موبائل فون سے بڑھتے فحش مواد کو کنٹرول کرنے کے لیے حکومت نے ایسا فیصلہ کیا کہ جان کر آپ کو بھی خوشی ہو گی۔

2017 ,مارچ 27



ایڈنبرا(مانیٹرنگ ڈیسک) کچھ لڑکیاں اپنے بے وفا محبوب یا لڑکے اپنی بے وفا محبوبہ سے کچھ ایسا بدلہ لیتے ہیں کہ ان کی قبل ازیں بنائی گئی قابل اعتراض تصاویر یا ویڈیوز انٹرنیٹ پر شیئر کر دیتے ہیں یا واٹس ایپ کے ذریعے پھیلا دیتے ہیں۔ سکاٹ لینڈ میں گزشتہ کچھ عرصے سے یہ رجحان خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے جس پر حکومت میدان میں کود پڑی ہے اور اس کے خلاف باقاعدہ مہم شروع کر دی ہے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق حکومت کی طرف سے اعلان کیا گیا ہے کہ آئندہ جس لڑکے یا لڑکی کے موبائل فون سے ایسا قابل اعتراض مواد برآمد ہوا اسے گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا جائے گا۔رپورٹ کے مطابق حکومت کی طرف سے اس مہم میں مردوخواتین ماڈلز کی برہنہ تصاویر استعمال کی جا رہی ہیں اور لوگوں کو آگاہ کیا جا رہا ہے کہ کسی کی رضامندی کے بغیر ان کی فحش تصاویر اور ویڈیوز پھیلانے پر انہیں 5سال تک قید کی سزا اور جرمانہ ہو سکتا ہے لہٰذا آئندہ اس حرکت سے باز رہیں۔سکاٹ لینڈ کی وزیرانصاف مشعیل میتھسن کا کہنا تھا کہ ”کسی کی قابل اعتراض تصاویر یا ویڈیوز آگے پھیلانا بہت بڑا ظلم ہے۔ کسی کو ایسا مواد پھیلانے کی دھمکی دینا بھی قانونی طور پر جرم ہے جس پر دھمکی دینے والے کو جیل میں ڈالا جا سکتا ہے۔“۔۔۔ اور اس کے خلاف سخت ایکشن لیا جا سکتا ہے جس کے نتیجے میں کسی سم کی سفارش کام نہیں آسکتی۔۔۔۔

متعلقہ خبریں