پولیس کا خمیر اور ضمیر

2020 ,مارچ 16



انگریز دور میں کانسٹیبل بن جانا ترقی کی معراج اور خوشحالی کی ضمانت تھی۔ بزرگوں نے بتایا ان کا عزیز انسپکٹر استعفیٰ دیکر گھر آ گیا۔ یہ بڑا حیران کن تھا۔ اس سے وجہ پوچھی جاتی تو چہرے پرخوف کے سائے گہرے ہو جاتے۔ ایک روز بتا کر شَشدر کردیا کہ: ہمارے ساتھی انسپکٹر کی موت کے ڈیڑھ سال بعد قتل کا شبہ ظاہر کیا گیا تو پوسٹمارٹم کا حکم آ گیا۔ قبر کھولی گئی تو ہولناک منظرسے روح تک لرزگئی۔ ہڈیوں کے ڈھانچے کے سر کیطرف سیاہ ناگ بیٹھا تھا۔ وہ ماتھے پر ڈنک مارتا تو پسلیاں سپرنگ دبانے کی طرح سکڑ جاتیں پھر آہستگی سے کھلتیں تو سانپ وہی عمل دُہراتا ۔ہم زیادہ دیر تاب نہ لا سکے لہٰذا قبر بند کر دی۔“ پاکستان کے دوسرے گورنر جنرل ملک غلام محمد نے حجاز مقدس میں دفن ہونے کی خواہش اور وصیت کی تھی۔ امانتاً کراچی میں دفن کر دیا گیا۔ کچھ عرصہ بعد تابوت سعودی عرب بھجوایا جانے لگا۔ قبر کھولی گئی تو تابوت کے گرد سانپ لپٹا تھا۔ گورکن کی مارنے کی کوشش بے سود نکلی۔ انسپکٹر کے چھ فائر بھی نشانے پر نہ لگے۔ ڈاکٹر نے زہریلا سپرے کرا کے قبر بند کرا دی۔ دو گھنٹے بعد قبر کھولی گئی تو سانپ اسی طرح تابوت سے لپٹا ہوا تھا لہٰذا قبر مستقل طور پر بند کر دی گئی۔ماڈل ٹاﺅن اور ساہیوال میں بے گناہوں کے خون کا حساب کسی نے تو دینا ہے۔ اس دنیا میں نہیں تو قبر میں ہی سہی۔ایک ایس پی پر دوست وکیل کی لاش تیزاب میں پگھلانے کا الزام ہے بعید نہیں اسے تیزاب میں زندہ ہی ڈال دیا گیاہو۔سنا ہے پیٹی بھائی اسے بچانے کیلئے سرگرم ہیں،بچا بھی لیں گے مگر قبر میں ہر ایک نے خود ہی بھگتنا ہے۔ قبروں کے منور ہونے کی مثالیں بھی موجود ہیں:1972ءمیں محمودغزنوی کا مقبرہ زلزلے میں پھٹنے سے تابوت نمودار ہو گیاجسے کھولا گیا تو نعش ترو تازہ تھی۔ قطب الدین ایبک کی کسی نے قبر کھول لی ان کا کفن بھی میلا نہیں ہوا تھا کیونکہ۔
 محمد کے غلاموں کا کفن میلا نہیں ہوتا۔
 ہمارے لئے دونوں آپشن قبر میں"سانپ اور اُجلا کفن" موجود ہیں۔
پولیس میں بے جا خوشامد،تابعداری اور وفاداری ثابت کرنے کی وباءیہیں نہیں اور بھی کہیں پائی جاتی ہے۔ جوزف سٹالن 1941ءمیں روس کا وزیراعظم بنا۔ بڑا سخت گیر اور بے رحم تھا۔ ایک مرتبہ اسکی گھڑی گم ہو گئی۔ پولیس سربراہ نے برآمدگی کا حکم دیا۔ اگلے روز بیریا نے سٹالن کو خوشخبری سنائی "جناب تمام ملازمین سے تفتیش کی گئی 127 گھڑیاں برآمد ہو گئی ہیں" سٹالن نے کہا "گھڑی تو چند منٹ بعد ہی مل گئی تھی“۔127 گھڑیاں سٹالن کی دہشت کے باعث برآمد ہوئیں یا سوویت یونین کے پولیس کلچر کی وجہ سے؟ اگر کلچر کی وجہ سے تو ہم نے وہ کلچر برآمد کرلیا۔پنجاب کے ایک آئی جی نے رات کوجیب سے 9 سو روپے نکال کر تکیے کے نیچے رکھ دئیے۔ صبح دفتر جانے کی تیاری کے بعد تکیہ اٹھایا تو روپے نہیں تھے۔ صاحب نے تھانہ سول لائن رپورٹ کر دی اور دفتر چلے گئے۔ ایس ایچ او نے فون کرکے بتایا ”سر تینوں گھر کے ملازموں سے نو،نو سو روپے برآمد ہو گئے ہیں۔ اس دوران اہلیہ کا غلاف سے پیسے ملنے کا فون آ چکا تھا۔
حکمران پولیس سے قتل جیسے بھیانک کام کراتے ہیں تو جائز کاموں کیلئے ان کی نفسیات کو بھی مد نظر رکھتے ہیں۔ گورنرنواب کالاباغ بڑے سخت گیرتھے۔اُس دور میں لاہور سے 5 سالہ بچہ اغوا ہوگیا۔ نواب صاحب نے ایس پی کو بلوا کر 24 گھنٹے میں بازیابی کا حکم دیا لیکن بچہ نہ ملا۔ نواب صاحب نے پولیس افسروںکے بچے کالاباغ بھجواتے ہوئے کہا جب تک مغوی بچہ بازیاب نہیں ہوتا آپ کے بچے وہیں رہیں گے۔ اسی روز پولیس نے بچہ بازیاب کرالیا۔یہ کام بغیر ڈنڈے کے بھی ہوسکتا تھا۔
عمومی تاثر ہے پولیس مجرموں کی پشت پناہ ہے،یہ بھی کہا جاتا ہے پولیس کا خمیر ہی جرائم سے اُٹھاہے ہر دوتاثرات سے کلی اتفاق نہیں کیا جا سکتا۔ 25 مئی 1998ءکو تربت سے کراچی جانیوالا جہاز اغوا ہوا تو پولیس کمانڈوز نے جان پر کھیل کر مسافروں کو بچایا اور ہائی جیکروں کو گرفتارکیاتھا۔ دھرنے میں ایس ایس پی محمدعلی نیکو کارہ عزم و ہمت کی چٹان بن گئے تھے۔ انکے ساتھی ”شیر“ کے سر سے سینگوں کی طرح غائب ہوگئے۔ پولیس میں اچھے لوگوں کی کمی نہیں مگر کالی بھیڑیں زیادہ نمایاں ہو کر اس کی مجرمانہ ذہنیت کا عمومی تاثر اُجاگر کرتی ہیں۔ ایک زیر تربیت پولیس اہلکار نے بتایا نائٹ پاس کے لیے پیسے دینے پڑتے ہیں گویا تربیت کی عمارت کی پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی۔ ایک بیٹا پولیس دوسرا فوج میں چلا جاتا ہے۔چند سال بعد دونوں کے رویے ان کی تربیت کا عکاس بن چکے ہوتے ہیں۔ آخر ایسی فورس کو کس طرح دیانت کا مرقع بنایا جا سکتا ہے ؟
چین میں ماﺅ نے ذخیرہ اندوزوں کو پھانسیاں دیدیں۔نشئی سمندر بُرد کر دئیے اور پولیس کے بڑے افسروں کو فائرنگ سکواڈ کے سامنے کھڑا کر دیا۔ ماﺅ کو بتایا گیا"جناب ان میں اچھے لوگ بھی ہیں" ماﺅزے تُنگ نے کہا" خوب! ایسے لوگوں کی شاندار یادگاریں بنا دی جائیں"۔ہمیں اپنے "چن ماہیوں" کو ایسے کسی بھی ہولناک انجام سے دوچار نہیں کرنا۔ اچھے کردار والے کالی بھیڑوں کی خود نشاندہی کر کے نسلوں کے مستقبل کو روشن بناسکتے ہیں مبادا دوسروں کے کردہ گناہوں پر خاموش رہنے کی پاداش میں ناکردہ گناہوں کے عذاب کا شکار ہو جائیں۔ 
ماﺅ کے تمام فیصلوں کو مثالی نہیں مانا جا سکتاہے۔ ان کو بتایا گیا کہ چڑیاں اناج کا اجاڑا کرتی ہیں۔ ایک ”چڑی“ اڑھائی کلو اناج سالانہ کھاتی ہے۔ ماﺅ نے چڑی مار مہم شروع کر دی آخری چڑیا کے مرنے سے پہلے قحط پڑ گیا۔ فصلیں تباہ ہونے لگیں کیونکہ جن کیڑے مکوڑوں کو چڑیاں کھا جاتی ہیں ، ان کی نسلیں بڑھ گئیں جس سے فصلیں برباد ہوئیں اور قحط پڑ گیا جو پچاس کی دہائی سے شروع ہو کر 60 میں بھی چلا اس میں 4 کروڑ چینی مارے گئے تھے۔اب دنیا کرونا وائرس کی لپیٹ میں ہے،جو چین ہی سے اُٹھاہے۔ 
ہمیں اپنے پولیس حکام اور آج اسی پولیس کلچر کے خاتمے کی ضرورت ہے جس سے شریف لوگ خائف رہتے ہیں۔پولیس کلچر تنخواہوں میں دگنے تگنے اضافے سے تبدیل نہیںہو گا۔ یہ شاید تربیت سے بدل سکتا ہے۔ اصلاحِ احوال کا ایک طریقہ پولیس کی مکمل نفری کو فوج کے ساتھ بدل دیا جائے۔ہر سال ایک چوتھائی نفری بھی بدلی جاسکتی ہے۔مگرایک اور سبیل بھی ہے ۔زیادہ ضرورت تربیت کی ہے نہ تبلیغ کی،پھر کس کی ضرورت ہے؟سب کچھ پولیس اہلکار اور حکام جانتے ہیں،ضرورت باضمیر ہونیکی ہے۔ضمیر کی آواز سے صرفِ نظر نہ کریں تو یہی لوگ معاشرے کو جنت نشاں اور ضو فشاں بنا سکتے ہیں۔لیکن ضمیر کیسے جاگے اور کون جگائے اس کا فیصلہ قارئین آپ کیجئے۔
آخر میں آنکھیں بند کر کے حکم کی تعمیل کے حوالے سے روح کو تڑپا کر رکھ دینے والا واقعہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ گورنر موسیٰ کا بیٹا ابراہیم موسیٰ اداکارہ حنا کی زلفِ گرہ گیر کا اسیر ہوکر شادی پر تُل گیا ۔ گورنر نے سختی سے منع کیا لیکن دونوں نے ڈھاکہ جا کر شادی کر لی ، کچھ دنوں بعد جوڑاواپس آگیا۔ایک شب سینما آگئے‘ شو ختم ہوا تو ایک اعلیٰ پولیس افسر ”استقبال“ کیلئے موجود تھے۔بتایاگیا ،گورنر صاحب نے طلب کیا ہے۔ ابراہیم نے جانے سے انکار کر دیا۔مگروہ ایس پی کے ہلکے سے ”اشارے“ پر دو درجن پولیس جیپوں کے قافلے میں گورنر ہاﺅس کی طرف رواں اور کچھ دیر بعد گورنر کے سامنے کھڑے تھے۔ گورنر نے غصے کا اظہار کیا تو بیٹے نے بدزبانی کی اور پسٹل نکال لیا۔ ساتھ کھڑے پولیس افسر نے پلک جھپکتے میں پستول چھین لیا۔ گورنر صاحب نے شدید غصے میں ناخلف کوگالی دی اور ایس پی سے کہا جاﺅ اس کی ٹانگیں توڑ کر جیل میں پھینک دو۔ تین چار گھنٹے بعد گورنر نے ایس پی سے پوچھا"ابراہیم کس جیل میں ہے"ایس پی نے کہا ”سر وس ہسپتال میں ہے، آپ نے کہا تھا اس کی ٹانگیں توڑ دو پولیس نے توڑ دی ہیں" ۔اُن دنوں میڈیکل کی سہولتیں بھی جدید نہیں تھیں۔ ابراہیم موسیٰ کی ٹانگوں کے زخم بگڑتے بگڑتے ناقابلِ علاج ہو گئے اور وہ اسی تکلیف میں چل بسا۔

متعلقہ خبریں