“باد سموم “میں “شجر سایہ دار” کی تلاش…

2022 ,جون 16



ملک کے “سیاسی منظر نامے” کو “باد سموم “کے “جھونکوں” نے یوں” بے برگ و بار “کیا ہے کہ اہل وطن “کسی شجر سایہ دار” کو ترس گئے ہیں…….!!نظریات “نظریہ ضرورت”کی بھینٹ چڑھ گئے…….”مفادات” نے اخلاقیات اور روایات کا گلا گھونٹ دیا….”کمرشل ازم” اتنی بڑھ گئی کہ اب ہر کہیں “بزنس” ہی ہو رہا ہے …..”بازار سیاست”کا المیہ دیکھیں کہ جن “اصحاب برائے فروخت” کو اپنے آپ سے” بدبو” آنی چاہئیے تھی وہ اب “خوشبو” کے “بیوپاری”ہیں…..گوجرانوالا سے ہمارے ایڈیٹر دوست جناب ڈاکٹر عمر نصیر اپنے شہر کے “انصاری برادران”کی نئی “سیاسی قلابازی” پر انگشت بدنداں ہیں……ڈاکٹر صاحب بھولے آدمی ہیں…..کوئی انہیں سمجھائے کہ”انصاری برادران “تو جی ٹی روڈ کے “ایک سٹاپ” کی ” لوکل سواریاں “ہیں ،یہاں تو حکمران اتحاد پی ڈی ایم کے سربراہ جناب مولانا فضل الرحمان دامت برکاتہم العالیہ کے”امام سیاست”عصر کے وقت روزہ توڑ گئے ہیں……..صاحب جبہ و دستار حضرت مولانا خان محمد شیرانی مدظلہ العالی برسوں کی” نظریاتی رفاقت” کو “داغ مفارقت” دیکر”اس بڑھاپے”میں اپنے”سابق قائد” کے سب سے بڑے” سیاسی مخالف “جناب عمران خان سے “بغل گیر” ہوگئے ہیں………ہمارے پیارے ڈاکٹر صاحب “جمع خاطر “رکھیں کہ بے چارے”انصاری برادران”نے تو کچھ بھی “خاص” نہیں کیا………وہ تو بس بنی گالہ گئے اور آگئے…..ویسے بھی “یہ بات “اب عام الیکشن تک آئی گئی ہو گئی ہے ….وہ ذرا فیصل آباد والے “راجہ ریاض” کی “جرات رندانہ “دیکھتے جائیں اور شرماتے جائیں……”پیپل پارٹی” اور “تریخے انصاف” سے ہوتے ہوئے “موصوف ” قومی اسمبلی میں وزیر اعظم شہباز شریف کے “اپوزیشن لیڈر” لگ گئے ہیں…..دلچسپ امر یہ ہے کہ وہ آئندہ انتخابات میں ن لیگ سے ایم این اے کے کنفرم امیدوار بھی ہیں…..کہہ لیں کہ وہ “نئی جاب” کے لیے” انٹرن شپ”پر ہیں……کون نہیں جانتا کہ “عالی جاہ” کو یہ “مناصب جلیلہ” عمران خان کیخلاف” بغاوت” کے “صلے” میں عطا ہوئے ہیں…..ویسے”مینجرز “کے بھی کیا کہنے کہ کیسے کیسے “اللہ لوک بندوں “کو کیسے کیسے مینج کرکے” نظام جمہوریت” چلالیتے ہیں…..لطیفہ یہ ہے کہ مولانا شیرانی سے راجہ صاحب تک سب لوگ اپنے تئیں “باضمیر”ہیں اور” اصولوں کی سیاست” کر رہے ہیں……اس سے بھی “بڑی بات” یہ ہے کہ کسی کو بھی “اپنے قول و فعل” پر کوئی “شرمندگی” نہیں…..!!!شریف برادران ہوں یا زرداری صاحب….” ہمارےکپتان” ہوں یا مولانا صاحب سب کے اپنے اپنے” باضمیر” اور” بے ضمیر” ہیں……یہاں سب چلتا ہے بھائی!!

یہ تو تھے “مکروہات سیاست”اب نئے حکمرانوں کی “حالت زار” دیکھیں….عمران خان سے” مہنگائی مکائو مارچ” کے”بل بوتے” پر اقتدار چھیننے والی شہباز شریف کی زیر قیادت اتحادی حکومت کا” انتظامی منظر نامہ” بھی “دھندلا” دکھائی دے رہا ہے…….گویا کشتی “بھنور” میں ہے اور “باتونی ملاح” دلاسے دے رہا ہے……آئی ایم ایف نے” مہنگائی کے روپ” میں عوام کیخلاف “طبل جنگ “بجا دیا ہے…..ایک روٹی پندرہ روپے کی ہوگئی ہے اور اب کوئی غریب الدیار مزدور ایک وقت میں دو روٹیاں نہیں کھا سکے گا……مطلب اب وہ کسی ایک وقت کا فاقہ کاٹے گا کہ دو وقت میں صرف چار سوکھی روٹیوں کے لیے ساٹھ روپے درکار ہیں ……سالن اور چائے کی” عیاشی کے بعد تو وہ بے چارہ “اوندھے منہ” جا گرے گا……شرمناک بات ہے کہ اس خوفناک صورتحال میں بھی حکومت کے “فنانشل ایڈوائزر “ہوش ربا گرانی کے “دفاع” میں آئی ایم ایف کے “قصیدہ خواں” بنے ہوئے ہیں….

شہباز حکومت کے” گراں قدر” وزیر خزانہ جناب مفتاح اسماعیل نے تو حد ہی کر دی……..انہوں نے آتے ہی “مہنگائی کی چابی” گھمائی اور ملک کا پہیہ جام کر دیا……..گویا ان کے آنے سے رہی سہی برکت اٹھ گئی اور نحوست چھا گئی…..موصوف پھر بھی کبھی “قہقہے “لگاتے،کبھی “زیر لب مسکراتے” عوام کے زخموں پر نمک چھڑکتے ہوئے فرماتے ہیں کہ پٹرول ابھی اور مہنگا ہوگا……لگتا ہے کہ جناب پاکستان کے وزیر خزانہ نہیں آئی ایم ایف کے “کنٹری ہیڈ” ہیں کہ عوام کو جواب دہ کوئی وزیر مشیر اس” بے رخے” لہجے میں بات کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا……موصوف نے وہ “اندھیر نگری” مچائی کہ لوگ دو مہینے میں ہی عبدالحفیظ شیخ اور شوکت ترین کو بھول گئے ہیں……ہمارے خیال میں اگر یہ صاحب ایک دو ماہ مزید شہباز حکومت کے وزیر خزانہ رہے تو خادم پاکستان اپنی کرسی پر نہیں رہیں گے……….سوال یہ ہے کہ اگر آئی ایم ایف سے قرض لیکر ہی ملک چلانا تھا تو یہ “فریضہ “تو پہلے والے “حضرات گرامی قدر” بھی بخوبی انجام دے رہے تھے….. پھر اتنی” ہا ہا کار “مچانے کی کیا ضرورت تھی؟…..سوال یہ بھی ہے کہ شیخ صاحب ہوں یا مفتاح بھائی ….اگر کسی عالمی مالیاتی ادارے سے قرض لینا ہی “قابلیت” ہے تو پھر بطور وزیر خزانہ ان کی” قابلیت” کیا ہے؟یہ کام تو آئی ایم ایف کی” گڈ بک “میں شامل کوئی بھی معاشی ماہرنما “سہولت کار “کر سکتا ہے…….جناب مفتاح اسماعیل کی “دوڑ دھوپ “دیکھ کر عالمی شہرت یافتہ صنعتکار ایم اے رنگون والا کی ” اپنے وزرائے خزانہ” بارے تاریخی باتیں یاد آگئیں…..وطن عزیز کے نیک نام مدیر جناب جمیل اطہر اپنی خودنوشت سوانح عمری”دیار مجدد سے داتا نگر تک”میں لکھتے ہیں کہ پاکستان کے ممتاز صنعت کار محمد علی رنگون والا جو ایم اے رنگون والا کے نام سے جانے جاتے تھے…..1980میں بین الاقوامی وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت کے صدر منتخب ہو گئے….جب وہ وطن واپس آئے تو لاہور ایوان صنعت و تجارت نے ان کے اعزاز میں عشائیہ دیا….رنگون والا نےاپنی تقریر میں کہا کہ میری تعلیم آٹھ جماعت ہے…..یہ پاکستان کا اعزاز ہے مجھ سا کم تعلیم یافتہ شخص دنیا بھر کی تجارتی تنظیموں کے وفاق کا صدر منتخب ہوا ہے……
رنگون والا نے کہا کہ پاکستان بننے سے پہلے اگر کوئی مسلمان کسی” ہندو ساہو کار” سے کچھ رقم قرض لیتا تو ہاتھ باندھ کر یہ التجا بھی کرتا کہ لالہ جی!کسی کو بتائیے گا نہیں کہ میں نے آپ سے رقم ادھار لی ہے……رنگون والا کا کہنا تھا کہ قرض لینا اد قدر معیوب سمجھا جاتا تھا کہ ہر مسلمان اس بات کو چھپانا چاہتا تھا مگر اب حالت یہ ہوگئی ہے کہ ہمارا وزیر خزانہ کسی بیرونی ملک کے دورے پر جاتا ہے اور خالی بریف کیس کے ساتھ کراچی یا لاہور کے ہوائی اڈے پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے. ہوئے کہتا ہے کہ فلاں ملک نے اگلے پانچ برس میں ہمیں اتنی رقم بطور قرض دینے کاوعدہ کیا ہے اور ہم نے ایک معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں…….
کہاں ہماری وہ غیرت کہ قرض لے کر اسے راز میں رکھنے کے لیے ہاتھ پائوں مارتے اور کہاں ہماری یہ حالت کہ ایک سادہ کاغذ پر دستخط کرکے فخر سے یہ اعلان کہ فلاں ملک اگلے سالوں میں ہمیں اتنا قرض دے گا…….انہوں نے کہا کہ ہمیں قوموں کی برادری میں عزت سے رہنا ہے تو ہمیں قرض کی لعنت سے نجات حاصل کرنا ہوگی……….

کاش ہمارے ارباب اقتدار رنگون والا کی باتوں پر کان دھر لیتے تو یوں ملک ملک” خوار “نہ ہوتے…..بات ہورہی تھی مہنگائی تو “زمینی حقائق “یہ ہیں کہ پہلے مرحلے میں پٹرول 60روپے مہنگا ہونے سے مہنگائی کی شرح میں خوفناک حد تک اضافہ ہوا……تیل اور مہنگا ہوا تو گرانی آسمان چھوئے گی……مہنگائی بڑھے گی تو حکومت کا گراف بدترین سطح تک گر جائیگا کہ یہ “تجربہ لوگ” مہنگائی ختم کرنے کا “مینڈیٹ” لیکر آئے تھے……اب مہنگائی ختم کرنے کے بجائے پٹرول کی مد میں دو دو ہزار “خیرات” اور یوٹیلیٹی سٹوروں پر سستے آٹے اور چینی کی “سخاوت” کام نہیں آئے گی……جب تک پٹرول سستا نہیں ہوگا مہنگائی کا جن قابو نہیں آئے گا کہ معیشت کا پہیہ تیل کے گرد گھومتا ہے…….جب تک گلی محلے کی سطح پر سستا آٹا اور سستی چینی نہیں ملے گی عوام کو کوئی ریلیف نہیں ملے گا ……………سستے پٹرول،آٹے اور چینی کی نام نہاد سکیمیں صرف اور صرف “فیس سیونگ” ہے اور “فیس سیونگ “سے” لاڈلا کپتان” نہیں بچا تو یہ” 9 پیارے”کیسے بچ پائیں گے……….؟؟؟ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر فلسفے جھاڑنے والے نئی حکومت کے” عالی دماغ” یاد رکھیں کہ مہنگائی کسی “گوگی” یا “گوگے” نہیں دھوپ میں جھلستے” عام آدمی” کا مسئلہ ہے…..عوام نے پہلے مہنگائی پر کوئی “سمجھوتہ”کیا نہ آئندہ کسی فلاسفر کی “اوٹ پٹانگ منطق” چلے گی……ووٹ بہترین انتقام ہے…..ابھی کل کی بات ہے کہ مہنگائی کے مارے لوگوں نے عمران دور میں ڈسکہ سمیت کئی ضمنی الیکشن اپوزیشن کی جھولی میں ڈال دیے تھے……..وہ وقت پھر دور نہیں…..کسی کو شوق ہے تو دیکھ لے گا کہ اب کی بار بھی کتنے ہی برج الٹائیں جائینگے!!!!

متعلقہ خبریں