خوشبوؤں کی شاعرہ پروین شاکر کی بائیس ویں برسی

2016 ,دسمبر 26



کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) : خوشبو جیسے اشعار اور نظمیں کہنے والی پروین شاکر کو گزرے بائیس برس بیت گئے، مداح آج ان کی بائیس ویں برسی منا رہے ہیں۔

منفرد شاعرہ پروین شاکر کی22 ویں برسی آج منائی جارہی ہے۔ اس سلسلے میں مرحوم شاعرہ کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے ملک بھر میں مختلف تقاریب کا انعقاد کیا گیا ہے، جن میں شاعرہ کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔

24 نومبر 1952ء کو شاکر حسین زیدی کے گھر جنم لینے والی پروین شاکر نے کچھ ایسے انداز میں پرورش پائی کہ طبعیت ادب آشنا سی ہوگئی۔ اس پر مسستزاد فطرت کو محسوس کرنے اور بیان کرنے کی صلاحیت نے دو آتشہ کام کیا۔ یوں خوشبو، عکس خوشبو، ماہ تمام، انکار، خود کلامی، صد برگ اور قریہ جاں کی تکمیل ہوئی۔

عورت اور اس کے جذبات کا خوبصورتی سے اظہار پروین شاکر کی شاعری کا خاصا تھے، پروین شاکر نے فطری جذبات کی عکاسی اتنی بے ساختگی سے کی کہ برسوں سے ان کے مقابل کوئی اور نہ آسکا۔

پروین شاکر نے شاعرہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک استاد اور سرکاری ملازم کی حیثیت سے بھی اپنی خدمات سرانجام دیں۔ پروین شاکر نے بہت کم عمری میں اپنی شاعری کا آغازکیا۔

پروین شاکر کے پہلے شعری مجموعہ”خوشبو“ نے عوام میں بہت مقبولیت حاصل کی۔ پروین شاکر کے مشہور شعری مجموعوں میں صد برگ، خود کلامی، انکار،کف آئینہ کو بہت پذیرائی ملی۔ بعدازاں انہوں نے اخبارات میں کالم بھی لکھے۔

ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں تمغہ حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا ۔

افسوس کہ الفاظ کی خوشبو پھیلانے والی یہ خوبصورت شاعرہ 1994 کو 26 دسمبر کی ہی ایک کہر آلود صبح ٹریفک حادثے میں کومل اور نازک جذبے اپنے ساتھ لیے خالق حقیقی سے جاملی اور یوں اس خوشبو کا یہ باب اختتام پذیر ہوا، مگر رہتی دنیا تک شاعری اور ادب میں یہ خوشبو زندہ رہے گی۔

متعلقہ خبریں