یوم شہداء پولیس

2022 ,اگست 4



محافظ ہمہ وقت موت اور بے یقینی کے دروازے پر کھڑے ہوکر زندگیوں پر پہرہ دیتے ہیں۔ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے وہ ملت کی تعمیر کرتے ہیں۔ ان کی قربانیوں سے عام افراد بھی روشنی لیتے ہیں۔ خدمت کا جذبہ اور دوسروں کا خیال رکھنے کا احساس پیدا ہوتا ہے۔

نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز ہوا تو اس کے اثرات پاکستانی سرحدوں سے لے کر شہری علاقوں تک پھیل گئے۔ پاکستانی قوم نے اس جنگ کے خون ریز نتائج کا سامنا کیا۔ اس جنگی صورتِ حال نے پولیس کےلیے معمول سے ہٹ کر کچھ ایسے چیلنجز پیدا کردیے جو سنگین نوعیت کے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے چیلنجز کا سامنا عام طور سے کسی بھی ملک کی پولیس کو نہیں ہوتا۔ پاکستانی پولیس افسران اور اہلکاروں نے وسائل اور تربیت کی کمی کے باوجود شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا۔ اس کوشش میں بے شمار پولیس افسران اور اہلکاروں کی شہادتیں ہوئی۔ ان کے اہل خانہ اور عزیز و اقارب کو بھی سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑا۔teri

افغان بارڈر کے قریب ہونے کی وجہ سے اس جنگ کی سب سے بھاری قیمت خیبرپختونخوا پولیس ڈپارٹمنٹ کے سپاہیوں کو چکانی پڑی۔ عوامی اجتماعات، عبادت گاہوں، سرکاری املاک اور اداروں پر ڈیوٹی کے دوران پولیس اہلکار جانی اور مالی نقصان تو اٹھاتے ہی رہے ہیں، مگر پندرہ سال تک جاری رہنے والی اِس جنگ میں پولیس اہلکاروں اور ان کے عزیز و اقارب کو براہ راست نشانہ بنایا گیا۔ پولیس اسٹیشنوں پر بھاری اسلحے اور بارود کے ساتھ مسلسل حملے ہوئے، حفاظتی مراکز کا گھیراؤ کرکے پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنایا گیا، مختلف ذمے داریوں پر متعین کئی پولیس افسران کا مسلسل تعاقب کیا گیا۔

ایسا ہی ایک واقعہ 4 اگست 2010 کو پشاور میں ہوا، جب دہشت گردوں نے ڈیوٹی پر موجود انسپکٹر جنرل صفوت غیور کو قاتلانہ حملہ کرکے شہید کردیا۔ یہ سانحہ پولیس ڈپارٹمنٹ کےلیے غیر معمولی دھچکا ثابت ہوا۔ 2015 میں انسپکٹر جنرل خیبرپختونخوا ناصر درانی نے اسی شہادت کی مناسبت سے 4 اگست کو شہدائے پولیس کا قومی دن قرار دیا۔ اس اقدام کو پولیس کے تمام محکموں نے سراہا اور اپنے شہید ساتھیوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کی روایت ڈالی۔

یوم شہدائے پولیس کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ پولیس افسران اور اہلکاروں کے عزم، ارادے اور قربانیوں کو سراہا جاسکے۔ کیونکہ پولیس افسران کو روزمرہ کی ڈیوٹی میں داخلی اور بیرونی خطرات کا براہ راست سامنا رہتا ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ پولیس ڈپارٹمنٹ کے ہر محکمے کو منفرد انداز کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہی چیلنجز کا مقابلہ کرتے ہوئے کئی افسران کو جان سے گزرنا پڑا۔ دوسرا مقصد یہ ہے کہ قربانی دینے والے پولیس افسران اور اہلکاروں کے اہل خانہ کی عملی طور پر مدد کی جاسکے۔ اس سلسلے میں نہ صرف یہ کہ حکام کو متوجہ کیا گیا بلکہ پولیس ڈپارٹمنٹ کی اپنی تنظیموں نے بھرپور کردار ادا کرتے ہوئے شہدا کے بچوں کے سر پر محبت، شفقت اور تعاون کا ہاتھ رکھا۔

یہ دن جہاں پولیس اہلکاروں کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا موقع دیتا ہے، وہاں یہ اپنی کارکردگی کا جائزہ لینے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ گزشتہ ایک عشرے سے پولیس ڈپارٹمنٹ نہ صرف انتظامی امور کی روشنی میں اپنی صلاحیتوں کا جائزہ لے رہا ہے بلکہ عالمی قوانین اور معیارات کے آئینے میں بھی اپنی کارکردگی کو دیکھ رہا ہے۔

اپنی کارکردگی کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے کےلیے مسلسل تربیتی نشستوں، مطالعاتی دوروں، تجربات کے تبادلوں کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ قانون کی عملداری، قیدیوں کے ساتھ سلوک کےلیے متوازن رویوں، حالات پر قابو پانے کےلیے طاقت کے متناسب استعمال کو یقینی بنانے کےلیے مقامی قوانین اور بین الاقوامی قانونِ انسانیت کے بیچ مطابقت پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بہتری کے اس سفر کو پائیدار بنانے کےلیے بین الاقوامی قانونِ انسانیت کے نگہبان ادارے انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس کے ساتھ باہمی تعاون کی بنیاد پر شراکت کا عمل جاری ہے۔ اس شراکت کے نتیجے میں تربیتی نشستوں کا اہتمام، تحریری مواد کی فراہمی، عالمی قوانین کے ماہرین اور عالمی سطح کا تجربہ رکھنے والے سینئر پولیس افسران سے استفادے کو ممکن بنایا جارہا ہے۔

ان سرگرمیوں کے نتیجے میں نہ صرف شہریوں اور محافظوں کے بیچ اعتماد کا فقدان کم ہورہا ہے، بلکہ پولیس ادارے میں داخلی طور پر بھی استحکام پیدا ہورہا ہے۔

متعلقہ خبریں