پطرس بخاری اپنی خدمات کی بدولت آج بھی زندہ ہیں

2017 ,دسمبر 5



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): اردو کے معروف مزاح نگار، شاعر اور مترجم پطرس بخاری کو اپنے مداحوں سے بچھڑے 59برس بیت چکے ہیں لیکن وہ آج بھی ادب میں اپنی خدمات کی بدولت زندہ ہیں۔انگریزی ادب کے اردو تراجم کرنے میں منفرد مقام رکھنے والے پطرس بخاری کا اصل نام سید احمد شاہ تھاجن کا شمار پاکستان کے صف اول کے مزاح نگاروں میں ہوتا ہے۔

پطرس نے انگریزی ادب پاروں کے اردو میں تراجم کر کے بہت نام پیدا کیا جن کے مضامین ان کی مزاحیہ طبیعت کے آئینہ دار ہیں۔پطرس یکم اکتوبر 1897ء کو ایک کشمیری خاندان کے گھر میں پیدا ہوئے بعد ازاں انہوں نے انگریزی ادب میں ایم اے کیا اور اول پوزیشن حاصل کی ،وہ تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہے اور ریڈیو میں بحیثیت کنٹرولر جنرل بھی خدمات سرانجام دیں۔

انہیں 1949ء میں اقوام متحدہ میں پاکستان کا نمائندہ مقرر کیا گیا اور وہ 1954ء تک اس عہدے پر فائز رہے، پطرس بخاری 5 دسمبر 1958ء کو حرکت قلب بند ہو جانے کے باعث اپنے لاتعداد چاہنے والوں کو چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔

متعلقہ خبریں