اب پتہ چلا کہ پیپلز پارٹی سے بھاگنے والے عہدیداروں اور نمائندوں کی تعداد باقی پارٹی سے کم کیوں ہے۔

2017 ,جون 8



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): اب پتہ چلا کہ پیپلز پارٹی سے بھاگنے والوں میرا مطلب ہے پارٹی چھوڑ کر جانے والوں کی تعداد باقی پارٹیوں سے جانے والوں کی نسبت زیادہ کیوں ہے۔ درون خانہ اطلاعات تھیں کہ پارٹی کے ہر عہدیدار اور عوامی نمائندے پر حسب توفیق فیس عائد کی جا رہی ہے۔ پس اس خوف سے پارٹی والے پارٹی سے بھاگنے لگے۔ بقول شخصے ڈوبتی ہوئی کشتی کا سودا کون کر سکتا ہے۔ ویسے بھی یہ پارٹی اس وقت شیخوں کے قبضے میں لگتی ہے۔ کوئی دمڑی بھی دینے کو تیار نہیں مانگنے والے بے شمار ہیں۔ اب لاکھوں روپے فیس کون دے وہ بھی ہر سال ۔

پتہ چلا ہے کہ پارٹی کا ہر ایم این اے اور ایم پی اے سالانہ 2لاکھ روپے وزیر اعلیٰ 25لاکھ سپیکر اور وزرا 10لاکھ جبکہ مشیر اور ڈپٹی سپیکر 5 لاکھ سالانہ فیس دیں گے۔ لٹّو تے پھٹو کی اس عمدہ مثال کے سامنے آنے کے بعد پارٹی رہنمائوں کے کان کھڑے ہو گئے اور انہوں نے آصف زرداری صاحب کی سابقہ پالیسیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بلاول زرداری کے اس فیصلے سے قبل ہی اڑنا شروع کر دیا۔ اس فیصلے کے نفاذ کا اعلان ہونے کے بعد بقول غالب…

’’دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک‘‘

کون کون مرد بحران بن کر پارٹی کا یہ فیصلہ قبول کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں سیاسی جماعتوں میں سب لینے والے ہیں دینے والے کا تو تصور ہی محال ہے یہاں۔ بہرحال خطرہ ہے کہ اگر یہ سکیم کامیاب رہی تو باقی جماعتیں بھی اس پر عمل کرنے کی ٹھان لیں گی۔

متعلقہ خبریں