سفر عشق......20 صفر

2017 ,نومبر 10



لاہور(فیضان حسین): صفر المظفر اسلامی سال کا دوسرا مہینہ ہے۔ اس مہینے کے دوسرے عشرے میں اربعین کا انعقاد ہوتا ہے۔ اربعین عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی چالیس کے ہیں اور اس سے مراد شہدا کربلا کے غم کا چالیسواں دن ہے۔ 10 محرم الحرام سن 61ھجری کو نواسہ رسولؐ جگر گوشہ بتول حضرت امام حسینؓ کو ان کے خاندان اور ساتھیوں کے ہمراہ کربلا کے مقام پر شہید کر دیا گیا۔ جس کا غم آج بھی مسلمانوں کے دل میں زندہ ہے۔صفر کے دوسرے عشرے میں دنیا بھر سے مسلمان کربلا میں حضرت امام حسینؓ اور حضرت غازی عباسؓ کے روضوں پر جمع ہو کر انہیں تعزیت پیش کرتے ہیں۔ اس موقع پر لوگ عراق کے مختلف شہروں سے پیدل سفر طے کر کربلا پہنچتے ہیں۔ اس پیدل سفر میں سب سے مقبول نجف الاشرف سے کربلا معلی تک کا سفر ہے۔ نجف سے زائرین امام علیؓ ابن ابی طالب کے روضہ پر حاضری اور سلام پیش کرنے کے بعد سفر کا آغاز کرتے ہیں۔ نجف سے کربلا تک کا یہ سفر 3 سے 4 روز میں طے کیا جاتا ہے اور 20صفر کو تمام عقیدت مند روضہ امام حسینؓ اور غازی عباسؓ پر اجتماع میں شرکت کر کے تعزیت پیش کرتے ہیں۔

اربعین کے سفر کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ خاندان رسولؐ قریباً ایک سال یزید کی قید میں رہا۔ قید سے رہائی کے بعد یہ اجڑا ہوا قافلہ مدینہ واپس جانے سے پہلے کربلا آیا اور شہدا کی قبروں پر حاضری دی۔ صدام حسین کے دور حکومت میںاربعین کے پیدل سفر پر پابندی عائد تھی چنانچہ اس دور میں زائرین کی تعداد بہت کم تھی اور وہ چوری چھپے یہ سفر طے کرتے تھے۔ لیکن حالیہ برسوں میں ایک اندازے کے مطابق زائرین کی تعداد مسلسل تجاوز کر گئی ہے اور اس اجتماع کو دنیا کے تمام بڑے اجتماعات میں شمار کیا جاتاہے۔اربعین کے اس سفر کی یوں تو بہت ساری خصوصیات ہیں لیکن چند اہم یہ ہیں کہ اس میں دنیا بھر سے مختلف رنگ ، نسل اور مذہب کے لوگ شریک ہوتے ہیں ۔یہاں شیرخوار بچوں سے لے کر وہ بوڑھے بھی نظر آتے ہیں جو اپنے قدموں پر نہیں چل سکتے بلکہ بیساکھی یا ویل چیئر کا سہارا لیتے ہیں۔ اس سفر میں امیر اور غریب حاکم اور محکوم علما اوران پڑھ لوگ ہر کوئی شریک ہوتا ہے۔ لیکن ہر کوئی زائر امام حسینؓ کے نام سے پہنچانا جاتا ہے۔ ان سب میں جو چیزیں مشترک ہوتی ہیں وہ یہ ہیں کہ ہر ایک کی آنکھ پر نم، دل غمگین اور زبان پر ایک ہی نعرہ ہوتا ہے۔’’لبیک یا حسین‘‘ اور سب یہ نعرہ لگاتے کربلا معلی کی طرف رواں دواں ہوتے ہیں۔

اس طویل سفر کے لیے انتظامات کیسے کیے جاتے ہیں؟ یہ ایک اہم سوال ہے مگر پھر بھی حیران کن بات ہے کہ اس کا انتظام مخصوص حکومتی سطح پر نہیں کیا جاتا بلکہ وہاں کے مقامی لوگ ان زائرین کی خدمت کے لیے امڈ آتے ہیں۔ وہ راستے میں واقع تمام گھر ان زائرین کے لیے کھول دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ وہ تمام راستے پر خیمے نصب کر دیتے ہیں جنہیں مقامی زبان میں مواکب کہا جاتا ہے۔ ان خیموں میں ہر طرح کا انتظام کیا جاتا ہے اور منتظمین کی فی الامکان یہ کوشش ہوتی ہے کہ زائرین کو کسی بھی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے وہ انکی ہر ضرورت کا خیال رکھتے ہیں۔ ان کے ناشتے کھانے اور آرام کرنے کے لیے بستر اور فری طبعی امداد سے لے کر چھوٹی سے چھوٹی ضرورت جیسے ٹشوپیپر ، ٹوٹھ پک ، بچوں کے لیے ڈائپر اور موبائل فون چارجنگ تک کی سہولت مہیا کی جاتی ہے۔ جتنی دیر کوئی زائر آرام کرتا ہے وہ اس کے کپڑوںکی تیاری بھی کر دیتے ہیں۔ یہ سب کچھ دیکھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ کو نسی ایسی کمی ہے جو ان میزبانوں نے باقی رہنے دی ہو۔وہ لوگ جن کے پاس پیش کرنے کے لئے کچھ نہیں ہوتا وہ تھکے ہوئے زائرین کے پائوں اور ٹانگیں دبانے میں خوشی محسوس کرتے ہیں اور یہ اطمینان حاصل کرتے ہیں کہ وہ کسی نہ کسی زائر امام کی خدمت کرنے پائے۔ اگر کوئی زائر اس خدمت کے عوض کسی کو کوئی معاوضہ دینا چاہے تو وہ غمگین ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہیں اس اجر سے کیوں محروم کیا جا رہا ہے جو انہیں جنت کے سردار سے ملے گا۔

نجف سے کربلا تک کا یہ سفر لمبا ضرور ہے لیکن مشکل بالکل نہیں۔ کیونکہ جتنی عزت یہاں زائر امام کو ملتی ہے کسی بادشاہ کو بھی میسر نہیں آتی۔ یہ سب کچھ دیکھ کر انسان کا دل خون کے آنسو روتا ہے کہ کل یہاں مظلوم امام کے بچوں کے زخم پر مرحم رکھنے والا کوئی نہ تھا۔ انکی تھکان ،بھوک اور پیاس کا احساس کسی کو نہ تھا۔ کل شام غریباں میں جن کے خیموں کو جلا کرلوٹا گیا آج ان کے زائر اور مہمانوںکی شان دیکھو۔حقیقت میں یہ حسین ابن علیؓ کی فتح کے نمونے ہیں کہ کس طرح انکی قربانی نے لوگوں کے دلوں کو نرم کردیا ہے اور انسانوں کو ایک دوسرے کی ضروریات کا خیال رکھنا اور ایک دوسرے کا احترام کرنا سکھا دیا۔ ایک اور احساس جو پختہ ہوتا ہے وہ یہ کہ مسلمانوں میں آپس میں کوئی تفریق نہیں۔ جو تفریق ہمیں نظر آتی ہے وہ خالصتاً بیرونی سازشوں کا نتیجہ ہے۔ کیونکہ وہاں زائر امام کی خدمت کرتے ہوئی کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ آپ کس ملک سے ہو؟ شاید یہی وجہ ہے کہ وقت کا یزید حسین ابن علیؓ سے خطرہ محسوس کرتا ہے اسی وجہ سے آج بھی داعش اس سرزمین پر اہلبیعت کے نشان مٹانے پر تلے ہیں۔ لیکن وہ یہ بات بھول گئے ہیں کہ حضرت زینب بنت علیؓ نے یزید کے دربار میں اپنے خطبے میں ارشاد فرمایا تھا کہ یزید تم ہمارے ذکر کو مٹا نہیں سکو گے۔ المختصر اربعین کا سفر پوری دنیا کو پیغام فکر دیتا ہے کہ اسلام ایک امن رواداری اور محبت کا دین ہے اور یہ نسل انسانیت سے محبت کا درس دیتا ہے نہ کہ گلے کاٹنے کا۔

متعلقہ خبریں