قائد کے عزیز، ہردلعزیز

2020 ,جولائی 30



”صبح سویرے کیا حسین منظر تھا،سبحان اللہ! آپ کے قد کاٹھ اور جسامت کا شخص ہوا میں اُڑ رہا تھا۔اللہ کا نیک بندہ ہی اس طرح فضا میں لہرا اور بل کھا سکتا ہے“۔خاتون نے اپنے میاں کو اپنے مشاہدے سے آگاہ کرتے ہوئے بڑی خوش دلی سے بتایا اور ساتھ ہی اگلے لمحے قدرے ناگواری سے کہا۔”نمازیں تو آپ بھی بہت پڑھتے ہیں،مسجد میں تو آپ کا دل اٹکا ہوا ہے مگر اُس پاک باز کی طرح ۔“اس کی بات مکمل نہیں ہوئی تھی،میاں نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔”الحمدُ للہ وہ میں ہی تھا جسے تم نے فجر کے بعداُڑتے دیکھا تھا“۔اس پر بیوی نے پینترا بدلا۔”میں بھی کہوں 'وہ وِنگا وِنگا'ٹیڑھا میڑھا کیوںاُڑ رہا تھا“ہمارے عموی رویے ایسے ہی ہیں۔گھر دا جوگی جوگڑا ،پرایا جوگی سعد۔یہ سب قائد اعظم کے ایک عزیز کی وفات پران کے بارے میں خبروں اور تبصروں پر یاد آیا۔ایک درد ناک کہانی سنائی اور دہرائی جاتی رہی۔کہا گیا قائد اعظم کے" بھانجے" اسلم جناح کسمپرسی کی زندگی گزارتے انتقال کر گئے۔ کسی نے بڑی دلسوزی و دردمندی سے اسلم جناح کی عسرت تنگ دستی میں موت پر آنسو بہاتے اور رقت طاری کرتے ہوئے لکھا۔ وہ بھٹو یا شریف خاندان کا "نواسہ" نہیں تھا۔ اس کی ملک میں اربوں کی جائیداد اور اثاثے نہیں ہیں۔ اس نے لوٹ مار کر اربوں اکٹھے کئے ہوتے تووہ ساری زندگی کسمپرسی میں گزار کر کسمپرسی میں کی حالت میں دنیا سے رخصت ہو گیا۔ قائداعظم کی اولاد اور عزیز قائداعظم کو محسن ماننے والی قوم کے لئے قابلِ احترام ہیں۔ قائد کے نواسے کے ساتھ اگر ایسا سلوک ہوا جس کا خبروں اور تبصروں میں تاثر دیا گیا تو ایسی قوم کے لئے واقعی شرم کا مقام ہے جسے قائد نے انگریزوں اور ہندوﺅں کی غلامی سے نکال کر آزاد خطہ ِ ارضی کے حصول میں اپنی صحت و بیماری کی بھی پروا نہ کی اور اس بیماری کے باعث وہ خالق حقیقی سے جا ملے۔ مزیدبراں قائداعظم نے اپنی ساری جائیداد ملک و قوم کے نام کر دی تھی۔ ایسی قوم کیا قائداعظم کے ایک عزیز کی کفالت نہ کر سکی جو اربوں کھربوں پرتعیش زندگی پر صرف کر دیتے ہیں اور اس سے بھی کہیں زیادہ صدقہ زکوٰة اور خیرات کرتے ہیں۔ مگر اسلم جناح کے حوالے سے جو کہا گیا وہ حقیقت سے بہت دور کہیں دور ہے۔ حقیقت کیا ہے، یہ اس سے قبل قائد کے خاندان کے بارے ان پہلوﺅں پر سرسری نظر ڈال لیتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کچھ گوشے ہم سے اوجھل رہے ہوں۔ کئی سال قبل بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق جب اسلم جناح کے بارے میں میڈیا میںان کے قائداعظم کے" پڑپوتے "ہونے کی خبریں شائع ہوئیں تو ان کی پذیرائی ہونے لگی تھی۔ 
پاکستان میں محمد علی جناح کی املاک کے ٹرسٹی اوران کی بہن مریم بائی کے نواسے لیاقت مرچنٹ نے اسلم جناح کے اس دعوے کے برعکس کہا جناح کا صرف ایک نواسہ نصلی واڈیا ہے اس کے علاوہ ان کا کوئی نواسہ، پوتا یا پڑپوتا نہیں ہے۔’جناح پونجا کے سب سے بڑے بیٹے محمد علی جناح تھے، بیٹی رحمت بائی جن کی کلکتہ شادی کرائی گئی تھی، اس کے بعد مریم بائی اور ان کے بعد احمد جناح تھے جن کا ممبئی میں انتقال ہوا۔ ان کی شادی ایک سوئس خاتون سے ہوئی تھی۔ ان کی ایک ہی بیٹی تھیں فاطمہ، ان کا بھی انتقال ہوگیا ہے۔ تیسری بہن شیریں بائی جن کی جعفر بھائی سے شادی ہوئی تھی جو اسماعیلی خوجہ تھے۔ شیریں بائی کا ایک ہی بیٹا تھا ،اکبر جعفر جو ماں سے پہلے کراچی مہتا پیلس میں انتقال کرگئے۔ اس وقت ان کے خاندان میں کوئی نہیں ہے۔’سب سے چھوٹی بہن فاطمہ جناح نے کبھی شادی نہیں کی تھی، سمجھ میں نہیں آتا کہ جناح صاحب کے نواسے اور پڑ نواسے کہاں سے آئے۔ ان کا نواسہ صرف نصلی واڈیا ہے اور پڑ نواسے ان کے دو بیٹے ہیں جئے اور نیئس واڈیا۔
لیاقت مرچنٹ کے مطابق وہ پاکستان میں انیس سو چھیاسٹھ سے موجود ہیں ۔وہ مریم بائی کے نواسے ہیں اور جناح کی زندگی کے بارے میں کئی کتابیں لکھ چکے ہیں۔ وہ جناح کی جائیداد اور ٹرسٹ کے نگران ہیں مگر حکومت نے اس فیصلے کے بارے میں کبھی پوچھا نہیں نہ اور ہی رابطہ کیا۔انہوں نے بتایا ،محمد علی جناح نے اپنی تحریری وصیت میں بھی اسلم جناح کے خاندان کا ذکر نہیں کیا اور وصیت میں تمام خاندان کا حصہ مقرر کردیا تھا، جس کے تحت بیٹی دینا واڈیا کے لیے دو لاکھ روپے چھوڑے۔ چار بہنوں رحمت بائی، مریم بائی، شیریں، فاطمہ اور بھائی احمد جناح کے لیے ماہانہ سو روپے تاحیات مقرر کیے۔ دینا واڈیا کو ان کی زندگی تک دو لاکھ روپے کا منافع بھیجا جاتارہا۔‘لیاقت مرچنٹ کے مطابق جائیداد کا اکثر حصہ وصیت کے مطابق تعلیمی اداروں کودیا گیا۔ جن میں اردو عربی کالج، ممبئی یونیورسٹی، پشاور یونیورسٹی، اسلامیہ کالج، سندھ مدرسہ، علی گڑھ یونیورسٹی کو بڑی بڑی رقومات دینے کو کہا تھا۔ ’جب علی گڑھ یونیورسٹی کی باری آئی تو پتہ چلا کہ بھارتی حکومت نے قانون تبدیل کردیا ہے۔ اب یہ وہ ادارہ نہیں تھا جس کے لئے انہوں نے اپنے پیسے چھوڑے تھے۔ ہائی کورٹ نے فیصلہ کیا کہ پیسے بھارت نہ بھیجے جائیں اسی نام سے یہاں ادارہ بنایا جائے جو ضرورت مند طالب علموں کوسکالرشپ فراہم کرے۔‘ 1966ءمیں جب فاطمہ جناح کا انتقال ہوا تو شیریں بائی ممبئی میں تھیں۔ وہ اور شیریں بائی اسی سال پاکستان آئے۔ شیریں بائی کی دیکھ بھال ان کا خاندان کرتا تھا اور ان کہ وہاں حالات ٹھیک نہیں تھے۔ یہاں خاندان میں تھوڑے اختلافات ہوئے اور شیریں بائی نے فاطمہ جناح کی تمام جائیداد پر دعویٰ کردیا ہے اور ہائی کورٹ میں کیس دائر کردیا۔’ان کے اس دعوے کی قائد اعظم کے چچا والجی بھائی کے خاندان نے مخالفت کی۔ شیریں بائی کا مو¿قف تھا کہ فاطمہ جناح کا جب انتقال ہوا تو وہ شیعہ تھیں، شیعہ قانون کہتا ہے اگر ایک بہن بچ گئی ہے تو ساری جائیداد اس کے پاس جائے گی۔ جبکہ سنی حنفی قانون کہتا ہے کہ ان کا حصہ آدھا ہے اور آدھا مرد لواحقین کو جائے گا جس میں والجی بھائی کے خاندان کے لوگ آتے تھے۔ ہائی کورٹ نے والجی خاندان کے حق میں فیصلہ دیا مگر شیریں بائی کا انتقال ہوگیا یہ معاملہ ابھی تک عدالت میں ہے۔‘لیاقت مرچنٹ کا کہنا ہے کہ محمد علی جناح کے چچا نتھو پونجا کے خاندان میں اس وقت کون ہے، انہیں پتہ نہیں کیونکہ ان سے کبھی رابطہ ہی نہیں ہوا۔دوسری جانب اسلم جناح کا کہنا تھا کہ وہ محمد علی جناح کے پڑپوتے ہیں۔ ان کی ماں شیریں بائی نتھو پونجا کی پڑ نواسی تھیں جو محمد علی جناح کے والد جناح پونجا کے بھائی تھے۔اسلم جناح، جناح کیپ سر پر سجائے ہر سال محمد علی جناح کے مزار پر ان کے یوم وفات اور پیدائش پر باقاعدگی کے ساتھ حاضری دینے آتے رہے جہاں میڈیا کی نظروں میں آگئے۔اسلم جناح کراچی میں کرائے کے ایک فلیٹ میں رہتے تھے۔ ان کی بیگم کینسر کی مریض اور بیٹی ذہنی معذور ہیں۔ یہ کہانی جب میڈیا پر منظر عام پر آئی تو حکومت نے ان کی مالی مدد کا اعلان کیا اور ان کی بیوی کا علاج کرایا گیا۔ پیپلز پارٹی کے برسر اقتدار آنے کے بعد بیت المال کے نگران اور پیپلز پارٹی کے رہنما زمرد خان نے اس خاندان کے لئے ہر ماہ تاحیات 50 ہزار روپے وظیفے دینے سمیت ایک گاڑی اور کراچی میں ایک مکان مہیا کرنے کا اعلان کیا اور ان کی دعوت پر یہ خاندان پہلی مرتبہ اسلام آباد پہنچا۔جہاں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے انہیں گاڑی کی چابی اور چھ لاکھ روپے کا چیک دیا۔ کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد میں رہنے والے اسلم جناح اس سے قبل ساٹھ سال سے کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار تھے۔جس کا کسی کو علم نہیں تھا۔مگر جب علم ہوا تو زندہ قوم ہونے کے ثبو ت سامنے آنے لگے۔لوگوں نے فرض شناس ،مردم شناس اورقائد سے محبت کا حق ادا کردیا۔
اس سے پہلے بھی قائد اعظم کے خاندان کا حوالہ کئی روز تک اخباروں کی زینت بنا تھا جب اسلم جناح کی بہن خورشید کے بیٹے سکندر جناح کی کراچی کے علاقے گولیمار میں پولیس تشدد میں ہلاکت ہوگئی تھی۔ جس کا کیس ابھی تک زیر سماعت ہے۔اسلم جناح اور لیاقت مرچنٹ دونوں کا ننھیال جناح خاندان سے ہے مگر ایک دوسرے سے دور ہیں۔ لیاقت مرچنٹ کا کہنا ہے کہ وہ اسلم سے ملنے نہیں جائیں گے انہیں ملنا ہے تو ان کے پاس آئیں۔ دوسری جانب اسلم جناح کا کہنا ہے کہ خودداری کی وجہ سے وہ کسی کے در پر مدد کے لیے نہیں گئے۔ واقعی اسلم جناح خوددار تھے۔انہوں نے کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا۔جب ان کی تنگ دستی کا شہرہ ہوا تو خوشحالی ان کے در پر دستک دیتی نظر آئی ۔اس حوالے سے سیکرٹری نظریہ پاکستان ٹرسٹ شاہد رشید نے اسلم جناح کے انتقال کسمپرسی کے حوالے سے شائع اور نشر ہونیوالی خبروں اور تبصروں پر وضاحت کی ہے۔جس کے مطابق 2001ءمیں نظریہ¿ پاکستان فورم کراچی کے چیف آرگنائزر اور ممتاز سیاسی و سماجی شخصیت رانا محمد اشفاق رسول خان نے اس خبر کی جانب ہماری توجہ مبذول کروائی کہ قائداعظمؒ کے نواسے محمد اسلم جناح کراچی میں مشکلات بھری زندگی گزار رہے ہیں‘جس پر نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین مجید نظامی مرحوم نے اسلم جناح کیلئے ماہانہ وظیفہ مقرر کر دیا۔ مجید نظامی کے کہنے پر ممتاز مسلم لیگی رہنما اور صنعتکار میاں فاروق الطاف نے بھی اسلم جناح کیلئے ماہانہ وظیفہ مقرر کیا۔ کراچی کی نامور سماجی شخصیت اور ممتاز صنعتکار اے مجید نے سخی حسن قبرستان کے پاس انڈا موڑ پر انہیں ایک مکان لے کر دیا۔تحریک پاکستان کے سرگرم رہنما اور تاحیات وفاقی وزیر محمود علی مرحوم کے علم میں جب یہ بات آئی تو انہوں نے اُس وقت کی صوبائی حکومت سندھ سے کہہ کر 5لاکھ روپے کی خطیر رقم انہیں دلوائی۔ بحریہ ٹاﺅن کے مالک ملک ریاض نے بھی اسلم جناح کیلئے پندرہ ہزار روپے ماہانہ وظیفہ مقرر کیا ۔ علاوہ ازیں سندھ حکومت کی جانب سے انہیں 6لاکھ روپے سالانہ دئیے جاتے تھے ۔ بیت المال سے 50ہزار روپے وظیفہ کے علاوہ انہیں ایک گاڑی اور ڈرائیور بھی ملا ہوا تھا۔ (جس کا تذکرہ قبل ازیں بھی ہو چکا ہے)۔پاکستان رینجرز کی جانب سے20 ہزار روپے کا ماہانہ راشن انہیں فراہم کیا جاتا تھا جبکہ ونگ کمانڈر کی طرف سے بیس ہزار روپے بھجوائے جاتے تھے۔ رینجرز کے کچن سے صبح اور شام کا کھانا بھی انہیں مسلسل بھجوایا جاتا رہا۔ یہ تمام سہولتیں آخری دم تک انہیں دستیاب رہیں۔ ہر سال 11ستمبر یوم وفات قائداعظمؒ، 25دسمبر یوم پیدائش حضرت قائداعظمؒ، 14اگست یوم آزادی کے موقع پر محمد اسلم جناح اور ان کی فیملی کو سرکاری پروٹوکول کے ساتھ مزار قائد لایا جاتا تھا۔ علاوہ ازیں محمداسلم جناح اور ان کی فیملی کو علاج ومعالجہ کی بہترین سہولیات فراہم کی گئیں۔ ان تمام باتوں کو مدنظر رکھیں تو یہ کہنا بے جانہ ہو گا کہ پاکستانی قوم نے قائدکے خاندان کے ساتھ بھی اپنی عقیدت کا حق ادا کردیا۔پاکستان سے بھی اس قوم کی محبت لازوال ہے۔محمود علی نے بنگلہ دیش کے بجائے پاکستان کو اپنا وطن مانا تو ان کو تاحیات وفاقی وزیر کا درجہ پروٹوکول اور مراعات دی گئیں۔کچھ نوجوانوں کو شاید علم نہ ہو، ذوالفقار علی بھٹو صدر پاکستان بنے تو نائب صدر نورالامین تھے۔نورالامین بھی بنگالی تھے انہوں نے پاکستان میں رہنے کو ترجیح دی توپاکستان نے انہیں گرم جوشی سے خوش آمدید کہا تھا۔

 

متعلقہ خبریں