حضرت سیدنا عبدالعزیز مکیؓ

2020 ,فروری 6



بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ تعالی علیہ مع سازو سامان لشکر پاک پتن پہنچے اور ایک درخت کریر کے نیچے قیام فرمایا وہاں شہداء کی قبریں تھیں اس میں حضرت سیدنا عبدالعزیز مکی رضی اللہ تعالی عنہ کا مزار تھا جو کہ کشف و القبور کے ذریعے حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کو معلوم ہوا اور حضرت سیدنا عبدالعزیز مکی رضی اللہ تعالی عنہ حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ تعالی علیہ سے نصف شب کو ہمکلام ہوا کرتے تھے حضرت سیدنا عبدالعزیز مکی رضی اللہ تعالی عنہ صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم ہیں اور اسلام میں سب سے پہلے قلندر ہیں حضرت سیدنا عبدالعزیز مکی رضی اللہ تعالی عنہ کو سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے قلندر فرمایا تھا اس لیے آپ رضی اللہ عنہ کے سلسلے کو قلندریہ کہا جاتا ہے آپ رضی اللہ تعالی عنہ حضرت صالح علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم پر ایمان لا کر اصحاب صفہ میں داخل ہوگئے اکابر صوفیہ کے نزدیک آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی عمر مبارک چھ سو سال ہوئی ہے آپ رضی اللہ تعالی عنہ سلسلہ قلندریہ مزاریہ طیفوریہ کے سرخیل و سرتاج ہیں آپ رضی اللہ تعالی عنہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے علمبردار لشکر بھی رہے ہیں حجتہ العارفین میں لکھا ہے کہ حضرت سیدنا شیخ عبدالعزیز مکی رضی اللہ تعالی عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے بعض سفروں میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کا علم اٹھایا ہے
اسی سبب سے علمبردار مشہور ہوئے ہیں حضرت شاہ شکر اللہ قلندر رحمتہ اللہ علیہ کے خلیفہ جناب حضرت شاہ محبت علی قلندر رحمتہ اللہ علیہ نے بھی اپنی تصنیف مظہر محبت میں لکھا ہے کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ علمبردار مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم تھے
مراد المریدین میں لکھا ہے کہ وہ علم نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم جو حضرت سیدنا عبدالعزیز مکی رضی اللہ تعالی عنہ کے دست مبارک میں تھا وہ اب بھی جونپور کے قریب ایک قصبہ میں موجود ہے عمر کا اس قدر طویل ہونا بھی اللہ عزوجل کی ایک نشانی ہے حضرت سیدنا عبدالعزیز مکی رضی اللہ تعالی عنہ پر اکثر سکر طاری رہتا تھا اور اسی حالت میں آپ رضی اللہ تعالی عنہ پر ہفتے مہینے اور سال گزر جاتے تھے حضرت مولانا عبدالقادر باسطی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے رسالہ ربط المشائخ میں لکھا ہے کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ میں نکلے کہ راستے میں آپ رضی اللہ تعالی عنہ پر سکر طاری ہوگیا تیس سال کے بعد اس وقت ہوش آیا جب آپ نے حضرت سیدنا مولا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم کے ہاتھ پر بیعت کی
جناب مسعود علی صاحب قلندر رحمتہ اللہ علیہ نے ایک کتاب فصول مسعودیہ کے نام سے لکھی ہے اس میں تحریر کیا ہے کہ حضرت عبدالعزیز مکی قلندر رضی اللہ تعالی عنہ اپنے رفقاء کے ساتھ کہیں سفر میں تھے کسی مروح مقام پر پہنچے تازہ وضو کیا اور تحیتہ الوضو کی نیت باندھی کہ سکر طاری ہوگیا اور پھر چالیس سال کے بعد ہوش آیا
اللہ اکبر اسی حالت سکر میں لوگوں نے مغالطہ میں تین دفعہ دفن کیا اور آپ رضی اللہ تعالی عنہ چالیس سال کے بعد اپنی قبر سے باہر آگئے اور چوتھی مرتبہ موجود سردابہ پاکپتن شریف میں یہ کہہ کر داخل ہوئے تھے کہ اب امام مہدی کے وقت باہر آؤں گا رسالہ غوثیہ میں لکھا ہے کہ
راوی نے بیان کیا ہے حضرت سیدنا عبدالعزیز مکی رضی اللہ تعالی عنہ کی چار قبریں ہیں اور وہ قبر ہی میں چالیس سال رہے اور لوگ سمجھتے رہے کہ انہوں نے وفات پائی حالانکہ وہ وفات نہیں پاتے تھے اور قبر سے نکل کر تمام روئے زمین کا دورہ کرتے تھے اسی طرح تین مرتبہ کیا اور ہر قبر سے چالیس سال کے بعد نکلے اور چوتھی قبر وہ ہے جس کے قریب حضرت شیخ الاسلام زہد الانبیاء بابا فرید مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ تعالی علیہ کا مزار مبارک ہے ان کی عمر 600 سال کی ہوئی اور اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم میں سے تھے اور انہوں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کا جھنڈا بھی اٹھایا تھا بحوالہ رسالہ غوثیہ
سلسلہ قلندریہ کے اصحاب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس سکر اور اتنے عرصے کے بعد قبروں سے نکل آنے اور پھر قبر میں زندہ داخل ہوجانے اور امام مہدی کے وقت میں باہر آنے کے متعلق کہتے ہیں کہ اس بات کا انکار اہل دل اور صاحب علم و فہم آدمی نہیں کرسکتے کیونکہ جس طرف اصحاب کہف کا سینکڑوں برس سونا اور حضرت عزیز علیہ السلام کا اور ان کے گدھے کا اور سو برس بعد دوبارہ زندہ ہونا بالکل حق اور درست ہے تو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے صحابی کا یہ حال بھی صحیح اور حق ہے شک اور انکار دل کے اندھوں سے ہی ظہور میں آتا ہے
حضرت سیدنا عبدالعزیز مکی رضی اللہ تعالی عنہ کے تین خلیفہ ہوئے ہیں نفحات العنبریہ 33
حضرت میراں میر رحمتہ اللہ علیہ ساکن گوندہ جن کے خلیفہ حضرت مولانا فخر الدین قلندر ہوئے ہیں حضرت سید محمد برمکی گجراتی رحمتہ اللہ علیہ حضرت سید المجزوبین حضرت سید حضر رومی قلندر رحمتہ اللہ علیہ جنہوں نے ہندوستان میں یہ سلسلہ شروع کیا

متعلقہ خبریں