لاہور پریس کلب الیکشن

2022 ,جنوری 1



تحریر عمران اسلم سنہ 1997 کے لاہور پریس کلب کے انتخابات میں چند ووٹوں کی برتری کے ساتھ میں صدر منتخب ہوا تھا۔ کلب کی الیکشن کمیٹی کے سربراہ مرحوم شفقت تنویر مرزا صاحب نے میرے مخالف امیدوار عامر میر کے اصرار پر اسی وقت دو مرتبہ ری کاؤنٹنگ بھی کرائی لیکن پھر بھی میں چند ووٹوں سے کامیاب ہوا تھا۔ اس کے بعد صبح کے وقت شفقت تنویر مرزا صاحب نے میری کامیابی کا اعلان کردیا۔ اس وقت عامر میر کے پینل کے سیکریٹری کے عہدے کے امیدوار شفیق اعوان بھی کامیاب ہو گئے تھے۔ جب انتخابات مکمل ہوگئے تو الیکشن ریکارڈ سر بمہر یعنی سِیل کر کے سیکریٹری کی تحویل میں دے دیا جاتا ہے۔ اُسی دوران میرے مخالف نے ری کاؤنٹنگ کی ایک مزید درخواست دے دی جو شفیق اعوان نے گورننگ باڈی کو اعتماد میں لیے بغیر وصول کرلی اور ری کاؤنٹنگ کی تاریخ دے دی۔ میں ان چالاکیوں جو سمجھتا تھا لیکن اس کے باوجود میں نے ری کاؤنٹنگ روکنے کی کوشش نہیں۔ مجھے یقین تھا کہ شفقت تنویر مرزا جیسے قابل صحافی ووٹوں کی گنتی غلط نہیں کرسکتے اور میں اس مرتبہ بھی ری کاؤنٹنگ میں جیت جاؤں گا۔ ری کاؤنٹنگ کے وقت میں نجی کام کی وجہ سے کراچی گیا ہوا تھا۔ وہاں معلوم ہوا کہ ری کاؤنٹنگ میں مجھے ہرا دیا گیا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جب ری کاؤنٹنگ کے لیے الیکشن ریکارڈ کو کھولا گیا تو وہ سر بمہر نہیں تھا۔ ہمارے دوستوں نے ری کاؤنٹنگ کمیٹی کے سربراہ حسین نقی صاحب کو بتایا تھا کہ یہ ریکارڈ سر بمہر نہیں ہے اور شفیق اعوان جیسی “حیران کن” شخصیت کی تحویل میں ہوتے ہوئے اس میں ردوبدل ہونے کے قوی امکانات ہیں۔ لیکن حسین نقی صاحب نے شفیق اعوان کے کہنے پر اس الیکشن ریکارڈ میں موجود بیلیٹ پیپرز کی ری کاؤنٹنگ کی جو سر بمہر نہیں تھا۔ اصولی طور پر نقی صاحب کو ری کاؤنٹنگ کرانے سے انکار کردینا چاہیے تھا۔ بہرحال میں نے نقی صاحب کو احساس دلانے کی کوشش کی کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرِثانی کریں لیکن انھوں نے انکار کردیا۔ میں یہ تمام معاملات عدالت میں لے جا سکتا تھا، لیکن میں نے ری کاؤنٹنگ والی اپنی شکست کو قبول کر لیا۔ ہمارے صحافی دوست بہت پیارے اور مردم شناس تھے۔ اس سے اگلے برس جب میں نے دوبارہ الیکشن میں حصہ لیا تو میں بہت ہی بھاری اکثریت سے صدر کے عہدے کے لیے منتخب ہوا اور کئی ہیوی ویٹس کو کلب کی سیاست سے فارغ کردیا۔ اِس وقت یہ سب کچھ لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ لوگ جو الیکشن کے عمل کو دھاندلی سے خراب کرنے کی کوشش کررہے ہیں وہ تاریخ سے سبق حاصل کریں۔

متعلقہ خبریں