کیا عورت انسان نہیں ہوتی؟؟

2022 ,جنوری 19



رپورٹ: مہرماہ سوشل میڈیا پر آج کل ایک اصطلاح، میریٹل ریپ کا بہت چرچہ ہے اور بہت جوش و خروش کیساتھ اس ٹرینڈ کو پروموٹ کیا جا رہا ہے۔ میریٹل ریپ کو سمجھنے سے پہلے ہمیں ریپ کو سمجھنا ہو گا۔ ریپ کہتے ہیں کسی لڑکی سے اس کی مرضی کے بنا زبردستی جنسی تعلق قائم کرنا۔۔۔ اور میریٹل ریپ ہوا، بیوی کی مرضی کے بنا اس سے جنسی تعلق قائم کرنا۔ اس حوالےسے ہمارے سامنے ایک رائے آئی ہے پہلے یہ ملاحظہ کیجئے پھر آگے بات کرتے ہیں۔ یہ بات پڑھ کر سب سے پہلی بات یہی ذہن میں آتی ہے کہ اگر مرد نے بیوی سے پوچھ کر ہی اس سے جنسی تعلق قائم کرنا ہے تو اسے بیوی کی ذمہ داری اُٹھانے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ اگر بیوی کو بھی منانا ہی ہے، اس کے ترلے منتیں کرنی ہیں کہ براہِ مہربانی مجھے جنسی تعلق قائم کرنے دیں تو ضرورت ہی کیا ہے شادی کی؟ کیا یہ بات آسان نہیں کہ انسان باہر جا کر اپنی ضرورت پوری کر لے؟ پیسے تو لگنے ہی ہیں، چاہے شادی اور بیوی کے خرچوں پر لگا لے یا باہر کی کسی عورت پر ،وہ بھی ذمہ داری کے بنا۔ ایک عقل و شعور والا انسان کون سی راہ اختیار کرے گا؟ ظاہر ہے باہر جانے کی راہ کو۔۔۔ اور بالکل یہی بات ہمیں مغربی معاشرے میں نظر آتی ہے۔ وہاں مرد، عورت کی ذمہ داری نہیں لیتا۔۔۔ عقل مند ہے، اپنی خواہش ہی پوری کرنی ہے نا، ہو جائے گی۔ جس طرح بندہ سبزی، پھل، دودھ باہر سے لے آتا ہے گھر میں فصل نہیں اُگاتا، گائے بھینس نہیں پالتا، اسی طرح اپنی جنسی خواہش پوری کرنے کیلئے بھی گھر میں بیوی پالنے کی ضرورت نہیں ہے۔اور آپ کو معلوم ہے کہ مغربی معاشرے میں عورت کی وقعت کیا ہے؟ یقینا آپ سب جانتے ہوں گے کہ وہاں صرف عورت کو استعمال کیا جاتا ہے، اُسے اپنایا نہیں جاتا اور نہ اُ س کی ذمہ داری اُٹھائی جاتی ہے۔ اب مسلم معاشرے، خاص طور پر پاکستان میں بھی اس سوچ کو بڑی کمال خوبی کیساتھ پروان چڑھایا جا رہا ہے۔ بظاہر دیکھنے میں ”میرا جسم، میری مرضی“ کے نعرے بہت دلفریب ہیں خواتین کیلئے۔ لیکن کیا کبھی کسی نے سوچا ہے کہ اس سوچ کے اس معاشرے پر کیسے اثرات پڑیں گے؟ نہیں۔۔۔ یہ سب سوچنے کا کسی کے پاس وقت نہیں ہے۔ ہماری پاکستانی خواتین کا المیہ یہ ہے کہ وہ حقوق اسلام والے مانگتی ہیں اور آزادی مغرب والی۔۔۔ جو کہ ظاہر سی بات ہے کہ کبھی ایسا نہیں ہوسکتا۔ یہ ایک اسلامی معاشرہ ہے، اور اسلام نے شوہر کو بیوی کے جسم پر پورا حق دیا ہے۔ لیکن کیا کیا جائے اس نوجوان نسل کا جس کا تعلق اسلام کیساتھ صرف کلمہ طیبہ پڑھنے کی حد تک ہے اور اوپر سے سوشل میڈیا کی “میرا جسم میری مرضی کی “برین واشنگ پورے دھڑلے سے جاری ہے۔ ایک مرد، اللہ کے کلمات کیساتھ اور ذمہ داری اُٹھانے کے وعدے کیساتھ عورت کا جسم اپنے اوپر حلال کرتا ہے، اپنی بساط کے مطابق اسے ہر سہولت دینے کی کوشش کرتا ہے، گھر کی چار دیواری میں تحفظ فراہم کرتا ہے، زمانے کی اونچ نیچ دھوپ چھاؤں سے بچاتا ہے۔ سارا دن اپنا آپ خوار کر کے رات کو جو گھر واپس آئے تو اسے پھر بھی لطف کے چند لمحات کیلئے بیوی کی اجازت کی ضرورت ہے؟ اس سے بڑا مذاق اور کیا ہو سکتا ہے؟ قارئین آپ نے ایک رائے ملاحظہ کرلی۔یہ انفرادی نہیں ایک مخصوص طبقے کی رائے ہے۔اب ہم اپنی بات کرتےہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ عورت ایک انسان ہے اس کے جذبات احساسات ہیں۔۔ کبھی کبھی طبیعت کی ناسازی اور دن بھر کے کاموں کی تھکاوٹ کے بعد وہ شوہر کی مرضی پر پورا نہیں اتر پاتی۔ اس وقت عورت کو سمجھنا مرد کی ذمہ داری ہے۔ عورت کے حقوق اور زمہ داریاں پوری کرنے کے بعد شوہر عورت کو خرید نہیں لیتا۔ عورت کوئی مجسمہ اور بھیڑ بکری نہیں ہے جس کو جب چاہے اور جس طرح چاہے استعمال میں لے آئے۔بعض مرد بیوی پر بہیمانہ جنسی تشدد کرتے اور پورن وڈیو میں جو کچھ دیکھتے ہیں بیوی پر آزماتے ہیں۔کچھ عورتیں خاموش رہتی کچھ مزاحم ہوتی ہیں ۔عورت کے سینے میں بھی دل ہے اگر کبھی وہ جسنی تعلق سے کریز کرے تو اس کو سمجھنا بھی شوہر کے لیے ضروری ہے۔ کتنا آسان ہے نا یہ کہ دینا کہ مرد کو چند لمحے سکون حاصل کرنے کے لیے کئی عورتیں شادی کے بغیر مل جائیں گی۔ کیا کبھی سوچا ہے وہ عورتیں کس وجہ سے بازاروں میں بکنے کے لیے تیار ہوتی ہیں۔ یہ مرد کی ہوس اور زیادیوں کا ہی نتیجہ ہوتا ہے۔ استعمال کر کے پھینک دینا۔ چیونگم کی طرح چبا کر تھوک دینا، عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھنا یہی سب تو مردوں کی سوچ ہے۔ اور پھر جب اپنی خواہش پوری ہو گئی تو چوراہے میں لا کر مرنے کے لیے عورت کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ سوچیں عورت کس مجبوری اور کس وجہ سے بازار میں چند پیسے کی عوض بکتی ہے۔ بازاروں میں ملنے والی عورت بھی انسان ہے۔ اس کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ جو سراسر غلط ہے۔ جب تک کب تک یہ دوسری عورتوں پر پیسے لٹا کر اپنی جنسی خواہش پوری کریں گے۔ جیسے عورت کے لیے شوہر ضروری ہے بالکل اسی طرح زندگی میں ایک وقت ایسا آتا ہے جب مرد کو بیوی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب یہ بازاروں میں بکنے والی عورتیں کام نہیں آتیں وہ بس آپ کی جنسی ضرورت پوری کرتی ہیں آپ کا خیال نہیں رکھ سکتی اس لیے شادی صرف یہ سوچ کر نہ کی جائے کہ جنسی ضرورت پوری ہو گی بلکہ یہ سوچ کر کی جائے کہ جب کوئی آپ کے ساتھ نہیں ہوگا تب بھی کوئی ایک ایسا ضروری ہوگا جو صرف آپ کے لیے ہوگا۔ اور وہ اور کوئی نہیں بلکہ آپ کی بیوی ہوگی۔ صبح سے تھکے ہارے کاموں سے جب واپس گھر جاتے ہیں تو ماں کے بعد بیوی ہی ہے جو گرم روٹی آپ کو پیش کرتی ہے۔ اور اگر کبھی اس نے آپ کو آپ کے خواہش پر انکار کر بھی دیا تو اس کے انکار کو غلط سمجھ کر لڑائی جھگڑا نہ کریں گھر کا ماحول برباد نہ کریں بلکہ اس کی انکار کا احترام کریں۔ کیونکہ عورت بھی انسان ہے۔ میاں بیوی کے درمیان انڈرسٹینڈنگ بہت ضروری ہے اور آپس کے باہمی روابط کے لیے سوچ کا ایک دوسرے سے ملنا بھی۔ اس لیے صرف رشتوں کو ضرورت سمجھ کر نہیں بلکہ عزت اور احترام کے ساتھ نبھائیں۔ تاکہ آپ کے دل و دماغ کے کسی ڈھکے چھپے کونے سے بھی کسی اور عورت یا مرد کا خیال سر نہ اٹھائےآخر میں ایک سوال ہے؟ اگر عورت ایسی ہی جنسی خواہش کرے اور مرد انکار کردے تو کیا وہ مردبھی اسی طرح قصور وار اور اسی سلوک کا مستحق ہوگا؟؟کیا فرماتے ہیں اہل علم و دانش فراست اس معاملے میں۔

متعلقہ خبریں