دنیا کا وہ انوکھا ترین قبیلہ جہاں خواتین اپنے جسم کو ڈھانپنے کیلئے کپڑے یا پتے نہیں پہنتیں بلکہ اس پر ایسی چیز لگاتی ہیں کہ جان کر دنیا حیران پریشان رہ جائے

2017 ,جون 28



ادیس ابابا (مانیٹرنگ ڈیسک)جدید دور کا انسان لباس کے معاملے میں بہت حساس ہو گیا ہے اور فیشن کے نام پر جانے کیسے کیسے لباس بنانے کی فکر میں مبتلاء رہتا ہے، لیکن افریقہ کے ایک دور دراز جنگل میں ایک ایسا قبیلہ بھی آباد ہے کہ جس کی خواتین کسی لباس کا تردد ہی نہیں کرتیں بلکہ جسم پر محض رنگین نقش و نگار بنا کر ہی کام چلا لیتی ہیں۔ ان خواتین کا تعلق جنوب مغربی ایتھوپیا کے سوری قبیلہ سے ہے۔ فوٹوگرافر ماریو گیرتھ کو اس قبیلے کو قریب سے دیکھنے کا اتفاق ہوا اور انہوں نے ان لوگوں کی متعدد حیران کن تصاویر بھی بنائیں۔ اس قبیلے کی خواتین کے فیشن بھی پریشان کر دینے والے ہیں۔ یہ اپنے نچلے ہونٹ میں سوراخ کرکے اسے آہستہ آہستہ پھیلاتی رہتی ہیں حتیٰ کہ یہ اتنا بڑا ہوجاتا ہے کہ اس میں بڑے سائز کی پلیٹ ڈال لیتی ہیں اور خوشی سے پھولی نہیں سماتی ہیں۔

اس قبیلے میں خواتین کے نچلے ہونٹ میں لٹکتی پلیٹ کو بے پناہ خوبصورتی کی علامت قرار دیا جاتا ہے۔ جس لڑکی کے ہونٹ میں جتنی بڑی پلیٹ ہوتی ہے اسے اتنی ہی زیادہ خوبصورت تصور کیا جاتا ہے اور اس کا باپ اس کے رشتے کے بدلے دلہے سے پلیٹ کے سائز کے حساب سے مال مویشی کا تقاضا کرتا ہے۔ جب لڑکیاں بالغ ہوتی ہیں تو ان کے دو نچلے دانت توڑ دیتے جاتے ہیں اور نچلے ہونٹ میں سوراخ کردیا جاتاہے۔ اس میں پہلے ایک چھوٹی پلیٹ ڈالی جاتی ہے لیکن جیسے جیسے سوراخ کا سائز پھیلتا جاتا ہے پلیٹ کا سائز بھی بڑا ہوتا جاتا ہے۔اسی طرح مذہبی تہواروں کے موقع پر خواتین کانٹے سے بلیڈ اٹھا کر اس کے ساتھ اپنی جلد پر زخم لگانے کی رسم کا مظاہرہ بھی کرتی ہیں۔ ان تہواروں کے موقع پر مرد لاٹھیوں کے ساتھ لڑائی بھی کرتے ہیں جسے ’’ڈانگا‘‘کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ کھیل شریک حیات کی تلاش کا ذریعہ بھی ہے کیونکہ ڈانگا میں مہارت کا مظاہرہ کرنے والے نوجوان لڑکیوں کو متاثر کرکے خوبصورت شریک حیات ڈھونڈنے کا موقع پاتے ہے۔ یہ لڑائیاں عام طور پر برہنہ ہوکر لڑی جاتی ہیں تا کہ دیکھنے والوں کو زیادہ سے زیادہ متاثر کیا جا سکے، البتہ بعض اوقات لاٹھی غلط جگہ پڑ جائے تو موت بھی ہو سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں