دوسری بار جنم کے دعوے۔

2019 ,اکتوبر 2



موت کے بعد دوبارہ جنم کا خیال اگرچہ اسلام، یہودیت اور عیسائیت میں نہیں ہے لیکن مغربی افریقہ، جنوبی امریکا اور آسٹریلیا کے بہت سے قبائل سمیت ہندو اور جین مت میں مرنے کے بعد مرنے والے کی روح کے کسی اور شکل میں جنم لینے کا تصور اور عقیدہ بہت پختہ ہے۔ اس موضوع پر بہت سی کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ ”یونیورسٹی آف ورجینیاسکول آف میڈیسن“ کے ایسو سی ایٹ پروفیسر اور چائلڈ اینڈ فیملی سائیکارٹری کلینک کے”ڈاکٹر جم ٹکر“ نے اس موضوع پر دس سال کی شبانہ روزمحنت کے بعد ایک کتاب ”ریٹرن آف لائف“ مرتب کی جو جنوری2015ء  میں شائع ہوئی۔

اس کتاب میں ان بچوں کے واقعات بیان کیے گئے ہیں جنہیں اپنے ”پچھلے جنم“ کی باتیں ازبر ہیں اوراس سلسلے میں انھوں نے دنیا کے کئی ممالک میں ایسے بچوں اور ان کے والدین سے ملاقات کی جن بچوں کی بابت کہا جاتا ہے کہ یہ ان کا ”دوسرا جنم“ہے۔ ان میں سے اگر ایک بچہ پچھلی زندگی میں گالف کا تیرہ مرتبہ فاتح قرار پانے والا بین الاقوامی کھلاڑی ”بوبی جونز“ ہونے کا دعوے دار ہے،  دوسرے بچے کو یاد ہے کہ ”پچھلے“ جنم میں وہ دوسری جنگ عظیم میں حصہ لینے والا فائٹر پائلٹ تھا اور اس کا جہاز سمندر میں گر کر تباہ ہوگیا تھا۔  سب سے حیرت کی بات یہ ہے کہ ان تمام بچوں کی عمریں 7 سال تک ہیں اور انہیں نہ صرف اپنا ”پچھلا جنم“ بلکہ اُس زندگی کے دوست احباب اور عزیز اقارب تک کی شکلیں اچھی طرح یاد ہیں۔
بوبی جونز امریکی ریاست کیلی فورنیا کے تین سالہ ہنٹر کے والد کا کہنا ہے کہ ایک دن جب میں اپنے بیٹے کے ساتھ ٹی وی پر گولف کا میچ دیکھ رہا تھا تو اس دوران 1930 میں کھیلے گئے گولف کے ایک تاریخی میچ کی جھلکیاں دکھائی گئیں جنہیں دیکھ کر اچانک ہنٹر نے مجھ سے کہا، ”ڈیڈ، اپنی جوانی میں، میں بوبی جونز تھا۔“ یہ سن کر ہم دونوں میاں بیوی ہنسنے لگے کیوں کہ ایک کٹر عیسائی ہونے کی وجہ سے ہمارے ذہن میں دوسرے جنم کے حوالے سے کوئی تصور نہیں تھا تاہم ہنٹر کے اعتماد نے ہمیں شک میں مبتلا کردیا۔ اپنے شک کو دور کرنے کے لیے ہنٹر کے والد نے ایک دن اسے 1930میں گولف کھیلنے والے چھے کھلاڑیوں کی تصاویر دکھا کر پوچھا کہ ان میں سے ”بوبی جونز“ کون ہے؟ تو ہنٹر نے  حیرت انگیز طور پر بلا جھجک بوبی کی تصویر اٹھا کر کہا ”یہ میں ہوں۔“
اس کے بعد ہنٹر کے والد نے مختلف گھروں کی تصاویر پرنٹ کروائیں جن میں بوبی کے گھر کی تصویر بھی شامل تھی اور ایک بار پھر ہنٹر سے پوچھا تو اس نے بوبی کے گھر کی تصویر اٹھا کر کہا”یہ میرا گھر ہے۔“ ڈاکٹر ٹکر کا کہنا ہے کہ ہنٹر میں گولف کھیلنے کی خداداد صلاحیت بھی موجود ہے جس کی بنا پر کیلی فورنیا کے مقامی کلب نے اسے محض تین سال کی عمر میں داخلہ دے دیا تھا جبکہ کلب میں داخلے کے لیے عمر کی کم از کم حد پانچ سال ہے۔ کئی منجھے ہوئے کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ اتنی کم عمری میں ہنٹر کی ”سوئنگ“ لاجواب ہے جو بوبی جونز کی یاد تازہ کردیتی ہے۔ ہنٹر کا پسندیدہ مشغلہ تکیوں اور چادر سے گولف کورس ڈیزائن کرنا ہے اس کا کہنا ہے کہ پوری دنیا میں ”اگوسٹا“ اس کا سب سے پسندیدہ گولف کورس تھا۔
ڈاکٹر جم ٹکرکا کہنا ہے کہ جب میں پہلی بار ہنٹر سے ملاقات کے لیے اس کے گھر پہنچا تو اس کے چہرے کے تاثرات مجھے دیکھ کچھ عجیب ہوگئے تھے  جیسے اسے میرا آنا پسند نہیں آیا حالانکہ اس عمر میں بچوں کے چہرے کے تاثرات اتنے پختہ نہیں ہوتے۔ ہنٹر اب سات سال کا ہوچکا ہے اور 50 جونئیر ٹورنامنٹس میں سے41میں فتح حاصل کر چکا ہے۔ تاہم ڈاکٹر ٹکر کا کہنا ہے کہ ہنٹر کے ذہن سے بوبی جونز کی یادداشتیں آہستہ آہستہ محو ہوتی جا رہی ہیں۔
ہالی وڈ سپر ایجنٹ مارٹی مارٹن آنجہانی مارٹی مارٹن کا شمار ہالی وڈ کے 1930کے سنہرے دور کے پہلے سپر ایجنٹس میں سے ہوتا تھا۔ پیرس میں پْرتعیش زندگی گزارنے والے مارٹن نے چار شادیاں کی تھیں جبکہ اس کے بہت سے بااثر لوگوں سے بھی قریبی تعلقات تھے۔ مارٹن 1964میں کینسر جیسی موذی بیماری کا شکار ہو کر دارفانی سے کوچ کر گیا۔ مارٹن کے انتقال کے پچاس سال بعد ریاست اوکلو ہاما کے ایک عیسائی جوڑے کے 5 سالہ بیٹے ”ریان“ کا رویہ بہت عجیب ہوگیا جسے اس نے اپنی تصوراتی فلموں میں ”ایکشن“کا نام دیا۔

اس نے نیند میں چلنا اور چلانا بھی شروع کردیا تھا، ریان اس وقت ہالی وڈ میں موجود ہونے کا دعویٰ بھی کرتا تھا۔ ایسی ہی ایک رات ریان نے اپنی ماں سینڈی سے کہا۔”جب آپ مریں تو آپ کا روشنی کی طرف جانا بہت اہم ہے، کیونکہ وہاں سے ہر شخص واپس آجاتا ہے۔“ایک دن ریان نے لائبریری سے  سینڈی کے لائے گئے ایک فلمی رسالے کو دیکھا جس کے سرورق پر 1932کی فلم ”نائٹ آفٹر نائٹ“ کے اداکاروں کا گروپ فوٹو تھا۔ رسالے کا سرورق دیکھتے ہی ریان نے پرجوش انداز میں اداکار ”جارج رافٹ“ کی تصویر پر انگلی رکھتے ہوئے کہا،”ماما! یہ جارج ہے، ہم نے یہ فلم ایک ساتھ کی تھی اور ماما یہ میں ہوں، میں نے خود کو تلاش کرلیا، مارٹن کی تصویر پر انگلی رکھتے ہوئے ریان نے کہا۔ ڈاکٹر ٹکر کا کہنا ہے کہ یہ تصاویر دیکھنے کے بعد ریان کو اپنی پچھلی زندگی کی تمام باتیں اچھی طرح یاد آگئی ہیں۔
ریان نے ڈاکٹر ٹکر کو بتایا کہ ایک بار میں نے ”مارلن منرو“ کے محافظ کو مکا ماراتھا، کیونکہ وہ اس سے بات کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ مجھے اپنا نیا نام ”ریان“بہت پسند ہے اور میں پہاڑی پر واقع اپنے وسیع پْرتعیش گھر میں واپس جانا چاہتا ہوں۔ ٹیلی ویژن پر ہالی وڈ ہلز دیکھ کر بھی وہ چلاتا ہے کہ اس کا اس جگہ سے گہرا تعلق ہے۔ ڈاکٹر ٹکر کا کہنا ہے کہ ریان کو مارٹن کی جانب سے پیرس کے ”کیفے لائن بولیورڈز“ اور ایفل ٹاور کے تفریحی دورے بھی مکمل جزیات کے ساتھ یاد ہیں۔
ریان کے والدین کا کہنا ہے کہ اپنی پچھلی زندگی کی باتیں سناتے وقت ریان کے چہرے کے تاثرات یکسر بدل جاتے ہیں اور وہ پانچ سالہ بچے کے بجائے ایک سنجیدہ اور باوقار آدمی دکھائی دیتا ہے، ڈاکٹر ٹکر کا کہنا ہے کہ ریان کے مشاغل بھی پانچ سال کی عمر والے بچوں کی طرح نہیں ہیں، وہ اپنی ماں سے یہی کہتا ہے کہ ”ممی!میں دوبارہ بڑا ہونے کا انتظار نہیں کرسکتا مجھے اپنی اس بڑی کشتی پر جانے دیں جہاں میں نفیس لباس پہن کر خوب صورت خواتین کے ساتھ رقص کر سکوں۔“ ریان اپنی (مارٹن کی) ان باتوں کو بھی دہراتا ہے کہ کیسے اس نے اپنی قیمتی رولز رائس کو ڈبو دیا تھا۔ وہ کہتا ہے کہ میری ایک بیٹی ہے اور مجھے کینسر کی بیماری بھی تھی۔ ڈاکٹر ٹکر کا کہنا ہے کہ ریان اکثر 50کی دہائی میں نیویارک سے تعلق رکھنے والے اپنے قریبی دوست سینیٹرارونگ آئیوز کے ساتھ کی جانے والی گفتگو بھی دہراتا ہے۔
ریان کے اس دعوے کی تصدیق کے لیے جب ڈاکٹر جم نے مارٹن کی بیٹی سے ملاقات کی تو اس نے ریان کی اپنے والد کے بارے میں کہی جانے والی زیادہ تر باتوں کو درست قرار دیا۔ مارٹن کی بیٹی نے ڈاکٹر ٹکر کو بتایا کہ اس کے والد ایک دولت مند، رقص کے دلدادہ اور ہالی وڈ سمیت دیگر بااثر شخصیات کے ساتھ دوستی کرنے والے شخص تھے۔
پائلٹ جیمز ہسٹن امریکی ریاست ڈلاس کے دو سالہ جیمز لیننگر کے والدین پر اپنے بیٹے کے”دوسرے جنم“ کا انکشاف اس وقت ہوا جب انہوں نے نیوی کی فلائٹ ایگزیبیشن ”بلیو اینجلز“ سے جیمز کے لیے ایک ویڈیو خریدی کیونکہ اسے اتنی کم عمر میں ہی کھلونا جنگی جہازوں سے بہت لگاؤ پیدا ہوگیا تھا۔ جیمز کے والد بروس نے ڈاکٹر ٹکر کو بتایا کہ یہ ویڈیو دیکھنے کے بعد جیمز نے اپنے کھلونا جہازوں کو متواتر کافی کی میز سے ٹکرا کر توڑنا شروع کردیا۔ ان لمحات میں جیمز کا رویہ بہت عجیب ہو جاتا تھا اور جہاز کو توڑتے وقت چیختا بھی تھا کہ اس کے جہاز میں آگ لگ گئی ہے۔
جیمز کی ماں اینڈریا کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے نے رات کو ڈراؤنے خواب دیکھنے شروع کردیئے تھے اور اکثر و بیشتر وہ بستر پر لڑتے ہوئے خون کو جمادینے والی چیخیں مارتا تھا اور چلاتا تھا،”جہاز میں آگ لگ گئی ہے! میں باہر نہیں نکل سکتا“ جبکہ اس دوران اس کی جسمانی حرکات بھی عجیب ہوجاتی تھیں اور وہ ٹانگیں اوپر اٹھا کر اس طرح چلاتا تھا جیسے جہاز کے کاک پٹ سے باہر نکلنے کے لیے کینوپی کو کھولنے کی کوشش کر رہا ہو لیکن یہ سلسلہ صرف خوابوں تک ہی محدود نہیں رہا۔ ایک دن جیمز نے اپنے والدین کو بتایا،”ماما! پچھلے جنم میں، میں ایک فائٹر پائلٹ جیمز ہسٹن تھا اور جاپانیوں نے میرے جہاز کورسیئر(Corsair)کو نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں جہاز کے انجن میں آگ لگ گئی اور وہ سمندر میں گر کر تباہ ہوگیا تھا۔ جیمز نے مزید بتایا کہ میرے جہاز نے ”یوایس ایس ناتوما بے“ کے فضائی بیڑے سے اڑان بھری تھی۔


بروس نے ڈاکٹر ٹکر کو بتایا کہ جیمز کی ان باتوں نے انہیں سخت الجھن میں مبتلا کر رکھا ہے کیونکہ ان کے مذہبی عقیدے میں انسان کا دوسرا جنم لینے کی کوئی گنجائش نہیں ہے جبکہ جیمز کی کہی گئی باتیں بھی حقائق پر مبنی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ محض ڈھائی سال کی عمر میں ہی جیمز نے Iwo Jima کی لڑائی کے بارے میں رکھی ہوئی ایک کتاب کھول کر ”ماؤنٹ سوری باچی“ کی تصویر پر ہاتھ رکھ کر چلاتے ہوئے کہا تھا ”ڈیڈی، یہی وہ جگہ ہے جہاں میرے جہاز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔“بروس کا کہنا ہے کہ جیمز کی پچھلی زندگی کے بارے میں اتنی پر اعتماد گفتگو کے بعد میں نے اس معاملے کی تہ تک جانے کا فیصلہ کیا اور ”یوایس ایس ناتوما بے“ کے سابق فوجیوں کی یونین میں شرکت کی اور وہاں یہ جان کر حیرت زدہ رہ گیا کہ Iwo Jima آپریشن کے دوران صرف ایک ہوا باز مارا گیا تھا جو ریاست پنسلوانیا کا 21سالہ جیمز ہسٹن تھا۔ بروس نے ڈاکٹر ٹکر کو بتایا کہ مزید تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ ”جیمزہسٹن“ کے جہاز کو اس کی ناک سے نشانہ بنایا گیا تھا اور میرے بیٹے ”جیمزلیننگر“ نے اپنے کھلونا جہازوں کو بھی ٹھیک اسی جگہ سے توڑا تھا۔
بروس کے مطابق ایک رات جیمز نے اپنی ماں کو بتایا کہ ”پچھلے جنم“ میں اس کا باپ ایک شرابی شخص تھا اور جب میری عمر تیرہ سال تھی تو میرے شرابی باپ کو 6 ہفتوں کے لیے ایک بحالی مرکز میں بھی رکھا گیا تھا جبکہ جیمز کو چار سال کی عمر میں دوسری جنگ عظیم میں استعمال ہونے والے جنگی جہازوں کے بارے میں اتنی وسیع معلومات تھیں جو شاید کسی چالیس سال کے شخص کو بھی نہیں ہوں گی۔ مثال کے طور پر جیمز نے ہمیں بتایا تھا کہ کورسیئر طیارے اپنے فلیٹ ٹائروں کی وجہ سے مشہور تھے۔بروس کا کہنا ہے کہ جب میں جیمز کو لے کر ”یو ایس ایس ناتوما بے“ کے پروگرام میں جارہا تھا، تو ہوٹل کی راہداری میں ناتوما بے کے ایک سابق اہلکار بوب گرین والٹ نے جیمز کو روک کر پوچھا، ”کیا تم جانتے ہو میں کون ہوں؟“ یہ بات سن کر جیمز نے نہایت متانت سے جواب دیا،”تم بوب گرین والٹ“ ہو۔ بوب کو پہچاننے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں جیمز نے کہا کہ میں نے اسے اس کی آواز سے پہچانا تھا۔ڈاکٹر ٹکر نے جیمز کی باتوں کی حقیقت جاننے کے لیے آنجہانی پائلٹ جیمز ہسٹن کی بہن سے بھی ملاقات کی جس نے چار سالہ جیمز کی بیان کی گئی تقریباً تمام باتوں کی ہی تصدیق کی۔
ڈاکٹر ٹکر کے مطابق جیمز کا کہنا ہے کہ اس نے اینڈریا اور بروس کو جزیرہ ہوائی کے Waikiki بیچ پر ڈنر کرتے دیکھ کر ہی انہیں والدین بنانے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ اس انکشاف نے جیمز کے والدین کو حیرت میں مبتلا کر رکھا ہے کیوں کہ جزیرہ ہوائی کا یہ رومانٹک ٹرپ انہوں نے شادی اور جیمز کی پیدائش سے قبل کیا تھا۔ڈاکٹر جم ٹکر کا کہنا ہے کہ بظاہر تو یہ بات بہت ہی عجیب لگتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس تحقیق کے سلسلے میں گذشتہ دس سالوں میں‘میں جتنے بھی بچوں سے ملا ان میں سے تقریباً سب بچوں نے بولنا سیکھتے ہی اپنی پچھلی زندگی کے بارے میں انکشافات کرنا شروع کردئیے تھے۔
شانتی دیوی ایک عجیب و غریب اور حیرت انگیز لڑکی جس کے مطابق وہ پہلے بھی اس دنیا میں آچکی ہے اس پر بہت سے ڈاکٹرز اور سائنس دانوں نے تحقیق کی لیکن جواب دینے سے قاصر رہے ہیں۔ شانتی دیوی کا دعویٰ ہے کہ وہ اس دنیا میں دوسری مرتبہ آئی ہے۔ سائنسدان جنہوں نے اس کا طبی اور نفسیاتی معائنہ کیا ہے اپنی شکست تسلیم کر چکے ہیں اور شانتی کی کہانی کو صحیح گردانتے ہیں لیکن اس کی تشریح کرنے سے قاصر ہیں۔
شانتی دیوی کے والدین دہلی میں رہائش پذیر متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ شانتی دیوی 1926 میں دہلی میں پیدا ہوئی اس کی پیدائش کوئی غیر معمولی نہیں تھی۔ بچپن میں وہ عام بچوں کی طرح زندگی بسر کرتی تھی مگر جوں جوں وہ بڑی ہوتی گئی، کھوئی کھوئی سی رہنے لگی۔ اس کی ماں کو معلوم ہوا کہ وہ فضاء میں غیر مرئی انسانوں سے باتیں کرتی رہتی ہے جب وہ سات برس کی ہوئی تو اس نے پہلی بار اپنی ماں کو بتایا کہ وہ اس سے پہلے متھرا نامی قصبے میں زندگی بسر کر چکی ہے اور اس نے متھرا میں اپنے مکان کا محلِ وقوع بھی بتایا جہاں وہ اپنا پہلا جنم گزار چکی تھی۔
شانتی کی ماں نے جب اپنے خاوند کو اس صورتِ حال سے آگاہ کیا تو وہ اسے ہسپتال لے گیا جہاں ڈاکٹروں نے اس سے کئی قسم کے سوالات پوچھے۔ جب لڑکی نے اپنی پوری کہانی بیان کی تو ڈاکٹروں نے اس انوکھے معمے کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے کیونکہ وہ کافی سوچ و بچار کے بعد بھی کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے تھے۔ اگر یہ فرض کر لیا جاتا کہ اس کی دماغی حالت خراب ہے تو یہ ایک غیر معمولی اور انوکھا کیس تھا اور اگر وہ بقائمی ہوش و حواس تھی تو یہ ایک قصہ تھا جس کی سائنسی توضیع ناممکن تھی اور ڈاکٹروں نے اس کے باپ کو نصیحت کی کہ وہ لڑکی سے برابر پوچھ گچھ کرتا رہے اور اگر وہ اپنے دعوے پر بد ستور قائم رہے تو اسے دوبارہ پیش کیا جائے۔
شانتی دیوی اپنے دعوے پر بدستور قائم رہی اور اس کی کہانی میں بال برابر بھی فرق نہیں آیا۔اس کے والدین اپنی بیٹی کی ان باتوں سے حیران تھے اور انہیں یقین ہو چکا تھا کہ ان کی بیٹی کا دماغ چل گیا ہے۔جب وہ نو برس کی ہوئی تو اس نے بتایا کہ وہ اپنا پہلا جنم متھرا میں گزار چکی ہے جہاں اس کی شادی بھی ہوئی تھی اور اس کے دو بچے بھی پیدا ہوئے تھے اس نے اپنے دونوں بچوں کے نام بھی بتائے اور یہ دعویٰ بھی کیا کہ ان دنوں اس کا نام لُدگی تھا تاہم اس کے والدین اس انکشاف پر محض مسکرا دئیے۔ ایک شام جب اس کی ماں اور شانتی رات کا کھانا تیار کر رہی تھیں دروازے پر دستک ہوئی۔ شانتی دوڑ کر دروازے کی طرف گئی اور جب وہ کافی دیر تک واپس نہ آئی تو اس کی ماں کو تشویش لاحق ہوئی، وہ شانتی کو دیکھنے کے لئے دروازے کی طرف آئی جہاں شانتی سیڑھیوں پر کھڑے ایک شخص کو گھور رہی تھی۔9 سالہ شانتی نے کہا ماں! یہ میرے خاوند کا چچا زاد بھائی ہے جو متھرا میں ہمارے مکان کے نزدیک ہی رہتا تھا۔ اجنبی واقعی متھرا میں رہائش پذیر تھا اور وہ شانتی کے باپ کے ساتھ کاروباری سلسلہ میں ملاقات کرنے آیا تھا اس نے شانتی کو تو نہ پہچانا البتہ اتنا کہا کہ اس کے چچا زاد بھائی کی بیوی کا نام لُدگی ہی تھا اور وہ 10 سال پہلے اپنے بچے کی پیدائش کے وقت مر گئی تھی۔
اس کے پریشان حال والدین نے اجنبی کو جب شانتی کی پوری کہانی سنائی تو وہ اس بات پر رضامند ہو گیا کہ وہ اپنے چچا زاد بھائی کو متھرا سے دہلی لائے گا اور یہ معلو م کرنے کی کوشش کرے گا کہ شانتی اسے پہچانتی بھی ہے یا نہیں۔
شانتی کو اس منصوبے سے بے خبر رکھا گیا لیکن جب اجنبی کا چچا زاد بھائی یعنی شانتی کا مفروضہ شوہر آیا تو وہ اس سے لپٹ گئی اور اس نے بتایا وہ اس کا خاوند ہے۔ اس کا یہ خاوند اس کے باپ کے ساتھ اعلیٰ حکام کے پاس گیاجہاں اس نے لڑکی کی عجیب و غریب کہانی بیان کی۔
چنانچہ حکومتِ ہند نے سائنسدانوں کی ایک خاص کمیٹی تشکیل دی تاکہ اس انوکھے معمہ کو حل کیا جا سکے جو ان دنوں قومی دلچسپی کا باعث بنا ہوا تھا۔
کیا وہ لُدگی کا دوسرا جنم تھا؟ سائنسدان یہ معلوم کرنے کے لئے اسے متھرا لے گئے جب وہ گاڑی سے اتری تو اس نے اپنے مفروضہ خاوند کی ماں اور بہن کی صحیح صحیح نشاندہی کر دی اور اس نے نشاندہی کے علاوہ ان کے نام بھی بتا دئیے حیرت کی بات یہ تھی کہ اس نے ان کے ساتھ متھرا کی مقامی زبان میں گفتگو کی حالانکہ اسے صرف ہندی زبان سکھائی گئی تھی،حیران و پریشان سائنسدانوں نے اس کا معائنہ جاری رکھا۔ انہوں نے اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر اسے گاڑی پر بٹھایا وہ تمام راستے میں ڈرائیور کو صحیح صحیح ہدایات دیتی رہی۔آخر کار اس نے ڈرائیور کو ایک تنگ گلی کے سرے پر رکنے کے لئے کہاکیونکہ یہی وہ جگہ تھی جہاں وہ رہتی تھی۔ جب اس کی آنکھوں کی پٹی کھولی گئی تو اس نے ایک آدمی کو مکان کے باہر حقہ پیتے دیکھا جس کی بابت اس نے انکشاف کیا کہ وہ اس کا سسر ہے اور وہ حقیقتاً اس کے مفروضہ خاوند کا باپ تھا۔ شانتی نے اپنے دونوں بچوں کو بھی پہچان لیا لیکن وہ اپنے اس تیسرے بچے کو نہیں پہچان سکی جس کے باعث اس کی موت واقع ہوئی تھی۔ اب یہ معمہ زیادہ الجھ گیا کیونکہ شانتی کے والدین اس کو اس گاؤں میں آج تک نہیں لے کر آئے تھے۔
سائنسدان اس بات پر متفق ہو گئے کہ شانتی دیوی دہلی میں پیدا ہوئی لیکن حیران کن حد تک متھرا کی زندگی کے متعلق جانتی ہے۔ انہوں نے حکومت کو رپورٹ پیش کی کہ انہیں اس کہانی کی صداقت پر ذرہ بھر بھی شک نہیں لیکن وہ آج تک اس کہانی کی تشریح نہیں کر سکے۔ شانتی دیوی اس کے بعد دہلی میں رہتی رہی اور سرکاری ملازمت کرتی رہی۔ اس کی یہ عجیب و غریب کہانی حکومت کے ریکارڈ میں موجود ہے۔ 1958 میں ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ وہ اپنے ماضی سے پریشان ہونے کی بجائے اپنے حال سے مطمئن ہے۔ شانتی دیوی کی کہانی ایک ایسے معمے کا زندہ ثبوت ہے جسے سائنس دان حل نہیں کر سکے تھے۔
ڈاکٹر جم ٹکر کا کہنا ہے کہ جہاں تک میں سمجھتا ہو ں روح کا نئے جسم میں جنم لینا ایک عجیب سی بات ہے، لیکن آئن سٹائن اور اس جیسے کچھ سائنس دانوں نے شعور کے ماضی میں سفر کے حوالے سے کوانٹممکینکس اور چاند سورج کی مدد سے کام کرنے کے میدان میں تحقیق کی ہے۔
ڈاکٹر جم کو یقین ہے کہ کوانٹم فزکس شعور کا مشاہدہ کرنے اور مادی واقعات کا تعین کرنے میں پیچیدہ ہوسکتی ہے، ان کا کہنا ہے کہ درحقیقت شعور کو دماغ اور ہمارے جسم کے دوسرے اعضاء سے علیحدہ رکھا جاسکتا ہے کیونکہ شعور ہمارے جسم میں رہتا تو ہے لیکن یہ وقت اور جگہ کے ساتھ سفر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک ٹیلی ویژن سیٹ لہروں کی شکل میں ٹی وی سگنل وصول کرکے اسے ڈی کوڈ کرتا ہے لیکن وہ سگنل تخلیق نہیں کرتا اور اسی طرح دماغ کو اپنے طور پر ظاہر کرنے کے لیے شعور کی ضرورت ہوتی ہے لیکن یہ خود شعور کا حصہ نہیں ہے۔
َدسمبر2015ء میں امریکی لڑکی سیلی نے اپنے دوسرے جنم کا دعویٰ کرکے والدین کی نیندیں اڑا دیں۔ اس لڑکی کا کہنا تھاکہ وہ اس سے قبل بھی ایک بار پیدا ہو چکی ہے اور اپنے پچھلے جنم میں وہ لڑکا تھی۔ اس کے باپ کا نام رچرڈ اور ماں کا نام اینا ہے مگر وہ کہتی ہے کہ یہ اس کے اصل ماں باپ نہیں ہیں۔ وہ اپنے موجودہ گھر کو بھی اپنا نہیں مانتی کیونکہ اس کا گھر بہت چھوٹا سا اور سمندر کے کنارے واقع تھا۔ وہ اکثر بحری جہازوں کے بارے میں بھی باتیں کرتی ہے حالانکہ اس کے ماں باپ کا کہنا ہے کہ وہ اسے کبھی ساحل سمندر پر نہیں لے کر گئے اور اس نے بحری جہاز اب تک نہیں دیکھے مگر وہ جس طرح ان کے متعلق بتاتی ہے اس سے لگتا ہے کہ اس نے بحری جہازوں کو اچھی طرح دیکھ رکھا ہے۔
سیلی جب تین سال کی تھی اس نے تبھی کہنا شروع کر دیا تھا کہ ”میرا نام سیلی نہیں جوزف ہے“ مگر اس کے والدین اس کی بات کو مذاق میں ٹالتے رہے مگر بعد میں جب سیلی نے اپنے پچھلے جنم کے بارے میں انتہائی مستند باتیں کرنا شروع کر دیں تو انہیں بھی یقین آنے لگا۔وہ اپنی ماں اینا سے کہتی تھی کہ ”میری ایک ماں ہے، مگر وہ تم نہیں ہو بلکہ کوئی اور ہے۔“اس کے علاوہ بھی وہ اپنی ماں کو عجیب و غریب باتیں بتاتی۔ وہ کہتی تھی ”میں تمہارے پیٹ میں آنے سے پہلے اپنی نانی کے پیٹ میں تھی۔“ کبھی پوچھتی ”ماں مجھے میرے ”پر“ واپس کب ملیں گے؟“اس کے اس سوال سے ظاہر ہوتا تھا کہ پچھلے جنم میں اس کے”پر“ تھے اور شاید وہ اڑا کرتی تھی۔ وہ اپنی ماں کو ایک گیت بھی سناتی اور کہتی کہ ”میری ماں یہ گیت مجھے سنایا کرتی تھی۔“سیلی کے والد رچرڈ کا کہنا ہے کہ ”سیلی نے 3سال کی عمر میں ایسی باتیں کرنی شروع کیں اور 2سال تک مسلسل وہ ایسی باتیں کرتی رہی مگر جیسے ہی وہ پانچ سال کی ہوئی اس کے بعد اس نے ایسی کوئی بات نہیں کی۔ لگتا ہے وہ اپنے پچھلے جنم کے متعلق بھول چکی ہے۔“ 
مصنف ڈاکٹر وائن ڈایئر نے اپنی کتاب میموریز آف ہیون (جنت کی یادیں) میں اس سے ملتے جلتے اور بھی واقعات کا ذکر کیا ہے جن میں بعض بچے اپنے آپ میں اپنے کسی رشتہ دار کو دیکھتے ہیں۔ انہوں نے ایک ایسے بچے کی مثال بھی دی جو کہتا تھا کہ اپنا باپ وہ خود ہے، گو کہ ان واقعات کو دوسرا جنم قرار دیا گیا مگر ان کا اُس دوسرے جنم سے کوئی تعلق نہیں جو کئی مذاہب کے عقیدے کا حصہ ہے۔ آگے چلنے سے قبل عقیدہ تناسخ پر سرسری سی نظر ڈالتے ہیں۔ یہاں یہ عرض بھی کردیں کہ اس حوالے سے علمی بحث میں پڑنا مقصد نہیں ہے تاہم قارئین کی دلچسپی اور معلومات کے لئے عقیدہ تناسخ کا مختصرجائزہ لیتے ہیں۔
تناسخ کا عقیدہ ہندو مذہب کا خصوصی شعار ہے جو اس کا قائل نہیں وہ ہندو دھرم کا فرد نہیں۔’باس دیو‘ ارجن کو عقیدہ تناسخ کی حقیقت سمجھاتے ہوئے بتاتا ہے ”موت کے بعد اگرچہ جسم فنا ہو جاتا ہے۔ لیکن روح باقی رہتی ہے اور وہ اپنے اچھے اعمال کی جزاء اور برے اعمال کی سزا بھگتنے کے لئے دوسرے اجسام کے لباس پہن کر اس دنیا میں لوٹ آتی ہے اور یہ چکر غیر متناہی مدت تک جاری رہتا ہے۔ ویدوں میں ذکر ہے ”روح جسم کو چھوڑ کر نئے جسم میں داخل ہوتی ہے اور اپنا سفر جاری رکھتی ہے“۔ بدھ ازم میں بھی آواگون کا عقیدہ بنیادی اساس ہے جسے زندگی کا چکر یاکرما کہتے ہیں۔ ان کے مطابق انسان بار بار مر کر دوبارہ پیدا ہوتا ہے اور اس کا اگلا جنم اس کے اعمال کے مطابق ہوتا ہے۔ ان کے خیال میں اس بار بار کے جینے مرنے کے تسلسل سے اس وقت ہی انسان کو نجات مل سکتی ہے جب وہ وجود حقیقی میں کھو جاتا ہے جب بھی روح مادہ کے قفس کو توڑ کر آزاد ہو جاتی ہے تو وہ ہر قسم کے رنج و الم سے محفوظ رہتی ہے۔ ان کے خیال میں ایک بار مرنے کے بعد انسان دوسرے جنم میں کسی اور وجود میں ظاہر ہوتا ہے وہ وجود انسانی، حیوانی بلکہ نباتاتی بھی ہو سکتا ہے، پہلے جنم میں اس سے جو غلطیاں سرزد ہوئیں تھیں اس کے مطابق اس کو نیا وجود دیا جاتا ہے جس میں ظاہر ہو کر وہ طرح طرح کی مصیبتوں، بیماریوں اور ناکامیوں میں گرفتار ہو جاتا ہے اور اگر اس نے اپنی پہلی زندگی میں نیکیاں کی تھیں تو اس کو ان کا اجر دینے کے لیے ایسا قالب بخشا جاتا ہے جس میں ظاہر ہونے سے اس کو گذشتہ نیکیوں کا اجر ملتا ہے اسی طریقہ کار کو کرما کا نظریہ کہا جاتا ہے،  کم و بیش اہل یونان کا بھی یہی عقیدہ تھا۔
جاوید چودھری نے اپنے ایک کالم میں آواگون کا ذکر کیا ہے جس میں ایک سوامی آواگون کی کوئی اور ہی وضاحت کررہے ہیں، کالم کا مفہوم ملاحظہ فرمائیے؛ ”یہ عجیب کہانی ہے، میں شروع میں جان ہوتا تھا، میرے والد ٹرک ڈرائیور تھے اورماں استانی تھی۔ میں واٹر لو کے قصبے میں پیدا ہوا یونیورسٹی تک تعلیم حاصل کی، پرائیویٹ جاب شروع کی، دن رات محنت کی اور کمپنی میں نمبر ٹو ہو گیا۔ میرے پاس برسلز میں اپنا فلیٹ، اپنی فراری اور اپنی تین گرل فرینڈز تھیں اور مزے سے زندگی گزار رہا تھا۔ میرے ساتھ پھر ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ میں روز ایک خواب دیکھنے لگا جس میں کوئی خاتون مجھے وکٹر کہہ کر پکارتی تھی۔ میں کئی ماہ تک یہ خواب دیکھتا رہا۔ میں روز صبح اٹھتا اور ذہن جھٹک کر دفتر چلا جاتا لیکن پھر ایک اور حیران کن واقعہ پیش آیا۔ میں ایک دن ”گرینڈ پلاس“ سے گزر رہا تھا میرے سامنے ایک بزرگ شخص آیا اور اوئے وکٹر کہہ کر مجھ سے بغل گیر ہوگیا، میں نے پریشان ہو کر اس سے پوچھا ”آپ کون ہیں اورمجھے وکٹر کیوں کہہ رہے ہیں۔
میں جان ہوں“ وہ شخص فرنچ تھا اورو نیس سے برسلز آیا تھا۔ میں اس کے سامنے احتجاج کرتا رہا لیکن وہ مجھے مسلسل وکٹر بھی کہتا رہا اور فرنچ زبان میں میرے ساتھ گفتگو بھی کرتا رہا۔ مجھے فرنچ زبان نہیں آتی تھی لیکن پھر بھی میں اس کی باتیں سمجھنے کی پوری کوشش کرتا رہا لیکن وکٹر کے علاوہ کوئی بات میرے پلے نہ پڑی۔ اس شخص نے میرا ٹیلی فون نمبر لیا اور اگلے دن پانچ بجے کا وقت طے کر لیا۔ میں اگلے دن اپنا ایک دوست ساتھ لے آیاجو فرنچ زبان سمجھتا تھا۔ ہم اسے ایک ریستوران میں ملے جہاں وہ اجنبی شخص بولتا گیا اور میرا دوست ترجمہ کرتا رہا۔
اس اجنبی کا دعویٰ تھا، میں وکٹر ہوں اور وینس کے ایک گاؤں کا رہنے والا ٹرک ڈرائیور ہوں، میں ایک بار ٹرک چلا کر پیرس سے ونیس آ رہا تھاکہ راستے میں حادثہ ہو گیا اور میں ٹرک سمیت جھیل میں گر کر مرا اور میرا باب بند ہو گیا لیکن میری بیوی کا دعویٰ ہے کہ وکٹر زندہ ہے اور وہ آج بھی اس کے خوابوں میں آتا ہے۔ گاؤں کے لوگ خاتون کو پاگل سمجھتے ہیں لیکن آج جب اس نے مجھے دیکھا تو اسے میری بیوی کی بات پر یقین آ گیا وغیرہ غیرہ۔ مجھے وہ کہانی فراڈ لگی کیونکہ برسلز میں ان دنوں نوسرباز ایسی کہانیاں سنا کر معصوم لوگوں کو لوٹ لیا کرتے تھے۔ میں نے اس کہانی کو بھی ایک ایسی ہی واردات سمجھا لیکن اس شخص نے آخر میں ہم دونوں کو یہ بتا کر حیران کر دیاکہ وہ وکٹر کا والد ہے اور میں اس کا سگا بیٹا ہوں۔ بہرحال قصہ مختصر میں وہاں سے اٹھ کر آ گیا مگر اس بزرگ نے میرا پیچھا نہ چھوڑا۔ وہ مسلسل میرے پیچھے لگا رہا یہاں تک کہ میں ایک دن حقائق جاننے کے لیے اس کے ساتھ اس کے گاؤں جانے پر تیار ہو گیا۔ میں ونیس پہنچ گیا اوروہاں جا کر تقریباً پاگل ہوگیا کیونکہ اس بوڑھے کی ایک ایک بات درست تھی۔
پورے گاؤں نے میرے وکٹر ہونے کی تصدیق کی۔ میں نے وکٹر کی تصویریں دیکھیں، وہ ہو بہو میرے جیسا تھا بس ہیئرسٹائل کا فرق تھا۔ میں بینک گیا جہاں اکاؤنٹ کے فارم پر بھی میری تصویر تھی۔ میں سکول گیا وہاں بھی میری تصویر تھی اور استادوں نے میرے وکٹر ہونے کی تصدیق بھی کی۔ میری نام نہاد بیوی نے میرے جسم پر ان نشانوں کا حوالہ بھی دیا جو عام لوگوں کو نظر نہیں آتے، وہ نشان بھی موجود تھے۔ میں قبرستان میں وکٹر کی قبر پر بھی گیا اور وکٹر کے پرانے دوستوں سے بھی ملااور میں ہر جگہ وکٹر ثابت ہوا۔ میں یہ جان کر نیم پاگل ہوگیا اور وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا۔ میں نے اگلے دو سال نفسیاتی مخمصے میں گزارے۔ میں نفسیات دانوں کے زیر علاج بھی رہا لیکن مجھے افاقہ نہ ہوا۔ میں واٹر لو جاتا تو پورا شہر مجھے جان بلاتا اور میں وینس کے اس گم نام گاؤں میں چلا جاتا تو میں وکٹر ہو جاتایہ سلسلہ جاری رہااور میرا پاگل پن بھی بڑھتا رہا یہاں تک کہ میں نے ایک دن مدراس کے ایک یوگی کے بارے میں پڑھا جو وہ آواگون کا ماہر تھا۔
وہ انسان کا ہاتھ دیکھ کر یہ بتا دیتا تھاکہ یہ اس کا کون سا جنم ہے اور وہ اس جنم کے بعد کہاں اور کب پیدا ہو گا۔ میں نے ٹکٹ خریدی اور مدراس چلا گیا اور بڑی مشکل سے وہ یوگی تلاش کیا۔ یوگی کی عمر سو سال تھی، وہ مدراس کے مضافات میں تین سو سال پرانے آشرم میں رہتا تھا۔ میں اس کا مرید ہو گیا۔ میں نے اس سے یوگا سیکھی، میں نے اس سے یکسوئی کا فن سیکھا اور میں نے اپنی بھوک پر قابو پانا سیکھا، میں دو سال اس کا مرید رہا۔ میں نے دو سال بعد اس سے پوچھا ”بابا میں جان ہوں یا وکٹر، میں کون ہوں“ بابے نے قہقہہ لگایا اور کہا ”تم جان بھی ہو، وکٹر بھی ہو اور راج بھی ہو“ میں نے حیرت سے پوچھا ”کیا مطلب“ بابے نے جواب دیا ”تم ذات کے دلت ہو، تمہارا پیشہ مٹی کے برتن بنانا ہے اور تم یوپی کے کسی گاؤں کے رہنے والے ہو“ میں حیران رہ گیا، میں اگر زندگی میں ایک بار جان سے وکٹر نہ ہوا ہوتا تو میں بابے کی بات پر کبھی یقین نہ کرتا لیکن میں کیونکہ ایک بار وکٹر ثابت ہو چکا تھا چنانچہ میں نے راج کے انکشاف پر بھی یقین کر لیا۔ بابے کے پاس آواگون کا ایک قدیم نقشہ تھا۔وہ اس نقشے سے لوگوں کے تازہ ترین جنم تلاش کرتا تھا۔ ہم نے دو دن کی کوشش سے وہ گاؤں تلاش کرلیا جس میں مجھے راج کی شکل میں ہونا چاہیے تھا۔ میں اس گاؤں میں پہنچ گیا، اس گاؤں میں واقعی راج تھا، وہ راج ہو بہو میرے جیسا تھا، بس اس کا رنگ گندمی اور جسم ذرا سا کمزور تھا لیکن وہ باقی میرے جیسا تھا۔ یہی ناک نقشہ، یہی آواز اور چلنے پھرنے، اٹھنے بیٹھنے اور بھاگنے دوڑنے کا بھی یہی سٹائل، وہ میری کاپی تھا، وہ واقعی کمہار تھا، وہ، اس کی بیوی اور اس کے تین چھوٹے بیٹے مٹی کے برتن بناتے تھے، وہ دلت بھی تھا، گاؤں میں اس کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک ہوتا تھا، میں راج کو دیکھ کر وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا، سیدھا مدراس آیا اور بابے سے جنموں کا یہ بھید کھولنے کی درخواست کی۔
بابے نے قہقہہ لگایا اور مجھے بتایا، دنیا میں انسان کی سات پرچھائیاں ہوتی ہیں، یہ ایک قسم کے سات انسان ہوتے ہیں جو دنیا کے مختلف حصوں میں مختلف زندگیاں گزار رہے ہوتے ہیں، یہ لوگ عموماً زندگی میں ایک دوسرے سے دور اور ناواقف رہتے ہیں لیکن بعض اوقات یہ لوگ یا ان کے جاننے والے ان سے ٹکرا جاتے ہیں جس کے بعد ویسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں جیسے تم دیکھ رہے ہو۔ بابے کا کہنا تھا، تم نے لوگوں کے منہ سے اکثر یہ فقرہ سنا ہوگا ”میں نے آپ کو کہیں دیکھا ہے“ آپ جب بھی یہ فقرہ سنو، آپ تحقیق کر کے دیکھو، آپ کو معلوم ہو گا، یہ آپ کی اس شخص سے پہلی ملاقات ہے، پھر اس نے آپ کو اس سے پہلے کہاں دیکھا تھا، اس نے یقینا آپ کی کوئی نہ کوئی پرچھائی دیکھی تھی، وہ راج سے ملا ہو گا، جان سے یا پھر وکٹر سے اور وہ ایک ملاقات اسے بار بار کہتی ہے ”میں پہلے بھی اس شخص سے کہیں ملا ہوں“ یہ ملاقات اور اس سے پہلی بے شمار ملاقاتیں یہ سب پرچھائیوں کا کھیل ہے۔
نظریہ یا آواگون کی صداقت کی دلیل کے لئے پیش کیا جائے تو ایسا کرنیوالوں کو چند سوالات کے جواب بھی دینا ہونگے۔ ہم بات صرف اوپر دیئے گئے واقعات کے حوالے سے کر رہے ہیں۔ جو واقعات سامنے آئے ان کی شرح پوری دنیا میں ایک فی ارب سے کم ہے۔ دوسرا سوال یہ کہ اگر انسان دوسرا جنم لیتا ہے تو ہر انسان کو اپنے پہلے جنم کے بارے میں اسی طرح علم ہونا چاہیے۔ ماضی کے ساتھ ساتھ کئی لوگ مستقبل بینی کے بھی ماہر ہیں علم نجوم پر دسترس رکھنے والے ماضی کا لمحہ بہ لمحہ آپ کے سامنے رکھ دیتے ہیں، مستقبل کے بارے میں بتانے والے اہل علم بھی موجود ہیں۔ بہت سے حالات انسان کے سامنے خواب میں بھی آجاتے ہیں۔ میجر(ر) معین باری کو اپنے صاحبزادے حسیب کی جہاز کریش میں شہادت کی اطلاع خواب میں ہوگئی تھی۔ معین باری فیصل آباد سے ستر کی دہائی میں پیپلز پارٹی کے ایم این اے بھی رہے ہیں۔ وہ اپنے ایک خواب کے بارے میں بتاتے ہیں جو تمام جزیات کے ساتھ بالکل سچ ثابت ہوا:”میں نے خواب دیکھا، میں بیگم کے ساتھ بس میں لاہور جا رہا ہوں ان دنوں موٹروے تعمیر نہیں ہوا تھا شیخوپورہ کے قریب راستے میں کماد کے کھیت ہیں خواب میں دیکھا کہ وہاں بس کا ایکسیڈنٹ ہو جاتا ہے حادثہ میں بیگم صنوبر نظر نہیں آتی میں اس کا نام لے کر آوازیں دیتا ہوں تھوڑا سا تلاش کرنے پر بیگم زخمیوں میں گری مل جاتی ہے جہاں سے اسے لیکر میں شیخوپورہ ہسپتال جاتا ہوں۔ مرہم پٹی کروا کر تانگے پر شیخوپورہ اپنے ہم زلف میاں اکرم گوہیر کے گھر جاتا ہوں۔ اسکی کوٹھی میں داخل ہوتے وقت دائیں طرف سیڑھیوں میں جرمن شیفرڈ کتا بیٹھا ہے جو ہمیں دیکھ کر کان کھڑے کر لیتا ہے۔
خواب دیکھنے کے بعد میں نے لاہور بس میں جانا چھوڑ دیا وہ اس لئے کہ جو خواب مجھے یاد رہا وہ عموماً سچا ہوتا آیا ہے۔ 6 ماہ گزر گئے پھر کسی کی رحلت پر مجھے لاہور جانا پڑا وہ بھی میں میاں اسد اللہ مونی کی کار پر گیا جو انٹرنیشنل فیم کے کار ڈرائیور ہیں۔ خواب میں بھول چکا تھا واپسی پر بیگم کے ساتھ بس میں فیصل آباد کے لئے سوار ہوا۔ بس جب شیخوپورہ کے قریب پہنچی دائیں بائیں کماد کے کھیت تھے یکدم سامنے سے کار آگئی کار کو بچاتے ہوئے ڈرائیور نے بس Divider پر چڑھا دی۔ بس کی سپیڈ تیز تھی جو 10 فٹ جمپ لے کر الٹ گئی۔ الٹتے دیکھ کر میں نے بس کی ریلنگ کو پکڑ لیا، بیگم غائب تھی میں اسے آوازیں دے رہا تھا، وہ زخمیوں کے نیچے دبی پڑی تھی اور زخمی حالت میں تھی۔ حادثہ میں چند اموات ہوئیں مجھے بھی زخم آئے۔ ہم سیدھے شیخوپورہ ہسپتال گئے مرہم پٹی کرائی۔ تانگہ پر ہم زلف کے گھر پہنچے۔ وہاں گیٹ کے قریب سیڑھیوں پر جرمن شیفرڈ کتا بیٹھا تھا جس نے دیکھ کر کان کھڑے کر لئے“۔اس دن میرا یقین پکا ہو گیا ”ہر چھوٹی اور بڑی چیز لکھی ہوتی ہے۔”قرآن میں ذکر ہے“’ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور ہم تمہیں راحت اور تکلیف دے کر آزماتے ہیں اور تمہیں ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ (سورہ الانبیا)۔موت پھر زندگی۔ اس کے بعد موت اور پھر زندگی کا سلسلہ کائنات میں بہت عام سی بات ہے اور یہ سب ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ ”موت جس سے تم بھاگتے ہو اس کا ضرور تم سے سابقہ پڑے گا پھر تم اس کی طرف لوٹا دئیے جاؤ گے۔“ (سورہ الجمعہ)

متعلقہ خبریں