آج دنیا بھر میں عالمی یوم امن منایا گیا

2017 ,ستمبر 22



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): پاکستان سمیت دنیا بھر میں امن کا عالمی دن منایا گیا، لیکن پاکستان سے لے کر یمن تک اسلامی ممالک بدامنی کا شکار ہیں، دہشتگردی کے خطرات، بیرونی جارحیت ، عالمی اداروں کی بے حسی نے امن کو ایک خواب بنادیا۔اقوام متحدہ نےدوہزارایک میں اکیس ستمبر کوعالمی یوم امن کے طورپر منانے کا اعلان کیا تھا اور اقوام عالم سے اپیل کی تھی کہ یہ دن عدم تشدد اور جنگ بندی کے دن کے طورپر منایا جائے۔ رواں برس یوم امن کا مقصد سب کے لیے امن ہے، تاہم شام، یمن ، عراق سے لے کر پاکستان تک امن ایک خواب بن گیا۔ یمن میں عرب اتحادیوں نے یمن کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تو فلسطین میں اسرائیل نے غزہ کو چھنی کرڈالا،جبکہ برما میں معصوم مسلمانوں کا قتل عام ہو یا کشمیر میں بھارتیوں کی بربریت، شام میں عالمی طاقتوں کی سازش ، بشار الاسد کی من مانی اور سلامتی کونسل کے کٹھ پتلی رویے نے لاکھوں افراد کو موت کی نیند سلادیا۔شام کے بحران اور داعش کے فتنے کے باعث شام کی لڑائی عراق کی سرحدوں تک پہنچ چکی ہے۔ اسلام کے نام پر غیرانسانی رویے نے ایک بار پھرامریکا کو مشرق وسطیٰ میں عالمی اتحادکی تشکیل کا موقع دے دیا۔ اس کے علاوہ افغانستان کابحران بھی اپنی جگہ برقرار ہے، جہاں پاکستان اور افغانستان کے عوام دہشت گردی کا دردناک عذاب سہ رہے ہیں ۔دوسری طرف کئی دہائیوں جاری مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی جارحیت کا سلسلہ طول پکڑتا جا رہا ہے۔ جس پر عالمی طاقتوں ، اقوام متحدہ اور علاقائی تنظیموں کی بے حسی اور مفادات کی جنگ سوالیہ نشان ہے۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے اگر دنیا بھر میں امن کی یہی صورتحال برقرار رہی تو وہ دن دور نہیں جب امن صرف لغت کے علاوہ کہیں نہیں ملے گا

    متعلقہ خبریں