ہماری انفرادی اور اجتماعی غیرت مر چکی ہے۔

2022 ,جنوری 10



یہ 1998 کی بات ہے مصر میں مشہور ڈانسر فیفی عبدو کا طوطی بولتا تھا،حکومتی ایوانوں سے بزنس کلاس تک فیفی کے ٹھمکوں کی زد میں تھے۔ قاہرہ کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں اپنے جلوے دکھانے کے بعد فیفی نے شراب پینے کیلئے بار کا رخ کیا،شراب زیادہ پینے کی وجہ سے وہ اپنے ہوش کھو بیٹھی اور بار میں ہنگامہ کھڑا کر دیا، ہوٹل میں وی آئی پیز کی سکیورٹی پر مامور پولیس آفیسر فوری وہاں پہنچ گیا،اس نے بڑے مودبانہ انداز میں فیفی سے کہا کہ آپ ایک مشہور شخصیت ہیں اس طرح کی حرکتیں آپ کو زیب نہیں دیتی۔ یہ آفیسر خوش مزاجی اور خوش اخلاقی کیلئے مشہور تھے اس ہوٹل میں قیام کرنے والی اہم شخصیات انہیں پسند کرتی تھیں،وہ ایک فرض شناس آفیسر تھے۔ فیفی کو پولیس آفیسر کی مداخلت پسند نہ آئی اس نے نشے کی حالت میں ہی اعلی ایوانوں کا نمبر گھمایا اور پولیس آفیسر کا کہیں دور تبادلہ کروایا۔ اگلی شام جب فیفی کا نشہ اترا اس نے ہوٹل انتظامیہ سے پولیس آفیسر کے متعلق پوچھا اسے بتایا گیا کہ آپ نے اس کا تبادلہ کروایا ہے فیفی نے فون گھمایا سرکار نے پولیس آفیسر کو واپس ہوٹل رپورٹ کرنے کا حکم دیا۔ پولیس آفیسر نے پولیس سے متعلقہ وزیر کو اپنا استعفی پیش کیا،ان دنوں وجدی صالح وزیر ہوتے تھے وزیر نے حیرت سے پولیس آفیسر سے پوچھا کہ اس ہوٹل میں ڈیوٹی کرنے کیلئے پولیس آفیسر بڑی بڑی سفارشیں کرواتے ہیں آپ کو دوسرا موقع ملا لیکن آپ استعفی پیش کر رہے ہیں؟ پولیس آفیسر نے تاریخی جواب دیا "جس ملک میں ایک شرابی عورت کے اشارے پر ٹرانسفری اور ایک رقاصہ کے حکم پر واپسی ہوتی ہو اس ملک میں کسی غیرت مند کا رہنا عار اور عیب ہے" ۔ چند ماہ بعد اس آفیسر نے مصر ہی چھوڑ دیا آج وہ امریکہ میں اپنے بڑھاپے کے دن خوشی سے گزار رہا ہے۔ یہ صرف ایک مصر کی کہانی نہیں ہے یہ ہمارے ہر غریب دیس کی کہانی ہے،یہ میرے ملک کی بھی کہانی ہے۔ لیکن ہماری انفرادی اور اجتماعی غیرت مر چکی ہے۔

متعلقہ خبریں