تو زرینہ ،ماں لٹیری، باپ ڈاکو" میاں نواز شریف نے عابد شیر کے مخولیا بیانات کو سنجیدہ لے کر شت اپ کال دے دی

تحریر: فضل حسین اعوان

| شائع نومبر 30, 2016 | 18:13 شام

اسلام آباد(مانیٹرنگ)وزیر اعظم میاں نواز شریف نے وزیر مملکت برائے پانی و بجلی عابد شیرعلی کو غیر مناسب بیانات سے روک دیا ہے، وزیر اعظم نے یہ اقدام مختلف بیانات کے نتیجے میں سیاسی ماحول گرم ہونے پر اٹھایا ہے۔زبان سے شائستگی کا دامن چھوٹ گیا، نون لیگ اور پیپلز پارٹی آمنے سامنے آگئے ،نون لیگ کے عابد شیر علی نے بلاول کو آنٹی زرینہ کا نام دے دیا، آصف زرداری کو ڈاکو قرار دے کر واپس لانے کا مطالبہ کردیا۔
پیپلز پارٹی کے مولا بخش چانڈیو نے بھی جواب میں تیر برسادیے، عابد شیر علی کو

بد زبان قرار دیا، وزیر اعظم سے عابد شیر علی کو کنٹرول کرنے کا مطالبہ کردیا۔

پاکستانی سیاست میں طعنے بازیوں کے دوران لہجوں کی کاٹ نشتر سے خنجر بن گئی ہے، سیاسی مخالفین نے ایک دوسرے کی کردار کشی کو شاید اپنا مقصد بنالیا۔

سپریم کورٹ میں سماعت تو پاناما کیس کی تھی لیکن عدالت کی دہلیز پر مسلم لیگ نون کے عابد شیر علی نے پیپلز پارٹی پر الفاظ کی بم باری کرڈالی،نشانے پر ایک بار پھر بلاول بھٹو زرداری آگئے۔

عابد شیر علی نے جہاں بلاول کے انداز گفتگو کی دھجیاں اڑائیں، وہیں ان کی والدہ بے نظیر بھٹو کو بھی سیاسی گرما گرمی میں کھینچ لائے۔

عابد شیر علی نے کہا کہ بلاول اپنے والد کو واپس لائیں انہوں نے ڈاکے مارے ہیں، ان کی والدہ بے نظیر بھٹو کا نام بھی پاناما پیپر میں آیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ پچھلے ڈاکے ماریں اور آپ وضو کرکے حاجی نمازی بن جائیں، بلاول کرپشن چھپانے کے لیے آنٹی زرینہ بن کر تقریر کرتے ہیں۔

مسلم لیگ نون کے رہنما کے پے در پے وار پیپلز پارٹی کے مولا بخش چانڈیو کو آگ بگولا کرگئے، اینٹ کا جواب پتھر سے دیتے ہوئے پہلے تو انہیں بدزبان کا لقب دیا، پھر وزیراعظم سے انہیں کنٹرول کرنے کا مطالبہ کردیا۔

مولا بخش چانڈیو نے اسی پر بس نہیں کیابلکہ اپنے ترکش سے پاناما کیس کے تیر نکالے اور ایک ساتھ کمان سے چھوڑ دیے۔

عابد شیر علی اور مولا بخش چانڈیو کے درمیان محاذ گرم ہوا تو وزیر اعظم نواز شریف نے اس بات کا نوٹس لیتے ہوئے اپنی جماعت کے رہنما کی سرزنش کی اور انہیں نامناسب بیانات سے گریز کرنے کی ہدایت کردی۔