فکری تحریر...اس سے قبل کہ عید قرباں آئے باخبر کرتا چلوں۔

2017 ,اگست 27



اس سے قبل کہ عید قرباں آئے باخبر کرتا چلوں۔
پاکستانی میڈیا اسلام کے خلاف میٹھی میٹھی کہانیاں ترتیب دے رہا ہے۔ جس میں دکھایا جائے گا کہ :

ایک غریب ڈرائیور کے بیٹے کے ساتھ حادثہ ہوجاتا ہے وہ ہسپتال میں زیر علاج ہوتا ہے ڈرائیور اپنے مالک کے پاس آکے کہتا ہے صاحب میرے بیٹے کی زندگی خطرے میں ہے علاج کے لیے دس ہزار روپے درکار ہیں ،

مالک اپنے ڈرائیور کو دھتکار دیتا ہے کہ جاؤ میرے پاس کہاں سے آگئے دس ہزار تجھے پتہ بھی ہے کاروبار کے حالات کیا چل رہے ہیں تجھے تنخواہ پتہ نہیں کہاں سے پوری کر کے دی ہے اور مالک اگلے دن دس لاکھ کا جانور قربانی کے لیے لے آتا ہے۔

یہ لبرل اور آزاد خیال حج کے دنوں میں لکھیں گے:

حاجی صاحب لاکھوں لگا کر حج پے چلے گئے اور ان کے پڑوس میں غریب کی بیٹی بستی تھی جس کے سر پے چاندی اتر آئی مگر حاجی صاحب کو اپنے نام کے ساتھ حاجی لگوانے کی فکر رہی۔*

ڈرائیور کے بیٹے کے ساتھ روز حادثات ہوتے ہیں اور وہ بغیر علاج کے دنیا سے چلا جاتا ہے ہمارے میڈیا کو کوئی خیال نہیں آتا...!! خیال آتا ہے تو تب جب مسلمان قربانی جیسے عظیم مقصد کو پورا کرنے لگتے ہیں۔

غریب کی بیٹی کے سر میں چاندی ایک دن میں نہیں اتر آتی اور نہ حاجی صاحب کے حج پے جانے کے صدمے سے سر میں چاندی آتی ہے۔ کالے انگریزوں کو تب ھی غریب کی بیٹی کا خیال آتا ہے جب حج جیسے مقدس فریضہ کی ادائیگی میں امت مصروف ہوجاتی ہے۔

ابھی نہ میڈیا کو غریب کا بیٹا یاد ہے نہ لبرلز کو غریب کی بیٹی. ابھی اچانک سے ان کے دل میں انسانیت کا مروڑ اٹھے گا پھر حج کرنا بھی گناہ بتایا جائے گا اور قربانی پر بھی علماء کو اجماع کی دعوت دی جائے گی۔

روزانہ کےاگر ایک ملین مسلمان داڑھی مونڈنے میں کم از کم ٣٠ روپے کے حساب سے تیس ملین فضول خرچ کرتے ہیں لیکن ان دجالی لبرلز کو وہاں سے مسلمانوں کی بچت اور فلاح و بہبود کے کام نظر نہیں آتی.

ان اینکرز کی اپنی بڑی بڑی گاڑیاں، اے سی والے کمرے، محل جیسے مکانات، ستر ہزار سے زائد مالیت کے موبائل فون سب حلال ہیں، بس گناہ شمار ہوگا تو مولوی کا کوئی اچھا کپڑا پہننا، صاحب حثیت کا حج و قربانی کرنا.

ان اینکرز کو اپنے *سٹوڈیو سیٹس پر لگا ہوا لاکھوں روپیہ نظر نہیں آتا، نیو ائیر نائٹ پہ اربوں کھربوں اڑا دئے جائیں اس کا کوئی چرچا نہیں، ویلنٹائن ڈے پر خرچ، امیروں کی شادی بیاہ پر لمحہ بلمحہ کوریج، سٹوڈیو میں فرضی ڈراموں پر خرچ، فرضی فلموں کا خرچہ، فرضی شادیاں کروانا جس پر لاکھوں کا خرچ مگر اس میڈیا کو بس صرف دینی احکام پر عمل کرنے سے "فضول خرچی" کا بخار چڑھ جاتا ھے.

یہ ایک طرح کا نفسیاتی وار ہوتا ہے جس سے میڈیا مسلمانوں کے ذہنوں کو حج و قربانی جیسے مقدس اسلامی احکام سے بدظن کرتا اور انہیں اسلامی تعلیمات سے دور کرتا ہے۔ ہمارے میڈیا کو ایسے پروگرام بنانے اور نشر کرنے کے لیے دشمنان اسلام دل کھول کرفنڈز دیتے ہیں تاکہ مسلمان عوام کے دلوں سے دین اسلام کو ہر ممکن نکال کر انہیں لبرل سکیولر بےغیرت بنادیا جائے۔ اس دجالی میڈیا کی اس جدید ترین چال کو سمجھیے اور اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ دوست و احباب کے ساتھ شیئر کرکے اجر عظیم پائیں۔ جزاک اللہ

متعلقہ خبریں