قرآن پاک کی تعلیم اور ہمارا معاشرہ

2019 ,اکتوبر 1



ماما میں قرآن پڑھنے نہیں جاؤں گا. سب دوست مجھ پر ہنستے ہیں. کہتے ہیں تم بڑے ہو کر مولوی بنو گے.داڑهی رکهو گے. تمہاری سوچ کتنی پرانی ہے." زین نے اپنی ماں سے سے کہا.
ماں اپنی آنکھوں میں آنسو لیے اسے کچھ دیر تک تکتی رہی. یہ خیال دماغ سے محو نہیں ہورہا تھا کہ اللہ نے مجھے جنت کے باغ کے ایک پهول کی پرورش کی ذمہ داری سونپی اور میں وہ بهی نا کر سکی. ماں کی آنکھوں میں آنسو کہاں برداشت تهے اسے؟ فوراً اپنی ماں کے ہاتھ چوم کر بولا: "آئی ایم سوری مما."
ماں نے گلے سے لگا لیا مگر آنسو نا تهمے. پہلے جو سلامتی کی دعا کرتی تهی آج اس کے لیے اللہ سے ہدایت کی دعا کرنے لگی.
زین مدرسے میں داخل ہوا. آج تو خطبے کا دن ہے. میں ایسے ہی آگیا بور ہونے. یہ سوچتے ہوئے بےبسی سے بیٹھ گیا. آج کا خطبہ اللہ کی محبت پر تها. خطبہ شروع ہوا. الفاظ یہ تھے.
"ایک بچے نے اپنی ماں سے کہا:" ماں میں جنت میں جاؤں گا یا جہنم میں؟
ماں نے جواب دیا:"بیٹا اگر نیک کام کرو گے تو جنت میں اور اگر کسی کا دل دکهاؤ گے اور برے کام کرو گے تو دوزخ میں. "
بچے نے کچھ دیر سوچا اور کہا:" اماں میرے ہاتھ پر جلتا ہوا کوئلہ رکھ دو."
"میں کیسے رکھ سکتی ہوں بیٹا؟" ماں نے کہا.
بچے کے اصرار پر بهی ماں نے منع کر دیا.
پهر بچے نے کہا: " ماں اگر تم ماں ہونے کی وجہ سے میرے ہاتھ نہیں جلا سکتی تو اللہ جو ہم سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے وہ کیسے ہمیں معاف نا کرے گا. جب تمہارا دل نہیں کرتا میرا ہاتھ جلانے کا تو اللہ تو مجھ سے اس سے بهی زیادہ پیار کرتا ہے جتنا تم کرتی ہو پهر مجھے کیوں جلائے گا؟ کیوں معاف نہیں کرے گا؟ جب اللہ نے یہ بهی فرما دیا ہے کہ تمہارے گناہ اگر آسمان تک ہوں تب بهی معاف کر دوں گا."
اللہ ہم سے اس قدر محبت کرتا ہے. یہ قرآن اللہ کا کلام ہے. ہم سے زیادہ خوش قسمت کون ہو سکتا ہے جس سے خود اللہ کلام کرتا ہے. "
زین کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے. ندامت سے سر جهک گیا مگر اللہ کی محبت سے سینہ روشن تها. اس نے قرآنِ کریم کو اٹھا کر چوم لیا . اس کی ماں کی دعا قبول ہو گئ تهی

اور آج ہمیں بچوں کو قرآن پڑھانے سے زیادہ اسکول داخل کروانے کی فکر لگی ہوتی ہے :

( اپنے بچوں کو دین کی ابتدائی تعلیم ضرور دو پھر اسکول بھیجو پہلے اسے یہ تو پتا چلے کے میں ہوں کیا میرا دنیا میں آنے کا مقصد کیا ہے پھر جو چاہے اسے بناؤ..

متعلقہ خبریں