برف پگھلنے سے دریائے زرد کے بہاﺅ میں اضافہ

2017 ,مارچ 21



بیجنگ(مانیٹرنگ)چین کے صوبے شان ژی میں برف پگھلنے سے دریائے زردکے بہاﺅ میں اضافہ ہو گیاہے اور دریا کے ہوکو آبشارکے حسین مناظر توجہ کا مرکز بن گئے۔ چین کے صوبے شان ژی میں دریائے زرد میں گرتا ہوکوآبشاران دنوں سیاحوں کو اپنی جانب کھینچ رہا ہے، سیاحتی مقام پرموجود لوگ اس خوبصورت مناظر کو کیمرے میں محفوظ کرتے نظر آتے ہیں۔

[​IMG]

چین کا دریائے زرد جسے چین کے لوگ ہوانگ- ہی کے نام سے جانتے ہیں، ایشیا کا تیسرے نمبر پر بڑا دریا ہے۔اس کے ساتھ دنیا کے چھٹے نمبر پر گہرے اور بڑے دریائوں میں شامل ہے۔ اسے مٹی کی بہتات کے باعث دریائے زرد کہا جاتا ہے اور یہ دنیا کا سب سے زیادہ مٹیالا دریا ہے، جو ہر منٹ میں سینکڑوں ٹن مٹی سمندرکی نذر کرتا ہے۔یہ چین کے علاقے بیان آر کے پہاڑوں کے درمیان سے رو نہ ا ہوتا ہے اور وٓاں سے بہتاہوا چین کے نو صوبوں کو پانی دیتا ، بحیرہ بوہائی میں جاگرتا ہے جو کہ چین کے صوبے شانوگ میں پایا جاتا ہے۔ رقبہ اس کی طوالت 4845 کلو میٹر یا 3395میل ہے۔ یہ مشرق سے مغرب کی طرف 1900 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے اور اور شمال سے جنوب کی جانب 1100کلومیٹر تک۔ اس کا کل رقبہ 742443 مربع کلومیٹر ہے۔ تاریخ دریائے زرد کوچین کا اہم دریااورچینی تہذیب کا گہوارہ کہا جاتا ہے۔ اس دریا کو چین کا جھولا بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ کہا جاتا ہے کہ قدیم چینیوں کی ابتداء یہاں سے ہوئی تھی۔ یہ چین کی تاریخ میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مگر اس کے باوجود یہ بہت جانیں لینے کا ذمہ دار ہے۔ تاریخ میں کئی مرتبہ اس دریا کے کناروں میں شگاف پڑے جن سے تاریخ کے بد ترین سیلاب آئے اور لاکھوں افراد کی جانیں اس کی نذر ہوگئیں۔ تیرہویں صدی کے سیلاب نے ستر لاکھ لوگوں کی جانیں لی تھیں، اس کے بعد اٹھارویں صدی میں بھی نو سے لے کر بیس لاکھ لوگوں کی جانیں لے چکا ہے۔ یہاں پر گیارہ بڑے سیلاب آچکے ہیں۔ چین اور جاپان کی جنگ کے دوران بھی کئی بار یہاں سیلاب آیا۔ چین کے بہترین انجینئر اس کے آگے بندھ باندھتے ہیں مگر یہ دریا سارے بندھ توڑنا جانتا ہے۔ ثقافتی اہمیت قدیم دورمیں چینی یہ کہتے تھے کہ یہ دریا کہکشائوں سے ہوتا ہوا سیدھا جنت سے آتا ہے۔ اس کے نام کے معنی شمال ا ور جنوب کا دریا مانا جاتا ہے ۔اسے دریائوں کی ماں بھی کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ اور اس کے بدترین سیلاب کی وجہ سے اسے چین کا درد بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک طویل عرصے سے چین کے ساتھ ہے اس کی وجہ سے یہ چین کا فخر بھی کہلاتا ہے۔ چین کا ایک محاورہ ہے ’’ جب دریائے زرد سکون سے بہے گا‘‘یہ محاورہ ایسی چیزوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو کبھی نہیں ہوگی کیونکہ اس دریا کے نصیب میں سکون سے بہنا نہیں ہے۔ زراعت حالانکہ سیلاب کی وجہ سے یہ دریا زراعت کے لیے مناسب نہیں۔ مگر شمال اور جنوب کے چین کے حصے میں کچھ علاقوں میں زراعت اسی دریا کے سبب ہوتی ہے۔ اہم زراعتی علاقے ژنگ یانگ اور زینگزو ہیں۔اس کے علاوہ اس کے کچھوے بھی چین میں بہت پسند کیے جاتے ہیں اور مختلف ریسٹورنٹس میں کچھوئوں سے مختلف کھانے بنائے جاتے ہیں۔دنیا میں قدیم ثقافتیں بڑے بڑے دریائوں کے پاس دریافت کی گئی ہیں کیونکہ پانی جینے کا اہم ذریعہ ہے۔ مگر اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ حد سے زیادہ بڑھی ہوئی نعمت زحمت بن جاتی ہے۔ جیسے دریائے زرد چین کے فخر کے ساتھ ساتھ اس کا درد بھی ہے۔

متعلقہ خبریں