فاتح سندھ محمد بن قاسم

2017 ,جون 6



لاہور(مہرماہ رپورٹ/ پروفیسر ڈاکٹر ابرار حسین ساقی):محمد بن قاسم 66ھ میں عراق کے مشہور شہر بصرہ میں پیدا ہوا۔ اس کا والد قاسم بن محمد، حجاج بن یوسف کی نابت میں بصرہ کا والی و حاکم تھا۔ محمد بن قاسم عراق کے گورنرحجاج بن یوسف کا چچا زاد بھائی اور داماد تھا۔ اس کا تعلق قبیلہ بنو ثقیف کی شاخ احلاف سے تھا۔ اس کے آباﺅ اجداد میں حضرت معتب بن مالک ؓ صحابی رسول تھے۔ رسول اللہ نے انہیں اسلام کا داعی و مبلغ بنا کر قبیلہ بنو ثقیف کی طرف بھیجا۔ ان کے قبیلہ والوں نے انہیں شہید کر دیا۔ 
محمد بن قاسم کی عمر ابھی پانچ برس کی تھی کہ والد کا انتقال ہوگیا اس کی ابتدائی تعلیم و تربیت بصرہ میں ہوئی۔ جوان ہوا تو دمشق جا کرفوج میں شامل ہوگیا۔ فوج میں وہ انتہائی قابل اور تجربہ کار جرنیلوں کی ماتحتی میں لڑتا رہا یوں اس نے فن حرب میں  کافی مہارت حاصل کر لی۔ 83ھ سترہ سال کی عمر میں اسے فارس کا حاکم بنایا گیا۔ یہااں اس نے اپنی خداداد صلاحتیوں سے کام لیتے ہوئے بہترین  نظم ونسق قائم کیا ااور ایک نئے شہر شیراز کی بنیاد رکھی۔ وہ 83ھ تا 92ھ، فارس کا حاکم رہا ۔ 92ھ میں  حجاج بن یوسف نے اسے ہندوستان کی مہم پر روانہ کر دیا۔
ہندوستان کے محاذ پر فوج بھیجے کی منصوبہ بندی حضرت عثمان کے عہد خلافت میں بھی کی جاتی رہی مگر بعد میں اس کا ارادہ ترک کر دیاگیا۔ بنو امیہ کے حکمران عبدالملک بن مروان کے دور میں سندھ کے علاقہ پر راجہ داہرکی حکومت تھی۔ اس کا تعلق ہندو برہمن خاندان سے تھا۔ سندھ کی زیادہ ترآبادی بدھ مت پر ایمان رکھتی تھی۔ راجہ داہر بہت متکبر اور ظالم حکمران تھا۔ لوگ اس کے مظالم سے بہت تنگ تھے۔ 84ھ میں ایک واقعہ یہ پیش  آیا کہ کچھ عرب لوگوں نے مکران کے گورنر سعیاد بن اسلم کو قتل کر دیا  قتل کے بعد یہ  لوگ راجہ داہرکے پاس چلے گئے راجہ نے ان کو اپنے ہاں پناہ دے دی۔ عراق کے گورنرحجاج بن یوسف نے راجہ داہرکو خط لکھا کہ ان قاتلوں کو ہمارے حوالہ کرو۔ راجہ داہر نے صاف انکارکر یا اس وقت اموی حکمران عبدالملک بن مروان کی حکومت تھی۔ حجاج بن یوسف نے سندھ پر حملہ کرنے کے لئے اس سے اجازت مانگی عبدالملک ہندوستان پر حملہ کرنے کے خلاف تھا۔ اس لئے اس نے اس کی اجازت نہ دی۔اس واقعہ کے چند سال بعد ولید بن عبدالملک کے دور میں بحری قزاقی کا ایک واقعہ پیش آیا جو سندھ کی فتح کا بڑا سبب بن گیاا۔ لنکا کے راجہ نے حجاج بن یوسف والیءعراق کے لئے کچھ بحری جہاز قیمتی تحائف کے ساتھ بھجوائے۔ یہ جہاز دیبل کی  بندرگاہ پہنچے تو بحری ڈاکووں نے ان جہازوں کا تمام مال و اسباب لوٹ لیا۔ نیز جہازوں میں سا تمام افراد کوگرفتارکر لےا۔ حجاج بن یوسف نے اسی وقت سندھ کے راجہ داہرکو خط لکھا کہ گرفتار مردوں عورتوں اور بچوں کو فوراً ڈاکووں سے رہا کراےا جائے نیز ان جہازوں سے جس قدر مال لوٹا گیا ہے وہ بھی واپس کیا جائے۔ راجہ داہر نے حجاج بن یوسف کو ایسا کرنے سے انکار کر دیااور جواب ملنے پر حجاج بن یوسف طیش میں آگیا۔ اس نے اسی وقت ولید بن عبدالملک کو ایک خط لکھا جس میں سندھ پر حملہ کی اجازت مانگی ولید نے حملہ کی اجازت  میں دے میں حجاج بن یوسف نے عبید اللہ بن تبہان کی زیر قیادت ایک فوج دیبل  روانہ کی۔ راجہ داہرکے بیٹے جے سنگھ نے اس فوج کو شکست دی عبیداللہ بن تبہان اس معرکہ میں شہید ہوگئے۔ حجاج نے بدیل بن طہفہ الجلبی کی زیرقیادت تین ہزار کا ایک اور لشکر دیبل روانہ کیا راجہ داہر نے اپنے بیٹے جے سنگھ کو ایک بڑی فوج کے ساتھ جو ہاتھیوں پر سوار تھی مقابلہ کے لئے بھیجا۔ مگر بدیل بن طہفہ بھی کامیاب نہ ہوئے دشمن کی فوج کے ہاتھوں شہید ہو گئے۔ بالآخر حجاج بن یوسف نے اپنے چچا زاد بھائی اور داماد محمد بن قاسم کو دےیبل روانہ کیا محمد بن قاسم خشکی کے راستے دیبل پہنچا۔ جنگی سازوسامان بحری راستے سے پہنچایا گیا۔
فتح دیبل: محمد بن قاسم نے دیبل آ کر شہرکے قریب خندقیں کھودیں۔ ان کے دفاع کے لئے نیزہ بازوں کے دستے متعین کئے۔ اس شہر میں ایک مضبوط قلعہ تھا۔ اس قلعہ کے وسط میں ایک مندر تھا جس پر ایک اونچی لاٹ میں سرخ جھنڈا لگا ہوا تھا۔ شہروالوں کا یہ عقیدہ تھا کہ جب تک یہ جھنڈا لہراتا رہے گا اس وقت تک کوئی دشمن ان کے شہرکو فتح نہ یںکر سکے گا۔ محمد بن قاسم کے پاس العروس نامی ایک بڑی منجنیق تھی اس کی فوج اس منجنیق کو استعمال کیا اور جھنڈا ٹوٹ کر نیچے گرگیا۔ سندھی فوج اپنے اس مقدس جھنڈے کی بے حرمتی سے غضب ناک ہوگئی اور قلعہ سے باہر نکل کر مسلمانوں پر حملہ کر دیا۔ سندھی فوج بہت بہادری سے لڑی لیکن آخرکار شکست کھائی اور دےیبل شہر پر مسلمانوں کا قبضہ ہوگیا اسی شہرسے وہ عرب قیدی رہا کرائے گئے جن کو بحری قزاقوں نے قید کیا تھا۔ اس کامیابی کے بعد محمد بن قاسم نےرون کی طرف بڑھا۔ اس شہرکی آبادی اور حاکم بدھ مت کے پیرو تھے وہ جنگ کرنا نہیں کرنا چاہتے تھے اس لئے انہوں نے بغیرکسی جنگ کے محمد بن قاسم کی اطاعت کر لی۔
 برہمن آباد کی فتح: اس شہرمےں راجہ داہرکا بےٹا جے سنگھ چالےس ہزارکی فوج کے ساتھ موجود تھا۔ جب اسے اسلامی فوج کے آنے کی اطلاع ملی تو وہ قلعہ بند ہوگیا تقریبا چھ ماہ محاصرہ جاری رہا۔ آخرکار اہل شہر تنگ آ گئے اور انہوں نے خفیہ طور پر محد بن قاسم سے مذاکرات کئے۔ امان کی شرط پر انہوں نے شہرکے دروازے کھول دیا اور یہ شہر بھی فتح ہوگیا۔
محمد بن قاسم کی فتوحات سے سندھ کے باشندوں پر دوررس اثرات مرتب ہوئے۔فتح سندھ کے بعد بے شمار علماءمبلغین اور تاجر عرب سے آ کر سندھ میں آباد ہوئے۔ مقامی باشندوں میں اسلام رائج ہوا ۔سندھ مسلمانوں کے آنے سے نئے نئے علوم و فنون متعارف ہوئے مسلمانوں نے ہندووں کے علوم سےکھے اور ہندووں نے اسلامی علوم میں دلچسپی لی۔ یوں دونوں قوموں کو ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقع ملا فتح سندھ کے بعد یہاں اسلام کی زبردست اشاعت ہوئی۔
96ہمیں اموی حکمران ولید بن عبدالملک کا انتقال ہوا اس کی جگہ اس کا بھائی سلیمان بن عبدالملک حکمران بنا۔ اس وقت تک محمد بن قاسم سندھ کے بہت سے علاقے فتح کر چکا تھا۔ سلیمانن بن عبدالملک ولےد بن عبدالملک کے بعد اس کا جانشین تھا۔ اسی نے خلیفہ بننا تھا۔ لیکن حجاج بن یوسف نے پوری کوشش کی کہ ولید کے بعد اس کے بیٹے کو حکمران بنایا جائے اور سلیمان کو جانشینی سے محروم کر دیا جائے تاہم حجاج بن یوسف اپنی اس کوشش میں کامیاب نہ ہو سکا اورسلیمان نے حکومت سنبھال لی۔ اس وقت حجاج بن یوسف انتقال کرچکا تھا۔ سلیمان بن عبدالملک نے اس کا بدلہ لےنے کے لئے اس کے چچا زاد بھائی اور داماد محمد بن قاسم کو سندھ کی امارت سے معزول کر دیا اور اس کی جگہ یزید بن ابی کیشہ کو سندھ کا حاکم مقررکیا۔ اس نے اسے حکم دیا کہ محمد بن قاسم کو گرفتارکرکے عراق بھجوا دو۔ یوں محمد بن قاسم کوگرفتارکرکے عراق بھیجا دیا گیا۔ عراق کے نئے حاکم صالح بن عبدالرحمٰن نے اسے جیل میں ڈال دیا ۔ اس نے اسے جیل میں ہی اذیتیں دے دے کر قتل کردیا۔ یہ 96ھ کا واقعہ ہے یوں صرف تیس برس کی عمر میں وہ اس دنیا سے رخصت ہوا۔ طرح طرح کی اذیتیں دی گئیں تو اس نے نہایت صبر و استقامت سے ان کو برداشت کیا۔ قید کے دوران اس نے کہا اگرچہ اس وقت میں زنجیروں کے حوالہ کردیا گیا ہوں۔ میرے ہاتھ پاوں بندھے ہوئے ہیں لیکن میں بڑے بڑے بہادروں کو موت کا مزہ چکھا چکا ہوں کاش مجھے اطمینان و سکون ہوتا تو میں میدان جنگ کو شب عروسی بنا دیتا۔ مورخین کے مطابق محمد بن قاسم گرفتاری کے وقت اگر چاہتا تو بغاوت کر سکتا تھا۔ اہل سندھ اس کا ساتھ دیتے۔ وہ بہت بہادر فیاض اوردوسروں کی دلجوئی کرنے والا تھا جانی دشمنوں پر احسان کرنا اس کا شیوہ تھا۔ محمد بن قاسم بہترین اخلاقی اوصاف سے آراستہ تھا،جب اس کے انتقال کی خبرسندھ پہنچی تو یہاں ایک سوگ کی کیفیت برپا ہوگئی۔ اہل سندھ نے کیرج میں اس کا مجسمہ بناکر یادگار قائم کی۔
 

متعلقہ خبریں