تصویر بولتی ہے

2017 ,مئی 5



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): زمزمہ توپ تانبے اور پیتل کی دھات سے ڈھالی گئی ہے۔ دہانے پر فارسی میں بنانے والے کا نام کندہ ہے اور پشت پر بناوٹ کی تاریخ سے متعلق اشعار درج ہیں۔ یہ توپ 14 فٹ سے زیادہ لمبی اور اس کا دہانہ ساڑھے نو انچ ہے۔ یہ برصغیر پاک و ہند کی بنی ہوئی بڑی توپوں میں شمار ہوتی ہے۔ مشہور انگریزی شاعر کپلنگ نے اسے توپ کیمز کا نام دے کر اسے شہرت دوام بخشا۔ 1757 میں شاہ نظیر نے احمد شاہ ابدالی کے حکم اور اس کے وزیراعظم شاہ ولی اللہ خان کی مدد سے تیار کی۔ 1761 میں احمد شاہ ابدالی نے جنگ پانی پت میں اسے استعمال کیا۔ 1764 میں خواجہ عبد خان قتل کے بعد ہری سنگھ بھنگی نے اس پر قبضہ کر لیا اور قلعہ لاہور میں پہیوں کے بغیر رکھ دی۔ 1773 میں دو بھائی احمد خان ار پیر محمد خان چھٹہ اسے چڑھت سنگھ سے چھین کر احمد نگر لے گئے۔ اس کے بعد یہ بہت سی جنگوں میں استعمال کی گئی ملتان کے محاصرے میں توپ کو نقصان پہنچا تو اسے ناکارہ قرار دے کر لاہور لے آئے اور اسے دہلی دروازے کے باہر رکھ دیا گیا تھا۔ اس کے بعد یہ توپ لاہور میوزیم کے سامنے ایک چبوترے پر مستقل کر دی گئی ہے۔ 

متعلقہ خبریں