سوشل میڈیا پر 23 سکینڈ کی ایک ویڈیو نے تہلکہ مچا دیا۔ تفصیل جانئے اس خبر میں

2021 ,دسمبر 29



ان دنوں سوشل میڈیا پر 23 سیکینڈ کا ایک ویڈیو خوب گردش کر رہا ہے۔ جس میں ایک شخص کو کچھ لوگ ممبر سے ہٹاتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ صارفین کا دعویٰ ہے کہ سعودی عرب میں ایک مسجد کے امام نے جب سعودی حکومت کے خلاف خطبہ دیا تو انہیں وہاں کی پولس نے گرفتار کر کے پھانسی پر لٹکا دیا۔ فیس بک، ٹویٹر اور یوٹیوب پر 23 سیکینڈ کے ویڈیو کے ساتھ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ سعودیہ میں ایک مسجد کے امام نے موجودہ سعودی حکومت کو دینی لحاظ سے ناکام بتایا، ساتھ ہی امریکہ اور اسرائیل کا ایجنٹ کہا تو سکیورٹی فورسز نے انہیں ممبر رسول سے اٹھایا اور پھرپھانسی بھی دے دی۔ اگر سعودی کے پاک سرزمین پر امام کو پھانسی دی جاتی ہے اور وہ بھی حق بات بولنے پر تو دور نہیں کہ اللہ کا عذاب جلد آئے گا۔ اس ویڈیو کو متعد یوزرس نے شیئر کیا ہے۔ تھوڑی سی تحقیق سے پتہ چلا کہ یہ سب جھوٹ ہے اور حقیقت یہ ہے:مزید سرچ کے دوران عربی کی معروف المرصد، الریاض اور فضاء نامی ویب سائٹ پر وائرل ویڈیو سے متعلق تین سال پرانی خبریں ملیں۔ رپورٹ کے مطابق ویڈیو میں نظر آرہا شخص جمعہ کے دن 12:35 پر سرکاری امام کے آنے سے پہلے خطبہ دینے لگا۔ جسے مدینہ منورہ کی پولس نے موقع پر ممبر سے ہٹا دیا۔ رپورٹ میں کہیں بھی گرفتاری اور پھانسی دینے کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ مسجد میں جبراً خطبہ دینے والا شخص نفسیاتی مرض میں مبتلا ہے۔ جس کے علاج کا ریکارڈ اسپتال میں موجود ہے۔بتادوں کہ بعد میں اسے ان کے اہل خانہ کے سپرد کر دیا گیا تھا۔۔

متعلقہ خبریں