بھٹو کو پھانسی کے بعد افواہیں

2019 ,اکتوبر 22



 راحت لطیف جیل میں ذوالفقار علی بھٹو کی حفاظت پر مامور تھے، ان پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ انہوں نے بھٹو صاحب کو تشدد کر کے مار ڈالا تھا، اس پر وہ کہتے ہیں:جناب بھٹو کے تختہ دار پر لٹکائے جانے کے بعد یہ افواہ گردش کرنا شروع ہوگئی کہ انہیں مارا گیا تاکہ ان سے ایک اقرارنامہ سے دستخط کروائے جائیں کہ مسٹربھٹونے تسلیم کرلیا تھا کہ انہوں نے اپنے ایک سیاسی حریف کے قتل کا حکم صادر کیا تھا لیکن وہ متواتر اس سے انکار کرتے رہے، نتیجتاً صرف دوضربوں نے انہیں مارڈالا، اس افواہ کے مطابق ایسے اقرارنامہ کے حصول سے جسے مسٹربھٹو سے حاصل کیا تھا مجھے بریگیڈئرکے عہدہ پر ترقی کا وعدہ کیا گیا۔
ایک افواہ کے مطابق فوجی افسروں نے جسمانی طاقت کے ذریعے ایک اقرارنامہ پر مسٹربھٹو کے دستخط کرانے کی کوشش کی جس میں یہ لکھا گیا تھا کہ اس نے تختہ الٹنے کی سازش خود تیار کی اور جنرل ضیاء کو دعوت دی کہ وہ ملک کا نظم ونسق سنبھال لیں۔ افواہ میں کسی قدر سچائی کی روشنی نہ تھی۔ اگر مسٹر بھٹو پر دستخط کروانے کے لئے زور ڈالا گیا تو کون سا وقت ایسے کام کے لئے درست قراردیا جاسکتا ہے؟ کیا وہ وقت موزوں تھا جب اسے موت کی سزا سنائی جاچکی تھی اور پھانسی پانے سے قبل مسٹربھٹو کے پاس صرف چندگھنٹے باقی تھے یا پھروہ وقت صحیح تھا جب ملک میں مارشل لاء کا نفاذ ہوگیا اور مارشل لاء والے ایسی دستاویز کو سچائی کے مظاہرہ کے لئے ممکنہ قراردے سکتے ہیں۔؟
اب جبکہ مسٹربھٹو کو علم تھا کہ انہیں چند گھنٹوں کے بعد موت کی ابدی نیند سلایا جانے والا ہے۔

یہ کسی بھی شخص کیلئے ناممکن قراردیا جاسکتا ہے کہ کسی بھی ناپسندیدہ تحریر پر ان سے دستخط حاصل کرنے کی سعی کرتا خواہ انہیں موت کی دھمکی ہی کیوں نہ دی جاتی۔ اب جبکہ موت ان کے لئے واضح اور لازمی نظرآرہی تھی یہ بعیدازقیاس ہے کہ ایک دوگھنٹہ کے بعد مقررہ موت سے ہمکنار ہونے والا شخص خوفزدہ ہوجاتا کہ وہ کسی اقرارنامہ پر دستخط کرتا جو اس کی سیاسی اور نظریاتی سوچ کے خلاف ہوتا کوئی بھی دھمکی جسے مسٹربھٹو کے لئے ممکنہ یا معقول قراردیا جاسکتا ہے یا کسی اور کے لئے جو ایسی ہی صورت سے دوچار ہو تووہ صرف اسے موت سے بچا لینے کی کوئی پیش کش ہوسکتی تھی جس کے لئے قطعاً یہ ضروری نہ تھا کہ ضیاء حکومت مسٹر بھٹو سے اپنی حکومت کے قانونی ہونے کی سچائی کی توثیق پر مہرثبت کرواتی۔
پاکستان کے عوام بھٹو کی برسراقتدار حکومت کے خلاف زبردست مظاہرے کررہے تھے ان کی حکومت میں پانی جانے والی افراتفری کے بعد مارشل لاء کے نفاذ کو انہوں نے خوش آمدید کہا، مسٹربھٹو سے سند جواز حاصل کرکے مارشل لاء بری شہرت کو حاصل کرلیتی اگر وہ ایک ایسی حکومت سے گٹھ جوڑ کرلیتی جسے پاکستانی عوام کی اکثریت ردکرچکی تھی۔چنانچہ اس افواہ میں کوئی منطق نظرنہیں آتی۔
ایک اور افواہ پھیلی کہ میجرجنرل کے عہدہ پر میری ترقی کا انحصار اس بات کو قراردیا گیا کہ تختہ دارپر لے جانے سے قبل مسٹربھٹو سے اقرارنامہ حاصل کروں، حسب ذیل سے اس امرکا اندازہ باآسانی لگایاجاسکتا ہے کہ افواہ میں آیا کوئی سچائی یاصداقت موجود ہے یا کہ نہیں۔
سب سے پہلے یہ کہ جب وہ فوت ہوئے مسٹر بھٹو نے اقرار نامہ پر دستخط نہ کئے جس سے یہ ظاہرہو کہ انہوں نے فوج کو دعوت دی کہ وہ ملک میں مارشل لاء کا نفاذ کریں، مسٹربھٹو کی بیٹی بے نظیر بھٹو ہمیں بتلاتی ہیں کہ ایک دوسری متواتر خبر یہ آتی رہی جس کے مطابق میرا باپ کوٹھڑی میں لڑائی میں مارا گیا، فوجی افسروں نے اس سے زبردستی دستخط کروانے کی کوشش کی، اس دعویٰ کے مطابق یہ کہ انہوں نے تختہ الٹنے کی خود سازش کی، اور ضیاء کو دعوت دی کہ وہ ملک پر قبضہ کرلے، میرے باپ نے حکمرانوں کے جھوٹ کے پلندہ پر دستخط کرنے سے انکار کیا جسے حکمران حقیقی بنانے کے درپے تھے۔
بے نظیرکے دعویٰ کی کہ اس کے باپ نے کوئی اقرارنامہ دستخط نہیں کیا یوں بھی تصدیق ہوتی ہے کہ کبھی کسی نے ایسا اقرار نامہ پیش نہیں کیا، کسی نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ اس کے پاس ایسی تحریر موجود ہے۔ اگرضیاء کی مارشل لاء حکومت کوئی ایسی تحریر چاہتی کہ اس کے جواز کو ثابت کرے تو اس کی موجودگی کی وجہ سے اس کو ضرور شائع کرتی، چنانچہ یہ دعویٰ دوہرا درست ہے کہ کوئی ایسا اقرارنامہ مسٹربھٹو سے حاصل ہی نہیں کیا گیا اس کے باوجود کہ میجرجنرل کے عہدہ پر میری ترقی ہوئی لیکن فوج مجھے کیسے ترقی دے سکتی تھی اگرمیں اپنے مقصد میں ناکام ہوتا جو میرے لئے ضروری تھا اور میری ترقی سے منسلک تھا۔
بھٹو کی پھانسی کے چند ہفتے بعدمجھے صدر کے سی او ایس جنرل عارف کی طرف سے ٹیلی فون موصول ہوا جس میں کہا گیا تھا کہ میں انہیں فوراً ملوں۔ جب میں ان کے دفتر میں پہنچا تو انہوں نے بیگم نصرت بھٹو اور مس بے نظیر بھٹو کی مجوزہ کراچی روانگی پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے مجھے ہدایت کی کہ میں انہیں اس حکم نامہ سے آگاہ کروں تاکہ وہ آج رات اپنی رہائش گاہ 70 کلفٹن کراچی بذریعہ جہاز منتقل ہونے کے لئے تیار ہو جائیں۔ انہوں نے کہا وی آئی پی فوکر جہاز چکلالہ ایئربیس سے سیدھا ان کو کراچی لے جائے گا۔ ان کا تمام سامان ساتھ جائے گا۔ کراچی میں ان کی آمد کے سلسلے میں مناسب انتظام کر دیا گیا ہے، میں نے ان کو یاد دلایا، ڈی ایم ایل اے میجر جنرل صغیر نے ان کی روانگی کا بندوبست کیا تھا لیکن آخری لمحے اس کو منسوخ کر دیا گیا، اب میں ان کو کس طرح یقین دلاؤں گا کہ یہ نیا انتظام حتمی ہے، جنرل عارف نے جواب دیا کہ انتظامات یقینی ہیں اور حکومت نے فیصلہ کیا کہ جونہی وہ 70 کلفٹن پہنچیں گی ان کو رہا کر دیا جائے گا، میں نے سلام کیا اور سیدھا ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں پہنچا، جہاں میں نے پی آئی ڈی سی ہاؤس جسے عارضی طور پر سب جیل میں تبدیل کر دیا گیا تھا اور جہاں ان دونوں خواتین کو رکھا گیا تھا، وائرلیس پر پیغام بھیجا۔ ہم نے سب جیل کی انتظامیہ سے کہا کہ ہم  دونوں خواتین سے ملاقات کی خاطر جلد پہنچ رہے ہیں، سب جیل تک پہنچنے کے لئے آدھ گھنٹہ درکار تھا اس طرح جیل انتظامیہ کو ہماری ملاقات کروانے کے لئے کافی وقت مل گیا۔ جب ہم پہنچے تو ہمیں نفاست سے سجائے ہوئے کمرہ میں لے جایا گیا۔ جہاں ہم انتظار کے لئے بیٹھ گئے۔ مس بے نظیر کمرہ میں داخل ہوئیں۔ ان کے بازوؤں میں بلی تھی، ہم اٹھ کھڑے ہوئے اور انہیں سلام کیا لیکن انہوں نے جواب نہ دیا، وہ ہمارے سامنے صوفہ پر بیٹھ گئیں۔
میں نے ان سے اپنے ساتھیوں کا تعارف کرایا، بے نظیر کی والدہ نہ دیکھ کر میں نے ان کے بارے میں دریافت کیا کہ وہ کہاں ہیں اور کیسی ہیں؟
بے نظیر: بلی سے کھیلتی ہوئی بولی ”میری والدہ عدت کے سبب یہاں نہیں آسکتی۔ نیز ان کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں ہے۔ مجھے خاص طور پر مخاطب کر کے اس نے کہا: ”تم اتنی کم عمر میں بریگیڈیئر کیسے بن گئے ہو؟“ شکریہ ادا کرتے ہوئے جب میں نے جواب دیا میں اتنا بھی کم عمر نہیں ہوں۔ بریگیڈیئر کے عہدہ کے لئے یہی عمر موزوں ہے۔ میں نے مزید کہا ”ہمیں افسوس ہے کہ آپ کی والدہ کی طبیعت ناساز ہے، اس سلسلہ میں اگر کسی مدد کی ضرورت ہو تو ضرور بتائیں“۔
بے نظیر: نے فوراً سخت زبان کا استعمال خاص طور پر فوجیوں کے خلاف شروع کر دیا۔ اس نے 1971ء کی پاک بھارت جنگ میں 90 ہزار قیدیوں کا ذکر کیا اور الزام لگاتے ہوئے کہا کہ مشرقی پاکستان میں فوج اپنی پتلونیں نیچے کئے ہوئے پکڑی گئی تھی۔ یہ میرا باپ تھا جس نے انہیں واپس لا کر فوج میں عزت دلوائی، اب اسی فوج نے اسے پھانسی پر لٹکایا ہے۔ بے نظیر نے کچھ نازیبا زبان بھی استعمال کی۔ وہ تند مزاج ہو رہی تھی۔
میں: (میں نے بات کاٹتے ہوئے کہا) ”مہربانی کر کے ناراض نہ ہوں اور نہ ہی سخت لفظوں کا استعمال کریں۔ یہ آپ جیسے پڑھے لکھے فرد کو زیب نہیں دیتا نیز خواتین اس انداز میں بات نہیں کرتیں“۔
بے نظیر: (باآواز بلند) ”کیسے الفاظ؟ تم لوگوں نے میرے باپ کو قتل کیا ہے اور اب تم میری زبان کے متعلق باتیں کر رہے ہوں۔ تمام وردی والوں کو بھارتیوں سے ٹھڈے کھانے چاہئیں“۔
میرے لئے اس کا اس طرح غصے میں آنا قابل فہم تھا۔
بے نظیر: (بات کاٹتے ہوئے) ”پہلے بھی اسی قسم کا پیغام آیا تھا لیکن آخری لمحے انتظامات منسوخ کر دیئے گئے کہ ہم کراچی نہ جا سکے“۔
میں: ہم سب آپ کو یقین دلانے آئے ہیں کہ جو ہم کہہ رہے ہیں درست ہے۔ تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ آپ آج غروب آفتاب سے قبل ایک خصوصی طیارہ کے ذریعے جو اسی مقصد کے لئے تیار کیا گیا ہے، روانہ ہو جائیں گی“۔
بے نظیر: ”اتنے مختصر نوٹس پر تیاری کرنا ناممکن ہے“۔
”ہم آپ کی اعانت کے لئے امدادی افراد مہیا کر سکتے ہیں جو سامان کو پیک کرنے میں مدد دیں گے۔ ہم مزید آپ کو مطلع کرنا چاہتے ہیں کہ جونہی کراچی میں آپ 70 کلفٹن کے اندر داخل ہوں گے ”آپ آزاد ہوں گے“۔ اب تک وہ قدرے پُرسکون ہو چکی تھی۔
بے نظیر: ”پہلے مجھے بتلائیں کہ میرا باپ کس طرح مرا تھا؟ کیا اس نے کچھ کہا تھا؟ کیا وہ پھانسی کے تختے تک چل کر گیا تھا؟“
میں: آپ کو ان تمام سوالات کا جواب 70کلفٹن پہنچنے کے بعد جب آپ عوام سے آزادانہ ملاقاتیں کریں گی ان سے مل جائے گا“۔ اس نے دوسری مرتبہ اپنا استفسار دہرایا اور میں نے اپنا جواب دہرایا۔
بے نظیر: ”ہم تیاری شروع کریں گے لیکن غروب آفتاب سے قبل نہیں جا سکیں گے۔ ہمارا سامان تو کافی ہو گا“۔
میں: ”یہ کوئی مسئلہ نہیں۔ یہ آپ کے پہنچنے سے قبل بحفاظت جہاز میں رکھوا دیا جائے گا“۔
بے نظیر: ”لیکن آپ لوگوں کو تو میں نے چائے کی پیالی بھی نہیں پوچھی۔ کیا آپ چائے پینا پسند کریں گے“۔ اس نے بلی سے کھیلتے ہوئے ایسا کہا۔
میں: ”نہیں شکریہ۔ آپ اپنا تمام سامان جو آپ کے پاس ہے، لے جا سکتی ہیں“۔
بے نظیر: ”وقت بہت کم ہے اور ہم آج تیار نہیں ہو سکتے“۔
میں: ”ہم آپ کو امدادی افراد مہیا کر سکتے ہیں لیکن آپ کو ہر صورت جانا ہو گا“۔
بے نظیر: ”کیا ہو گا کہ اگر ہم کراچی پہنچنے کے بعد پھر سے زیرحراست ہو جائیں؟“
میں: ”جہاں تک میرا علم ہے آپ کو دوبارہ زیرحراست نہیں رکھا جائے گا“ کراچی پہنچنے کے بعد آپ کو -70کلفٹن بحفاظت پہنچا دیا جائے گا۔ اس کے بعد دوسروں کی طرح آپ بھی بالکل آزاد ہیں۔
بے نظیر: ”کیا تمہیں یقین ہے کہ ہماری روانگی ملتوی نہیں کی جائے گی؟“
میں: ”ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ آپ کی روانگی ملتوی نہیں کی جائے گی۔ اگر کسی صورت کو مدد درکار ہو تو جیل گارڈ کو بتلا دیں تاکہ ضروری بندوبست ہو سکے“۔ ہم اٹھ کھڑے ہوئے اور میں نے شکریہ ادا کیا اور بیگم بھٹو کے لئے صحت کی تمنا کی۔ میں نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ ہم پر اعتماد رکھیں اور کراچی جانے کے لئے تیاری کریں۔
بین الاقوامی شہرت رکھنے والا اس کا باپ جو سیاستدان تھا اور دنیا میں اس کا نام تھا، اب پھانسی لگا تھا۔ اس لئے بے نظیر کی ناراضگی مکمل طور پر جائز تھی۔ لہٰذا میرے خلاف اس کی جارحانہ زبان، یونیفارم والوں، فوج اور سی ایم ایل کے خلاف جو کلمات اس نے کہے، مجھے برانگیختہ نہ کر سکے۔ یہ اچھی بات ہوئی کہ ہم نے اس کی ناراضگی کے اظہار کے لئے اس کو موقع فراہم کیا۔ جب نرمی کے ساتھ اس کو اس کی حیثیت یاد دلائی گئی تو ایک پڑھی لکھی خاتون کے ناطے کا جوش ٹھنڈا پڑ گیا اور اس کا انداز تبدیل ہو گیا جس کسی کو بھی اس کے کرب کا تجربہ ہو وہ اسی طرح کرے گا۔ لہٰذا اختیار ہونے کے باوجود ہم نے خندہ پیشانی کے ساتھ اسے تسلیم کیا۔ ٹھنڈے انداز میں اس کے ساتھ گفتگو کی جس کی اس نے تعریف کی۔
میں سیدھا سی ایم ایل اے سیکرٹریٹ گیا اور جنرل عارف کو ملا اور ان کو تمام کہانی سنائی اور اس امر کا ذکر کیا کہ اسے آج کی روانگی کے متعلق بھی شکوک و شبہات ہیں۔ چنانچہ میں نے اس بات پر زور دیا کہ اس کے شک کی بنیاد کو رفع کرنا چاہیے، جنرل عارف جو کم گو ہیں ہاں کے لئے اپنا سر ہلایا۔
پی آئی ڈی سی ریسٹ ہاؤس سہالہ میں ہم نے سکیورٹی گارڈ کمانڈر سے رابطہ قائم رکھا، انہوں نے ہمیں مطلع کیا کہ اگرچہ بھٹو خواتین نے سامان باندھنے کے لئے کوئی امداد طلب نہیں کی تاہم روانگی کے لئے تیاریاں جاری ہیں۔ شام کے بعد ہم چکلالہ ایئربیس گئے جہاں پی اے ایف فوکر وی آئی پی جہاز دونوں بھٹو خواتین اور ان کے سامان کو کراچی لے جانے کے لئے منتظر کھڑا تھا، پہلے سامان محافظ دستہ کی نگرانی میں جہاز میں لدوا دیا۔ آخر میں دونوں خواتین آگئیں۔ مسز نصرت بھٹو، مس بے نظیر بھٹو ایک بلی اور ایک کتا۔ نصرت بھٹو سخت پردہ کئے ہوئے تھیں۔ جہاز میں بیٹھ گئیں اور جہاز کراچی کی طرف روانہ ہو گیا۔
٭٭٭
محمد رمضان چشتی سماجی ورکرز صنعتکار
میں اپنی اہلیہ رضیہ کے ساتھ 1996ء میں حج کے لئے گیا، منی میں عبادات میں مصروف تھے کہ خیموں میں آگ لگ گئی۔ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اس کی شدت میں اضافہ ہونے لگا، اردگرد کہیں آگ کے شعلے نظر آ رہے تھے کہیں دھواں تھا، چند منٹوں میں افراتفری پھیلی اور بھگڈر مچ گئی، ہمارے ساتھ ڈاکٹر وسیم رانجھا اور ان کی عمر رسیدہ والدہ بھی تھیں۔ ڈاکٹر صاحب اس موقع پر موجود نہیں تھے۔ ہم نے ان کی والدہ کو ساتھ لیا اور محفوظ مقام کی تلاش میں چل پڑے، چند منٹ میں ہم بھگڈر کا حصہ بن گئے۔ دھواں بھی پھیلتا ہوا یہاں آگیا۔ میری اہلیہ مجھ سے 8 فٹ دور تھیں۔ ایک موقع پر بھیڑ اور بھگڈر میں میرے پاؤں زمین سے اٹھ گئے، یہ وہ لمحہ تھا جہاں مجھے موت اپنے سامنے نظر آئی، یہی کیفیت مجھ سے چند فٹ کے فاصلے پر میری اہلیہ کی تھی تاہم  ہم لوگ گرنے اور ہجوم کے پاؤں تلے کچلے جانے سے بچ گئے، ہجوم سے تھوڑا بچے تو آگ کی لپٹ میں آ گئے۔ جلے ہوئے خیموں سے گزرتے ہوئے میرے پاؤں جل گئے ڈاکٹر وسیم رانجھا کی والدہ کو میں نے کندھوں پر اٹھا لیا تھا۔ تھوڑا آگے گئے تو قربان گاہ میں پناہ لینے کی جگہ موجود تھی جہاں مصر کے قصابوں کا تسلط تھا۔ ہم اس طرف بڑھے تو وہ ڈنڈے اٹھا کر ہم پر پِل پڑے۔ ہم لوگوں کی ایک نہ سنی، اس طرف آنیوالوں کو انہوں نے آگ کے سمندر میں دھکیل دیا، اس دوران میرے احرام کا اوپری حصہ جل چکا تھا۔ ہمیں اپنی جانیں بچانے کیلئے گندے نالے میں اترنا پڑا۔ اس دوران رات کے سائے گہرے اور گھمبیر ہوتے گئے ہم اپنے جلے ہوئے خیموں کی جگہ آ گئے۔

رات گئے تک اعلان ہوتا رہا فلاں اگر زندہ ہے تو فلاں جگہ پر اس کے عزیز ہیں وہاں آ جائے۔ بہت سے لوگ آگ لگنے سے شہید ہوئے۔ کئی پاؤں تلے کچل کر کچھ حبس سے اور کرنٹ لگنے سے شہید ہونیوالوں کی بھی خاصی تعداد تھی۔ بلاشبہ جاں بحق ہونے والوں کی تعداد ہزاروں تھی۔ جن کو انتظامیہ نے کرینوں اور لوڈرز کے ذریعے سڑکوں میں ڈال کر قبروں میں اتارا یا ٹھکانے لگایا میں انتظامیہ کی طرف سے میتیں اٹھانے کا عمل دیکھ اور سوچ رہا تھا کہ میں ان میں شامل ہو سکتا تھا۔ جہاں ایک ایمان اور اعتماد کی بات بھی بتا دوں۔ جب دیکھا کے موت کے سائے سر پر منڈلا رہے تو دعا کی یا اللہ تیرے حبیب کا میلاد کرانے اور مناتے رہے ہیں اس کے صدقے کرم فرما تو ہمیں اپنی حفاظت کے راستے کھلتے نظر آنے لگے۔

٭٭٭
محمد تسلیم انٹیلی جنس افسر رہے ہیں کہتے ہیں 
مجھے اورمیرے ساتھی کو انڈین ایجنسی کے ایک افسر کا تعاقب کرنا تھا ہم ہائی کمشن کے باہ ران کے منتظر تھے، اس دوران ظہر کی اذان ہوئی تو میرا پارٹنر نماز پڑھنے چلا گیا۔ ہم نے جسے فالو کرنا تھا وہ شاید ہماری موجودگی اور پلاننگ سے آگاہ ہو گیا۔ میرا ساتھی ادھر مسجد میں گیا ادھر انڈین افسر لینڈ روور میں نکلا اور یہ چارہ جا میں نے اپنے ساتھی کا انتظار کرنا مناسب نہ سمجھا، ہمارے پاس 125 موٹر سائیکل تھی۔ میں نے کک ماری اور لینڈ روور کے پیچھے پیچھے ہو لیا، ان دنوں زیرو پوائنٹ چوک پر سگنل تھا۔ سگنل ریڈ ہوا تو وہ گاڑی گزر چکی تھی میرے لئے چوک کراس کرنے کی گنجائش ہی نہیں تھی۔ میرے لئے سگنل پر رکنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ بس مجھے اتنا یاد ہے کہ سگنل پر رکا تھا پھر سات گھنٹے بعد ہوش آیا تو میں سی ایم ایچ میں تھا۔ ہوش میں آنے کے بعد پتہ چلا کہ کسی گاڑی کی ٹکر سے میں موٹر سائیکل سے گر کر فٹ پاتھ سے جا ٹکرایا۔ ہیلمٹ کے دو ٹکڑے ہو گئے۔ جہاں سے کسی نے گلے میں پڑا کارڈ دیکھ کر حمزہ کیمپ کے گیٹ پر پہنچایا اس دوران میرے ساتھی کہتے ہیں کہ سر سے خون بہہ رہا تھا۔ کپڑے پھٹے ہوئے تھے میں چل کر گیٹ کراس کیا۔ اپنے افسر کے بارے میں پوچھا۔ وہ فوری طور پر مجھے کیمپ کے اندر ڈسپنسری لے گئے۔ ابتدائی طبی امداد کے بعد فوری طور پر سی ایم ایچ منتقل کر دیا گیا مگر مجھے گرنے کے بعد سے سی ایم ایچ لائے جانے کے دوران کیا ہوا کوئی علم نہیں۔ سی ایم ایچ میں مجھے 7 گھنٹے بعد ہوش آیا۔
٭٭٭
 نواز رضا
زندگی اور موت اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے زندگی اور موت کے فیصلے اللہ تعالی کی ذات  کرتی ہے اگر یہ کہا جائے کہ موت زندگی کی حفاظت کرتی ہے تو مبالغہ آرائی نہیں ہو گی، میں نے اپنی زندگی میں کئی بار موت کو قریب سے دیکھا لیکن ہر بار اللہ تعالی نے زندگی کی حفاظت کی مجھے صحیح تاریخ تو یاد نہیں لیکن میرے لڑکپن کا واقعہ ہے، میں اپنے بستر پر محو خواب تھا، نہ جانے کب سے میرے دائیں جانب ایک سانپ سویا ہوا تھا لیکن سانپ نے مجھے کوئی گزند نہیں پہنچائی لیکن جب میرے والدین نے میرے سر کے پاس سویا ہوا دیکھا تو مجھے وہاں سے اٹھا لیا گیا اور پھر اس سانپ کو ماردیا  یا وہ فرار ہو گیا مجھے یاد نہیں کیونکہ میں نیند کی حالت میں تھا۔ میری زندگی میں دوسرا بڑا واقعہ اس وقت پیش آیا جب 23مارچ 1973ء کو لیاقت باغ میں یونائیٹڈ ڈیمو کریٹک فرنٹ(یو ڈی ایف) کا جلسہ تھا جس میں اس وقت کی حکومت(پیپلز پارٹی) نے لیاقت باغ میں جلسہ کرنے کے ”جرم“ میں متعدد سرخ پوشوں کو موت کی نیند سلا دیا۔ میں نے اپنی آنکھوں کے سامنے”موت کا کھیل“ دیکھا۔ پیپلز پارٹی کے مشتعل کارکن ایک طرف سیاسی اختلاف رکھنے والے لوگوں کو تہ تیغ کرر ہے تھے دوسری طرف ان پر لیاقت باغ کے ارد گرد عمارات سے گولیاں برسائی جا رہی تھیں۔ پیپلز پارٹی کے کارکن اور گولیاں اپنا شکار خود تلاش کر رہی تھیں۔ میں اس وقت سٹیج پر تھا اور اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ جلسہ سے خان عبد الولی خان، چوہدری ظہورالہی، میاں طفیل اور پیر صاحب پگارا شریف نے خطاب کرنا تھا۔ ابھی تمام لیڈر سٹیج پر نہ پہنچ پائے تھے کہ پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے ہنگامہ آرائی اور قتل وغارت شروع کر دی تھی۔ میرے لئے اس جگہ سے جان بچا کر نکلنا ایک معجزہ سے کم نہ تھا۔ میں نے لیاقت باغ سے ملحق ڈی اے وی کالج روڈ پر پروفیسرتوثیق احمد کی رہائش گاہ پر پناہ لی اوراس وقت تک باہر نہیں آیا جب تک لیاقت باغ میں آگ اور خون کی ہولی ختم نہیں ہو گئی۔ تیسرا واقعہ بھی لیاقت باغ میں پیش آیا جب تحریک استقلال کے سربراہ ایئرمارشل اصغر خان کو پیپلز پارٹی نے جلسہ نہیں کرنے دیا۔ میں سٹیج پر موجود تھا۔لیاقت باغ کے ارد گرد کی عمارات سے سٹیج پر گولیوں کی بارش کے دوران جان بچا کر باہر نکلنا، اس حقیقت پر مہر تصدیق ثبت کہ مارنے والے سے بچانے والا زیادہ طاقت ور ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے میں اس واقعہ میں اپنی جان بچانے میں کامیاب ہو گیا  اور پیپلز پارٹی کے مشتعل کارکنوں کے غیض و غضب کا نشانہ بننے سے بچ گیا۔  اسی طرح 1976ء میں حج کے دوران اللہ تعالیٰ نے میدان عرفات میں ٹریفک کے ایک خوفناک حادثے میں بال بال بچایا اسی طرح اللہ تعالی نے دوبار منیٰ میں شیاطین کو کنکریاں مارتے ہوئے بھگڈر میں بچایا 1976ء میں منیٰ میں خیموں میں خوفناک آگ لگ گئی تو میں نے بھی دیگر حجاج کے ساتھ قریبی پہاڑیوں پر پناہ لے لی اور اپنے انجام کی پروا کئے بغیر، احرام میں ملبوس ہی سو گیا۔ سو کر اٹھا تو اس وقت سینکڑوں لوگ آگ کا ایندھن بن چکے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے محفوظ رکھا۔ میں نے جلی ہو نعشیں دیکھیں اسی طرح بھگڈر میں ہم سے چند لمحے قبل جاں بحق ہو نے والوں کی نعشیں زندگی کی بے ثباتی کی شہادت دے رہی تھیں۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ زندگی کے ہر مشکل لمحے میں مضبوطی سے کھڑا ہونے کا موقع دیا اور اس بات پر ایمان کو پختہ کیا کہ جس کے ہاتھ میں زندگی ہے وہی اس بچا سکتا ہے۔
٭٭٭

 

متعلقہ خبریں