تازہ تحقیق میں بالآخر سائنسدانوں نے بھی وہ بات کہہ دی جو اسلام نے سینکڑوں سال پہلے ہی بتادی تھی

2018 ,نومبر 25



نیویارک(مانیٹرنگ رپورٹ) اسلام نے سینکڑوں سال پہلے بتادیا کہ تمام انسان آدم و حوا کی اولاد ہیں، اب سائنسدانوں نے بھی اس کی تصدیق کر دی ہے تاہم اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایک حیران کن دعویٰ بھی کر دیا ہے جس پر یقین کرنا آپ کے لیے مشکل ہو جائے گا۔میل آن لائن کے مطابق سائنسدانوں نے 50لاکھ جانوروں (ایک لاکھ مختلف انواع کے جانور)اور انسانوں کے جینیاتی بارکوڈز کا تجزیہ کرنے کے بعد بتایا ہے کہ روئے زمین پر موجود تمام انسان ایک ہی جوڑے کی اولاد ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انسان ہی نہیں بلکہ 90فیصد انواع کے جانور بھی اسی جوڑے کی نسل سے ہیں۔ سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ ہماری زمین ایک سے دو لاکھ سال قبل آخری برفانی دور کے بعد ایک قیامت خیز تباہی سے دوچار ہوئی جس میں تمام جانور اور انسان صفحہ¿ ہستی سے مٹ گئے۔ تب یہ ایک جوڑا زندہ رہا اور پھر ان کی نسل بڑھی۔آج کے تمام انسان اور جانور اسی جوڑے کی آل اولاد ہیں۔

یہ تحقیق امریکہ کی راک فیلر یونیورسٹی اور سوئٹزرلینڈ کی یونیورسٹی آف باسل کے سائنسدانوں نے مشترکہ طور پر کی ہے۔تحقیقاتی ٹیم کے سربراہوں مارک سٹوئیکل اور ڈیوڈ تھیلر کا کہنا ہے کہ ”تحقیق میں جتنے جانوروں(بشمول انسان)کے ڈی این اے کا تجزیہ کیا گیا ان کے جینیاتی بارکوڈز سے یہ بات معلوم ہوئی کہ آج کی دنیا میں پائے جانے والے 90فیصد جانور ایک ہی زندہ جوڑے کی نسل سے ہیں، جو لگ بھگ 2لاکھ سال قبل اس دنیا میں رہتا تھا۔ ان 90فیصد جانوروں اور انسانوں کا مائیٹوکانڈرئیل ڈی این اے بالکل ایک جیسا ہے اور یہ مائیں نسل درنسل اگلی پیڑھی کو منتقل کرتی ہیں اور کبھی تبدیل نہیں ہوتا۔“ تھیلر کا کہنا تھا کہ ”ہماری تحقیق کے نتائج انتہائی حیران کن اور ناقابل یقین ہیں، چنانچہ ہم نے ان کو بار بار پرکھا اور ہر بار وہی نتائج سامنے آئے۔ ہماری اس تحقیق سے انسان کے ارتقاءکے بارے میں جو نظریہ پہلے سے پایا جاتا ہے اس پر شکوک و شبہات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ہم نے اس تحقیق میں دنیا کے سب سے بڑے جینیاتی ڈیٹا بیس سے استفادہ کیا اور ڈارون سمیت دیگر ارتقائی نظریات کو بھی مدنظر رکھا۔ اس تحقیق سے انسانوں کے اندرجبلی (Inbuilt)ارتقائی طریقہ¿ کار کی موجودگی کے امکانات واضح ہوئے ہیں، جس کے سب انسان شکست و ریخت کا شکار ہو کر موت کا شکار ہوتا ہے اور پھر اسے واپس صفر سے اپنا سفر شروع کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔“

متعلقہ خبریں