مریدین نے ایک دوسرے کو خود ہی قتل کیا

2017 ,مئی 12



لاہور(مانیٹرنگ)سرگودھا کے نواحی علاقے 95 شمالی کی درگاہ میں 20 مریدوں کے قتل میں ملوث مرکزی ملزم عبدالوحید نے اپنا اعترافی بیان واپس لیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بے گناہ ہے اور اس کے مریدین نے ایک دوسرے کو خود ہی قتل کیا ہے.

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ کی دو تاریخ کو درگاہ علی محمد قلندر کے متولی نے اپنے 20 مریدوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کے بعد پولیس کے سامنے دو بیان دئیے تھے. پہلے اعترافی بیان میں اس نے اقرار کیا تھا کہ اس نے اپنے مریدین کو گناہوں سے پاک کرکے جنت بھیجنے کے لئے قتل کیا ہے جبکہ دوسرے بیان میں متولی عبدالوحید کا کہنا تھا کہ اس نے اپنی جان کے خدشے کے پیش نظر مریدوں کو موت کے گھاٹ اتارا ہے

دوسری جانب اس کیس کے ایک فریق توقیر نے 8 مئی کو سیشن کورٹ جج سے تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کی ہے کیونکہ اسے خوف ہے کہ متولی وحید کے ساتھی اس پر حملہ کرکے اسے قتل کرسکتے ہیں۔ توقیر اُن چار زخمیوں میں سے ایک ہے جو متولی کے تشدد کے بعد زندہ بچ جانے میں کامیاب رہے تھے۔

کچھ عرصہ قبل سرگودھا واقعے کے بارے پنجاب حکومت کے ترجمان اور اوقاف کے صوبائی وزیر زعیم قادری کا کہنا تھا کہ سرگودھا کی درگاہ میں 20 افراد کے قتل کا واقعہ خالصتاً ذاتی دشمنی پر مبنی تھا. وزیر اعلی پنجاب کو بھجوائی جانے والی رپورٹ کے مطابق درگاہ پر 2 لوگ اپنا قبضہ جمائے رکھنا چاہتے تھے، جبکہ متولی نے نہ صرف جانشین بلکہ معاملے نمٹانے کے لیے آنے والے دیگر افراد کو بھی قتل کردیا۔

کیس کی اپ ڈیٹ دینے کا مقصد یہ ہے کہ اتنے اہم کیس میں ایک طرف مرکزی ملزم اپنے اعترافی بیانات واپس لیکر اپنے آپ کو بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے تو دوسری طرف کیس کے فریق توقیر کو دھمکیاں دی جارہی ہیں لیکن میڈیا کے لیے اس کیس میں کوئی دلچسپی باقی نہیں رہی. ایان علی جیسے فضول کیس میں میڈیا 6 ماہ کورٹ میں پیشی کی ایک ایک لمحہ رپورٹ دیتا رہا لیکن 20 افراد کے بیہمانہ قتل میں ملوث ملزم کے بارے اپ ڈیٹ دینے کے لیے اس کے پاس بالکل وقت نہیں. کچھ روز قبل بحریہ ٹاؤن میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کی خبر نہ دینا تو سمجھ میں آتا ہے ( کہ ملک صاحب میڈیا کے سب سے بڑے فنانسر جو ہوئے) لیکن اس معاملے میں خاطر خواہ کوریج اور فالو اپ نہ دینے کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی۔

(بشکریہ مظہر چودھری)

.

متعلقہ خبریں