اقبالؒ کا شاہین۔ راشد منہاس شہید

2017 ,اگست 21



لاہور(مہرماہ رپورٹ): وہ اقبال کا شاہین تھا جو نو عمری میں وطن کی آن بان پر قربان ہو گیا اور اس کا جذبہ حب الوطنی نوجوان نسل کے لیے مثال بن گیا۔ کم عمری میں نشان حیدر کا اعزاز حاصل کرنے والے راشد منہاس 17 فروری 1951 کو لاہور میں پیدا ہوئے- راشد منہاس نے اپنی ابتدائی تعلیم جیس اسکول اور کوئین میری اسکول سے حاصل کی۔
 اس کے بعد والد راولپنڈی شفٹ ہوئے تو راشد منہاس کو سینٹ میری اکیڈمی رائل آرٹلر بازار راولپنڈی میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا۔ مگر کچھ عرصے بعد وہ دوبارہ کراچی منتقل ہوئے تو ان کو سینٹ پیٹرک کالج میں داخل کرا دیا گیا جہاں سے انہوں نے سینیر کیمبرج کا امتحان نمایاں پوزیشن لے کر پاس کیا۔ کامیابی کے بعد انہوں نے پاکستان ایئرفورس میں شمولیت اختیار کرنے کا ارادہ کیا۔
راشد منہاس کا شوق رنگ لایا اور ان کو پاک فضائیہ میں سلیکٹ ہونے کے بعد ٹریننگ کیلئے کوہاٹ اور کچھ عرصہ بعد رسالپور بھیج دیا گیا۔ رسالپور میں راشد منہاس نے پاکستان ایئرفورس اکیڈمی سے فلائٹ کیڈٹ کی تربیت حاصل کی۔ ایئر فورس اکیڈمی کے طالب علم کی حیثیت سے انہوں نے جون 1970 میں پشاور یونیورسٹی سے بی ایس سی فرسٹ ڈویڑن میں پاس کیا۔
14 سالہ راشد منہاس کے لیے وہ لمحات باعث فخر تھے جب 6 ستمبر 1965 کے معرکوں میں پاک فضائیہ نے اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے شجاعت اور عسکری مہارت کا مظاہرہ کیا۔ 1965 کی جنگ نے تاریخ تو رقم کی مگر پاک فضائیہ کو ایک عظیم، پرجوش پائلٹ آفیسر بھی دے گئی۔
دراصل جنگ ستمبر کے کا رناموں نے 14سالہ راشد منہاس کی زندگی کا مقصد متعین کیا راشد منہاس نے ٹھان لی کہ ایک دن وہ بھی اقبال کے شاہین کی طرح فضاو¿ں کے شہسوار بن کر دشمن کو سبق سکھائیں گے۔
اسی شوق اور جذبہ حب الوطنی کا اعجاز تھا کہ راشد منہاس نے ناتجربے کاری اور کم عمری کے باوجود اپنے غدار انسٹرکٹر کے سازشی عزائم کو ناکام بنایا اور 20 اگست 1971 کوغدار کے ہاتھوں بے بس ہونے کے بجائے وطن کی خاک پہ جامِ شہادت نوش کرنے کو ترجیح دی۔
20اگست 1971 کو ٹرینر کی پرواز میں فلائٹ لیفٹیننٹ مطیع الرحمان بھی ان کے ساتھ سوار ہوا۔ مطیع نے اپنے مذموم مقاصد کیلئے نوجوان پائلٹ راشد منہاس پر ضرب لگائی اور طیارے کا رخ بھارت کی جانب موڑ دیا- 
طیارہ بھارت کی جانب پرواز کر رہا تھا کہ اسی اثناءمیں راشد منہاس شہید کو ہوش آگیا اور انہیں نازک حالت کا علم ہوا کہ طیارہ اغواءکرلیا گیا ہے۔ راشد منہاس نے اس موقع پرپی اے ایف مسرور بیس میں صبح11:30 کے قریب رابطہ کیااور طیارے کے اغواءہونے سے متعلق آگاہ کیا۔راشداور غدار مطیع الرحمان کے درمیان جھڑپ شروع ہوگئی اور شہید پائلٹ نے مطیع الرحمان کو اس کے ناپاک و مذموم مقصد میں کامیاب نہ ہونے دیا اور طیارہ بھارت کی سرحد سے 32 کلومیٹر کے فاصلے پر زمین بوس ہوا۔
راشد منہاس کا جذبہ ایمانی اور آتش حب الوطنی تھی جس نے راشد منہاس کو وہ بے مثال جرات بخشی جس کے تحت انہوں نے ایک غدار انسٹرکٹر کے ناپاک منصوبے کو ناکام بناتے ہوئے 20 اگست 1971 کو جامِ شہادت نوش کیا۔ ان کے اس لازوال کارنامے پر انہیں نشانِ حیدر دیا گیا۔
راشد منہاس شہید کا احساسِ تفاخر، جذبہ شجاعت اور حسن حب وطن ہے جس نے ان کو آخری لمحات میں بھی جنگ جیت لینے کا فیصلہ کرنے کا حوصلہ بخشا اور آج اس کی تصویر اور نام دشمن کیلئے تازیانہ عبرت بن چکا ہے۔ راشد منہاس شہید نے اپنی بے مثال قربانی سے اس قوم کا سر فخر سے بلند کیا۔
قوم وطن کے اس جیالے سپوت کو سلام اور سلوٹ پیش کرتی ہے۔ جب تک اس ملک میں راشد منہاس شہید جیسے بہادر اور نڈر نوجوان موجود ہیں، دشمن اس ملک کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا ۔

 

متعلقہ خبریں