو ایک بار پھر اپوزیشن بالخصوص تحریک انصاف کے ایجی ٹیشن کا سامناکرناپڑے گا۔ مسلم لیگ ن نے بھی 20 اپریل 2017ء کو وزیراعظم محمد نواز شریف کے ساتھ اظہار یکجہتی کا دن منایا ہے۔ اس طرح مسلم لیگ ن کی قیادت نے بھی ’’سیاسی میدان‘‘ کھلا نہ چھوڑنے کا اعلان کردیا ہے اور وہ سیاسی مخالفین کا مقابلہ کرے گی۔

 

متعلقہ خبریں