ریپ کا شکار ہونے والی بھارتی لڑکیوں کے ساتھ ڈاکٹروں کا ایسا شرمناک ترین کہ سن کر ہی انسان کانپ اٹھے

2017 ,نومبر 9



نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کی شرح کے حوالے سے دنیا میں سرفہرست ہے جہاں خواتین چلتی بسوں اور دیگر عوامی جگہوں پر بھی محفوظ نہیں۔ اور اب زیادتی کی شکار لڑکیوں کے ساتھ بھارتی ڈاکٹروں اور پولیس نے بھی ایسا شرمناک ترین کام شروع کر دیا ہے کہ سن کر ہی انسان کانپ اٹھے۔  ہیومن رائٹس واچ و دیگر خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے انکشاف کیا ہے کہ بھارتی ڈاکٹر اور پولیس زیادتی کی شکار ہونے والی لڑکیوں کی توہین کرتے ہیں اور ان پر کیس واپس لینے کے لیے دباﺅ ڈالتے ہیں۔ڈاکٹر تو اسی پر ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ ان لڑکیوں کو جنسی طور پر بھی ہراساں کرتے ہیں۔ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ ”بھارتی ریاست راجستھان میں جنسی زیادتی کی شکار ایک لڑکی کو طبی معائنے کے لیے ہسپتال لیجایا گیا جہاں ڈاکٹر نے اس کے جسم کے پوشیدہ حصے میں انگلیاں ڈال کر یہ چیک کرنے کی کوشش کی کہ آیا وہ جنسی طور پر متحرک ہے یا نہیں۔“جنوبی ایشیاءمیں امریکی مشاورتی گروپ تھامسن رائٹرز فاﺅنڈیشن کی ڈائریکٹر میناکشی گنگولی کا کہنا تھا کہ ”راجستھان ہی نہیں، باقی ریاستوں میں بھی پولیس اور ڈاکٹر زیادتی کے کیسز میں وہ لازمی اقدامات نہیں کرتے جو حکومت کی طرف سے متعین کیے گئے ہیں۔درجنوں کیسز میں متاثرہ خواتین نے شکایت کی ہے کہ ڈاکٹر انہیں مناسب طبی سہولیات نہیں دیتے اور ہسپتالوں میں انہیں یکسر نظرانداز کیا جاتا ہے۔“

متعلقہ خبریں