تصویر بولتی ہے

2017 ,مئی 12



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): مغل شہنشاہ جہانگیر 1627 عیسوی میں کشمیر سے واپس لاہور آتے ہوئے راجوری کے مقام پر فوت ہو۔ اس کو ملک نور جہاں کے ملکیتی وسیع و عریض باغ (باغ دلکشاہ) میں دفن کیا گیا۔ یہ باغ اس وقت شہر لاہور سے 5 کلومیٹر شمالی مغرب میں راوی کے کنارے واقع تھا۔ اس کے گرد بلند فصیل بنی ہوئی تھی مقبرہ اس کے بیٹے اور جانشین شہنشاہ شاہ جہاں نے بنوایا۔ یہ مقبرہ 1637 عیسوی میں تقریباً 10 لاکھ روپے کی خطیر رقم سے 10 برس میں مکمل ہوا۔ مقبرہ کی عمارت تقریباً 4 فٹ اونچے پلیٹ فارم پر بنائی گئی ہے۔ عمارت کے بیرونی اطراف اور میناروں کے نیچے والے حصے پر سنگ سرخ لگایا گیا ہے۔ سنگ سرخ کے سلوں پر سنگ مر مر سے آرائشی کا کام کیا گیا ہے۔ چاروں کونوں پر ہشت پہلو 5 منزلہ اور تقریباً 100 فٹ اونچے مینار ہیں۔ جن پر سنگ مرمر اور پیلے پتھر سے لہریا بنایا گیا ہے۔ مقبرہ کو رنجیت سنگھ سے پہلے 3 حکمرانوں میں سے ایک لہنا سنگھ کے ہاتھوں شدید نقصان اٹھانا پڑا۔ خود رنجیت سنگھ نے اس کے خوبصورت آرائشی پتھروں کو اکھاڑ کر امرتسر میں سکھوں کے گرد وارے میں استعمال کیا۔ اس عمارت کو سکھ دورے ہسپانوی فوجی افسر آمائس نے بطور رہائش گاہ استعمال کیا اور بعد ازاں دوست محمد خان کے بھائی سلطان محمد خان نے بطور رہائش گاہ استعمال کیا۔ جن کے ہاتھوں اسے مزید نقصان پہنچا۔ حکومت برطانیہ میں 1989-90 میں اس مقبرے کی مرمت شروع کی اور قیام پاکستان کے بعد بھی مرمت کا کام وقتاً فوقتاً جاری رہا۔ 

متعلقہ خبریں