کرونا اور پی آئی اے کا حادثہ

2020 ,مئی 26



پی آئی اے کا بدقسمت حادثہ کورونا کی اموات کے غم کو دُگنا کرگیا جس نے اداس عیدالفطر کی اداسیوں میں مزید اضافہ کردیا۔ پی آئی اے بھی پاکستان کی تاریخ کودُہرا رہا ہے۔ حادثے پر حادثے ہورہے ہیں لیکن ہر مرتبہ بے گناہ انسانوں کے قاتل کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کے بجائے تفتیش وتحقیق کے زاوئیے بدل جاتے رہے ہیں۔ لاہور سے کراچی عید منانے کی خوشیاں دلوں میں لئے مسافروں سے بھری بدقسمت پرواز کی تفتیش کا ر±خ بھی تبدیل کیاجارہا ہے۔ حسب روایت معاملہ شروع کہیں سے ہوکر کہیں اور لیجایا جارہا ہے۔ مطلب ہم نے نہ سدھرنے کی شاید قسم کھارکھی ہے۔تجزیہ نگاراور ہوابازی کے ماہرین دُہائی دے رہے ہیں کہ جس نے کوتاہی برتی، وہ قاتل ہے اور اس پر 302 کا مقدمہ ہونا چاہئے۔ پوری دنیا میں ہماری بھد اڑائی جارہی ہے۔ پی آئی اے کی اپنے طیاروں کی مرمت اور دیکھ بھال کے ناقص نظام کو مورد الزام ٹھہرایاجارہا ہے۔ پورے نظام کی ازسرنوتشکیل کے مطالبے ہورہے ہیں۔ موجودہ انتظام وانصرام پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ خبردار کیاجارہا ہے کہ تازہ ترین حادثے نے عالمی سطح پر قومی پرواز کی ساکھ کو بے پناہ نقصان اور دھچکا پہنچایا ہے۔ پیشگوئی کی گئی ہے کہ شاید موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پی آئی اے کو عالمی سطح پر پروازوں کی اجازت کا مسئلہ بھی درپیش ہوجائے اور پی آئی اے مقامی سطح کی ایئر لائن بن کر رہ جائے۔ 
دنیا بھر میں جہازوں کو حادثات پیش آتے ہیں۔ ایک پوری تاریخ ہے لیکن ان حادثات کو پرکھنے، جانچنے اور اصلاح احوال کے لئے دنیا کا رویہ اور ہے جبکہ ہمارے ملک میں سیاستدانوں سے لے کر ہر شعبہ زندگی میں قصوروار کے حمایتی آن موجود ہوتے ہیں۔ یہ رویہ ہماری قومی اصلاح کے راستے کی سب سے بڑی کھائی، دیوار اور رکاوٹ ہے۔ اگر جزا اور سزا کو اپنی نوکری، مراعات اور ذاتی مفاد سے ہی ناپنا اور تولنا ہے تو پھر وہ معاشرہ زندہ نہیں بچ سکتا کیونکہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول صادق ہے کہ کفر کا نظام چل سکتا ہے، ظلم کا نہیں۔نا انصافی سے بڑا ظلم اور کیاہوگا۔ ظالم کو بچانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایاجائے گا تو معاشرہ کیسے بچے گا؟ قیام پاکستان سے اب تک کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو حادثات کی ایک پوری فہرست ہے۔ پی آئی اے کی کمرشل پروازاے 320 لاہور سے کراچی ہوائی اڈے کے قریب گرکر تباہ ہوئی توپھر کئی سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ پی آئی اے اور سول ایوی ایشن کی کارکردگی، ہوابازوں کی تربیت، پیشہ وارانہ اہلیت، جہازوں کی فنی حالت سمیت کئی پہلوﺅں پر بات ہورہی ہے۔ کوتاہیوں، غفلتوں اور مجرمانہ انداز واطوار کے دفتر کھولے جارہے ہیں۔ پی کے 8303کے نام سے جانی جانے والی یہ مرحوم پرواز ایوی ایشن کی اصطلاح میں مکمل تباہی سے دوچار ہوئی ہے۔ 
پی آئی اے کو اس سے قبل بھی کئی حادثات کا سامنا ہوچکا ہے۔ 
20 مئی 1965 کو بوئنگ707 قاہرہ کے ہوائی اڈے پر اترنے کی کوشش میں تباہ ہوگیا تھا جس میں سوار 124 لوگ ہلاک ہوگئے تھے۔ اس میں بیس ملک کے جید صحافی بھی لقمہ¿ اجل بن گئے تھے۔6 اگست 1970 کو پی آئی اے کا فوکر ایف27 طوفان میں پرواز کی کوشش میں تباہ ہوگیا تھا اور 30سوار افرادکی جان لے گیا۔ 8 دسمبر1972 کو پی آئی اے کا فوکر ایف27 راولپنڈی میں گرا، 26 سوار بھی اگلی دنیا سدھار گئے۔ 26نومبر1979کو بوئنگ707 کی پرواز سعودی عرب سے حجاج کو لے کر جدہ ائیرپورٹ سے اڑنے کے کچھ ہی دیر بعد گرگئی اور 156 لوگ جاں بحق ہوگئے۔ 23 اکتوبر1986کو فوکر پشاور میں گرا اور 54میں سے 13 لوگ جان سے چلے گئے۔ 17 اگست1988 کو امریکی ساختہ ہرکولیس سی 130 محفوظ ترین سمجھا جانے والا طیارہ بہاولپور میں گر کر تباہ ہوگیا۔ اس وقت کے صدر اور بری فوج کے سربراہ جنرل ضیاءالحق سمیت 30 دیگر اعلیٰ شخصیات بشمول امریکی سفیر کی دنیا سے رخصتی کاباعث بن گیا۔ 
25 اگست1989 کو فوکر گلگت کے لئے روانہ ہوا اور پھر نہ ملا۔ 28ستمبر1992 کو پی آئی اے ائیر بس اے 300 کھٹمنڈو کے قریب گری جس میں167 افراد نے جان جانِ آفریں کے سپرد کی۔ 24 فروری 2003 ءکو چارٹرڈ سیسنا402 بی افغانستان کے وزیرمعدنیات وصنعت جمعہ محمد محمدی اور دیگر اعلیٰ حکام کو لے کر محوپرواز تھا کہ کراچی کے قریب بحیرہ عرب میں گرگیا۔ 10 جولائی 2006 کو پی آئی اے فوکر ایف 27 ملتان سے اڑان بھرنے کے کچھ دیر بعد گرا اور41 مسافر، عملے کے چار ارکان سمیت جہان فانی سے کوچ کرگئے۔ 28 جولائی 2010 کو ائیر بلیو کی ائیر بس 321 کراچی سے اڑی اور مارگلہ اسلام آباد کی پہاڑوں میں دم توڑ گئی۔152 لوگوں کی جان چلی گئی۔ 5 نومبر2010 کو دو انجن والا جے ایس ائیر اٹیلی کی تیل کی کمپنی کے عملے کو لے کر کراچی سے اڑا اور 21 سواروں کی جان لے گیا۔ 28 نومبر 2010 کو روسی ساختہ کارگو جہاز کراچی سے اڑنے کے کچھ دیربعد تباہ ہوگیا۔ 
20 اپریل 2012 کو کراچی سے اڑنے والے بھوجا ائیر لائن کے بوئنگ737کو اسلام آباد کے قریب برے موسم سے سامنا کرنا پڑا اور 121 مسافروں اور عملے کے چھ ارکان کو اپنی جانوں سے اس کی قیمت ادا کرنا پڑی۔ 8مئی 2015 کو گلگت کے قریب طیارہ حادثے کے بعد 7 دسمبر2016 کو پی آئی اے اے ٹی آر42 جہاز چترال سے اسلام آباد آتے ہوئے حادثے کا شکار ہوا۔ یہ وہی جہاز تھا جس میں گلوکار اور نعت خواں جنید جمشید بھی جاں بحق ہونے والے48 مسافروں میں شامل تھے۔ ان حادثات کی فہرست میں آخری حادثہ22 مئی 2020 کا پی آئی اے ائیر بس اے 320کا ہے جس میں 91 مسافر اور عملے کے 8 افراد اپنی جان سے چلے گئے۔ 
چند سال میں جو واقعات ہوئے، ان میں پی آئی کے ہوابازوں یا پائلٹس اور دیگر انتظامیہ کی غلطیوں کو سن کر بدن میں جھرجھری آجاتی ہے۔ خوف آنکھوں میں تیرنے لگتا ہے اور یہ جملہ ذہن میں آتا ہے کہ ”ڈرائیور کی مہارت نہ انجن کا کمال۔۔چلی جارہی ہے خدا کے سہارے“۔ 
مجرمانہ لاپرواہی کے چند واقعات دیکھئے۔ پے درپے حادثات کو دیکھتے ہوئے 2014 میں 320 طیارہ پی آئی اے کے بیڑے میں شامل کیاگیا۔ کیپٹن اکرام اللہ کپتان تھے۔ پیشہ وارانہ بے احتیاطی کی ایک مثال یوں بیان ہوتی ہے کہ کیپٹن اکرام اللہ صاحب طیارے کی پرواز کے دوران موسم سے متعلق آگاہ کرنے والا راڈار ’آن‘ کرنا ہی بھول گئے۔نتیجہ یہ نکلا کہ جہاز اس خطرناک موسمی لپیٹ میں آگیا جو طیارے کے حادثے کا موجب بن جاتا ہے۔ یہ جہاز خوش قسمتی سے کسی بڑے حادثے سے تو بچ گیا لیکن اس کے نتیجے میں جہاز کو شدید نقصان پہنچا۔ جب شور مچا تو حامیان میدان میں نکل آئے، پالپا ’اِن ایکشن‘ ہوئی اور کیپٹن اکرام اللہ پر فرد جرم بھی عائد نہ ہوسکی۔ 
ایسے حادثات تو کسی شمار میں ہی نہیں جس میں جہاز اس علاقے میں جااترا جو جہازوں کی ٹیکسی یا اڑان بھرنے سے قبل کے لئے الگ راستہ ہوتا ہے اور جہاں جہاز قطار بنائے اپنی باری کے منتظر ہوتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خدانخواستہ ایک پائلٹ کی اس سنگین غلطی کے نتیجے میں اور کتنے جہاز اور زندگیاں خمیازہ بھگت سکتی ہیں، اس کا بخوبی اندزہ لگایاجاسکتا ہے۔ 
پی آئی اے کے ایک ہواباز کیپٹن ایازکے بارے میں بتایاجاتا ہے کہ 7374 پرواز کو رن وے کے بجائے غلط ٹیکسی وے پر لینڈ کردیا۔ ایسے حادثات ممبئی، پیرس اور جدہ میں ہوچکے ہیں۔دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ایسے سنگین حادثات پر جس شخص کا ہوابازی کا لائسنس منسوخ ہونا چاہئے تھا اسے ڈائریکٹر فلائٹ آپریشنز بنادیاگیا۔ غلط جگہ اور مقام پر جہاز اتارنے کی حماقت سے سینکڑوں مسافروں کی جان داو پر لگانے والے کو تمام جہازوں اور تمام ہی مسافروں کی جان سے کھیلنے کا ”لائسنس ٹو کِل“تھما دیاگیا۔ 
ایسی ہی غلطیوں کی بناءپر دو اے ٹی آر جہاز ایک حویلیاں اور دوسرا پنجگور میں گر کر تباہ ہوا۔ گزشتہ سال برطانیہ میں دو بڑی فضائی غلطیاں رپورٹ ہوئیں۔ ائیر ٹریفک کنٹرول کی اجازت کے بغیر ہی ”پ±ش بیک“ لے لیاگیا۔ یہ اجازت اس لئے ضروری ہوتی ہے کہ پرواز سے قبل جس راستے سے آپ جارہے ہیں، مبادا دوسری سمت سے کوئی اورجہاز آرہا ہو اور حادثہ ہوجائے۔ یہ طیارے کے کپتان کی تربیت اور نااہلی کا کھلم کھلا ثبوت تھا۔ مانچسٹر اور بیجنگ میں بھی کپتان اور فرسٹ افسر دونوں کے سوجانے کی رپورٹ کی گئی۔ 320 میں کراچی میں بھی ایسا ہی واقعہ بیان کیاجاتا ہے۔ 
اسی طرح کا ایک واقعہ فروری 2018 کا بتایاجاتا ہے جب کیپٹن اکرام اللہ کو کلئیرنس ملی کہ وہ رن وے 215 لیفٹ پر اترجائیں لیکن وہ 215 رائٹ پر لینڈ کرگئے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ نے داہنے کا اشارہ دیا اور بائیں مڑگئے۔ اس کی فنی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ 777 جہاز کے لئے وہ رن وے ٹھیک نہیں کیونکہ اس کی لمبائی کم ہے۔ زورزبردستی کرکے جہاز کو بریکیں لگا کر روک تو لیاگیا لیکن ایسا کرتے ہوئے مسافروں کی ہڈی پسلی ایک کردی گئی۔ انہی واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے پی آئی اے کے سینئر پائلٹ اعجاز ہارون کراچی میں طیارہ حادثے کو ”ہاٹ اینڈہائی“ قرار دے چکے ہیں۔ 
خدشہ ظاہر کیاجارہا ہے کہ غلطیوں اور غیرپیشہ وارانہ انداز کا یہی سلسلہ جاری رہا اور کوتاہیاں ٹھیک کرنے کے بجائے سیاست بازی ہوتی رہی تو خدانخواستہ 777 کا حادثہ بھی ہوسکتا ہے۔ اس لئے اس پورے نظام کو ”اوورہال“ کرنے کی ضرورت ہے۔ سفارش، اقرباءپروری اور دباﺅ پر ایسے لوگوں کو ہوا بازی کا لائسنس ملے گا جو اس کے اہل نہیں تو حادثات کی رفتار یہی رہے گی۔
ایک تکنیکی اور فنی پہلو اور بھی سامنے آیا کہ مسافر طیاروں کو لڑاکا طیاروں کے انداز میں اڑایاجارہا ہے جس پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ ایک فائیٹر پائلٹ اور مسافر طیارے کے ہواباز میں فرق ہوتا ہے۔ پرواز کی بلندی، اسے قابو میں رکھنے، کم بلندی پر طیارہ اڑانے اور اسے زمین پر اتارنے سمیت دیگر مہارتوں میں خاصا فرق ہے۔ ہوا کے دباﺅ کے عام مسافروں کے جسم اورصحت پر اثرات کو مدنظررکھا جاتا ہے۔ 
یہ مطالبہ کیاجارہا ہے کہ اے ٹی آر 320 کی تفتیش کھولیں۔ جب اس جہاز کو پرواز کی اجازت ہی نہیں تھی تو پھر مسافروں کی زندگیوں کے ساتھ کیوں کھیلاگیا؟ متعلقہ جہاز بنانے والی کمپنی نے بھی منع کیاتھا، یہ ہدایت کیوں نہ سنی گئی؟ ناقص فاضل پرزہ جات کا استعمال بھی حادثات کاباعث بن رہا ہے۔ پی آئی اے میں تقرریاں کن بنیادوں پر ہورہی ہیں؟ اس کا کچا چٹھہ قوم کے سامنے لایاجائے۔ہوائی اڈوں کی تعمیر اور وہاں مسافروں کی سہولیات کو مدنظر نہ رکھنے کا بھی سوال سامنے آیا ہے۔ ہوائی اڈوں کے معاملے میں بھی مسافروں کی سہولت کو مدنظر نہیں رکھاجاتا۔ برطانیہ کے ہیتھرو جیسے ہوائی اڈوں پر تین تین میل جہاز تک مسافر جاتے ہیں لیکن دقت کا وہ سامنا نہیں ہوتا جو ہمارے ایک کلو میٹر دور کھڑے جہاز تک پہنچنے میں بے چارے مسافروں کوہوتا ہے۔ ہمارے ہوائی اڈے ہماری بدانتظامی کے باعث لاری اڈہ اور پیرودھائی بس سٹینڈ کا منظر پیش کررہے ہوتے ہیں۔ 
ہوابازی کی تاریخ دیکھیں تو 200 سے زائد افراد کے لقمہ اجل بن جانے کا پہلے ائیر کرافٹ کا حادثہ 3 مارچ 1974 میں ہوا تھا۔ ترک ائیر لائن کی پرواز 981کو پیش آنے والے حادثے سے لے کر اپریل 2020تک ایوی ایشن کے 33 حادثات ہوچکے ہیں۔ سب سے بڑا حادثہ جاپان ائیر لائن کی پرواز123 کا شمار ہوتا ہے جس میں 520 افراد جان سے ہاتھ دھوبیٹھے تھے۔ ہوابازی کی تاریخ میں سب سے خونیں حادثہ 1977 میں دو پروازوں کے ٹکرانے سے ہوا تھا۔ اسے ٹینی رائف ائیر پورٹ تباہی کے نام سے یاد کیاجاتا ہے جس میں کے ایل ایم کی پرواز 4805 اور پین اے ایم فلائٹ 1736 ٹکرا گئے تھے۔ سپین کے اس جزیرے پر ہونے والے اس حادثے میں 583 لوگ جان کی بازی ہار گئے تھے۔ یہ حادثہ اس افراتفری کے باعث ہوا جب گران کنیریا ہوائی اڈے پر دہشت گردی کے واقعہ سے رونما ہوئی تھی۔ 11 ستمبر2001 ہوابازی کی تاریخ میں ایک ہی دن میں ایک سے زائد طیاروں کے ٹکرانے سے سب سے زیادہ ہلاکتوں کی تاریخ ہے جس میں 2 ہزار 996 لوگ جان سے گئے تھے۔ 
8 جنوری 2019 کو یوکرین انٹرنیشنل ائیرلائن کی پرواز پی ایس 752کو تہران سے اڑان بھرتے ہی میزائلوں نے آلیاتھا جس میں 176مسافر ہلاک ہوگئے تھے۔ یہ امریکہ ایران کشیدگی کے دوران غلطی سے ہونے والی تباہی تھی۔ اسی طرح 10 مارچ 2018 کو ایتھوپیا کے بوئنگ 737 پرواز کے چھ منٹ بعد گرکرتباہ ہوگیا تھااور طیارے میں 30 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے سوار تمام 157 شہری ہلاک ہوگئے تھے۔ جکارتہ، انڈونیشیاءسے 29 اکتوبر کو پرواز بھرنے والا بوئنگ 737 جاواسمندر میں گرکر تباہ ہوگیا تھا جس میں 189 مسافر اور عملے کے تمام افراد دنیا سے رخصت ہوگئے تھے۔ 
جدید ٹیکنالوجی بھی ضروری ہے لیکن مہارت اور اہلیت نہ ہو تو بیچاری ٹیکنالوجی کیا کرے گی؟ ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا۔

متعلقہ خبریں