تذکرہ ان شہزادیوں کا جنہیں بطور رشوت دوسرے ملکوں کے بادشاہوں کو بھجوا دیا جاتا تھا

2018 ,فروری 6



لاہور (ویب ڈیسک) رشوت کا چلن زمانہ قدیم سے چلا آرہا ہے۔ اُن دِنوں بادشاہوں کو بھی رشوت دی جاتی تھی۔ بڑے اور طاقتور بادشاہ کے زیرِ تحفظ آنے کے لئے ہمسائیگی میں چھوٹے ملکوں کے حاکم بڑے بادشاہ کو قیمتی نذرانے بھیجتے تھے یہاں تک کہ اپنی بیٹیاں بھی اُس کے حرم میں تحفتاً پیش کرتے تھے۔ کالم نگار منظور احمد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔ ترک سلطانوں کے حرم میں ایسی بہت سی شہزادیاں داخل تھیں۔ تحفے میں آئی ہوئی بعض شہزادیاں امورِ سلطنت پر حاوی ہوئیں۔سلطان سلیمان القانونی کی ملکہ حُورم یوکرین کے ایک چھوٹے سے حاکم کی بیٹی تھی۔ ملکہ حورم یورپ کی تاریخ میں بہت نمایاں مقام رکھتی ہے۔ ہندوستان میں سامراجی طاقتیں مقامی حاکموں کو ایک دوسرے کے خلاف رشوت دیتی رہیں۔ لارڈ کلائیو نے میر جعفر جو نواب آصف الدولہ کا وزیر اور سپہ سالار بھی تھا کو رشوت دے کر ہی غداری کرنے پر آمادہ کیا تھا۔ لارڈ کلائیو خود بھی چھوٹے چھوٹے راجوں اور نوابوں سے اپنی ذات کے لئے رشوت لیتا تھا۔ وہ اسی جرم کی پاداش میں ایسٹ اِنڈیا کمپنی سے نکالا گیا اور لندن واپس بھیج دیا گیا جہاں وہ عُسر ت کی زندگی گذارتا ہوا موت سے ہمکنار ہوا۔ رشوت کی کئی شکلیں ہیں اور اُن کے مختلف نام رکھے گئے ہیں۔ الیکشن مہم چلانے کے لئے سیاسی پارٹیاں جو رقم چندے کے نام پر لیتی ہیں وہ بعض ممالک میں رشوت سمجھی جاتی ہے لیکن امریکہ میں اگر یہ رقم خا ص حد سے زیادہ نہ ہو تو ایسے چندے کو قانونی سمجھا جائے گا۔

عرب ممالک میں خاص طور سے سعودی عرب میں رشوت کو بخشیش کہا جاتا ہے جو سینکڑوں ڈالروں سے اربوں ڈالر تک ہو سکتی ہے۔ سعودی نظامِ حکومت میں دوسرے ممالک کے سربراہوں کو اپنے گروپ میں ملانے کے لئے بخشیش دوطریقوں سے دی جاتی ہے۔ایک بخشیش تو کھلے عام ہوتی ہے اور وہ سرکاری طور پر اُس ملک کے عوام کی بہبود کے لئے دی جاتی ہے چاہے وہ رقم اُس ملک کے حکمران خُرد بُرد کر لیں۔ دوسری قسم کی بخشیش میز کے نیچے (under the table) حکمران کو یا اُس کے اہل خانہ کو دی جاتی ہے۔ دونوں صورتوں کی بخشیش میں دوسرے ممالک کے حکمرانوں پر احسان کر کے اُن سے مکمل طرفداری حاصل کرنا ہوتا ہے۔ رشوت کے دوسرے نام ہیں اسپیڈ منی یعنی فائل کو نوٹوں کے پہیے لگانا۔ ایک اور نام ہے، سیکرٹ مشن یعنی خفیہ ادائیگی ۔ اکثر یورپی ممالک ترقی پذیر ممالک سے تجارتی مراعات حاصل کرنے کے لئے حکمرانوں کو اور سرکاری اہل کاروں کو خفیہ ادائیگیاں کرتے ہیں۔ ان ادائیگیوں کو یورپی ممالک قانونی تحفظ دیتے ہیں بلکہ انکم ٹیکس کی چھوٹ بھی دیتے ہیں۔ پاکستان میں بھی بڑی بڑی رشوتیں مختلف ناموں سے قانونی طور پر لی جاتی ہیں اور دی جاتی ہیں۔ اسلام آباد میں یا لاہور اور کراچی کے ترقیاتی اِداروں کی سکیم میں 500 گز کا کمرشل پلاٹ الاٹ ہو جائے تو یہ قانونی طور پر حاصل شدہ بھاری بھرکم رشوت ہے ۔

 

 

ڈاکٹر صاحبان اخلاقی طور پر بھی یہ دیکھنے کی کوشش نہیں کرتے کہ آیا اُن کی تجویز کردہ مخصوص برانڈ کی دوائی مریض کو شفا دے گی یا نہیں۔ بس اُن کو لالچ ہوتا ہے کہ دوا ساز کمپنی اُنہیں اور اُن کی اہلیہ کو 7 روزہ ” میڈیکل سمینار” میں شمولیت کے لئے جاپان ، جرمنی ، فرانس یا امریکہ بھیجے گی۔ ایسے سمینار برائے نام ہوتے ہیں۔ دراصل یہ سیر سپاٹے کے لئے مفت کا ٹور ہوتا ہے جو Sale Promotion کے اخراجات میں سے دوا ساز کمپنیاں ادا کرتی ہیں۔ یہ تمام قانونی راستے ہیں رشوت دینے کے ، ملک کا کوئی قانون، کوئی محکمہ اِنسدادِ بدعنوانی ایسی رشوت کو ثابت نہیں کرسکتا۔ البتہ غیر قانونی رشوت حاصل کرنے کے ہزاروں طریقے ہیں ہمارے وطنِ عزیز میں۔ جس ملک کی آبادی کا زیادہ حصہ اَن پڑھ ہو اور اپنے حقوق کے لئے مناسب احتجاج نہ کر سکے اور اگر احتجاج کرے بھی تو وہ اپنے ہی منہ پر چپیڑیں مارنے کے مترادف ہو( ہم قومی اِملاک تباہ کرتے ہیں اپنے احمقانہ احتجاجوں کے ذریعے)تو ایسے ملک میں سانس لینے کے لئے بھی رشوت کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ پولیس کے تھانے جو بکتے ہیں وہاں ہمیں FIR لکھوانے کے لئے بھی رشوت دینی پڑتی ہے، اِنصاف حاصل کرنے کے لئے رشوت دینی پڑتی ہے، اچھے سرکاری ہسپتال میں داخلے کے لئے مریض کو رقم ادا کرنی پڑتی ہے، بعض ٹرینوں کے ریلوے ٹکٹ حاصل کرنے کے لئے زیادہ قیمت قلیوں کے ذریعے دینی پڑتی ہے۔ یہاں تک کہ پانی کا ٹینکر بھی رشوت دے کر اور زیادہ قیمت دے کر حاصل ہوتا ہے۔پاکستان میں رشوت ستانی غیر اعلانیہ طور پر ہمارے سسٹم کا حصہ بن چکی ہے۔ رشوت خور کو ہم عزت دیتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ فلاں شخص رشوت سے حاصل شدہ دولت سے چمک دمک کی زندگی گذار رہا ہے، پھر بھی ہم اپنے بچوں کا رشتہ ایسے” امیر ” گھر میں کرنے کے خواہشمند ہوتے ہیں، ہمارے ہاں ہر قسم کی بدعنوانی کو قانونی سرپرستی سے زیادہ معاشرتی سر پر ستی مل گئی ہے۔آج کل میڈیا میں اور اخباروں میں ” معاشی دہشت” گردی کا نام بہت آتا ہے۔ معاشی دہشت گردی ، دراصل اربوں روپے کی رشوت ہے یا دھاندلی سے کمائی ہوئی دولت ہے۔ آج سے 40 – 30 سال پہلے رشوت کی رقم ملک میں ہی رہتی تھی اور کاغذوں میں ظاہر کئے بغیر خرچ بھی کرلی جاتی تھی۔ایسی رشوت کا سرمایہ ملک میں ہی گھومتا رہتا تھا جس کی وجہ سے صنعت تجارت میں کچھ بہتری آتی تھی۔ ایسے روپے کی Circulation سے چھوٹی چھوٹی ملازمتیں بھی نکل آتی تھیں۔ لیکن اَب یہ ہو رہا ہے کہ گندا سرمایہ ڈالروں کی صورت میں بیرونِ ملک جارہا ہے۔رشوت خور اپنی کمائی کو ملک سے باہر Invest کر رہا ہے جس کی وجہ سے وہ جو تھوڑے بہت فوائد ملک کے اندر ہوتے تھے وہ بھی ختم ہو گئے۔ رشوت یا غیر قانونی طور سے کمائی ہوئی دولت ملک سے باہر جا کر پاکست

متعلقہ خبریں