سعودی عرب کا قومی دن... اورپاسبانِ حرمین

تحریر: فضل حسین اعوان

| شائع ستمبر 24, 2016 | 11:13 صبح

صدرِ پاکستان جنرل محمد ضیاءالحق 1984ءمیں کویت، بحرین،اردن اورترکی کے دورے پر گئے، جنرل ضیاءالحق کے معمول کے مطابق ہردورے سے واپسی پر آخری منزل سعودی عرب ہوا کرتی تھی، وہ عمرہ ادا کرکے وہ وطن لوٹتے، چار ملکی دورے کے آخری مرحلے میں وہ وفد کے ساتھ ترکی گئے، دورے کی تکمیل پر واپسی کی تیاریاں ہو رہی تھیں مگر عمرے کا کوئی تذکرہ نہیں تھا۔ آخری لمحوں میں وفد کے سرکردہ لوگوں نے ضیاءالحق سے عمرے کی خواہش کا اظہار کیا۔، جنرل صاحب نے کہا ، انہوں نے سعودی حکام سے بات کی تھی، وہ کہتے ہیں کہ شیڈول کے مطابق ان
دنوں سعودی عرب میں مہمان کچھ زیادہ ہیں، اس لئے آپ کے شایانِ شان پرٹوکول میں مشکلات آ سکتی ہیں۔، وفد کے ارکان تک یہ حقیقت پہنچی تو دل میں روضہ رسول کے دیدار کی تڑپ اور حرم کعبہ میں جبین نیاز جھکانے کی حسرت لئے لوگ مایوس ہوئے، وفد کے شرکاءنے اپنا سامان سمیٹا جہاز میں سوار ہوئے، جہاز نے وطن کی طرف اڑان بھری، کوئی اونگھ رہا تھا، کوئی سو رہا تھا، کوئی اپنے خیالوں میں گم تھا،کچھ خوش گپیوں میں مصروف تھے، آدھا سفر طے ہو چکا تھا، پائلٹ نے وی وی آئی پی کے ساتھ سفر کرنےوالے وی آئی پی مسافروں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی۔ ”صدر پاکستان کی طرف سے مطلع کیا جاتا ہے،جہاز کا رخ سوئے حرم ہے“۔ یہ فقرے مسافروں کو ولولہ تازہ بخش گئے، ہر چہرہ کھل اٹھا،کوئی نعرے سے نعرے لگے، ہر چہرے پر مسکراہٹ تھی، اب نیند کس کو آنی تھی، جدہ تک جہاز میں اللہ اکبر ، درود وسلام اور کلمہ طیبہ کا ذکر ہوتا رہا، جدہ میں 70رکنی وفد کو سرور پیلس میں ٹھہرایا گیا، ہر ایک کےلئے الگ کمرہ تھا جواپنی وسعت ، سہولیات اور آرائش کے حوالے سے 5سٹار ہوٹل سے کہیں بڑھ کر تھا، ہر کمرے میں اعلیٰ معیار کی پرفیوم اور راڈو گھڑی گفٹ کے طور پر پڑی تھی، احرام موجود تھا، رومال اور جوتا بھی رکھا تھا، احرام باندھنے اور تیاری کےلئے ایک گھنٹے کا وقت دیا گیا، ہر زائر کےلئے ایک گائیڈ ، ڈرائیور اور BMC کارموجود تھی، اسکارٹ اور پروٹوکول کی گاڑیاں الگ تھیں، جدہ سے مکہ تک یہ قافلہ ایک گھنٹہ دس منٹ میں پہنچ گیا۔ عمرے کی ادائیگی کے بعد مدینے تک سفر بائی ایئر کیا، مدینہ میں شرٹن ہوٹل کے کمرے اللہ کے مہمانوں کےلئے بک کروائے گئے تھے، جہاں جدہ سے ان کا سامان پہنچ چکا تھا، ہر مسافر نے احرام بطور تبرک اپنے بیگ میں رکھا اور تھوڑی دیر بعد مسجد نبوی کی طرف روانہ ہو گئے۔ روضہ رسول کی زیارت سے قبل ریاض الجنہ میں نوافل باجماعت ادا کئے،پیش امام کے عین پیچھے پہلی صف میں صدر جنرل ضیاءالحق کھڑے ہوگئے، انکے دائیں بائیں وزراءاوردیگر حکام تھے جبکہ دوسری صف میں ضیاءالحق کے پیچھے سلیم بخاری تھے، ان دنوں وہ ڈیلی مسلم کے ایڈیٹر تھے، اسکے بعد دی نیوز اور پھر نیشن میں آئے۔ ابھی سلام پھیرا ہی تھا کہ مسجد نبوی کے دو سوڈانی محافظ سامنے سے جنرل ضیاءالحق کے قریب آئے اور احترام کے ساتھ انہیں اٹھنے کا اشارہ کیا، ضیاءالحق اٹھے تو باقی لوگ بھی کھڑے ہو گئے، ضیاءالحق کے دائیں طرف وزیر خارجہ صاحبزادہ یعقوب علی خان تھے، ضیاءالحق نے صاحبزادہ یعقوب خان کا ہاتھ پکڑا اور سامنے دیکھتے ہوئے دوسرا ہاتھ پیچھے لے گئے، سب سے قریب سلیم بخاری تھے، انہوں نے ضیاءالحق کا ہاتھ تھام لیا، سوڈانی گارڈ ان کو روضہ رسول کے عقب میں لے گئے جہاں چھوٹا سا دروازہ ہے، اسکے نیچے سیڑھیاں جاتی ہیں۔ یہ لوگ سیڑھیاں اتر کر رسول کریمﷺ یارانِ نبی حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمرؓ کی قبورِ مقدسہ کے سامنے مودب کھڑے تھے۔ گارڈ نے اشارے سے کہا کہ آپ لوگ قبروں کو چھو سکتے ہیں، سلیم بخاری کہتے ہیں ۔”وہاں جو قلبی کیفیت اور انوارو تجلیات کی برسات ہے وہ الفاظ میں بیان نہیں ہوسکتی۔ جنرل ضیاءالحق جہاںدھاڑیں مار مار کر رو دئیے، انکی ہچکیاں جدہ پہنچنے تک بندھی رہیں۔ نوائے وقت میں میرے کولیگ جی آر اعوان نے اپنے ایک واقف کار محمد علی حسنین کے حوالے سے ایک ایمان افروز واقعہ سنایا۔ :حسنین ایک امریکی کنسٹرکشن کمپنی میں ملازم تھے۔ جدہ میں ایک سڑک زیرتعمیر تھی جس کی زد میں ایک بااثر عرب کا پلازہ آ گیا۔ ان کی درخواست پر وہ پلازہ زد میں آنے سے بچا دیاگیا تو وہ عربی انکے ممنون ہوئے۔ ایک روز ان کا حسنین کو فوری طور پر مدینہ پہنچنے کا فون آیا۔ وہاں گئے تو پتہ چلا کہ سعودی فرمانرواکے قریبی عزیز کے ساتھ کسی اہم مقام پر جانا ہے۔ حسنین اس وفد کے ساتویں رکن تھے۔ یہ ایک کمرے میں داخل ہوئے جس میں کوئی لائٹ نہیں تھی مگر کمرہ حقیقی معنوں میں بقعہ نور تھا۔ کمرے میں جائے نماز،پانی کا پیالہ پڑا تھا‘ دیوار پر تسبیح لٹک رہی تھی۔ مہمان خاص اپنا جبہ اتار کر دیواروں کو صاف کرنے لگے جو پہلے ہی صاف تھیں مگر وہ عقیدت میں سب کچھ کر رہے تھے۔ بتایا گیا کہ یہ حضرت فاطمة الزہرہ کا حجرہ مبارک ہے۔ حجرہ مبارک میں روشنی تسبیح سے پھوٹ رہی تھی ۔ یہاں سے آگے دو اقتباس محی الدین بن احمد دین کی تحریر سے:۔ایران کے ایک صدر حرمین شریفین کی زیارت کیلئے جاتے ہیں۔ روضہ رسول کے اندرجانے کا بندوبست کیا جاتا ہے۔ سعودی پروٹوکول انکے ہمراہ روضہ رسول کے اندر ہے۔ اس موقع پر مہمان کی زبان سے ابوبکرؓ عمرؓ کی قبروںکے سامنے نا مناسب الفاظ نکل جاتے ہیں۔ یہ بات امام مسجد نبوی علی الحذیفی تک پہنچ جاتی ہے۔ وہ منبر مسجد نبوی پر آکر شرمندگی کااظہارکرتے ہیں کہ شیخین صحابیین کے تقدس کو برقرار رکھنے میں ناکام ہوئے۔ پورا مدینہ اشتعال میں ہے اور مسجد نبوی کے اردگردجمع ہے۔ شاہ فہد اور پرنس عبداﷲ دونوں خاموشی سے امام علی الحذیفی کو منت سماجت کر کے مسجد سے باہر لاتے ہیں اور انہیں کچھ عرصہ اپنے گا¶ں میں چلے جانے پرآمادہ کر لیتے ہیں تاکہ اشتعال ختم ہوسکے جبکہ دوسری طرف آئے ہوئے مہمان صدرکو واپس عزت و احترام سے رخصت کرتے ہیں ۔ یوں شاہ فہد اور ولی عہد عبداﷲ اپنے تدبر و فراست سے معاملہ مزید بگڑنے سے بچا لیا۔ڈیڑھ سال بعد امام علی الحذیفی دوبارہ امامت کے فرائض سنبھال لیتے ہیں۔ کرا¶ن پرنس عبداﷲ صدر ہاشمی کے بعد صدر خاتمی اور صدر احمدی نژاد کو بھی ریاض بلوا کر عزت واحترام دیتے ہیں۔ ایرانی روحانی قائد علی خامینائی حج و حر مین شریفین کے حوالے سے آل سعود کیلئے نامناسب گفتگو کرتے ہیں۔ انتظام حج بین الاقوامی کنٹرول میں دینے کا مطالبہ کرتے ہیں، جواب میں مفتی اکبر الشیخ عبدالعزیز نے کچھ کہا ایران کیلئے وہ نامناسب ہوتا ہے۔شاہ سلمان اور انکے رفقاءتدبر و فراست سے اس آگ کوفوراً یوں بجھا دیتے ہےں کہ الشیخ عبدالعزیز آل شیخ جو 35سال سے خطبہ حج پیش کرتے ہیں، سے وہی التجاکی جاتی ہے جو کبھی امام علی الحذیفی سے کی گئی تھی۔الشیخ یوں عبدالرحمان السدیس سے کہہ دیتے ہیں کہ وہ انکی موجودگی میں خطبہ حج پیش کریں۔ امام الشیخ عبدالرحمان فرقہ واریت ، کفر سازی کے فتوے کے خلاف کھل کر بات کرتے ہیں کہ ہر کلمہ گو اور بیت اﷲ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے والے کو مسلمان کہتے ہیں۔ افتراق کے بجائے اتحاد امت کی بات کرتے ہیں وہ تلخی جو الشیخ عبدالعزیز کی باتوں سے محسوس ہوئی تھی وہ شاہ سلمان کی حکومت کے تدبر و فراست سے ختم کروا کر اتحاد امت اور فرقہ وارانہ فضا کو ختم کردیتی ہے۔ سعودی عرب نے انفرادی طور پر مشکلات اور مصائب میں گھرے ہوئے اپنے دوست حکمرانوں کی بھی مدد کی۔ یوگنڈا، تیونس کے صدر عدی امین اور زین العابدین بن علی نے اپنے اپنے ملک سے راہ فرار اختیار کرکے سعودی عرب میں پناہ لی۔ جہاں انکے شایان شان سہولیات و مراعات دی گئیں حالانکہ فرار ہونے پر ان کی کیا شان اور عزت رہ گئی تھی۔ نواز شریف کو جنرل مشرف نے اقتدار سے ہٹایا تو وزیراعظم ہا¶س سے عقوبت خانے پہنچا دیا جہاں سے راستہ تختہ دار کی طرف ہموار کیا جا رہا تھا کہ سعودی حکمران ان کو سرور محل لے گئے۔ سعودی عرب کا اسلامی ممالک اور اپنے دوستوں سے اخلاص شک و شبہ سے بالاتر ہے مگر تعداد میں کم سہی‘ کئی ملک سعودی عرب اور اس کی پالیسیوں کے خلاف سراپا احتجاج ہی نہیں‘ مشتعل اور آمادہ جنگ بھی ہیں۔ ایسے ملکوں کو ایران لیڈ کرتا ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے ان ممالک کی طرف صلح کا ہاتھ بڑھانے کی کوششیں کی جائے تو نفرت کم ہوتے ہوتے محبت میں بدل سکتی ہیں۔ سعودی عرب دوستی کےلئے پہل اس لئے کرے کہ قدرت نے اسے حجاز مقدس کی نگہبانی کا فریضہ اسے تفویض کیا ہے۔ کچھ قوتیں مسلمانوں کو منتشر رکھنے کے ایجنڈے میں کامیاب دکھائی دیتی ہیں۔ ایران نے بلاشبہ ایسی طاغوتی قوتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔ وہ بھی اپنے رویے پر نظرثانی کرے۔ امہ کے اتحاد کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔ ایران اور سعودی عرب قریب آتے ہیں تو امت کی نفاق اور انتشار کی جگہ اتحاد لے لے گا۔ شام اور یمن میں امن قائم ہو گا۔ ایران کے سعودی عرب کے اندر شیعہ کمیونٹی کے بارے میں تحفظات ختم ہو جائیں گے۔ سعودی انتظامیہ اور سعودی عرب کی شیعہ کمیونٹی میں دوریاں قربت میں بدل جائیں گی۔ سب سے بڑھ کر پاکستان میں فرقہ واریت کا میدان جنگ لہو رنگ ہونے سے محفوظ ہوجائیگا۔ ایرانی اس مرتبہ حج پر نہیں جاسکے۔ وہ دوسرے ممالک کے شانہ بشانہ حرمین کی زیارت کرتے نظر آئیں گے۔ پہل بڑے اور خادم حرمین الشریفین ہونے کے ناطے سعودی عرب کو کرنا ہو گی۔ حرمین کے نگہبانوں کا سعودی عرب کے قومی دن پر امہ کےلئے عظیم الشان اور بہت بڑا تحفہ ہو گا۔