روس طیارہ حادثہ میں ہلاک افراد کی لاشیں ابھی تک نہ مل سکیں۔

تحریر: فضل حسین اعوان

| شائع دسمبر 26, 2016 | 18:33 شام

سوچی(مانیٹرنگ ڈیسک):اتوار کو بحیرۂ اسود میں گر کر تباہ ہونے والے روسی فوجی طیارے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں تلاش کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن تاحال جاری ہے۔اس حادثے کے نتیجے میں طیارے پر سوار تمام 92 افراد ہلاک ہو گئے تھے جس کے بعد آج یعنی پیر کے روز روس میں یوم سوگ منایا جا رہا ہے۔ساحلی شہر سوچی کے قریب سمندر میں ہلاک شدگان کی لاشوں اور طیارے کے ملبے کی تلاش کا کام بڑے پیمانے جاری ہے جس میں تین ہزار سے زائد افراد حصہ لے رہے ہیں۔ان افراد میں 109 غوطہ خوروں کے ساتھ سات

ھ بحری جہاز، ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹر بھی شامل ہیں۔تلاش کے دوران طیارے کے کچھ ٹکڑے تو ملے ہیں تاہم اس قبل طیارے کے ڈھانچے کے حوالے سے ملنے والی اطلاعات کو بعد میں مسترد کر دیا گیا تھا۔دوسری جانب روسی صدر ولادی میر پوتن کی جانب سے اعلان کے بعد پیر کو یوم سوگ منایا جا رہا ہے۔روس کے ٹرانسپورٹ کے وزیر میکسم سوکولوف نے کہا ہے کہ حادثہ پائلٹ کی غلطی یا پھر تکنیکی خرابی کے باعث پیش آیا ہے۔

ماسکو میں لوگوں نے الیگزینڈروف انسامبل بینڈ کے مرنے والے فنکاروں کی یاد میں پھول سجائے ہیں.وزارتِ دفاع کے مطابق Tu-154 طیارے پر عملے کے ارکان، فوجی اہلکار، ایک فوجی میوزک بینڈ اور صحافی سوار تھے اور یہ شام کی جانب پرواز کر رہا تھا۔تلاش کی کارروائیاں تین شفٹوں میں جاری ہیں۔ وزارت دفاع کے ترجمان میجر جنرل اگور کونشنکوف نے پیر کی صبح ایک بریفنگ کے دوران کہا کہ ’یہ کارروائی ایک منٹ کے لیے بھی نہیں رکی۔انھوں نے کہا کہ اب تک 11 لاشیں اور جہاز کے ملبے کے 154 ٹکڑے ملے ہیں۔اس سے قبل حکام کا کہنا تھا کہ اس کی توجہ ساحل کے قریب ساڑھے دس مربع کلومیٹر کا علاقہ ہے۔مقامی وقت کے مطابق صبح پانچ بج کر 25 منٹ پر سوچی سے اڑان بھرنے کے دو منٹ بعد طیارے کا رابطہ ریڈار سے منقطع ہو گیا تھا۔طیارے میں عملے کے ارکان، فوجی اہلکار، ایک فوجی میوزک بینڈ اور صحافی سوار تھےپیر کے روز روسی وزیرِ ٹرانسپورٹ میکسم سولوکوف نے کہا کہ جہاز کے حادثے کی ممکنہ وجہ دہشت گردی نہیں تھی۔انھوں نے کہا کہ تفتیش کار اس پہلو پر تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا حادثے کا باعث کوئی تکنیکی خرابی تھی یا پھر پائلٹ کی غلطی۔روسی صدر ولادی میر پوتن نے حکومتی کمیشن کو اس حادثے کی تحقیقات کا حکم بھی دیا ہے۔طیارہ شام کے شہر لاذقیہ جا رہا تھا۔ یہ جہاز ماسکو سے اڑا تھا اور سوچی کے ایڈلر ہوائی اڈے پر ایندھن بھرنے کے لیے رکا تھا۔روسی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 'وزارت کو ٹی یو 154 جہاز کے ٹکڑے بحیرۂ اسود کے ساحلی شہر سوچی سے ڈیڑھ کلومیٹر دور سمندر میں 50 سے 70 میٹر گہرائی سے ملے ہیں۔'