دنیا کا امیر ترین شخص ایک مسلمان

2017 ,نومبر 27



آمیزون کے بانی جیف بیروز نے گزشتہ دنوں سو ارب ڈالرز کے مالک ہونے کا سنگ میل طے کیا تھا اور یہ جدید تاریخ میں پہلا موقع تھا جب کوئی فرد اتنی دولت کا مالک بنا۔مگر حقیقت تو یہ ہے کہ ہر دور کا امیر ترین شخص ایک مسلمان بادشاہ تھا اور آمیزون کے بانی تو اس کے مقابلے میں غریب ہی قرار دیئے جاسکتے ہیں۔ٹائم میگزین نے 14 ویں صدی میں افریقی ملک مالی پر حکمرانی کرنے والے بادشاہ منسا موسیٰ کو ہر دور کا امیر ترین شخص قرار دیا ہے۔درحقیقت جریدے کے مطابق اگر یہ سوال کیا جائے کہ منسا موسیٰ کتنے امیر تھے تو اس کا جواب ہے کہ ان کی دولت کا بالکل اندازہ لگانا ناممکن ہے۔ماہرین کے مطابق موسیٰ اتنے امیر تھے کہ لوگوں کے لیے ان کے اثاثوں کا تخمینہ لگانا مشکل تھا۔ان کے بقول یہ وہ امیر ترین شخص ہے جسے اس دور کے لوگوں نے دیکھا تھا تاریخ دان اس کی وضاحت کی کوشش کرتے ہیں اور ان کو سمجھ نہیں آتا کہ اس کو کیسے بیان کرے۔

سلطنت مالی کے اس سب سے مشہور حکمران نے 1312 سے 1337ءتک حکومت کی اور اپنی سلطنت کو عروج پر پہنچا دیا۔اس دور میں مالی کی سلطنت مغرب میں بحراوقیانوس اور شمال میں تفازہ کی نمک کی کانوں سے جنوب میں ساحلی جنگلات تک پھیل گئی تھی۔اس حکمران کو سب سے زیادہ شہرت 1324ءمیں کیے جانے والے سفر حج کی وجہ سے ملی۔اس سفر میں منسا موسیٰ نے اس کثرت سے سونا خرچ کیا کہ مصر میں سونے کی قیمتیں کئی سال تک گری رہیں۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس دور میں مالی سونا پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک تھا اور اس کی طلب بہت زیادہ تھی۔جب کوئی بھی موسیٰ کی دولت کا تخمینہ نہیں لگا سکتا تو اس کا مطلب ہے کہ وہ بہت بہت زیادہ امیر ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس مسلم حکمران کو ہر دور کے سب سے امیر ترین شخص کا اعزاز دیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں