بھارت میں جنسی درندوں نے انتہائی نگہداشت وارڈ میں مرتی لڑکی کو بھی نہ چھوڑا

2017 ,جون 23



نئی دلی(مانیٹرنگ ڈیسک)دنیا میں بھارت کی شہرت کا سب سے بڑا حوالہ ’خواتین کے ساتھ جنسی زیادتیاں‘ ہیں۔ خود بھارتی عوام اپنے دارالحکومت نئی دلی کو ’ریپ کیپیٹل‘ یعنی خواتین کے ساتھ جنسی زیادتیوں کا دارالحکومت کہتے ہیں۔ اب وہاں سے ایک ایسی جگہ پر سکول کی طالبہ سے جنسی زیادتی کی خبر آ گئی ہے کہ انسانیت بھی شرما کر رہ جائے۔ برطانوی اخبار دی مرر کی رپورٹ کے مطابق ریاست اترپردیش کے شہر کان پور میں ایک طالبہ کو ہسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں ہسپتال کے عملے کے ایک رکن نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا ہے۔ اکاشنا نامی طالبہ اپنے والدین کے ساتھ ایک پارٹی میں شریک تھی کہ وہاں اچانک طبیعت خراب ہونے پر وہ بے ہوش ہو گئی اور والدین اسے فوری طور پر ہسپتال لے گئے جہاں وہ ابتدائی طبی امداد کے بعد ہوش میں آگئی۔ 
ڈاکٹروں نے اکاشنا کے والد کو باہر دوائیاں لینے بھیج دیا۔ اس دوران ایک وارڈ بوائے آیا اور اکاشنا سے کہا کہ ”تمہارے کپڑے بہت خراب ہو رہے ہیں، انہیں تبدیل کرنے آیا ہوں۔“ اکاشنا نے اسے کہا کہ ”میری والدہ یہاں نہیں، تم کسی خاتون نرس کو بھیجو۔“ وارڈ بوائے نے کہا کہ ”رات کا پچھلا پہر ہے، اب کوئی خاتون نرس موجود نہیں، تم مت شرماﺅ، میں تمہاری مدد کرتا ہوں۔“ چنانچہ وہ اکاشنا کو لے کر باتھ روم چلا گیا جہاں وہ کپڑے تبدیل کرنے لگی۔ اس دوران وارڈ بوائے نے دست درازی کی کوشش کی لیکن اکاشنا کی مزاحمت پر باہر بھاگ گیا اور اکاشنا کپڑے بدل کر اپنے بیڈ پر آ گئی۔کچھ دیر بعد وارڈ بوائے دوبارہ آیا اور اکاشنا کو ایک انجکشن لگا دیا جو دراصل نشے کا تھا۔ اکاشنا کا کہنا ہے کہ ”انجکشن لگتے ہیں میں بے ہوش ہو گئی۔ نشے کی حالت میں مجھے لگ رہا تھا کہ میرے ساتھ کچھ غلط ہو رہا ہے لیکن نشے کے باعث میں کچھ کر نہیں سکتی تھی۔“ اکاشنا کا والد جب دوائیاں لے کر آیا تو ہسپتال کے عملے نے اسے آئی سی یو میں جانے سے روک دیا۔ وہ اگلی صبح زبردستی اندر گھسا تو بیٹی کی حالت دیکھ کر اسے شبہ ہوا۔ وہ ابھی سو رہی تھی۔ والد نے جگایا تو وہ رونے لگی اور باپ کو سارا قصہ سنا دیا۔ اس واقعے کی خبر پھیلنے پر مشتعل افراد نے ہسپتال پر دھاوا بول دیا جہاں ان کی پولیس کے ساتھ بھی جھڑپیں ہوئیں۔ یہ دھاوا دنگوں کی صورت اختیار کر گیا جس میں پولیس اہلکاروں سمیت کئی افراد زخمی ہو گئے۔تاحال لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے ملزم کا نام سامنے نہیں آ سکا اور یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا کہ پولیس اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے یا نہیں۔

متعلقہ خبریں