اشیائے صرف کی قیمتیں آزاد‘ بجلی کی بندش جاری

2017 ,اپریل 29



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک / احمد جمال نظامی): بجلی کی لوڈشیڈنگ پر اس سال بھی موسم گرما کا آغاز ہوتے ہی احتجاج شروع ہو گیا ہے۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ موسم گرما کے ابتدائی ایام میں ہی حد سے تجاوز کر گئی۔ شہروں میں آٹھ جبکہ دیہات میں دس گھنٹوں سے زائد بجلی کی لوڈشیڈنگ ریکارڈ کی جا رہی ہے جس پر ہر طرف سے سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ موجودہ حکومت جو بجلی کے بحران کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے متواتر دعوے کرتی آ رہی تھی وہ موسم گرما کے آغاز میں عملی کارکردگی کی بناء پر ناک آؤٹ کیسے ہو گئی ہے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار اضافے اور مہنگائی کے خلاف تمام معاشی و اقتصادی حلقوں کے ساتھ عوام بھی سراپا احتجاج ہے۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف ملک کے کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے بھی ہو رہے ہیں جبکہ دوسری طرف حکومت جو ہر حال میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے دعوے کر کے 2013ء کے عام انتخابات کے بعد اقتدار میں آئی تھی، گزشتہ ایک ڈیڑھ سال سے سال 2018ء کو بجلی کی لوڈشیڈنگ سے نجات کا سال قرار دے رہی ہے ۔ درحقیقت حکومت حالیہ دنوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ پر سخت پریشان نظر آ رہی ہے اس کا ثبوت گزشتہ دنوں وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ محمد آصف سے ایک صحافی کے کئے جانے والے سوال سے لگایا جا سکتا ہے۔ جس پر وزیر موصوف بوکھلا ہٹ کا شکار ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ گرمی کی وجہ سے لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔ گرمیاں پہلے بھی وطن عزیز میں آتی تھیں تو پھر بجلی کی لوڈشیڈنگ پر اسی طرح عوام سراپا احتجاج ہوتے تھے۔

وزیر موصوف ویسے تو کم ہی توانائی کے موضوع پر بات کیا کرتے ہیں البتہ سیاسی معاملات پر بھڑکیں لگانا انہیں خوب پسند ہے۔ اسی لئے شاید بجلی کا بحران تاحال ختم نہیں کیا جا سکا۔ حالیہ دنوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ جس انداز میں شروع ہوئی ہے اس سے یہی تاثر ابھر کر سامنے آ رہا ہے کہ آئندہ مہینوں جبکہ گرمی کی شدت میں مزید اضافہ ہو گا، لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کوئی شک نہیں آٹھ گھنٹوں سے بھی تجاوز کر جائے گا۔ جس کے بعد حکومت کو فرنس آئل کے ذریعے آئی پی پیز کو استعمال کرتے ہوئے بجلی کی لوڈشیڈنگ کو لوڈ مینجمنٹ کے تحت آٹھ گھنٹوں کا اعلانیہ شیڈول مقرر کر کے اس پر عمل کرنا ہو گا۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ پر قابو پانے کے لئے موجودہ حکومت نے جتنے بھی منصوبے شروع کئے ہیں ان کی سپلائی یعنی بجلی ڈسپیچ کرنے کا نظام تاحال مکمل طور پر اپ ڈیٹ نہیں کیا جا سکا۔

ہماری صنعتوں اور شعبہ زراعت کو بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے ساتھ بجلی کی لوڈشیڈنگ کی صورت میں متبادل توانائی ذرائع استعمال کرنے پڑتے ہیں اور اس طرح سے پیداواری لاگت دوگنا ہو جاتی ہے جس کے باعث عالمی سطح پر پاکستانی برآمدکنندگان کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس حقیقت شک و شبہ سے بالا ہے کہ ہمارا شعبہ ٹیکسٹائل توانائی بحران کی وجہ سے کئی مسائل حتیٰ کہ بحرانوں کا شکار ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ اور لوڈشیڈنگ کی وجہ سے ہر قسم کے خام مال کی قیمتوں میں بھی اضافہ جاری ہے۔ حکومت نے اب بار بار پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ کرنا شروع کر دیا ہے جس سے صنعتی پیداواری شعبے کی رہی سہی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ وزیرخزانہ اسحاق ڈار کو یاد ہو گا کہ جب ان کی حکومت معرض وجود میں آئی تو اس وقت زرمبادلہ کے ذخائر تاریخ کی اتنی کم ترین سطح پر چلے گئے تھے کہ انہیں مختلف بانڈز وغیرہ فروخت کرنے پڑے ۔ اس کے بعد جب ڈالر کی قیمتوں میں مصنوعی اضافے کو ایک طویل عرصے کے بعد کم کیا گیا تو کسی حد تک زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہوئے۔ بعدازاں ایک مربوط سٹرٹیجی کے تحت زرمبادلہ کے ذخائر کو استحکام میں لایا گیا۔ اس صورتحال کومتوازن بنانے کے حکومتی دعوؤں کے باوجود بات وہیں آ کر دوبارہ رک جاتی ہے کہ ایسے تمام مسائل کی بنیاد کو ختم کرنے کے لئے حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کیوں نہیں کر رہی۔ افراط زر ہو یا زرمبادلہ کے ذخائر حکومتی اقدامات غیرموثر اور حقیقت سے کہیں دور نظر آتے ہیں۔ ان دنوں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے حوالے سے صورت حال یہ ہے کہ جتنے بھی منصوبوں کا اعلان کیا جا رہا ہے ان کی نندی پور پاور پراجیکٹ سے زیادہ مختلف حقیقت نظر نہیں آتی۔ صرف نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے ثمرات بجلی کی لوڈشیڈنگ کو قابو پانے میں معاون ثابت ہو سکیں گے ۔لیکن نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کا المیہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ گزشتہ برس وزیراعظم نوازشریف جب اس منصوبے کی سست روی پر برہم ہوئے اور اس کے پراجیکٹ ڈائریکٹر کو سائیٹ پر موجود رہنے کے احکامات جاری کئے تو اس وقت بھی یہی حقیقت سامنے آئی کہ نیلم جہلم ہائیڈرو پراجیکٹ کی تکمیل کے لئے فنڈز فراہم نہیں کئے جا رہے ۔ دیامیربھاشا ڈیم کے حوالے سے بھی ہر سال وفاقی بجٹ میں رقم مختص کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا جاتا۔ جہاں تک بجلی کی حالیہ لوڈشیڈنگ کا تعلق ہے اس پر یہ تجزیہ بھی سامنے آ رہا ہے کہ سال 2018ء کے دوران حکومت حقیقی اور غیرحقیقی تمام ذرائع سے بجلی کی پیداوار حاصل کر سکتی ہے لیکن ہمارے ٹرانسمشن سسٹم میں2018ء تک تبدیلی انتہائی مشکل نظر آ رہی ہے۔

ایک طرف بجلی کی لوڈ شیڈنگ دوسری طرف مہنگائی کے خلاف عوام سراپا احتجاج بنی ہوئی ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ آپ کسی بھی مارکیٹ یا دکان پر چلے جائیں بنیادی اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ جاری ہے۔ پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس پر عوام کی بے چینی اور تشویش بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ قیمتوں کی موثر مانیٹرنگ اور کوئی بھی مناسب پرائس لسٹ نہ ہونے کی وجہ سے مارکیٹ میں دوگنا دام بھی بٹر لئے جاتے ہیں۔ مگر حکومت پرائس کنٹرول اور پرائس مقرر کرنے کے سلسلہ میں مکمل طور پر ناکام نظر آ رہی ہے حتیٰ کہ گزشتہ دنوں جب مرغی اور ٹماٹر کی قیمتوں پر ہمارے میڈیا نے اپنا لاؤڈسپیکر روایتی انداز میں استعمال کرنا شروع کیا تو عوام کی ایک غالب اکثریت سر پیٹ اٹھی کہ صرف ٹماٹر اور مرغی کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوا۔ مرغی غریب آدمی تو کھاتا ہی نہیں اور ٹماٹر صرف مرغی کے ساتھ مہنگا ہو تو غریب آدمی کو اس سے کوئی سروکار نہیں۔ مگر دوسری طرف باقی تمام بنیادی اشیاـء ضروریہ جن میں گھی، کوکنگ آئل، آٹا، دال اور چینی تک شامل ہے ان کی قیمتوں میں استحکام نہیں آ پایا ۔ رہی سہی کسر پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں ہوشربا مصنوعی اضافہ کر کے نکال دی گئی ہے۔ مڈل مین اور آڑھتی اصل قیمتوں کی بجائے مصنوعی قیمتیں مقرر کر کے عوام کو لوٹ رہے ہیں۔ پرائس کنٹرول کمیٹی اور اسی طرح مارکیٹ کمیٹی کا عملی طور پر کوئی کردار منظرعام پر نظر نہیں آتا۔ پرائس کنٹرول کمیٹی اور مارکیٹ کمیٹی مکمل طور پر غیرمفلوج ہو چکی ہے۔ انتظامی افسران اور پرائس کنٹرول ، مارکیٹ کمیٹیوں کے ذمہ داران وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے احکامات پر جعلی اور فرضی رپورٹس مرتب کر کے حکومتی ارباب بست و کشاد کو پیش کر رہے ہیں ۔جس میںسیاست کا رنگ غالب دکھائی دیتا ہے اور سب اچھا ہے کا تاثر دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں