ہر گھڑی ہوتا ہے احساس کہیں کچھ کم ہے

2022 ,فروری 21



ایسی انقلابی تبدیلیاں اور اتنی تیزی کے ساتھ، میں حیران ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی۔ دنیا بھر کی معیشت دائو پر لگی نظر آتی ہے۔ مہنگائی بھی کورونا کی طرح دنیا بھر میں گھومتی پھرتی نظر آ رہی ہے۔ چند دن پہلے کی بات ہے، پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے بھی مہنگائی کا ذکر کیا اور انہوں نے یاد دلایا کہ ایسا ساری دنیا میں ہے اور کینیڈا کا ذکر کیا۔ کینیڈا ایک پُرامن اور امیر ملک ہے۔ اس کا ہمسایہ ملک امریکہ کا نظام کینیڈا سے یکسر مختلف ہے۔ دونوں ملکوں کے عوام اپنی اپنی جگہ خوش ہیں۔ کینیڈا میں جمہوریت روایت پسند ہے مگر امریکی جمہوریت یکسر مختلف ہے۔ کینیڈا میں وزیراعظم کے اختیارات محدود مگر امریکی صدر کے اختیارات کینیڈا کے وزیراعظم کی نسبت بہت ہی زیادہ ہیں۔ کینیڈا میں آج کل دو معاملات بہت اہم ہیں۔ کورونا وبا کی پابندیوں کے خلاف اوٹاوہ میں ایک بڑا ٹرک احتجاج جاری ہے اور وہ اب دوسرے بڑے شہر ٹورانٹو میں داخل ہو چکا ہے۔ وزیراعظم جسٹن ٹروڈو اس ساری صورتحال میں بےبسی کی تصویر نظر آتے ہیں۔ کینیڈا میں پٹرول کی قیمت ریکارڈ سطح پر نظر آ رہی ہے۔ سارے ملک کو تشویش ہے مگر کر کچھ نہیں سکتے۔ پٹرول کی قیمت کا کنٹرول نامعلوم ہاتھوں میں ہے۔ پاکستان میں پٹرول 160روپے فی لٹر ہے جبکہ کینیڈا میں فی لٹر پٹرول کی قیمت 1.50ڈالر کے قریب ہے۔ یاد رہے ایک کینیڈین ڈالر 135پاکستانی روپوں کے برابر ہے۔ اس سے اندازہ لگا لیں کہ پٹرول کتنا مہنگا ہے جبکہ پاکستان میں مہنگائی بہت ہے مگر اس کے اثرات نظر نہیں آتے۔ پاکستان کے عوام کی قوتِ خرید میں بظاہر اضافہ ہواہے اور میری رائے میں لوگ اس بارے میں زیادہ تشویش کا شکار نہیں۔ پاکستان کے سیاستدان مہنگائی کا رونا تو بہت روتے ہیں مگر خود وہ سب امیر کبیر ہیں۔ ان سیاسی لوگوں کا ذریعہ معاش بھی ایک معمہ ہے اور ان کے اثاثے دیکھیں تو حیرانی کم اور پریشانی زیادہ ہوتی ہے۔ اس وقت کینیڈا میں مقیم پاکستانیوں کو ایک ہی بڑی فکر لاحق ہے، وہ ہے پاکستان کی سیاست۔ کینیڈا میں پاکستانی تارکین وطن کی تعداد تقریباً تین لاکھ کے قریب ہے۔ ٹورانٹو میں پاکستان کا قونصل خانہ خاصا مصروف نظر آتا ہے اور اکثر لوگوں کو عملے کے رویے سے شکایت ہے اور زیادہ تر لوگ شناختی کارڈ کے معاملات کے حوالہ سے شکایت کرتے ہیں۔ مگر حالیہ دنوں میں نادرا نے خاصی مناسب تبدیلیوں کے ساتھ شناختی کارڈ کا حصول آسان بنا دیا ہے، اب آپ کو قونصل خانے جانے کی ہی ضرورت نہیں۔ عمران خان سرکار کی یہ کاوش عوام میں مقبول ہے مگر دیگر مسائل کے باب میں سفارت خانہ پاکستانی نوکر شاہی کے طریق کار کو اختیار کرکے عوام کو مایوس کرتا ہے۔ تارکین وطن ووٹ کے حوالے سے اپنی حیثیت منوانا چاہتے ہیں۔ اس پر قانون سازی ہو رہی ہے مگر تارکینِ وطن پاکستان کی سیاسی پارٹیوں کے رویے سے بہت ہی مایوس ہیں۔ اِس وقت پاکستان میں جو سیاسی جنگ لڑی جا رہی ہے اس میں عوام مکمل طور پر نظر انداز ہو رہے ہیں۔ اس سیاسی اشرافیہ کو اپنے اقتدار کی فکر ہے اور ان کا نظریہ یہ ہے کہ عمران خان کو اقتدار سے فارغ کروایا جائے۔ ان کا طریقۂ کار جمہوریت کے حوالے سے تشویشناک ہے۔ عمران خان کی حکومت سے تارکینِ وطن نے بہت امیدیں لگا رکھی تھیں مگر اب مایوسی ہی مایوسی نظر آ رہی ہے اور پھر ایک نئی بات یہ نظر آ رہی ہے کہ عمران خان نے سعودی عرب کے بعد بیرونِ ملک چین کے دورے کو اہمیت دی اور ان کی چین میں مصروفیت بھی خاصی مناسب رہیں مگر چین کی طرف سے سی پیک کے تناظر میں واضح ردعمل سامنے نہیں آیا اور پھر عسکری انتظامیہ بھی اس معاملے میں اپنا نقطہ نظر بیان نہیں کر رہی۔ دوسری طرف اپوزیشن کے لوگ یہ تاثر دے رہے ہیں کہ عسکری انتظامیہ جمہوریت کے سانپ سیڑھی کھیل میں اب زیادہ توجہ نہیں دے رہی اور انہوں نے عمران خان کو باور کروا دیا ہے کہ آپ کو خود اب اپنی جنگلڑنی ہے۔ اس بار اس جنگ میں پس پردہ امریکہ اور برطانیہ کے لوگ بھی نظر آ رہے ہیں۔ اس وقت پاکستان کی سیاسی ابتری میں سوشل میڈیا کا کردار بتدیج اہم ہوتا جا رہا ہے۔یوٹیوب کے باب میں اطلاعات کی فرااہمی کا معیار بھی مناسب نہیں۔ ملک میں پرنٹ میڈیا کی حالت خاصی خراب ہے۔ اخبارات کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے مگر پڑھنے والوں کی تعداد میں واضح طور پر کمی نظر آتی ہے۔ الیکٹرانک میڈیا کے چینل تو بہت سارے ہیں اور کاروبار کے تناظر میں ان کے معاملات بھی مناسب نہیں۔ ڈراموں کے چینل اپنی مقبولیت میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا کی وجہ سے آن لائن شاپنگ میں اضافہ نظر آ رہا ہے۔ مگر تارکین وطن کو بڑی مایوسی ہوتی ہے جب پاکستان کے تاجر معیار کو مدنظر نہیں رکھتے۔ دوسری طرف تارکینِ وطن کو یہ بھی بڑی شکایت ہے کہ وہ جب اپنے لوگوں کو تحفے روانہ کرتے ہیں تو پاکستان کسٹم کی مداخلت بہت ہے اور اکثر اوقات سامان کی ترسیل میں تاخیر ہو جاتی ہے اور کسٹم ڈیوٹی کا معاملہ بھی توجہ طلب ہے۔ اس وقت عدلیہ کا کردار پاکستان میں اہم ہوتا جا رہا ہے۔ قانون کی موجودگی کے باوجود انصاف کا فقدان نظر آتا ہے۔ اس وقت بھی عدالتوں میں مقدمات کی بھرمار ہے اور سائلین مایوس ہیں۔ پھر سرکار کے وکیل بھی کرپشن کے معاملات میں اپنا موثر کردار ادا کرتے نظر نہیںآتے۔ اعلیٰ عدالتیں عام مقدمات کے مقابلہ میں سیاسی مقدمات کو اہمیت دیتی نظر آرہی ہیں جو کہ خطرناک رجحان ہے۔اس وقت سیاست میں بڑا جوا چل رہا ہے اور اکثر لوگ شرطیں لگا رہے ہیں کہ اس ماہ کے اندر ہی عمران خان کی سرکار کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد آ رہی ہے مگر روحانی معاملات پر نظر رکھنے والے لوگوں کا خیال ہے کہ ایسا جلد ممکن نہیں۔ مگر ایک بات واضح ہے کہ عسکری حلقےاس وقت بھی امریکی اور برطانوی دوستوں سے رابطہ میں ہیں اور ملک میں معاشی تبدیلیوں میں ان کی مشاورت کے ضرورت مندہیں۔ فوج کا کردار اہم نظر آ رہا ہے۔ بھارت کی طرف سے کارروائی کا اندیشہ ہے اور نظام کی تبدیلی جلد نظر نہیں آ رہی۔

متعلقہ خبریں