ایک عرب دیہاتی کا روضہ رسول ﷺ پر حاضر ہوکر رب سے دعا کا خوبصورت انداز اور دین کی چھوٹی چھوٹی باتیں

2022 ,فروری 23



ایک عرب دیہاتی روضہ رسول ﷺ پر حاضر ہوکر رب سے دعا کرتا ہے، اس کے مانگنے کا انداز دیکھیئے الفاظ پر غورکیجیئے! یقین جانیئے رب سے مانگنے کا بھی ایک خاص فن،انداز اور ڈھنگ ہوتا ہےجو اس گاؤں کے رہنے والے عرب سے سیکھنا چاہیئے۔ اے الله ! یہ آپ کے حبیب ہیں، میں آپ کا غلام ہوں اور شیطان آپ کا دشمن ہے۔ خدایا اگر تو مجھے بخش دے گا تو تیرا حبیب خوش ہوگا، تیرا بندہ کامیاب ہوگا اور تیرا دشمن غمگین ہوگا، مولا اگر تو نے میری بخشش نہیں کی تو تیرا حبیب غمگین ہوگا، تیرا غلام ناکام ہوگا اور تیرا دشمن خوش ہوگا، الہی ! تیری شان اس سے بڑی ھے کہ تو اپنے حبیب کو غمگین کردے، اپنے بندے کو ناکام اور اپنے دشمن کو خوش کردے، میرے پروردگار ہم عرب ہیں ہمارے یہاں جب کوئی سردار فوت ہو جائے تو اس کی قبر پر غلاموں کو آزاد کیا جاتا ہے اور یہ تمام جہانوں کے سردار محمدالرسول اللهﷺکی قبر ہے، پس مجھ غلام کو جھنم کی آگ سے آزاد فرما دے ۔آمین۔ ملاحظہ۔۔!! میں نے اپنی عمر بتائی اور ان کی پوچھی تو معلوم ہوا وہ ۹۵ برس کے تھے اور ان کی والدہ کا انتقال ۱۰۵ برس کی عمر میں ہوا تھا میں نے ذرا ہچکچاہٹ سے پوچھا کہ اچھی صحت کا راز تو بتائیں؟ کہنے لگے بس بیمار نہ پڑو؟ میں نے کہا یہ تو ہمارے بس کی بات نہیں۔ ہنستے ہوئے کہنے لگے بس کی بات ہےمیں نے کہا آپ بتائیں میں ضرور عمل کرونگا میرے قریب آکر آہستہ سے کہنے لگے منہ میں کبھی کوئی چیز بسم الله کے بغیر نہ ڈالنا چاہے پانی کا قطرہ ہو یا چنے کا دانہ؟ میں خاموش سا ہوگیا پھرکہنے لگے الله تعالیٰ نے کوئی چیز بے مقصد اور بلاوجہ نہیں بنائی ہرچیز میں ایک حکمت ہے اور اس میں فائدے اور نقصان دونوں پوشیدہ ہیں-جب ہم کوئی بھی چیز بسم الله پڑھ کر منہ میں ڈالتے ہیں تو الله اس میں سے نقصان نکال دیتا ہے- ہمیشہ بسم الله پڑھ کرکھاؤ پیو اور دل میں بار بار خالق کا شکر ادا کرتے رہو اور جب فارغ هوجاؤ تب بھی الله رب العزت كا شکر ادا کرو کبھی بیمار نہ پڑوگے-میری انکھیں ترہو چکی تھیں دیر ہورہی تھی میں سلام کرکے اٹھنے لگا تو میرا ہاتھ پکڑ کرکہنے لگے،کھانے کے حوالے سے آخری بات بھی سنتے جاؤ، میں جی کہہ کر پھر بیٹھ گیا کہنے لگے اگر کسی کے ساتھ بیٹھ کر کھا رہے ہو تو کبھی بھول کے بھی پہل نا کیا کرو چاہے کتنی ہی بھوک لگی ہو پہلے سامنے والی کی پلیٹ میں ڈالو اور وہ جب تک لقمہ اپنے منہ میں نہ رکھ لے تم نہ شروع کیا کرو میری ہمت نہیں پڑ رہی تھی کہ اسکا فائدہ پوچھوں؟ لیکن وہ خود ہی کہنے لگے یہ تمہارے کھانے کا صدقہ ادا ہوگیا اور ساتھ ہی الله كريم بھی راضی ہوا کہ تم نے پہلے اس کے بندے کا خیال کیا یاد رکھو غذا جسم کی اور بسم الله روح کی غذا ہے اب بتاؤ کیا تم ایسے کھانے سے بیمار پڑسکتے ہو؟ *میں بے ساختہ ان کے چہرے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر تیزی سے جانے کے لئے مڑگیا کہ دین کی چھوٹی چھوٹی باتوں سے ہمُ اور ہماری اولاد کتنی محروم ہیں۔

متعلقہ خبریں