معمر القذافی اپنی درجنوں خواتین گارڈز اور نرسوں سے کیا سلوک کرتے تھے، کیا میڈیا کے شرمناک الزامات درست ہیں؟ قذافی کی نرس نے ایسی باتیں بتا دیں کے سب دنگ رہ گئے

2017 ,مئی 15



تریپولی(مانیٹرنگ ڈیسک) لیبیا کے آنجہانی حکمران جنرل قذافی کے مخالفین ان پر ان کی خواتین باڈی گارڈز اور ذاتی نرسوں کے حوالے سے انتہائی گھٹیاالزامات لگاتے رہے ہیں مگر جنرل قذافی کے گھر میں بطور نرس کام کرنے والی اوکسانا بلنسکایا نے دنیا کو تصویر کا اصل رخ دکھا دیا ہے۔ سی این این کو دیئے گئے انٹرویو میں اوکسانا کا کہنا تھا کہ ”میں جنرل قذافی اوران کے خاندان کی ذاتی نرس کے طور پر کام کر چکی ہوں اور ان کے ساتھ کئی بیرونی ممالک کا سفر بھی کر چکی ہوں۔ میرے ساتھ اور بھی کئی نرسیں یہ ڈیوٹی سرانجام دے رہی تھیں۔ ہم باقاعدگی سے جنرل قذافی کا بلڈ پریشر چیک کرتی تھیں اور ان کے خون کے نمونے لے کر ٹیسٹ کرواتی تھیں۔ ہم ہی انہیں ادویات اور وٹامنز دیتی تھیں۔
اوکسانا کا کہنا تھا کہ ”ہم تمام نرسوں نے اپنا ڈیوٹی شیڈول خود متعین کر رکھا تھا کہ کس وقت کون جنرل قذافی اور ان کے خاندان کے ساتھ ڈیوٹی سرانجام دے گی، حتیٰ کہ سفر کے دوران ڈیوٹی کے لیے بھی نرسز کا انتخاب ہم خود کرتی تھیں۔جنرل قذافی کی ذاتی نرسز کے طور پر ہمارا تجربہ انتہائی عمدہ رہا۔ میں نہیں جانتی کہ جنرل قذافی کی نرسوں اور خواتین باڈی گارڈز کے متعلق یہ بات کس نے پھیلائی کہ ہمارا جنرل قذافی کے ساتھ کوئی جنسی تعلق تھا۔ کوئی ایسی گھٹیا بات سوچ بھی کیسے سکتا ہے۔ جنرل قذافی کی بیوی، ان کے بچے، ان کے پوتے پوتیاں اور حکومتی عمال ہر وقت ان کے اردگرد موجود ہوتے تھے۔ ہم میں سے کبھی بھی کوئی نرس یا خاتون باڈی گارڈ اکیلی جنرل قذافی کے ساتھ ایک لمحے کے لیے بھی نہیں رہ سکتی تھی۔“
اوکسانا نے مزید بتایا کہ ”جنرل قذافی کے گھر ڈیوٹی کے قوانین بہت سخت تھے۔ہمیں میک اپ کے ساتھ ڈیوٹی پر آنے کی اجازت نہیں تھی۔ لباس کے معاملے میں بھی ہمیں بہت احتیاط برتنی پڑتی تھی۔ مجھے یہ تو معلوم نہیں جنرل قذافی کا اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ رویہ کیسا تھا مگر ہمارے ساتھ وہ بہت اچھا سلوک کرتے تھے۔ وہ ہماری کسی بھی غلطی پر کبھی غصے کا اظہار نہیں کرتے تھے بلکہ نرمی کے ساتھ ہمیں سمجھاتے تھے۔ ہم نرسیں اور خواتین باڈی گارڈز جب آپس میں جنرل قذافی کی بات کرتیں تو ہم انہیں ”ڈیڈی“ کہہ کر مخاطب کیا کرتی تھیں، کیونکہ ہمارے اس باپ نے ہمیں نوکری دی، پیسہ دیا اور اچھی زندگی دی تھی۔لیبیا میں جنگ برپا ہونے کے بعد سے میں اور میری بہت سی ساتھی نرسیں یوکرین میں رہ رہی ہیں، یہاں زندگی لیبیا کی نسبت بہت کٹھن ہے۔ ہم لیبیا واپس جانا چاہتی ہیں۔“

متعلقہ خبریں