پانی بند کر کے دیکھو،بوڑھے شیر کی دھاڑ

تحریر: فضل حسین اعوان

| شائع ستمبر 27, 2016 | 19:33 شام

مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ بھارت یک طرفہ طور پر نہ تو سندھ طاس معاہدہ ختم کر سکتا ہے اور نہ ہی اسے معطل یا اس کی خلاف ورزی کرسکتا ہے، پانی بند کرنے کا عمل اعلان جنگ تصور ہوگا۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ یک طرفہ طور پر ختم کرنے کی کوشش پاکستان کے ساتھ جنگ تصور کی جائے گی۔ قومی اسمبلی میں توجہ دلاﺅ نوٹس پربات کرتے ہوئے سرتاج عزیز کا کہنا تھا اگر بھارت نےسندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی تو ہم بھی تیاری کر رہے ہیں،اس معاملے پرعالمی برداری کو آگاہ اوراع
تماد میں لے رہے ہیں۔ ھارت پانی روک سکتا ہے اور نہ ہی اسے کم کر سکتا ہے، بھارت نے سندھ طاس معاہدہ معطل کیا تو اسے منہ کی کھانی پڑے گی، سرتاج عزیز نے قومی اسمبلی میں پالیسی بیان دیا۔ انہوں ن نے کہا کہ عالمی بینک سندھ طاس معاہدے میں نہ صرف سہولت کار تھا بلکہ اس معاہدے کا ضامن بھی تھا اور انڈیا یک طرفہ طور پر اس معاملے پر فیصلہ نہیں کر سکتا۔ انڈیا نے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کی کوشش کی تو پاکستان اس پر بھر پور احتجاج کرے گا اور اس معاملے کو عالمی بینک اور بین الااقوامی عدالت میں لے کر جایا جائے گا۔ بھارت نے پاکستان کےخلاف پروپیگنڈا مہم شروع کر رکھی ہے، بھارت کی طرف سے دھمکی آمیز لہجہ افسوس ناک ہے، بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ قبل ازیں بھارتی آبی دہشت گردی کے خلاف سیاسی قیادت یک جا نظر آئی، سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن نے بھی کہہ دیاکہ بھارت پانی بند کرے گا تو یہ جنگ کے مترادف ہوگا۔ سرتاج عزیز نے پالیسی بیان میں مزید کہا کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے حوالے سے مکمل دستاویزی ثبوت کے ساتھ معاملہ جلد اٹھا رہے ہیں، پاکستان بھارتی مداخلت اور کلبھوشن کے نیٹ ورک سے متعلق دستاویزات اقوام متحدہ اور دیگر ممالک کو پیش کرے گا۔ 1960ء میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کے تحت انڈیا کو مشرقی دریاؤں یعنی ستلج، راوی اور بیاس جب کہ پاکستان کو مغربی دریاؤں جہلم، چناب اور سندھ کو استعمال کرنے کے حقوق دیے گئے تھے