پنڈوں تیرہویں تے چھتروں آدھ

2019 ,اکتوبر 14



           
مطلوب احمد وڑائچ
matloobwarraich@yahoo.com
ہر طرف خوشحالی کا دور دورہ ہے، ملک کے بائیس کروڑ عوام میں سے کوئی ایک بھی بھوکا، ننگا اور نادار تلاش کرنا ممکن نہیں، حکومت پچاس لاکھ مکانات کا ہدف پورا کر چکی، مزید ایک کروڑ مکانات تعمیر کرکے عوام الناس میں تقسیم کیے جائیں گے۔ ملک کے تمام بے روزگار نوجوانوں کو ایک کروڑ ملازمتیں دی جا چکیں۔ لیبر اور افرادی قوت کی کمی کی وجہ سے غیرممالک سے افرادی قوت درآمد کی گئی ہے۔

امن و امان کی صورت حال یوں ہے کہ چاروں صوبوں میں کوئی ایک ایف آئی آر بھی قتل، ڈاکے اور چوری کی نہیں کاٹی گئی۔ غریب کے بچے اور امیر کی اولادیں سبھی کو ایک جیسا معیارِ تعلیم میسر ہے۔ سبز پاسپورٹ کی اہمیت اور تکریم اس قدر بڑھ گئی ہے کہ امریکہ، کینیڈا اور یورپ نے پاکستانی کے لیے انٹری فری سہولتوں کا اعلان کر رکھا ہے۔ ہمارے کھیت فصلوں سے لدے ہوئے لہلہا رہے ہیں۔ ہماری کاٹن اور سپننگ ملوں میں صبح و شام شفٹوں میں کام ہو رہا ہے۔ جگہ جگہ حکومتی لنگرخانے اور قیام گاہوں کا جال بچھایا جا چکا ہے۔ اور ایک بار پھر خانقاہی اور امیرالمومنین کا نظام رائج ہے۔ عوام کی آسودگی کا یہ عالم ہے کہ اب سڑکوں اور چوراہوں پر بھکاریوں کی جگہ ملی ترانے گاتے ہوئے خاندان نظر آئیں گے۔ ملک میں صحت مند سرگرمیوں کا یہ عالم ہے کہ آئندہ اولمپک میں قومی ٹیمیں کم از کم پچاس گولڈ میڈل جیت کر لائیں گی جبکہ کرکٹ، ہاکی اور فیفاورلڈ کپ کے فائنل تک رسائی ہمارا ٹارگٹ ہے۔

ملک میں ثقافتی سرگرمیوں کا عروج ہے۔ پوری دنیا سے ثقافتی طائفے پاکستان آ رہے ہیں اور پاکستان سے ثقافتی طائفے بیرونِ ملک تسلسل کے ساتھ جا بھی رہے ہیں جبکہ ملکی سلامتی کو درپیش چیلنجز کے سدباب کے لیے نئی اسلحہ ساز فیکٹریوں اور ہائی ٹیک میزائل سسٹم کو محکمہ دفاع کے حوالے کر دیا گیا ہے جبکہ تھنڈر ایف 50طیارہ بنا کر دنیا بھر میں تہلکہ مچا دیا گیا۔ بائیس کروڑ پاکستانیوں کو پیدائش سے ہی ہیلتھ کارڈ، مفت علاج اور دوائیوں کی سہولت فراہم کر دی گئی ہیں، زکوٰۃ اور صدقہ دینے کے خواہاں لوگوں کے لیے بہت مشکل ہے کہ انہیں کوئی صدقہ وصول کرنے والا نہیں مل رہا۔
 قارئین! جب اس قدر خوشحالی، ترقی اور آسودگی کا دور دورہ ہوگا تو ملک کا سربراہ وزیراعظم یقینا یہ سوچتا ہوگا کہ میرے ملک کے اندر پایا جانے والا پرسکون ماحول اور مطمئن زندگی مجھے یہ اجازت دیتی ہے کہ میں عالمِ اسلام کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی نمائندگی کا بیڑہ اٹھاؤں، میں اپنے مذہبی بھائیوں کو جنگ کی دلدل سے نکالوں۔ شام، عراق، لیبیا، یمن،افغانستان، فلسطین اور کشمیر جیسے دیگر کئی اسلامی ممالک میں گذشتہ بیس سال سے انسانیت کا جوقتل عام ہو رہا ہے اب ان کو ہماری لیڈرشپ کی ضرورت ہے اور قارئین اسی جذبے کو مدِنظر رکھتے ہوئے خوشحال پاکستان کے کامیاب وزیراعظم جناب عمران خان صاحب نے عالم اسلام  کی کمان سنبھالنے کا بیڑہ اٹھا لیا ہے اور ہم پاکستان کی حاصل کردہ ریاستی ترقی کو مدنظر رکھ کر عالم اُمہ کے لیے ایک پیکیج ترتیب دیں گے اور ہاں اس نئے سسٹم کو خلافت کا نام دیا جائے گا اور اس کے خلیفہ عمران خان صاحب ہوں گے۔ بالکل اسی طرح اس سے پہلے بھی ہم اسلامی امہ کی حفاظت کے لیے ایک اسلامی فوج تشکیل دے چکے ہیں۔

جس کی سربراہی پاکستان کے ایک سابق سپہ سالار کے ہاتھ میں ہے اور جب سے موصوف اس اتحادی فوج کے سربراہ بنے ہیں۔ سعودی عرب، ایران، یمن، شام اور لبنان میں ایک نہ تھمنے والی فرقہ پرست خانہ جنگی کا آغاز ہو چکا ہے۔ نہ جانے ہر مسلمان حکمران کو امیرالمومنین بننے کا جنون سوار ہے اور اپنی اسی انا کو لے کر وہ ایک ایسی غلط سمت کی طرف چل پڑتے ہیں کہ وہ اپنے ملک کے کروڑوں عوام کی بنیادی ضروریات کو بالکل پس پشت ڈال دیتے ہیں اور امیرالمومنین بننے کا خواب انہیں اپنے ملک کی سلامتی کو داؤ پر لگا دیتا ہے۔ 
قارئین! کچھ اسی طرح ہی ہمارے پیارے وزیراعظم جو پوری ملکی قیادت کو بے ایمان اور کرپٹ ثابت کرنے کے جنون میں پچھلے پندرہ سالوں سے شب و روز محنت کرکے اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہو چکے ہیں، جنہوں نے پرائم منسٹر ہاؤس میں قیام سے انکار کر دیا تھا۔ پرائم منسٹر ہاؤس کی دودھ کی ضروریات پوری کرنے والی بھینسوں کو بیچ دیا گیا۔ پرائم منسٹر ہاؤس میں ملازمین کی کٹوتی کی گئی۔ گورنر ہاؤسز کی دیواریں گرانے کا عزم دہرایا گیا جبکہ موجودہ پرائم منسٹر ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے کا اعلان  بھی کیا گیا مگر جیسے ہی اقتدار کی مسند پر براجمان ہوئے اوروہ جو غیر ملکی دوروں کو غیرضروری سفر اور حرام خیال کرتے تھے، پہلے پہل کمرشل فلائٹ سے سفر کرتے تھے، اب ان سب باتوں کو بھلا کر بائیس کروڑ پاکستانیوں کی خواہش اور خوابوں کا گلا گھونٹ کر فقط اقتدار کے نشے کو انجوائے کرنے کے لیے اور چند خوشامدی حواریوں کی شہ پر اب خلیفتہ المسلمین کا خطاب اپنے نام کے ساتھ لگانا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے گھر کے اندر ہزاروں مشکلات غیر حل شدہ معاملات، بے روزگاری اور معاشی افراتفری سمیت اپنی شہ رگ کشمیر دشمن کے نرغے میں دے کر خارجہ معاملات پر شکست و ریخت اٹھانے کے بعد اور ملک کے اندر اپوزیشن کی متوقع مارچ اور ریلیوں کو یکسر نظرانداز کرکے اور وہ بھی فقط اس سلوگن کے تحت کہ حکومت اور فوج ایک پیج پر ہیں تو جناب وزیراعظم صاحب عوام آپ سے یہ پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ اگر پاک افواج اور ملک کی عسکری طاقت واسٹیبلشمنٹ آپ کے ساتھ ایک پیج پر بھی ہے تو عوام کو اس سے کیا لینا دینا، ملک کی سیاسی قیادت میں اسی فیصد ٹاپ قیادت جیلوں میں بند ہے جبکہ باقی بیس فیصد کے پیچھے کیسز تیار کرکے ان کو ہراساں کرنے کا عمل جاری ہے۔

پچھلے پندرہ مہینوں میں حکومت اپنے انتخابی منشور پر ایک فیصد بھی عمل نہیں کر سکی جبکہ ہماری خواہشیں عالمی لیڈر کہلوانے اور نوبل انعام کا حقدار خود کو سمجھتے ہیں اور آج بھی وزیراعظم ایران، سعودی عرب اور یمن کے درمیان مصالحت اور ثالث کا کردار ادا کرنے کے لیے ملک سے غائب ہیں جبکہ یہ حقیقت روزروشن کی طرح عیاں ہے کہ بھوک سے جن کے پیٹ خالی ہوتے ہیں وہ ثالثی نہیں کر پاتے اور بھوکے انسان کا تو کوئی مشورہ بھی نہیں مانتا،ایک طرف ہم دنیا سے قرض مانگتے پھرتے ہیں اور پھر انہی قرض دینے والوں کی آپس میں صلح کروا کر یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ ہم عالم اسلام کی لیڈرشپ ہیں جبکہ یہ حقیقت ہے کہ سعودی عرب اور ایرا ن ہمارے دوست نہیں بلکہ ماضی کی تاریخ میں ان ممالک نے ہمیشہ پاکستان کو ایک نچلے درجے کا مسلمان ملک تصور کیا اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے وقت آنے پر دوستی کا ڈھنڈورا بھی پیٹا جبکہ ہمارا رویہ ہمیشہ ان کے ساتھ یہ رہا کہ ”پنڈوں تیرہویں تے چھتروں آدھ“اس پنجابی کہاوت کا مطلب یہ ہے کہ ”حصہ بٹے تو ہمارا تیرواں حصہ بنتا ہے اور جب کسی غلطی پر چھترول ہو تو ہمیں پورے آدھے چھتر پڑتے ہیں“
 

متعلقہ خبریں