دوسری زندگی، موت سے پہلے

2019 ,اکتوبر 19



     ابصار عبدالعلی 
دوسری زندگی، موت سے پہلے

موت کے بعد دوسری زندگی کا عقیدہ تو کچھ مذاہب میں موجود ہے لیکن موت سے پہلے دوسری زندگی کا تصّور دنیا کے کسی مذہب میں نہیں، ایسا ممکن بھی نہیں ہے لیکن ہو بھی جاتا ہے، میں 30 اپریل 1979 ء کی وہ سہ پہر نہیں بھول سکتا جب موت میری رگِ جاں سے بھی قریب نظر آئی، پھر نہ جانے کیا ہوا کہ موت مجھے قبول کرتے ہوئے ہچکچائی، موت نے جو سمندر کے روپ میں نازل ہوئی تھی، مجھے پانی سے اس طرح اچھالا کہ میں نہ جانے کہاں جا گرا یہ واقعہ  امریکی سرحدوں سے متصّل دنیا کے چھٹے بڑے ملک میکسیکو کے شہر اکاپُلکو میں پیش آیا، اکا پُلکو، میکسیکو کے صوبہ گیوریرو میں واقع ہے جسے وہاں کے لوگ جنت نظیر کہتے ہیں۔

میکسیکو کے لوگ اسپین کی غلامی سے آزادی کے واقعہ کو بڑے فخر و مباہات سے بیان کرتے ہیں، یہ ملک آرٹ اور قدیم کلچر میں دلچسپی رکھنے والوں کے لئے خصوصی کشش رکھتا ہے، ہزاروں سال قدیم تہذیب کی باقیات کو یہاں کے لوگوں نے اپنے عجائب گھروں میں بڑے سلیقے سے سنبھالا ہوا ہے، بشریات (Anthrapology)   کے طالب علم یہاں دور دور سے تحقیق کے لئے آتے ہیں، قدیم باقیات 11000 سے بھی زیادہ اساطیری مجسموں، مسلکی کرداروں، مندروں، گرجا گھروں اہرام اور قدیم ادوار کے آثار پر مشتمل ہیں، ان میں اس طرح اضافہ ہوتا رہتا ہے کہ میکسیکو کا محکمہ آثار قدیمہ اپنے ہزاروں سال قدیم تہذیبی سلسلہ ارتقاء کی کڑیوں کو دریافت کرنے کے لئے کھدائی کرتا رہتا ہے۔ میں نے وہاں وہ دیوہیکل چبوترے بھی دیکھے جن پر سورج دیوتا کے حضور مجرموں اور قیدیوں کی بلی (قربانی) دی جاتی تھی اور وہ تہہ خانے بھی دیکھے جہاں قدیم عہد کے مُردوں کے ڈھانچوں، خصوصاً کھوپڑیوں کے ڈھیر لگے ہوئے تھے۔ میکسیکو کے لوگ ہماری آپ کی طرح لاپروا اور سُست الوجود لوگ ہوا کرتے تھے لیکن تیل کی دریافت کے بعد ان میں بڑی تبدیلی آگئی ہے۔ 
میکسیکو بہت بڑا ملک ہے لیکن میرے ساتھ جو حادثہ وہاں پیش آیا وہ میرے لئے میکسیکو کے پھیلاؤ سے بھی زیادہ وسیع اور بڑا تھا، میں میکسیکو سّیاح کے طور پر نہیں گیا تھا، میرے وہاں جانے کا مقصد میکسیکو کی حکومت کی جانب سے دنیا بھر کے بچوں کے لئے منعقدہ ایک تقریب میں حکومت پاکستان کی نمائندگی کرنا تھا، یہ تقریب اقوام متحدہ کی جانب سے سال 1979 ء کو بچوں کا عالمی سال قرار دینے کے حوالے سے ترتیب دی گئی تھی تا کہ بچوں کو ان میں موجود تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا موقع فراہم کیا جا سکے۔ پاکستان نے اس تقریب میں شرکت کے لئے 11 سے 14 سال کے بچوں کا ایک سہ رُکنی وفد بھیجا تھا اور مجھے اس وفد کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔ اس ذمہ داری کو پورا کرنے کے لئے میرا انتخاب میری اُن خدمات کی بنیاد پر کیا گیا تھا جو میں نے بچوں کے ادب کی تخلیق کے لئے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں انجام دی تھیں۔

اس تقریب میں دنیاکے 102 ملکوں کے بچوں کے وفود شریک ہوئے جہاں 28 اپریل 1979 ء کو ان کے تخلیقی رجحان اور عملی صلاحیتوں کا مقابلہ تھا۔ ان بچوں کو ریت سے مجسمے اور مناظر تخلیق کرنے تھے۔ پاکستانی بچے اس مقابلہ میں کوئی انعام حاصل نہیں کر سکے کیونکہ ان کے مقابلے میں بہت سے ایسے ملکوں کے بچے بھی تھے جنہیں ان کے اسکولوں اور آرٹس کونسلوں میں مجسمہ سازی کی تربیت دی جاتی ہے جس کی حکومت اور والدین دونوں ہمت افزائی کرتے ہیں۔ پاکستان میں مذہب کے حوالے سے مجسمہ سازی پر اعتراض کیا جاتا ہے، نہ معلوم کیوں ہم اس فرق کو نہیں سمجھتے کہ مجسمہ بنانا ایک تخلیقی فن ہے، بنا کر اس کی پوجا یا پرستش کرنا ایک دوسری بات ہے جو اسلام میں جائز نہیں۔ لیکن ضروری تو نہیں کہ جو مجسمہ بنایا جائے اس کی پرستش یا پوجا بھی کی جائے۔ مجسمہ بنانا آرٹ اور اس کی پوجا مذہب ہے۔ کچھ مذاہب پوجا کی اجازت دیتے ہیں۔ اسلام میں یہ کفر اور شرک ہے۔ لہٰذا صرف آرٹ کے حوالے سے مجسمہ سازی پر قدغن درست نہیں۔ اس کی پوجا یقینا (مسلمانوں کے لئے) قطعاً ناجائز ہے۔ ہمیں فن اور مذہب کے معاملات کو گڈ مڈ نہیں کرنا چاہئے، آخر ہم تصویر بھی تو بناتے اور بنواتے ہیں، تو کیا تصویر بنانے اور بنوانے میں بھی پوجا اور پرستش کے خطرات ہیں؟۔ ایسا نہیں ہے، ساری دنیا میں انسانوں کی تصاویر برش، پنسل اور کیمرے سے بنائی جاتی ہیں جن پر اعتراض اب مذہبی حلقوں اور علمائے کرام کی طرف سے بھی نہیں کیا جاتا۔ 
ریت سے مجسمہ سازی کا مقابلہ ختم ہوا تو بچوں اور ان کے وفود کے سربراہوں کو میکسیکو سٹی اور قرب و جوار کے دیگر مقامات پر سیر کے لئے لے جایا گیا جہاں ہم نے میکیسیکو کا روایتی کھیل بل فائٹنگ (Bull Fighting) ۔ ہزاروں سال قدیم بشریاتی آثار کا میوزیم، ایک سرسبز پہاڑی پر تعمیر کیا ہوا شہنشاہ ایران کا سفید محل جس میں قدم رکھنا اسے نصیب نہ ہوا۔ ہزاروں فٹ بلند پہاڑی چوٹی سے سمندر میں چھلانگ لگانے کے مظاہرے، لوک داستانوں پر مبنی بیلے ڈانس اور ایسے ہی بہت سے تفریحی سلسلوں کی سیر کی اور ان قابل دید تفریحی مقامات سے گزرتے ہوئے ہم اس ساحل پر پہنچے جس کے پانیوں میں صدیوں قبل ڈوبا ہوا ایک شہر بکھر اہوا تھا۔ 
سمندر کی تہہ میں اس غرق آب کا شہر کے زینے، ستُون، چوکھٹیں، چبوترے، چھتیں، اساطیری مجسمے، عبادت گاہوں کے گنبد اور چہار دیواریاں نیم مسمار حالت میں اس طرح پھیلی ہوئی ہیں جیسے یہ واقعہ صدیوں نہیں ہفتوں پہلے پیش آیا ہو۔ ایسا لگتا تھا جیسے امدادی عملہ آ کر اس شہر کو دوبارہ کھڑا کر دے گا۔ 
    اس ڈوبے ہوئے شہر کو ساحل پر کھڑے ہو کر پوری طرح دیکھنا ممکن نہیں لہٰذا وہاں کے ٹورزم ڈپارٹمنٹ نے اس کا اہتمام کچھ اس طرح سے کیا تھا: انہوں نے اس کے لئے خصوصی کشتیاں بنوائی تھیں۔ ان کشتیوں کا فرش آرپار نظر آنے والے شفاف شیشے کا تھا جبکہ کشتیوں کی لمبائی میں دونوں جانب بیٹھنے کی جگہ تھی جہاں بیٹھ کر لوگ بڑی آسانی سے نیچے سمندر کی تہہ میں غرق آب شہر کا نظارہ کرتے تھے۔ یہ نظارا بھی عجیب تھا۔ شارک سمیت دوسری بڑی بڑی سمندری مچھلیاں اس شہر کی باقیات پر اس طرح تیر رہی تھیں جیسے آسمان میں پرندے پرواز کر رہے ہوں۔ میں اپنے وفد کے ارکان کے ساتھ ایک کشتی میں بیٹھ گیا۔ بہت سے اور لوگ مجھ سے پہلے بیٹھ چکے تھے۔ کشتی پانی پر تیرنے لگی اور ہم سمندر میں ساحل سے کافی دور اندر تک چلے گئے۔ بچوں نے پوپ کارن پھل اور برگر کے کچھ ٹکڑے سمندر میں پھینکنے شروع کئے۔ انسانوں سے مانوس کچھ بڑی بڑی مچھلیاں قریب آکر منہ کھول کر ان چیزوں کو اس طرح کیچ کر رہی تھیں جیسے ماہر کرکٹر اپنے ہاتھ بڑھا کر گیند کیچ کرتا ہے۔ کچھ مچھلیاں ستونوں کی آڑ میں اور کچھ گری ہوئی دیواروں کے پیچھے غالباً آرام کر رہی تھیں۔ کشتی کو آتا دیکھ کر مچھلیوں میں کھلبلی سی مچ گئی اور محسوس ہوا یہ اس غرق آب شہر کے بھوکے شہری ہیں جو راشن کا ٹرک دیکھ کر اس کے ارد گرد جمع ہو گئے ہیں۔ 
بچے قہقہے لگاتے اور ہنستے ہوئے ایک دوسرے کو دکھا رہے تھے، وہ دیکھو، وہ دیکھو، وہ مچھلی تو سیڑھیوں پر چڑھنا بھی جانتی ہے اور وہ دیکھو وہ اس محل کے قریب اسکول کی عمارت ہے جہاں ہمارے جیسے بچے پڑھنے آتے ہوں گے، اب شاید مچھلیوں کے بچے وہاں پڑھتے ہیں۔ کئی ملکوں کے وفود کے بچے جو اس کشتی میں بیٹھے تھے، آپس میں اس طرح گھل مل گئے تھے جیسے وہ سب محلے دار اور پیدائشی دوست ہیں۔ انہوں نے کشتی میں دھماچوکڑی شروع کر دی۔ میکسیکو کے لوگ اسپینی زبان بولتے ہیں۔ ہر وفد کو حکومت کی طرف سے ایک خاتون مترجم کی خدمات دی گئی تھیں۔ 

وہاں کے رواج کے مطابق کسی بھی عورت کو چاہے اس کی عمر 90 سال کی ہی کیوں نہ ہو اور وہ کسی بھی پیشے سے تعلق رکھتی ہو سینورٹا (Senorita) کہہ کر مخاطب کیا جاتا ہے، سینورٹا کا مطلب ہے مِس (آنسہ)، بچے اپنے وفد کی مس کو بھی اپنی تفریح میں شامل کر رہے تھے، ہر مس خبردار کر رہی تھی کہ بھاگو دوڑو مت، آرام سے اپنی جگہ بیٹھو اور نیچے جھک کر ڈوبا ہوا شہر دیکھو، تھوڑی دیر بچے مس کی وارننگ پر عمل کر تے اور پھر دھما چوکڑی شروع ہو جاتی اور کشتی دائیں بائیں جھکنے اور ڈگمگانے لگتی۔ اب ہم ساحل سے بہت دور اندر تک سفر اور سیر کر کے واپس لوٹ رہے تھے۔ ساحل زیادہ دور نہیں تھا۔ میرے ساتھ تھائی لینڈ کے وفد کے سربراہ مسٹر پریما بیٹھے تھے جو درمیانی عمر کے بڑے کثرتی جسم کے مالک اور زور آور انسان تھے۔ انہوں نے بار بار اپنی نشست بدلتے اور بھاگتے ہوئے ایک بچے کا جو ان کے سامنے سے بار بار گزر رہا تھا بازو پکڑ کر روکنا چاہا، بچے نے بازو چھڑانے کی کوشش کی تو مسٹر پریما کھڑے ہو کر اسے روکنے کے لئے زور لگانے لگے، میں بھی کھڑا ہو گیا کہ مسٹر پریما کی مدد کروں، انہوں نے میری طرف مڑ کر کہا کہ آپ بیٹھیں میں اسے ہینڈل کرتا ہوں، بس یہی وہ لمحہ تھا کہ بچے نے جھٹکے سے بازو چھڑا لیا اور پریما پورے زور کے ساتھ مجھ سے ٹکرائے اور میں کمر کے بل پیچھے گرا۔ میرا سر اور ایک کاندھا پانی کے اندر تھا۔ میری کمر کشتی کی کگر پر رُکی ہوئی تھی۔ میں صرف اتنا دیکھ سکا کہ بڑی بڑی کچھ مچھلیاں میری طرف دوڑیں۔ وہ خوش تھیں کہ اس بار بچوں نے کوئی بڑی چیز ان کے کھانے کے لئے پانی میں ڈالی ہے۔ یہ چند لمحوں کی کہانی ہے۔ ان چند لمحوں میں مجھ پر کیا بیتی میں آج تک وہ مناسب الفاظ تلاش کر رہا ہوں کہ بیان کر سکوں۔ سنا تھا کہ ملک الموت آتا ہے مگر وہ نظر نہیں آتا اور روح لے جاتا ہے۔ یہاں تو کئی ملک الموت نظر آرہے تھے۔ مگر ہوا کیا؟ موت کے آبی فرشتے تو میری روح قبض نہیں کر سکے لیکن محسوس ہوتا تھا کہ کسی انجانی مخلوق نے میرے حواس کو قبض کر لیا۔ ناک سے پانی میرے پیٹ میں جانے لگا تھا اور میں اپنی حالت سے بے خبر ہوتا جا رہا تھا کہ اچانک ایک جھٹکا لگا۔ سمندر جو موت بن کر مجھے نگلنا چاہ رہا تھا اس نے خود ہی مجھے اچھال دیا اور میں نہ جانے کہاں آگرا۔ 
کشتی اب ساحل سے لگ گئی تھی۔ مجھے مسٹر پریما اور کچھ لوگ کشتی سے اٹھا کر باہر لا رہے تھے، انہوں نے زمین پر رکھ کر میرے سینے اور پیٹ کو زور سے دبایا۔ میرے منہ سے پانی کا فوارا نکلا اور مجھے سانس آئی اور ساتھ ہی یقین بھی آیا کہ میں زندہ ہوں۔ سمندر مجھے چکھنا اور خدا مجھے (زندہ) رکھنا چاہتا تھا۔ خدا ہی قادر ہے۔ اس نے انسان کے دنیا میں آنے اور واپسی کے اوقات مقرر کئے ہیں جو حتمی ہیں۔ مجھے ہسپتال لے جایا گیا۔ ڈاکٹروں نے ایک دو گھنٹے بعد فارغ کر دیا۔ کہا اعصاب پر بوجھ ہے۔ آرام کریں اور خدا کا شکر ادا کریں۔ 
بعد میں مجھے لوگوں نے بتایا کہ جب آپ سمندر کی طرف گر رہے تھے تو آپ کا ایک ہاتھ اچانک مسٹر پریما نے تھام لیا تھا۔ یہاں مسٹر پریما کا وہ زور جو بچے کو قابو کرنے میں ناکام رہا تھا۔ موت پر قابو پانے میں کامیاب ہو گیا۔ مسٹر پریما مجھ سے کہتے تھے خدا بڑا ہے۔ میں بچے پر قابو نہیں پا سکا۔ یہ بھی خدا کی مرضی تھی۔ میں نے آپ کے ہاتھ کو جھٹکے سے کھینچا تو آپ موت کے منہ سے واپس آگئے۔ یہ بھی خدا کی مرضی تھی۔ آپ کا ہاتھ میں نے نہیں زندگی نے پکڑا تھا اور یہ وہ دوسری زندگی ہے جو پہلی زندگی میں ہی آپ کو مل گئی۔ ورنہ دوسری زندگی پہلی زندگی ختم ہونے کے بعد ملتی ہے۔ یہ بہت سے مذاہب کے ماننے والوں کا عقیدہ ہے مگر اللہ سب پر غالب اور قادر ہے۔ وہ چاہے تو زندگی میں ہی دوسری زندگی دے سکتا ہے جیسے کہ اس نے مجھے دی اوریہ حوصلہ بھی دیا کہ پانی مری رگِ جان سے بھی قریب موت بن کر گزرا مگر میں نہ موت کا شکار بنا، نہ پانی کے خوف (Hydrofobia) کا شکار ہو سکا۔ آج بھی میں چاہتا ہوں کہ سمندر کی سیر پر جاؤں اور کشتی میں سفر کروں۔
٭٭٭
میجر ریٹائرڈ شوکت علی علوی
یہ بات ہے 1984ء کی جب میں پاک فوج میں لفٹین تھا۔ہم ہری پور دربند سڑک کی تعمیر کر رہے تھے۔ میری تعیناتی بیڑ نامی ایک گاؤں میں تھی۔ہم نے دریائے سرن کے پار اپنا کیمپ لگایا ہوا تھا۔ بیڑ ایک چھوٹا سا گاؤں دریا کے ساتھ دونوں طرف آبادہے۔ اس گاؤں کے لوگ ایک خان کے ماتحت تھے۔ ان پر اس کامکمل کنٹرول تھا۔
سرن دریااس کیمپ سے ایک کلو میٹر دور تربیلا جھیل میں گرتا اور انتہائی دلکش اوردیدہ زیب منظر پیش کرتاہے۔ ہم تین آفیسر تھے جو دن بھر انتہائی دشوار گزار راستوں سے ہوتے ہوئے تعمیراتی کام پر پہنچتے تھے۔ شام کو واپس آتے اور تھوڑی دیر والی بال کھیل کر اپنے خیمے میں چلے جاتے۔خیمہ 10 سے 15فٹ گہری ایک کمرہ نما جگہ کے اوپر نصب تھا۔ہم تینوں زمین پر دریاں بچھا کر سوتے تھے۔ بجلی سے محروم، کوئی جنریٹر وغیرہ بھی نہیں تھا۔ ٹریکٹر کی بیٹری سے ایک ٹیپ ریکاڈر چلاتے تھے جس پرہم سب رفیع، لتا اورنازیہ حسن کے گانے سنتے رہتے۔ کیمپ کے چاروں طرف سبزے سے ڈھکے اونچے پہاڑ تھے۔ اس وادی کو سرن دریا کاٹتے ہوئے گزرتاہے۔ سرسبزوشاداب پہاڑوں پر بھنگ کے پودے مخمل کی چادرکی طرح پھیلے ہوئے تھے۔ طرح طرح کے جنگلی پودوں کی خوشبوہر موسم میں ایک خاص کیفیت طاری کئے رکھتی تھی۔
شام کو تین بجے ہی اس علاقے میں شام کے سائے گہرے ہونے شروع ہو جاتے اور دریا کے شور سے ابھرنے والی آواز اپنے اندر دل موہ لینے والی مدھردُھن اورترنم لئے ہوتی۔شب سرِ شام اپنا لبادہ اس پُرکیف نظاروں کی وادی کو اوڑھا دیتی تھی۔ہم جیسے بے فکرے لوگ رات کے گہرے سائے ہونے پر گانے سنتے سنتے نیند کی حسین گود میں چلے جاتے۔ یہ معمول تبدیل بھی ہو جاتا تھا جب ہم ہیڈ کوارٹرہری پور چلے جاتے تھے۔جہاں سے شام اورشب کے سنگم پر واپسی ہوتی۔گاڑیاں سرن دریا پر آ کر پارک ہو جاتیں اور ہم دریا کشتی کے ذریعے عبور کرتے۔ہری پور سے بیڑ آنیوالی سڑک35 کلو میٹر طویل غیر ہموار اورتنگ تھی۔ یہ پہاڑ کاٹ کے بنائی گئی تھی جہاں ڈرائیونگ مشکل ہی نہیں دل گُردے کا کام بھی ہے۔
ہمارے سی او (اللہ انہیں جنت نصیب فرمائے) نے ہمارے پاس آنے کا شیڈول جاری کیا، ان کے ساتھ ان کے ایجوٹنٹ اور سیکنڈ ان کمانڈ نے بھی آنا تھا، ہمیں اور ہماری ضروریات کو ان لوگوں نے نظر انداز کیا ہوا تھااس لئے ہم اندرہی اندرغصے میں بھرے ہوئے تھے، چنانچہ ہم نے انہیں چائے کے ساتھ بھنگ کے پکوڑے پیش کرنے کا بھیانک پروگرام تشکیل دیا۔ میں نے اپنے ایک ساتھی کو بھنگ کے پتے لا کر پکوڑے بنانے کی ذمہ داری سونپی۔ وہ گیا کچھ پتے اورپتوں کے ساتھ کچھ سبز بیج بھی کاٹ کے لے آیا۔وہ خود اسی علاقے کا تھا اور اس کام میں ماہر بھی تھا۔افسروں کے پہنچنے تک پکوڑے تیارہو گئے جو گرم گرم چائے کے ساتھ ان کو پیش کر دئیے۔ سب نے مزے لے لے کر کھائے۔
میں نے بھی کھائے۔دورے کا اختتام ہوا اور وہ سب چلے گئے۔ شام ہونے والی تھی۔ پہاڑوں کے سائے پھیلتے جا رہے تھے۔ ہم اپنے مورچہ نما کمرے میں آ گئے ایک دوسرے کو دیکھ کر چھوٹی چھوٹی باتوں پر زور زور سے ہنسنے اورپاگلوں کی طرح قہقہے لگانے لگے۔اس دوران اچانک میری طبیعت بگڑنے لگی۔ میرے دل کی دھڑکن تیز ہوکر بے قابو ہونے اور سانسیں اکھڑنے لگیں۔ جب میں نے اس کا اظہار اپنے او سی سے کیا جو ہمارے ساتھ ہی رہتے تھے تو انہوں نے سمجھا میں بھنگ کے نشے میں ہوں اس لئے وہ حالت  کو سنجیدہ لینے کے بجائے میرا مذاق اُڑانے میں لگے رہے۔
اب مجھے دل کے بند ہونے کاشدت سے احساس ہونے لگا تھا یوں لگا آخری گھڑی آ پہنچی ہے۔ میں نے زور زور سے چیخنا چلانا شروع کر دیا۔ خیمے کے باہر کسی کو کہا گیا کہ نرسنگ کو بلاؤ۔ وہ آیا تو میرا بی پی آخری حدیں کراس کر چکا تھا، اس نے میرے او سی کو کہا کہ اب اس کے بچنے کے چانسز نہیں ہیں۔اس کو فوراًہسپتال لے جانا ہو گا جس کا نزدیک نزدیک کوئی بندوبست نہیں تھا۔ دریائے سرن میں طوفان آ چکا تھا اور کشتی میں پانی بھر چکا تھا۔
ایک ڈمپر دریا کے اس پار کھڑا تھا جہاں سے انتہائی دشوار گزار سڑک سے مجھے تین گھنٹوں میں اپنے ہیڈ کوارٹر کے ایم آئی روم میں فرسٹ ایڈ دی جا سکتی تھی بشرطیکہ میں اس وقت تک زندہ رہ سکتا۔باقی تین افسر باہر نکلے اور کھسر پھسرکرنے لگے”اگر ہم اس کو لے گئے توبھنگ کے پکوڑوں کا بھیدیقینا کھل جائیگا  اس طرح تو کورٹ مارشل کروا لیں گے۔ یہ بات میں نے کیسے سنی وہ سب آج بھی حیران ہیں کیونکہ وہ مجھ سے بہت دور تھے۔ میں نے انہیں کہا کہ ایسا مت سوچیں میں یہ غلطی تسلیم کر لونگا۔سب میرے پاس بیٹھے تھے۔ کسی نے کہا کہ اس کی تکلیف بہت زیادہ ہے۔اس کی جان ٹوٹ رہی ہے اس لئے سورۃ یٰسین کی تلاوت کی جائے تاکہ اس کی روح آسانی سے پرواز کر جائے۔ اس کے ساتھ ہی ایک مولوی کو بلوا کر تلاوت شروع کرا دی گئی۔ مجھے وہ زمانہ یاد آ گیا جب میں نے اپنے  گاؤں میں کافی سارے لوگوں کی جان نکلنے میں آسانی کے لئے تلاوت کی تھی۔
میرا دل ایسے کرنے لگا جیسے پیٹر پمپ کا پاور پلگ آف کر دیا جائے اور دل کی دھڑکن بندہونے کی طرف چل پڑی۔میں پھرزور سے چیخا اور اپنے افسر سے کہا کہ مجھے مصنوعی سانس دو۔ شکر ہے اسے یہ کام بہت اچھے طریقے سے آتا تھا۔اس نے میرے منہ سے اپنا منہ لگا کے پمپنگ شروع کر دی۔ دل میں رکاوٹ ابھی دور نہیں ہوئی تھی  مجھے لگا میں بہت ہلکا ہو گیا ہوں اور رنگوں کے گولے میری آنکھوں کے سامنے تیرنے لگے لیکن پھر اچانک میرے  دل نے دوبارہ دھڑکنا شروع کر دیا۔ میں نے ان کی منتیں شروع کر دیں کہ مجھے ہسپتال لے کر جائیں۔ انہوں نے یہ فیصلہ کر لیا اورکشتی تیار کرنے کے لئے بندے بھیج دیئے۔ ڈمپر کے ڈرائیور کو الرٹ کر دیا گیا۔ ایک گیس کا لیمپ جلایا گیا ساری کمپنی دعاؤں پر لگ گئی۔ مجھے ایک چارپائی پر ڈال کراس قبر نما خیمے سے باہر لایا گیا۔ چار بندوں نے وہ چارپائی اُٹھائی ہوئی تھی اور پوری کمپنی میرے پیچھے چل رہی تھی۔ مجھے اُٹھائے یہ لوگ دریا کی طرف چل دیئے۔ رات کافی گزر چکی تھی۔ بیڑ گاؤں کے لوگ لالٹینیں لے کر باھر نکل آئے۔میں آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے سوچ رہا تھا، میرے نانا کا جنازہ بالکل ایسا ہی تھا۔
میں تھوڑا چپ ہوا تو میرے او سی نے دوسرے افسر کو آہستہ سے کہا۔ ”چیک کرو یہ زندہ بھی ہے“؟ میرے کان زیادہ ہی حساس ہو چکے تھے۔ میں نے زور سے کہا ہاں میں زندہ ہوں جلدی کرو۔ میں ذمہ داری لیتا ہوں جو حرکت میں نے کی ہے اس کا آپ لوگوں پر میں الزام نہیں آنے دونگا۔ مجھے جلدی سے ہسپتال پہنچائیں۔ اس پر سب نے کلمہ پڑھنا شروع کردیا۔مجھے نرسنگ نے گلوکوز کی بوتل لگا دی، مارفین کے دو ٹیکے بھی لگا دیئے تھے لیکن تکلیف میں کوئی ریلیف نہیں آرہا تھا مجھے کشتی میں ڈالا اور بڑی تگ و دو کے بعد ڈمپر میں ڈرائیور کی پچھلی سیٹ پر لٹادیا گیا دو افسر ساتھ ہولئے۔ایک نے بوتل پکڑ رکھی تھی۔ ڈرائیو کو حکم ملا، جتنی جلدی ہو سکے ہری پور پہنچائے۔ابھی آدھا فاصلہ طے کیا ہو گا کہ مجھے پیشاب آ گیا لیکن میرے افسروں نے گاڑی روکنے کے بجائے میری زِپ کھولی اور مجھے پیشاب اپنے ہاتھوں میں کروا کر باہر پھینکتے رہے۔
 پیشاب سے زہر توکم ہوگیا مگر ساتھ ہی  میں بے ہوش ہو گیا۔ میں کہاں چلا گیا مجھے کچھ پتہ نہیں۔میری آنکھ کھلی تو میں ایک خیمہ میں تھا اور ایک اپنی یونٹ کا ڈاکٹر میرے لئے دودھ کا گلاس لے کر کھڑا تھا۔ اس کے الفاظ تھے۔
”یار نئی زندگی مبارک ہو۔ تم تین دن سے ادھر بے ہوش پڑے ہوئے تھے“
میں اُٹھا اور دودھ پینے کے بعد بہت بہتر محسوس کرنے لگا تو یاد آیا۔ میرے ساتھ کیا ہوا ہے۔ انہوں نے مجھے اس جگہ یونٹ سے چھپا کر رکھا ہوا تھا۔کسی کو پتہ نہیں تھا کہ میں کہاں ہوں۔ٹھیک ہو کر میں واپس بیڑ آیا اور پھر تفصیلات پتہ چلیں۔ مجھے فوڈ پوائزن ہو گیا تھا اور میں نے بہت بڑی غلطی کی تھی۔سی اوصاحب جب پکوڑے کھا کے نکلے تو جیپ کے ڈرائیور کو اس وقت دھر لیا جب وہ پانی کے ایک چھوٹے سے نالے میں سے جیپ گزاررہا تھا۔ سی اوکو بھنگ چڑھ چکی تھی۔نالے کو انہوں نے دریا سمجھ لیا۔انہوں نے گاڑی رکوائی اور ڈرائیور کو مرغا بنا کر غصے سے اس کے اوپر جا بیٹھے۔ زور زور سے ڈانٹنے لگے۔”گدھے گاڑی کو دریا میں ڈالنے لگے تھے۔“ باقی افسر بھی عجیب حرکتیں کرتے رہے جو ہوش میں تھے وہ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوتے رہے لیکن میرے لئے زندگی کا بہت بڑا سبق ثابت ہوا
محمد نواز میرانی
میرا رب کائنات اور خالق موجودات کے بارے میں اپنا ایک نظریہ ہے جس پر میں اٹل اور مکمل یقین،اعتماد و ایمان رکھتا ہوں کہ اللہ بزرگ و برتر چونکہ قادر و مُطلق ہے اسلئے اس پر کسی قانون و ضابطے کا اطلاق نہیں ہوتا۔ وہ اتنا رحیم و کریم اور مہربان ہے، جہاں بھی انسان کے فائدے کی بات ہوتی ہے وہ قانون بدل دیتا ہے۔ سمندروں اور دریاؤں میں کشتیاں ہزاروں ٹن سامان لادے ہوئے جہازوں کو ڈبونے کے بجائے پانی کی لہروں پر رواں رکھتا ہے۔ حالانکہ پانی میں کوئی بھی بھاری شے ڈوب جاتی ہے۔ اسی طرح ہواؤں میں ہیلی کوپٹر کو معلق کر کے کشش ثقل کو لاگو نہیں ہونے دیتا۔ وہ جو چاہے کرتا ہے۔وہ بس یہ کہتا ہے کہ ایسے ہو جا تو فوراً اسکے حکم کی تعمیل، تکمیل عمل میں بدل جاتی ہے۔ 
حضرت ابراہیمؑ کو جب نمرود نے آگ کے فلک بوس شُعلوں کی نذر کر دیا تھا تو اللہ نے حضرت ابراہیم ؑ کے توکل پہ سرمو حرف نہ آنے دیا اور فرشتوں کو آگ کو ٹھنڈا کرنے کا حکم نہیں دیا کہ مبادا کہیں دیر نہ ہو جائے اور خدا کا محبوب آگ کی تپش محسوس نہ کرے تو آگ کو ٹھنڈا ہونے کا براہ راست حکم دے دیا اور آگ گلزار بن گئی اللہ کی صفات میں سب صفات پر حاوی اسکی رحمت ہے۔ اللہ نے ہر مخلوق کی زندگی کا وقت معین کر رکھا ہے۔ اسکی رحمت اور کرم کا اندازہ کیجئے کہ وہ معین اور متعین کردہ انسانی زندگانی میں کمی نہیں کرتا۔ مگر زندگی میں اضافہ ضرور کر دیتا ہے کہ وہ ہر شے اور ہر چیز پہ قادر ہے۔ تاریخ انسانی کے صفحات ان مثالوں سے بھرے پڑے ہیں کہ اللہ نے انسان کی زندگی بڑھا دی۔ ہمارا اللہ پہ کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا وہ ہر قانون،قاعدے سے بالا تر ہے۔ آپکو یاد ہو گا ہو گا بلوچستان کے گورنر، جنرل ایس ایف لودھی کوئٹہ سے پنجاب میں آتے ہوئے طوفان باد و باراں میں گھر گئے ان کا طیارہ ڈگمگانے لگا اور بالآخر زمین پر آ گرا۔ جنرل لودھی جہاز سے باہر آ گرے۔ وہ بے ہوش تھے اور ایک ریڑھی والے نے ان کو اٹھا کر ہسپتال پہنچایا۔ ان کا علاج ہوا اور وہ خدا کے فضل و کرم سے صحت یاب ہو گئے اور اس طرح سے انہیں نئی زندگی نصیب ہوئی حالانکہ کئی دفعہ ایسے ہوا ہے کہ لوگ اپنے غسلخانوں میں گر کر فوت ہو جاتے ہیں۔اللہ انہونی کو ہونی کر دیتا ہے اور نا ممکن کو ممکن بنا دیتا ہے۔ میرے دوست ہارون عباسی جو ڈائریکٹر جنرل براڈ کاسٹنگ ریٹائر ہوئے ہیں مجھے ایک واقعہ سنا رہے تھے کہ جنرل ضیاء الحق کا ہیلی کاپٹر بھی ایک دفعہ شدید آندھی اور  طوفان میں پھنس گیا حالانکہ حکمرانوں کے سفر سے پہلے موسم کا احوال خصوصی طور پر پوچھ لیا جاتا ہے۔یقیناً ان کیلئے بھی یہ سارے استفسارات کر لئے گئے ہوں گے۔ مگر اچانک آنے والا طوفان اسقدر شدید تھا کہ پائلٹ گھبرا گیا اور اس نے صدر سے پوچھا کہ سر آگے ہم بالکل نہیں جا سکتے۔ آپ اجازت دیں تو ہم لینڈ کر جائیں۔ جنرل ضیاء الحق نے اثبات میں سر ہلایاتو پائلٹ نے فوراً ایک جگہ پر ہیلی کاپٹر اتار دیا۔
جہاں اترے وہ جگہ قدرے سنسان و ویران تھی۔ سامنے ایک عمر رسیدہ شخص چار پائی پر بیٹھا شاید حقہ پی رہا تھا اور اسکے اردگرد کوئی بھی نہیں تھا۔ صدر ضیاء الحق اتر کر اسکے پاس چلے گئے اور سلام دعا کے بعد اسکے ساتھ چارپائی پر بیٹھ گئے۔ اسکی خیریت دریافت کی اور گپ شپ لگانے لگے۔ اس سے بار بار پوچھا کہ میرے لائق کوئی خدمت ہو تو بتائیں۔ مگر بوڑھا لا پروائی سے منہ دوسری طرف کئے اور قدرے ناگواری اور بے زاری سے نہ نہ کرتا رہا۔ اسے شاید یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ اسکے روبرو کتنی بڑی شخصیت بیٹھی ہے۔ شاید اسے ان عہدوں کا پتہ ہی نہ ہو۔ جنرل ضیاء الحق مرحوم کی خدمت پوچھنے کی عادت بڑی پختہ تھی۔ ایک دفعہ مجھے بھی ان سے ملاقات کا موقع ملا تو بڑی دیر تک وہ یہی سوال اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر اور میرے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر بار بار پوچھتے رہے۔ اسوقت میں جوان بلکہ نوجوان تھا اور پاکستان ٹیلی وژن سے خبریں پڑھا کرتا تھا۔ ضیاء الحق مجھے پہچان گئے تھے اور میرا نام لیکر مجھ سے مخاطب تھے۔ میں ان کی یاداشت سے اور ان کے اخلاق سے بہت متاثر ہوا۔
بزرگ نے جنرل صاحب سے پوچھا۔”لسی پئیں گے“۔ انہوں نے اثبات میں سر ہلایا تو بوڑھے نے ایک بچے کو زور سے آواز دی۔وہ قدرے ننگ دھڑنگ بچہ دھول مٹی میں لت پت بھاگا بھاگا آیا۔ بوڑھے نے اسے لسی لانیکا کہا۔ بچہ تھوڑی دیر میں لوہے کے گلاس میں جو شاید دُھلا ہوا بھی نہیں تھا آدھی انگلیاں گلاس میں ڈالے ہوئے آیا اور جنرل ضیاء کو پکڑا دیا۔ آفرین ہے صدر کی سادگی پر انہوں نے وہ لسی کا گلاس کسی پس و پیش کے بغیر پی لیا اور باتوں کا سلسلہ جاری رکھا  پھر پینترا بدل کر اس سے سوال کیا کہ اس پیرانہ سالی میں آپ کی کوئی خواہش ایسی ہے جسکا پورا نہ ہو سکنے کا آپکو افسوس یا دکھ ہو۔ بزرگ نے آہ بھرتے ہوئے لمبی سانس لی اور جواب دیا۔”ہاں! میں نے ساری زندگی پیسہ پیسہ کر کے جوڑا کہ مرنے سے پہلے حضورؐ کے روضے کا دیدار کر لوں اور اللہ کے گھر حاضری دوں۔ مگر میں وہ نہ کر سکا۔ آج حج پر جانیکا آخری دن تھا وہ بھی گذر گیا۔ جنرل ضیاء الحق نے پوچھا آپکا پاسپورٹ بنا ہوا ہے اس نے جواب دیا نہیں مختصر یہ کہ جنرل ضیاء الحق نے وہیں فون پہ اسکا پاسپورٹ بنوانے کا حکم دیا اور اسکو پروٹو کول کے ساتھ حج کروایا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے بالکل برعکس سکوت اور پر سکون موسم میں اچانک تبدیلی کیونکر آئی۔ صدر کا جہاز عین بوڑھے کے گھر کے پاس کیوں اترا اور حج کا دن گذر جانے کے بعد وی آئی پی حج کیسے ممکن ہوا؟ یہی تو کرم کے فیصلے ہوتے ہیں اور پھر جنہیں نوازنا ہوتا ہے نواز دیا جاتا ہے۔ اور بقول فیض وہ تو وہ ہے تمہیں ہو جائیگی الفت مجھ سے اک نظر تم میرا محبوبِ نظر تو دیکھو!! یہ ان دنوں کی بات ہے کہ جب میں طالب علم تھا۔ تب میرے بڑے بھائی جان جو نیشنل کالج آف آرٹس میں پڑھاتے تھے۔اس دوران میں پاکستان میں نا انصافی سے تنگ آ کر ملازمت چھوڑ کر ڈزنی ورلڈ(امریکہ) چلے گئے۔ وہ کبھی کبھی مجھے امریکہ سے جیب خرچ کیلئے پیسے بھیج دیا کرتے تھے۔ ان کے پیسے امریکن ایکسپریس کے دفتر شاہ دین بلڈنگ مال روڈ نوائے وقت کے پرانے دفتر کے پاس تھا۔ میں وہ پیسے لینے کیلئے وہاں پہنچا۔  مجھے ٹوکن پکڑا دیا گیا۔ چونکہ پیسے لینے والوں کی قطار لمبی تھی میں دل ہی دل میں کوسنے دینا شروع ہو گیا کہ نجانے کتنی دیر بعد میری باری آئے گی۔ میں نے اپنی گاڑی ٹیوٹا دفتر کے بالمقابل الفلاح بلڈنگ کے باہر پارک کی ہوئی تھی۔
اچانک ایک زور دار دھماکہ ہوا اور الفلاح بلڈنگ دھویں میں چھپ گئی لوگ حیران و پریشان ہو کر ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے کیونکہ اس وقت بم دھماکوں کا رواج نہیں پڑا تھا۔ غالباً اس دھماکے کی ذمہ داری الذلفقار تنظیم نے قبول کر لی تھی۔ آہستہ آہستہ دھواں کم ہونا شروع ہوا۔ دھماکہ عین اس جگہ پہ ہوا تھا جہاں میری گاڑی کھڑی تھی۔ مجھے یقین ہو چلا تھا کہ گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہو گی میں نے اسکی انشورنس بھی نہیں کرائی تھی۔ نہ مجھے اسوقت اتنی سمجھ تھی۔ جب دھواں ہٹا اور تباہ شدہ گاڑیاں نظر آنی شروع ہوئیں تو میں نے دیکھا کہ گاڑی اللہ کے فضل سے بالکل ٹھیک تھی اس میں ذرہ بھی خراش تک نہیں آئی تھی حالانکہ اس کے ساتھ والی گاڑی تباہ ہو گئی تھی۔ میں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور یہ سوچتا رہ گیا کہ امریکن ایکسپریس کی لمبی لائن پہ میں جب منہ بنا رہا تھا اور دل میں خواہ مخواہ کوس رہا تھا۔ اگر میں کچھ دیر بھی پہلے پیسے لیکر فارغ ہو گیا ہوتا تو میں عین اس وقت گاڑی میں ہوتا۔ اللہ نے مجھے نئی زندگی عطا فرمائی اور بڑے عرصے تک میں اس واقعہ کو بھلا نہ سکا۔ اس کے علاوہ ایک دفعہ میں ملتان سے پی آئی اے کے فوکر میں لاہور آ رہا تھا۔ ابھی اس روٹ پر موسم نہایت اچھا تھا ائربس یا طیارے نہیں چلائے گئے تھے۔ جب میں ائیرپورٹ پر ملتان بیٹھا ہوا تھا تو میرے ساتھ لیبیا سے آئے ہوئے ڈاکٹر عبدالباسط صدیقی اور میرے گھر والے بھی تھے۔ ڈاکٹر عبدالباسط نے میرے ساتھ حج کیا تھا اور حج کے دنوں کی دوستی بڑی گہری ہوا کرتی ہے۔ ڈاکٹر عبدالباسط کا مجھے لیبیا سے ملنے بطور خاص آیا کرتے تھے۔ اللہ انہیں جوار رحمت میں جگہ دے۔ ان کی موت کی وجہ ہر وقت فریز کیا ہوا پانی پینا تھا۔ وہ ایک گلاس یخ پانی پیتے اور دوسرا فوراً فریزر میں رکھ دیتے۔ میں بات کر رہا تھا فوکر جہاز کے سفر کی۔ جونہی جہاز نے ٹیک آف کیا۔ تھوڑی دیر بعد جہاز ڈگمگانے لگا اور ہچکولے کھانے لگا۔ طوفان بادو باراں میں گھرے جہاز میں ایسے لگا کہ جہاز پر کڑکتی اور چمکتی بجلی ابھی گری کہ گری۔ جہاز کبھی ہزاروں فٹ نیچے آ جاتا اور کبھی دائیں ہو جاتا اور کبھی بائیں۔ میری حالت انتہائی غیر ہو گئی۔ سامنے کچھ لوگ اخبار پڑھ رہے تھے۔ جس میں سب سے بڑی خبر یہ تھی کہ ہوائی حادثے میں تمام مسافر جاں بحق ہو گئے۔ لوگوں نے اخبار پڑھنا بند کر دیا۔ ائیر ہوسٹس کی آنکھوں سے بھی اشک رواں ہو گئے۔ آگے والی سیٹوں پر سردار نصراللہ خان دریشک اپنے بیوی بچوں کیساتھ بیٹھے ہوئے۔ جن کا بچہ بار بار ان سے پوچھ رہا تھا۔ بابا یہ جہاز گر جائیگا تو سب مر جائیں گے۔ ان سے اگلی سیٹ پر انگریز کے صبرکا پیمانہ بھی لبریز ہو گیا۔ ہم نے جہاز کے ڈگمگانے کے ایسے  مناظر انگریزی فلموں میں تو دیکھے تھے لیکن اپنے ساتھ یہ زندگی میں پہلی دفعہ ہو رہا تھا۔ ہر مسافر یہ سمجھ رہا تھا کہ خدانخواستہ جہاز ابھی گرا۔ لوگوں کے ہونٹوں پر کلمہ کا ورد جاری ہو گیا۔ خدا خدا کر کے لاہور ائرپورٹ پر جب جہاز نے الٹے سیدھے، خدا خدا کر کے لینڈ کیا تو نیچے بھی طوفان کی حشر سامانیاں نظر آئیں۔ درخت گرے پڑے تھے نیون سائن اور اشتہاری بورڈ ہواؤں میں اڑتے پھرتے تھے۔ لاہور کی تاریخ کا یہ بدترین طوفان تھا جو ایک سو ستائیسں کلومیٹر کی رفتار سے آیا تھا جس نے لاہور میں تباہی مچا دی تھی۔ لوگوں کے مکانوں کی چھتیں اڑ گئی تھیں۔ ہم نے گھر پہنچ کر خدا کا شکر ادا کیا اس نے  ہمیں نئی زندگی عطا فرمائی تھی۔ دوسرے دن اخبارات اور خبروں میں بھی یہ خبر شامل تھی کہ فوکر جہاز حادثے سے بال بال بچ گیا۔
ایک دفعہ میں اپنی فیملی کے ساتھ ڈیرہ غازی خان جانیکے کیلئے شام چار بجے لاہور سے روانہ ہوا۔ شام ہوتے ہی آندھی شروع ہو گئی۔ آندھی اس قدر شدید تھی، لگتا تھا کہ گاڑی کے شیشے ٹوٹ جائیں گے یا کھل جائیں گے بلکہ ایسے لگتا تھا کہ گاڑی ہی الٹ جائے گی۔ سڑک پردونوں جانب نہایت بڑے بڑے درخت تھے اور گاڑی کیساتھ سڑک کی جانب کھائی نما لمبا سا نالہ تھا۔ جس کی وجہ سے ہم گاڑی کو اس طرف بھی نہیں کر سکتے تھے۔درخت ہمارے سامنے گر رہے تھے۔ میرا ڈرائیور عمر رسیدہ اور نہایت پرہیز گار شخص تھا۔ میں نے اسے کہا کہ گاڑی کو تھوڑا آگے کر دیں۔ مگر اس نے آگے کرنے سے انکار کر دیا اور بولا صاحب گاڑی ٹھیک کھڑی ہے۔ آپ دعا کریں۔ میں نے اسے کئی بار گاڑی کو آگے کرنے کو کہا اور ہر بار اس نے انکار کیا تو میں نے اسے کہا اچھا تھوڑا سا پیچھے کر دیں تو اس نے پیچھے کرنے سے بھی انکار کر دیا۔ تو میں نے قدرے سختی سے کہا کہ میں جو تمہیں کہہ رہا ہوں گاڑی آگے کرو۔ میں آپ کی بجائے اسے تم کہہ رہا تھا۔ تو وہ میری تلخ نوائی سمجھ گیا۔
دراصل میں اندازہ لگا رہا تھا کہ سائیڈ والا دیو قامت اور قدیم درخت اگر گرا تو وہ سیدھا ہماری گاڑی پر آ گرے گا۔ اور ایسے ہی ہوا۔ جونہی ڈرائیورنے گاڑی آگے کی۔ درخت عین اسی جگہ آ کر گرا جہاں ہماری گاڑی ایک لمحہ پہلے کھڑی تھی۔ درخت کی شاخوں نے ہماری گاڑی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ مگر اللہ کے فضل و کرم سے ہم سب بچ گئے تھے۔ اب ڈرائیور بھی خدا کا شکر ادا کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ خدا نے ہمیں نئی زندگی عطا فرمائی ہے۔ اللہ نے ہمیں خوفناک حادثے سے بال بال بچا لیا ہے۔
 جب میں پنجاب یونیورسٹی میں پڑھتا تھا وہ بھی زندگی کا ناقابل فراموش واقعہ ہے۔ اس وقت اومنی بسیں چلتی تھیں۔  ویگن چلنا شروع نہیں ہوئی تھی۔ میں کلاس سے فارغ ہونے کے بعد ٹیبل ٹینس کھیلنے کیلئے اپنے ڈیپارٹمنٹ کی اوپر والی منزل پر چلا گیا۔کھیلتے کھیلتے شام کے سائے چھا گئے۔ میں اپنے دوست اعجاز کے ساتھ جو میرا دیرینہ دوست تھا۔ نیچے آیا۔ اعجاز مجھے ملنے کیلئے ہی اتنی دور سے آیا تھا۔ جب ہم یونیورسٹی کے شعبہ آئی ای آر کے بس سٹینڈ پر پہنچے تو ہماری سینئر کلاس فیلو جو ہم سے خاصی بڑی تھیں، ہم سب احترام میں انہیں آپی کہا کرتے تھے۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ اس وقت بس آئیگی کہ نہیں، میں نے انہیں بتایا کہ شام چھ بجے بسیں آنا بند ہو جاتی ہیں تو انہوں نے مجھ سے گزارش کرنے کے سے انداز سے کہا۔”مجھے موٹر سائیکل پر گھر چھوڑ آؤ کیونکہ ادھر تو رکشہ یا ٹیکسی بھی نہیں آنی“۔ مجھے موٹر سائیکل چلانیکا شوق تھا۔ اس سے پہلے میں نے ایک دفعہ موٹر سائیکل چند منٹ کیلئے چلایا ہوا تھا۔ میرے والدین موٹر سائیکل کے خلاف تھے انہوں نے موٹر سائیکل کی بجائے گاڑی لیکر دے دی تھی مگر موٹر سائیکل پر راضی نہیں ہوئے تھے۔
میں نے آپی کو پیچھے بٹھایا اور موٹر سائیکل کو اتنی سپیڈ سے چلایا کہ اس کی آخری سپیڈ تھی کیونکہ اس کے آگے ہاتھ گھومنا بند ہو گیا تھا۔ سڑک خالی بلکہ سنسان تھی۔ اتنی دیر میں مجھے پتہ ہی نہیں چلا کہ سیدھی سڑک ختم ہو گئی ہے اور آگے (ٹی) کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ جو دائیں ہاتھ وحدت کالونی کیطرف جاتی تھی۔ اب نہ تو اتنی تیزی میں دائیں طرف جا سکتا تھا نہ بائیں طرف موڑ سکتا نہ میں بریک لگا سکتا تھا، آگے خوفناک حد تک گہری کھائی تھی۔ میں نے موٹر سائیکل کو کھائی میں جانے دیا کیونکہ اس کے سوا چارہ ہی نہیں تھا۔ بس اتنی احتیاط کی اور خدا نے حواس پر قابو پانے کی توفیق دی کہ موٹر سائیکل کو مضبوطی سے اور سیدھا تھامے رہا۔ موٹر سائیکل نے سڑک سے کھائی میں گرنے میں بھی کافی وقت لیا کیونکہ کافی گہری تھی۔ موٹر سائیکل سیدھا کھائی میں گرا۔ آپی گرنے کے بعد لہولہان ہو گئیں، میں کپڑے جھاڑ کر کھڑا ہو گیا۔ اتنی دیر میں دو راہگیر اور ایک رکشے والا بڑی مشکل سے ہمیں بچانے کیلئے کھائی کے اندر آئے اور ہمیں زندہ سلامت دیکھ کر ان کے منہ سے بے ساختہ نکلا کہ جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے۔یہ واقعہ مجھے جب بھی یاد آتا ہے۔ تو میری نیند اڑ جاتی ہے۔ ذرا آپ بھی تصور کریں کہ آپ فل سپیڈ میں موٹر سائیکل چلا رہے ہوں۔ اچانک نہایت گہری کھائی آ جائے تو آپکا کیا حال ہو گا اور بچ نکلنا کیسے ممکن ہو گا۔ اس کے بعد صرف اس گہری کھائی کو دیکھنے کیلئے یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد بھی میں کئی دفعہ گیا ہوں ؎
شاید کوئی منطق ہونہاں اس کے عمل میں تقدیر بین تابع منطق نظر آتی
٭٭٭
محمد داؤ نوائے وقت
زندگی میں بعض ایسے واقعات بھی رونما ہو جاتے ہیں جنہیں یادوں کے دریچے میں سنبھال کر رکھنا پڑتا ہے اور کبھی کبھار تنہائی میں جب یادوں کے کواڑ کھول کر جھانکا جائے تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ ان لمحات میں اگر اللہ تبارک و تعالیٰ کی خاص مدد اور مہربانی شامل حال نہ ہوتی تو نہ جانے کیا کچھ ہو جاتا۔ یہ واقعہ 1982ء کا ہے‘ کالج کے دوستوں کے ساتھ 14 اگست کے ہنگاموں سے لطف اندوز ہونے کیلئے مری جانے کا پروگرام بنایا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب نوجوان طلباء تفریح اور گرمیوں میں سردی کا مزہ لینے کیلئے گرمیوں کی چھٹیوں میں مری جانے کو اولیت دیتے تھے۔ مری میں چند روز گزارنے کے بعد ہم راولپنڈی پہنچے۔ راولپنڈی سے لاہور جانے کیلئے بس اڈے پر پہنچے تو وہاں ایک بالکل نئی بس لاہور روانگی کیلئے تیار کھڑی تھی۔ تمام دوستوں کی متفقہ رائے تھی کہ نئی بس میں سفر کیا جائے کیونکہ یہ بس تیز رفتار ہو گی اور ہمیں کم وقت میں لاہور پہنچا دیگی۔ نئی بس میں سوار تو ہو گئے لیکن ابھی اس کی بیشتر سیٹیں خالی پڑی تھیں اور اس کے چلنے میں ابھی دیر تھی۔ اسی اثناء میں لاہور جانے والی ایک اور بس قریب آ کر رکی۔ وہ مسافروں سے تقریباً بھری ہوئی تھی البتہ پچھلی کچھ سیٹیں خالی تھیں۔ ایک دوست نے مشورہ دیا کہ نئی بس کو چھوڑیں اور لاہور جانے والی اس بس میں بیٹھتے ہیں یہ جلدی منزل مقصود پر پہنچا دے گی۔  پس و پیش کے بعد بالآخر نئی بس سے اتر کر ہم لاہور جانے والی دوسری بس میں سوار ہو گئے اور ہمارے سیٹیں سنبھالتے ہی وہ منزل کی جانب رواں دواں ہو گئی۔ جہلم کے قریب نئی بس نے ہماری بس کو جب کراس کیا تو افسوس ہوا کہ اسی میں ہی بیٹھے رہتے۔ ہماری بس جب کالاشاہ کاکو کے قریب پہنچی تو وہاں پر بس اور ٹرک میں تصادم کیوجہ  سے ٹریفک جام تھا۔ ہم لوگ بھی اپنی بس سے نیچے اتر کر جائے حادثہ پر پہنچے تو یہ دیکھ کر ہمارے حواس قابو میں نہ رہے کہ یہ وہی نئی بس تھی جس سے ہم اتر کر دوسری بس میں بیٹھ گئے تھے۔ وہاں پر موجود امدادی کارکنوں نے بتایا کہ بس میں سوار تمام مسافر جاں بحق ہو گئے ہیں کوئی بھی نہیں بچ سکا۔ بس مکمل طور پر تباہ ہو چکی تھی۔ ہمیں اللہ نے بال بال بچا لیا تھا کیونکہ کچھ گھنٹے قبل ہم بھی اسی بس کے مسافر تھے لیکن بروقت اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں دوسری بس میں سوار کرا کر محفوظ کر لیا۔ اللہ کی اس کرم نوازی پر ہم بے حد شکر گزار تھے اور لاہور پہنچنے پر سب سے پہلا کام یہ کیا کہ شکرانے کے نوافل ادا کئے۔ اب بھی جب کبھی یہ واقعہ یاد آتا ہے تو زبان پر اللہ کے شکر کے کلمات جاری ہو جاتے ہیں۔ بے شک جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے۔
2003ء میں مجھے اپنی اہلیہ کے ہمراہ عمرہ کی سعادت حاصل ہوئی۔ عمرہ کا پیکج 17 دن کا تھا جس میں جہاز کا ٹکٹ اور مکتہ المکرمہ اور مدینتہ المنورہ میں رہائش شامل تھی۔ لاہور سے جدہ اور پھر جدہ سے مکتہ المکرمہ پہنچے۔ مکتہ المکرمہ میں پانچ دن قیام کے بعد مدینتہ المنورہ جانا تھا۔ جس ٹریول ایجنسی سے ویزہ لگوایا اس نے ہمیں مکتہ المکرمہ سے مدینتہ المنورہ تک ٹرانسپورٹ کی سہولت نہیں دی تھی اس لئے اپنے طور پر ایک پرائیویٹ مسافر بس پر ظہر کی نماز ادا کرنے کے بعد سوار ہوگئے۔ بس کا ڈرائیور اور کنڈکٹر مسافروں کو پکڑ پکڑ کر بس میں بٹھاتے رہے اور اس دوران کافی وقت ضائع ہو گیا اور مغرب سے کچھ دیر قبل بس عازم سفر ہوئی۔ مکتہ المکرمہ کی بیرونی چیک پوسٹ پر نماز مغرب ادا کرنے کی اجازت دی گئی۔ راستے میں بھی دو جگہ طویل قیام کیا اور رات کے تقریباً ساڑھے گیارہ بجے مدینہ شریف کی ایک شاہراہ پر بس روک کر مسافروں کو اتار دیا گیا۔ ہماری بکنگ ہوٹل دارمحمدی میں تھی۔ ہوٹل پہنچ کر کاؤنٹر پر موجود منیجر کو ریزرویشن کا لیٹر دیا تو منیجر نے کچھ دیر توقف کے بعد فرمایا کہ میں بہت شرمندہ ہوں آپ کا  ریزرو کیا گیا کمرہ کسی اور مسافر کو الاٹ کر دیا ہے۔

میں نے انہیں کہا کہ میری لاہور سے ریزرویشن ہے اور کمرہ کا کرایہ میں پیشگی ادا کر چکا ہوں۔ منیجر نے جواب دیا کہ آپ کا ہم نے 11 بجے تک انتظار کیا تھا آپ نہیں آئے تو کمرہ کسی اور کو دے دیا۔ میں نے انہیں کہا کہ کوئی بات نہیں آپ مجھے اور کمرہ الاٹ کر دیں لیکن منیجر نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ہوٹل میں کوئی بھی کمرہ خالی موجود نہیں ہے۔ اس کے جواب پر بے حد مایوسی ہوئی۔ مجھے پریشان دیکھ کر منیجر نے کہا کہ آپ پریشان نہ ہوں‘ آپ میرے ساتھ چلیں کسی نہ کسی ہوٹل میں آپ کیلئے کمرے کا بندوبست ہو جائے گا۔ تھوڑی دیر بعد میں منیجر کے ہمراہ مدینہ شریف کی گلیوں اور سڑکوں پر ہوٹل میں رہائشی کمرہ کی تلاش کیلئے چل پڑا۔ یہ شب جمعرات تھی اس لئے تمام ہوٹل معتمرین حضرات کے رش کی وجہ سے تقریباًٰ بک ہو چکے تھے۔ اگر کسی ہوٹل میں کوئی کمرہ خالی بھی ملتا تو اس کا کرایہ بہت زیادہ طلب کیا جاتا۔ رات کا پچھلا پہر اور مدینہ شریف کی گلیاں‘ عمرہ پر روانگی سے قبل کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایسے خوبصورت لمحات بھی میسر آئیں گے۔ بہرحال دو گھنٹے تک تلاش و بسیار کے باوجود کوئی بھی معقول کرایہ پر کمرہ ملا نہ ہوا۔ منیجر نے مشورہ دیا کہ رات تقریباً بیت چکی ہے تہجد کا وقت ہونے والا ہے آپ مسجد نبویؐ چلے جائیں۔ نماز فجر کی ادائیگی کے بعد واپس آئیں گے تو آپ کیلئے کوئی نہ کوئی رہائش کا بندوبست کر دوں گا۔ افسوس اس کا ضرور تھا کہ ٹریول ایجنٹ اور ہوٹل انتظامیہ کی نالائقی کی وجہ سے مجھے ا ور میری اہلیہ کو رات جاگ کر گزارنی پڑی۔ مسجد نبویؐ میں نماز تہجد‘ نوافل اور فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد روضہ رسولﷺ پر حاضری کیلئے پہنچا تو لبوں پر اپنے لئے آسانی کی دعا بھی تھی۔ مسجد نبویؐ سے باہر آ کر ایک پاکستانی ریسٹورنٹ میں ناشتہ کیا اور ہوٹل میں جا پہنچے۔ منیجر نے ہمیں دیکھ کر کہا کہ مبارک ہو آپ کا مسئلہ حل ہو گیا ہے۔ جو کمرہ آپ نے بک کرایا تھا وہ اب خالی ہو چکا ہے۔ اس کمرے میں مقیم معتمر حضرات صبح نماز کے بعد آ کر اپنا سامان لیکر چلے گئے ہیں۔ منیجر کے الفاظ تھے کہ 22 سالہ ہوٹل کی سروس کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ کوئی معتمر اس طرح کمرہ خالی کر کے چلے گئے ہوں۔ میرا خیال ہے کہ در رسولﷺ پر جو دعا کی تھی وہ قبول ہو گئی اور ہمیں ہمارا بک کرایا گیا ہوٹل کا کمرہ کچھ گھنٹوں کی پریشانی کے بعد واپس مل گیا البتہ یہ ضرور ہوا کہ اس بہانے رات کے پچھلے پہر مدینہ شریف کی ”سارے جگ توں نرالیاں“ گلیوں میں گھومنے اور برستی رحمتوں کا نظارہ دیکھنے کا موقع ملا۔ شاید مرتے دم تک میں ان یادگار لمحات کو نہ بھلا سکوں۔ مدینہ شریف میں 9 دن قیام کے دوران ایک اور واقعہ بھی پیش آیا۔ پاکستان واپسی کا ٹکٹ کنفرم کرانے کیلئے مجھے عشاء کی نماز کے بعد سعودی ائر لائنز کے آفس جانا پڑا۔ واپسی پر ہوٹل کی جانب مقررہ راستے پر جانے کی بجائے اہلیہ کے کہنے پر نامعلوم سمت کی طرف روانہ ہوگئے۔ ہمارا یہ  اندازہ تھا کہ شاید اس راستے سے جلدی ہوٹل پہنچ جائیں گے۔ اندازہ غلط ثابت ہوا اور ہم راستے سے بھٹک گئے۔ بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ قصداً بھٹک گئے۔ ہوٹل کی طرف جانے والا سیدھا راستہ چھوڑ کر نامعلوم راستے کی طرف جانے اور راستہ بھٹکنے پر  قاری وحید ظفر کی نعت کا یہ شعر بہت یاد آیا
ہم مدینے میں تنہا نکل جائیں گے
اور گلیوں میں قصداً بھٹک جائیں گے

تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک پیدل لوگوں سے راستہ پوچھ پوچھ کر مسجد نبویؐ پہنچے اور پھر وہاں سے معمول کے مطابق جس راستے سے ہوٹل جاتے تھے اس راستے سے ہوٹل پہنچے۔ مدینہ شریف میں یہ گزرے ہوئے لمحے میری ساری زندگی کا اثاثہ ہیں۔
٭٭٭
بڑیگیڈئیر (ریٹائرڈ) بابر علاؤالدین فاروقی
میرے والد ایک مُحِبِ وطن انسان تھے۔ اُنہوں نے تربیت کے ذریعے وطن سے دل ودماغ میں محبت کی شمع جلائی اور ہندوستان سے نفرت کی ایسی چنگاری سلگا ئی جب میں پندرہ سال کا ہوا تو میں نے فیصلہ کر لیا، مجھے فوج میں جانا ہے اور دشمن کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن کے اپنے وطن ِ عظیم کی حفاظت کرنی ہے۔ میرے اس ارادے کو گھر والوں نے بہت سراہا اور میں میٹرک کے بعد PMA ٹریننگ کے لیے چلا گیا۔ چار سال کی انتہائی مشکل ٹریننگ کے بعد جب پاس آؤٹ ہوا تو انفینٹری کی بہترین یونٹ 33بلوچ میں پوسٹ ہوا۔ رات دن ایک تواتر سے چلنے لگے۔ شرارتی اور لا اُبالی پن ختم ہو چُکا تھا۔ چھوٹی سی عمر میں PMA کی جفا کشی نے مجھے بہت حد تک میچور کر دیا تھا۔ زندگی اور اُس کی دھوپ اور چھاؤں میرے سامنے تھی۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ ایک فوجی افسر بن کر وردی پہنوں گا لیکن اب ایسا لگ رہا تھا جیسے وردی اور میرا برسوں پرانا ناطہ ہے۔ وردی جب سے میرے جسم کا حصہ بنی تھی میری سوچ اور اطوار سب بدل گئے تھے۔ فوج میں آنے سے پہلے 1965 کی جنگ کے واقعات سنتا تھا یا ٹی وی پہ اُن کے مناظر دیکھتا تو سوچتا تھا، آخر افواجِ پاکستان اس طرح مٹنے کے لیے کس طرح مسکراتے اور سینہ تانے ہوئے گولیوں کی بوچھاڑ،ٹینکوں کی گھن گرج اور گرتی ہوئی لاشوں کی پرواہ کیے بنا آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں اور اللہ اکبر کے نعرے لگاتے ہوئے آسمانی بجلی کی طرح دشمنوں پر گرتے ہیں لیکن جب خود فوجی افسر بن گیا تو احساس ہوا کہ فوجی بننے کے بعد اپنی ذات تو فنا ہو جاتی ہے صرف زندہ رہتی ہے ملک اور دین کی محبت۔ یہ تو حقیقت ہے کہ فنا کے بعد بقاء کا جو سفر شروع ہوتا ہے اُس سفر کو فنا نہیں ہوتی۔ میں بھی اُسی فنا کے سفر پر چل پڑا تھا۔ یونٹ میں رہتے ہوئے تین تین ماہ کی ایکسر سائز پہ کبھی بھوکے پیاسے اور کبھی پانی اور کیچڑ سے لتھڑے کپڑے اور جوتوں سمیت دو یا تین گھنٹوں چلتے تو بھی تھکان کا احساس نہ ہوتا۔ جس بھی کٹھن مرحلے سے گزرتا گھر والوں سے کبھی ذکر نہ کرتا۔ یونہی گزرتے گزرتے وقت نجانے مجھے کہاں سے کہاں لے گیا۔ سیاچن کی برف پوش پہاڑیوں پر جہاں زندگی کا نام و نشان دیکھنے کو نہیں ملتا وہاں پر ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزارنا پڑا۔ زیادہ تر خوراک Tinpack میں ہمیں ملتی۔ اگر ہم سے وہاں کوئی تحفہ بھیجنے کی بات کرتا تو ہم سبز دھنیا،ہری مِرچ اور پودینہ تحفے کے طور پر بھیجنے کو کہتے۔ برف کے اِگلوز میں سمٹ کے بیٹھے رہتے۔ کہنے کو تو چاندنی رات بہت دلفریب ہوتی ہے مگر سیاچن گلیشئر پہ چاندنی راتیں جذبات اور تخیل کے تاروں میں کوئی سُر پیدا نہیں کرتیں۔ ایسے میں جب ایک گلیشئر سے دوسرے گلیشئر پہ جانے کے آرڈر ملتے تو ہم جان ہتھیلی پہ رکھ کے نکل پڑتے۔ ایسی ہی ایک موومنٹ میں مجھے اپنی موت کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا جسے میں کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔ ہمیں بائیس ہزار فٹ کی بلندی پہ ایک پوسٹ پہ جانے کا آرڈر ہوا۔ ہماری وردی کی بیلٹ پہ ایک رِنگ ہوتا ہے جس میں سے ایک مضبوط رسی گزاری جاتی ہے۔

اس کا مقصد ہوتا ہے کہ اگر گلیشئر پہ چڑھتے ہوئے کوئی کھائی آجائے اور انسان گِر پڑے تو اُسے اوپر والا رسی کی مدد سے اوپر کھینچ کر بچا لے۔ اسی طرح ہم لوگ اللہ کا نام لے کر اوپر چڑھنے لگے۔ میں چوتھے نمبر پہ تھا۔ اوپر دیکھتے سنبھلتے ہوئے ہم چڑھتے جا رہے تھے، ایک دم میرے پاؤں کے نیچے گہری کھائی آگئی اور میں برف کے اندر دھنستا گیا۔ وہ اندر سے بہت گہری تھی۔ میرا جسم چھلتا چلا گیا۔ مجھ سے اوپر والے افسر نے مجھے اوپر کھینچا مگر میں آدھا ترچھا بُری طرح پھنس گیا تھا۔ شدید ٹھنڈک،اندھیرا اور آکسیجن کی کمی تھی۔ میرا دم گھٹنے لگا۔ میری آواز اوپر والوں کو نہیں جارہی تھی جبکہ اُن کی سرگوشیاں چیخوں کی صورت میں مجھے سنائی دے رہی تھیں۔ میری آنکھوں کے سامنے میرے ڈھائی سال کے بیٹے مھد اور ایک سال کی بیٹی کنزا کا چہرا تھا جو میرا انتظار کرتے ہونگے۔ لمحوں میں میری زندگی کی ریل میری آنکھوں میں سے گزر گئی۔ مجھے ایک آواز سنائی دی۔ میں آپ انتظار کروں گی بابر یہ میری بیوی  رابعہ رحمٰن رو ہی کی آواز تھی۔ پھر نجانے کس طرح اللہ کی مدد ہوئی اور میں نے اپنا جسم تھوڑا سا پوری طاقت کے ساتھ سیدھا کیا اور پھر کوئی مجھے اوپر کھینچتا چلا گیا۔ جب مجھے ہوش آیا تو میں ایک اگلو میں تھا اور میرے ساتھی میرے پاؤں کے تلوے سہلا رہے تھے۔ گرم گرم چائے سے میرے حلق میں اُتار رہے تھے۔ مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ میں زندہ ہوں۔
    اس سے بھی زیادہ قریب میں نے اپنی موت کو دیکھا بلکہ موت کو چُھو کر واپس لوٹا۔ 2004ء میں شکئی سیکٹر پریونٹ کمانڈ کر رہا تھا وہاں پر ہر وقت ہمیں چوکنا رہنا پڑتا تھا۔ طالبان نے جگہ جگہ آئی ڈی لگائی ہوئی تھیں۔ ہم نے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا تھا۔ ایک لوکل گائیڈ ہمارے ساتھ ہو لیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اخلاق اور محبت سے  دنیا فتح کی جا سکتی ہے، دشمن تو کوئی چیز ہی نہیں۔ اس لیے علاقے کا آدمی ہمارے ساتھ تھا تاکہ کوئی ایسا خطرہ ہو تو وہ ہمیں بروقت بتاسکے۔ میری جیپ کے آگے ایک اور علاقائی لڑکا آگیا اور کہنے لگا سر میں آپ کے ساتھ جاؤں گا۔ میں نے اُسے دوبار منع کیا مگر وہ پہاڑی کے دوسر ی طرف سے پھر ہمارے ساتھ ہو لیا۔ چھوٹی سی عمر معصوم صورت ہمارا ساتھ دینے کے لیے اُس کے اندر ایک عجیب سا جذبہ تھا۔میرے ساتھ پندرہ لوگ تھے۔ حوالدار،نائیک،سپاہی اور دو علاقائی لوگ۔ چلتے چلتے میری نظر ایک ایسے بڑے پتھر پہ پڑی جس کے نیچے سے تار گزر رہی تھی۔ میں نے چلا کر سب کو ہوشیار کر دیا۔ پہاڑ پر بھی ہمارے آدمی Picket پہ بیٹھے تھے۔

میرے آدمی ڈیڈیکٹر لے کے آگے بڑھے۔ طالبان ہمیشہ ایسی جگہوں سے دور بیٹھ کر ریموٹ دبا کر بلاسٹ کر دیا کرتے تھے۔ میری چھٹی حِس نے بتا دیا تھا کہ ہم سب خطرے میں ہیں۔ میں نے کہا جو واپس جانا چاہتا ہے چلا جائے اُس علاقائی لڑکے کو بھی میں نے واپس جانے کو کہا مگر وہ مجھ سے دو قدم آگے بڑھ گیا اور پھر لمحہ بھر میں دشمنوں نے ID بلاسٹ کر دی۔ کون کہاں کہاں اُڑ کر گرا کسی کو کچھ پتہ نہیں تھا۔ مجھے جب ہوش آیاتو میری ٹانگوں پر اوپر والا آدھا دھڑ پڑا ہوا تھا جس کے منہ سے سورۃ فاتحہ کا ورد جاری تھا اور اُس کی ٹانگیں کٹ کر اوپر لٹک رہی تھیں۔ میرے دائیں جانب ایک حوالدار نے اپنی آنکھوں پہ ہاتھ رکھا ہوا تھا اور اُس کے چہرے سے لہو پانی کی طرح بہہ رہا تھا۔ نجانے میں کیسے بچ گیا۔ میرے گرد ہر طرف موت، خون اور آہ و زاری تھی۔ کسی نہ کسی کونے سے کلمہ پاک کے ورد کی آوازیں آرہی تھیں اور وائرلیس پہ میرے لیے اعلان ہو رہا تھا کرنل صاحب شہید ہو گئے۔۔۔۔!
                جذبہ حق آزمانے نکلا ہوں 
                مجاہد ہوں شہادت پانے نکلا ہوں۔    
                ٭٭٭                    نوریز انور سوفٹ ویئر انجنیئر

لڑکپن میں مجھے موٹر سائیکل ریس لگانے اور سب سے زیادہ اچھی موٹر سائیکل رکھنے کا شوق پیدا ہوا۔ شوق کو پورا کرنے کیلئے گھر والوں سے ضد کر کے 125 ہُنڈاموٹر بائیک لی۔ اس کے بعدہر جمعہ کو میانچنوں بائی پاس پر بائیک کی ریس میں شامل ہونا ایک معمول بن گیا۔ ون ویلنگ کرنا عام طریقے سے بائیک چلانے سے زیادہ آسان لگتا تھا۔ زندگی میں بہت سے واقعات ایسے دیکھے کہ روح کانپ جائے مگر شوق ان سب پر حاوی تھا۔ ایک دفعہ ریس کے دوران میرے سامنے ایک لڑکا بائیک پر لیٹا ہوا تھا تاکہ سپیڈ زیادہ ہو سکے۔ بائیک پر لیٹنے کا مقصد سامنے سے سیدھی پڑنے والی ہواکا اثر ختم کرنا ہوتا ہے۔ بائیک سے گرتے ہوئے بائیک کا پائیدان اس کے سینے میں لگ گیا جس  سے وہ موقع پر دم توڑ گیا۔ یہ سب دیکھنے کے باوجود ہم نے اپنی موٹر سائیکلیں نہیں روکیں جبکہ اگلے جمعہ کو ہم سب پھر ریس میں شامل ہوئے۔یہ بے حسی ویلنگ کے جنوں کی عکاس ہے۔
ایک دن میں ریس ہارنے کے بعد اپنے دوست مدثر کے گھر میلاد پر گیا۔ وہاں صبح جیتنے والے لڑکے نے میرے دوست کے سامنے کہا کہ نوریز تم ریس ہار گئے۔میں نے ہار کا جواز پیش کیا تو مدثر نے اس لڑکے سے کہا۔ تم دوبارہ ریس لگا لو۔ مدثر کو میرے اوپر اعتماد تھا۔ ان باتوں کے بعد کچھ ہی دیر میں ایک نئی ریس کا روٹ طے ہو گیا اور ہم اپنی اپنی بائیک لے کر بڑی سڑک کی طرف چل پڑے۔ مدثر میرے ساتھ بیٹھ گیا اور اس لڑکے نے میری بائیک پر دو سواریاں ہونے کی وجہ سے مجھے تھوڑا آگے جانے دیا۔ ریس شروع ہو گئی۔ میں اور مدثر جاتے ہوئے اس لڑکے سے آگے ہی رہے۔میانچنوں بائی پاس سے شہر میں داخل ہوتے ہوئے  ہماری بدقسمتی ہمارے انتظار میں تھی۔سڑک کے اُس سائیڈ پر گہرا کھڈا تھاجس کا ہمیں علم نہیں تھا۔برق رفتا ربائیک اس کھڈے میں گری اور مدثر اُچھل کر سر کے بل گرا،اس کا سر کھڈے کے کنارے سے ٹکرایا،اس کے بعد وہ اُٹھ نہیں سکا۔دوسری طرف بائیک بے قابو ہوکر اس طرح گری کہ میں تیس چالیس میٹر تک گھسٹتا چلا گیا۔سامنے سے ایس پی کی گاڑی آرہی تھی۔انہوں نے اپنے سامنے یہ منظر دیکھتے ہوئے اپنی گاڑی کی سپیڈ کم کرلی تھی۔میری گھسٹتی ہوئی موٹر سائیکل پولیس کی جیپ کیساتھ ٹکرا کر رُک گئی۔ایس پی صاحب بڑے غصے سے جیپ سے باہر آئے مگر مجھے خون میں لت پت اور بے ہوش دیکھ کر فوری طور پر ہسپتال پہنچایا۔مدثر گرتے ہی اللہ کو پیار ہوگیا تھا۔ اپنے اتنے قریبی دوست کو اپنی آنکھوں کے سامنے خالق حقیقی کے پاس جاتے دیکھ کر میری زندگی میں بہت بڑی تبدیلی آئی۔ اس کی یاد اب بھی تازہ خوشبودار پھولوں کی مانند زندہ ہے۔ اس کے بعد مجھے کوئی بھی سواری تیز چلانے سے یا چلتی دیکھ کر نفرت ہو گئی۔ اب میں اپنے آفس پر جانے کیلئے گاڑی استعمال کرتا ہوں اور کبھی گاڑی 50 ساٹھ سے اوپر نہیں چلاتا۔
٭٭٭
فرزانہ چودھری نوائے وقت میگزین
”میں اور میرے شوہر شہزاد مکان دیکھنے جا رہے تھے۔ یہ گرمیوں سہہ پہر تھی۔لاہور میں چودھری ظہور الٰہی روڈ کے راؤنڈ اباؤٹ کے قریب میں نے ایک کھڑی گاڑی میں نوجوان کو بیٹھے دیکھا جو پسینے میں شرابور تھا۔ جیسے ہی ہماری موٹر سائیکل اس کے قریب سے گزری،اس نے گاڑی ہمارے پیچھے بھگا دی۔ میری نظر اسی پر تھی۔ شہزاد ڈیوائیڈر کے ساتھ موٹر سائیکل چلا رہے تھے۔ وہ گاڑی سیدھا لے کر جانے کے بجائے ہماری طرف آ رہا تھا حالانکہ بائیں جانب کوئی ٹریفک اور رکاوٹ نہیں تھی۔ میرے دیکھتے ہی دیکھتے گاڑی نے ہماری موٹر سائیکل کو ٹکر ماری اور تیزی سے گاڑی لے کر چلا گیا۔ جس سے ہم گر گئے اور موٹر سائیکل کچھ اپنی سپیڈ اور کچھ گاڑی کی ٹکر سے آٹھ دس میٹر گھسٹتی چلی گئی۔ یہ صورت حال زیادہ پریشان کن نہیں تھی مگر خوف اس وقت طاری ہوا جب بیک سائیڈ سے تیز رفتاری کار عین ہمارے اوپر آ کر رکی۔ موٹر سائیکل کا ایک حصہ اس کے بمپر کے نیچے تھا۔ اگر ہم گھسٹتے ہوئے دس میٹر آگے نہ جاتے تو یقینا اس کار کے نیچے آکر کچلے جاتے جو عین ہمارے اوپر آکر رکی تھی۔ ہم دونوں کو رگڑیں آئیں جس کی مرہم پٹی کرائی۔ آج بھی جب کار کی بریکوں چڑ چڑاہت تصور میں گونجتی ہے تو خوف کی وہی کیفیت طاری ہو جاتی ہے جو حادثے کے وقت تھی۔ ہمارے لئے ٹکر مارنے والے ڈرائیور کا رویہ معمہ بنا ہوا ہے۔وہ شرابی تھا۔پاگل تھایا کسی اور کے دھوکے میں ہم پر گاڑی چڑھا دی تھی۔
مئی 2012ء کی بات ہے کہ میں اپنے شوہر محمد شہزاد جو پیشے کے اعتبار سے فیشن فوٹو گرافر ہیں ان کے ساتھ سابق صوبائی وزیر کامرس اینڈ انڈسٹری اور فیصل آباد چیمبر آف کامرس کے صدر اور معروف تاجر میاں شفیق کا فیملی انٹرویو کرنے فیصل آباد گئی۔ جس دن فیصل آباد پہنچی اس رات کو چناب کلب میں معروف تاجر حاجی سکندر عمر نے ہمیں اور میاں شفیق کی فیملی کو ڈنر پر مدعو کیا ہوا تھا۔ ڈنر پر ملاقات ہوئی اور اگلے دن سہ پہر تین بجے میاں شفیق کے فیملی انٹرویو کا وقت طے پایا۔ اگلے دن میاں شفیق کے گھر واقع پیپلز کالونی روانہ ہونے سے آدھ گھنٹہ قبل ان کے موبائل فون پر رابطہ کیا تو موبائل بند تھا کئی بار فون پر رابطہ کیا مگر موبائل مسلسل بند ہی ملا۔ سوچا رات ان سے بات ہو چکی تھی اتوار کا دن تھا گھر پر ہی ہوں گے۔ سہ پہر 3بجے ہم ان کے گھر کے گیٹ پر موجود تھے۔ گیٹ کا چھوٹا دروازہ تھوڑا سا کھلا ہوا تھا۔ کئی بار اطلاعی گھنٹی بجائی مگر گیٹ پر کوئی نہیں آیا۔ پانچ منٹ گیٹ پر کھڑے ہو کر انتظار کیا۔شاید اب کوئی گیٹ پر آ جائے کیونکہ اتنا تو محسوس ہو رہا تھا کہ گھر میں لوگ ہیں۔ خیر میں نے کھلے دروازے سے اندر دیکھا تو ایک دودھ کا بڑا ڈرم رکھا ہوا تھا جس پر آدھا ڈھکن تھا۔ دودھ ناپنے والا برتن بھی پڑا تھا مگر اس کو دیکھ کر لگ رہا تھا جیسے کوئی ادھورا چھوڑ کر جلدی میں گیا ہو۔ میں نے گیٹ کے اندر جائزہ لیا۔ گاڑی پورچ میں کھڑی تھی مگر ایک سناٹا سا تھا۔ میں نے شہزاد کو بتایا اور کہا کہ واپس چلتے ہیں کوئی اندر سے نہیں آ رہا۔ میں چھوٹے گیٹ سے باہر نکلنے ہی والی تھی کہ ایک شخص گھر کے پچھلے حصے سے زیر لب مسکراتا ہوا میری جانب آیا۔ میں نے اس سے میاں شفیق کے بارے میں پوچھا کہ وہ گھر پر ہیں تو اس نے سر کو ہاں میں ہلایا۔ میں نے اس سے کہا گیٹ کا دروازہ کھولو۔ گاڑی اندر لانی ہے۔ اس نے گیٹ کھولا۔ہم نے گاڑی کار پورچ میں لگائی۔ شہزاد نے اپنا کیمرے والا بیگ گاڑی سے نکالا تو اس شخص نے جس کو میں ملازم سمجھ رہی تھی چپ کرکے پکڑ لیا اور ہمیں گھر کے داخلی دروازہ کی طرف لے گیا۔ اس نے دوازہ کھول کر ہمیں اندر جانے کا راستہ دیا۔ جیسے ہی ہم دروازے سے داخل ہوئے تو دائیں جانب ڈرائنگ روم کے شیشے کے دروازے سے دیکھا کہ کچھ لوگ قالین پر لیٹے ہوئے ہیں۔ فوراً ذہن میں خیال آیا کہ میاں شفیق سیاسی شخصیت ہیں ان کے ورکر ہوں گے۔ گرمی میں اے سی لگا کر سو رہے ہیں۔ اسی اثناء میں ایک آواز آئی۔”آپ ٹھیک وقت پر نہیں آئے“ ہم نے دل میں کہا یہ کون بد تمیز ایسی بات کہہ رہا ہے۔ ہم نے مُڑ کر دیکھا تو ایک نقاب پوش ہاتھ میں موزر تھامے کھڑا تھا۔ اس نے شہزاد سے کہا موبائل اور گاڑی کی چابی اور بٹوا دو۔ شہزاد نے ساری چیزیں نکال کر دے دیں۔ پھر ہمیں کہا چلیں آپ بھی آگے۔چند قدم آگے گئے تو آگے دروازہ تھا۔ اس میں داخل ہوئے تو ہم وہ منظر دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ میاں شفیق کے دونوں ہاتھ پیچھے کی طرف باندھے ہوئے تھے۔ وہ ڈائننگ ٹیبل کی کرسی پر بیٹھے تھے۔ بے حد پریشان تھے۔ اس کمرے میں پندرہ بیس لوگوں کو ڈاکوؤں نے یرغمال بنا رکھا تھا۔

میاں شفیق ہمیں دیکھ کر گُم سُم سے ہو گئے، یوں محسوس ہوا جیسے وہ ہمیں جانتے ہی نہیں ہیں، ڈرائنگ روم میں دودھ والا، چوکیدار، لاہور اور فیصل آباد سے آئے ان کے دوست بھی زمین پر اوندھے منہ لیٹے ہوئے تھے میں ڈائننگ ٹیبل کی ایک کرسی پر بیٹھ گئی۔ ایک ڈاکو موزر ہاتھ میں لئے زمین پر لیٹے لوگوں کے سر پر کھڑا تھا۔ ایک ڈاکو اندر باہر آجا رہا تھا۔ ہینڈ فری کے ذریعے کسی سے فون پر بات کر رہا تھا۔ جس ڈاکو نے بٹوا لیا تھا اس نے بٹوا کی تلاشی لی اس میں صرف دو ہزار روپے تھے، ڈاکو نے کہا اس میں تو بہت تھوڑے پیسے ہیں، شہزاد نے کہا بس اتنے ہی ہیں، ڈاکو نے مجھ سے بھی موبائل فون لے لیا اور میرے پرس کی بھی تلاشی لی۔ پوچھنے لگا آپ کون ہیں۔ میں نے بتایا کہ ہم صحافی ہیں اور انٹرویو کرنے آئے تھے، ڈاکو کہنے لگا آپ ان کا انٹرویو کیوں لینے آئی ہیں۔ میں نے بتایا یہ سابق وزیر اور چیمبر آف کامرس کے صدر ہیں۔ پھر اس نے میرا اور شہزاد کا نام پوچھا۔ اتنے میں دوسرے ڈاکو شہزاد کے کیمرے والے بیگ کی تلاشی لینے لگا تو میں نے اس سے کہا”اس میں کچھ نہیں ہے اس میں صرف کیمرہ ہے اس کو مت چھیڑیں کیمرے کو نقصان ہو سکتا ہے“ اس ڈاکو نے میری بات سن کر فوراً بیگ چھوڑ دیا۔ بعد میں مجھے شہزاد نے بتایا اس بیگ میں 35ہزار روپے بھی تھے۔ ایک ڈاکو نے کہا میں بھی صحافی تھا۔ میں نے صحافت میں ذلالت دیکھی ہے۔ کچھ نہیں ملتا۔ انسان بے عزت ہی ہوتا ہے۔ آ پ نے تو ڈکیتی اپنی آنکھوں سے دیکھ لی ہے۔ آپ کو تو سٹوری مل گئی ہے۔ آپ اس کو چھاپیں گی۔ میں خاموش رہی۔ اس نے پھر پوچھا آپ یہ سٹوری چھاپیں گی۔ تو میں نے فواً کہا نہیں۔ میں نے سوچا میں نے کوئی ایسی ویسی بات کر دی تو یہ کوئی نقصان ہی نہ پہنچا دیں۔ وہ ڈاکو بڑے اطمینان کے ساتھ ڈکیتی کر رہے تھے۔ اگر کوئی پانی مانگتا تو اس کے ہاتھ کھول دیتے پانی والی بوتل کو ٹشو پیپر سے پکڑ کر گلاس میں پانی ڈالتے اور ٹشو پیپر سے گلاس پکڑ کر دے دیتے تھے۔
اس نے شہزاد سے کہا آپ ادھر جا کر بیٹھ جائیں۔ سب زمین پر لیٹے ہوئے تھے۔ خواتین صوفے پر بیٹھی تھیں۔ شہزاد زمین پر بیٹھنے لگے تو اس نے کہا شہزاد صاحب آپ کرسی پر بیٹھ جائیں۔ شہزاد کرسی پر بیٹھ گیا۔ ساتھ ہی ایک ڈاکو موزر لئے کھڑا تھا۔ خیر ایک ڈاکو جو کہ ان کا سردار لگ رہا تھا جو ہمارے ساتھ باتیں بھی کر رہا تھا۔وہ ڈاکو میاں شفیق کے بیٹے کو اپنے ساتھ لے کر ڈرائنگ روم کے سامنے والے روم میں گیا اور وہاں جا کر اس کو مارنے لگا۔ اس نے کہا گھر میں جو کچھ تھا وہ سب میں نے آپ کو بتا دیا۔ اس نے کہا نہیں یہ بتاؤ سونا کہاں رکھا ہے۔ اس کو جان کی دھمکی دے رہا تھا۔ وہ ڈاکو بہت بری طرح سے مار رہا تھا۔ یہ سب میں دیکھ رہی تھی کیونکہ میں اس بیڈ روم کے دروازے کے سامنے ہی کرسی پر بیٹھی تھی۔ ایک ڈاکو نے مجھے دیکھا کہ میں دیکھ رہی ہوں تو مجھے غصے سے کہنے لگا۔ آپ سیدھا دیکھیں ادھر مت دیکھیں۔ پھر مجھے بھی کہا گیا کہ آپ یہاں سے اٹھ کر صوفے پر بیٹھ جائیں۔ میں صوفے پر بیٹھ گئی۔ ہمیں آپس میں بات کرنے سے بھی منع کیا۔ اتنے میں وہ ڈاکو میاں شفیق کے بیٹے کو لے آیا اور میاں شفیق کی بیگم سے کہنے لگا اور جو کچھ بھی ہے ہمیں بتا دیں۔ وہ بھی کہنے لگیں آپ کو سب کچھ بتا دیا ہے۔ پھر اس ڈاکو نے دودھ والے کی طرف دیکھا اور کہا۔”توں بڑا بول ریا سی۔ اکڑ ریا سی۔“ یہ کہہ کر اس کو مارنے لگا اور کہا تمہیں بڑی تکلیف ہے جن کا مال جا رہا ہے وہ خاموش ہیں تو غریب آدمی ہے ایسے مارے جانا ہے“اس کے بعد ایک اور شخص میاں شفیق سے ملنے آیا ان کو فون پر اطلاع ملی تو ڈاکو کے لیڈر نے کہا اس کو بھی اندر لے آؤ۔ جب وہ اندر آیا وہ بزرگ آدمی تھا اس کو ڈاکو نے تھپڑ مارنے شروع کر دیئے۔ آ تو بھی مزہ چکھ لے۔ اس وقت اتنا خوف طاری تھا کہ یہاں کچھ بھی ہو سکتاتھا، کہیں یہ ڈاکو کسی کو گولی نہ مار دیں۔ یہ پل قیامت کی مانند گزر رہے تھے۔
پھر ڈاکو میاں شفیق کی بیٹی کو دوسرے کمرے میں لے گئے، اس پر تو دل ہی دہل گیا۔ نہ جانے اب کیا ہو گا، نہ جانے یہ اس کے ساتھ کیا کریں گے۔ تھوڑی دیر کے بعد اس کو لے آئے اور میرے پاس آ کر ڈاکو کہنے لگا۔ باجی فرزانہ آپ اس سے پوچھ لیں ہم نے اس کو کچھ نہیں کہا۔ صرف بات کی ہے اور میاں شفیق کی بیٹی سے کہنے لگے آپ باجی فرزانہ کو بتاؤ۔ ہم نے آپ کو ہاتھ تک نہیں لگایا پھر ڈاکو ڈرائنگ روم میں موزر لئے کھڑا تھا اس نے ٹیبل پر رکھے پیسے اور گھڑیاں جیب میں ڈالیں۔ میں سمجھی اس نے شہزاد کا بٹوا بھی اٹھا لیا ہے تو میں نے اس ڈاکو سے کہا تم نے بٹوا کیوں  اپنے پاس رکھا، واپس کرو۔ اسی وقت شہزاد نے مجھے کہا بٹوا میرے پاس ہے۔ڈاکوؤں نے جلدی سے گھر کا صفایا کیا۔ کیش اور سونے سمیت تقریباً ڈھائی تین کروڑ روپے کی رقم لے اڑے۔ چار ڈاکو گھر کے اندر تھے۔ ان میں تین نیچے اور ایک چھت پر تھا۔ کوٹھی کے باہر بھی کچھ ڈاکو تھے جو کوٹھی میں آنے والوں کے بارے میں اطلاع کرتے تھے۔ جب ڈاکوؤں نے تسلی سے گھر کا صفایا کر لیا تو ہم سب کو ڈرائنگ روم سے نکال کر بیڈ روم میں اکٹھا کیا اور ساتھ ساتھ کہتے رہے کسی نے کوئی حرکت کی تو گولی مار دیں گے۔ بیڈ روم کی کھڑکیوں کے باہر بھی ایک ڈاکو موزر لے کر کھڑا تھا۔ ڈاکو نے دروازہ بند کیا اور دروازے کے ہینڈل کو دوپٹے سے باندھا۔ اس وقت شہزاد نے کہا ڈاکو جا رہے ہیں۔ شہزاد نے ان کے رسی سے بندھے ہاتھ کھولنے شروع کر دیئے۔ ڈاکو ابھی دروازے کو بند کر رہے تھے۔ ان سے چھپ چھپ کر بندھے لوگوں کے ہاتھ کھول رہے تھے۔ ڈاکو نے دروازہ بند کیا اور یہ تاثر دیا کہ اس نے دوپٹہ کا دوسرا سرا کسی چیز سے باندھ دیا ہے۔ اتنے میں کھڑکی کی طرف دیکھا تو جو ڈاکو کھڑکی کے باہر موزر لئے کھڑا تھا وہ بھی غائب ہو گیا۔ تب شہزاد اور میاں شفیق دوازے کی طرف بھاگے۔ میں نے کہا مت جاؤ ڈاکو باہر ہیں۔”گاڑی دیکھ لوں۔“ شہزاد یہ کہتے ہوئے باہر بھاگا تھا۔ گاڑی دیکھ کر ان کی جان میں جان آئی۔کیونکہ سنا ہی تھا، ڈاکو جاتے ہوئے گاڑی بھی لے جاتے ہیں۔ ہماری گاڑی پہلے کھڑی تھی اس کے بعد میاں شفیق کی گاڑی تھی۔ اگر گاڑی لے کر جاتے تو ہماری گاڑی لے کر جاتے۔ اس وقت 15پر پولیس کو کال کی۔ پولیس فوراً آ گئی۔ اس کے بعد سب نے اپنے اپنے موبائل لئے۔ گاڑی کی چابی میٹر سے ملی۔ 
میاں شفیق نے بتایا ”میں اپنے ڈرائنگ روم میں مہمانوں کے ساتھ بیٹھا تھا۔ اچانک ڈرائنگ روم میں دو لوگ داخل ہوئے۔ میں نے پوچھا، آپ کون ہیں تو وہ کہنے لگے۔ ہم سی آئی اے سے آئے ہیں اور آپ سے کچھ پوچھنا چاہتے ہیں۔ میں حیران ہوا کہ یہ لوگ بغیر اجازت کے میرے گھر کیسے داخل ہوئے؟۔ اس سے پیشتر،میں کوئی اور سوال کرتا انہوں نے موزر نکال لئے اور کہا خاموش ہو جاؤ۔ انہوں نے میری تلاشی لی اور میرے ہاتھ باندھ دیئے۔لاہور سے مجھ سے ملنے مہمان آئے تھے ان کے بھی ہاتھ باندھ دیئے۔ ہمارے موبائل اپنے قبضے میں لے لئے۔ جیب میں جو کچھ تھا وہ انہوں نے نکال لیا۔ ہاتھوں کی گھڑیاں اتروا لیں پھر ایک ڈاکو موزر لے کر ہمارے پاس کھڑا ہو گیا اور دوسرا ڈاکو میری بیوی اور بیٹی اور بیٹے کو بھی ڈرائنگ روم میں لے آیا۔ میرے بیٹے کے ہاتھ بھی بندھے ہوئے تھے۔ پھر وہ باری باری گھر کے تمام لوگوں کو ان کے کمروں سے ان کے ہاتھ باندھ کر ڈرائنگ روم میں لے آئے۔ اس گھر میں میری ایک بیوہ بہن اور بیوہ بھابھی بھی اپنے بچوں سمیت رہتی ہیں۔ وہ بڑے اطمینان کے ساتھ باری باری گھر کے ایک ایک فرد کو دوسرے کمرے میں لاتے جاتے اور ان سے پیسوں اور زیور کے بارے میں پوچھتے۔ میری بیٹی نے بتایا کہ وہ لوگ گھر کے پچھلے دروازے سے داخل ہوئے۔ ہم لوگ ٹی وی لاؤنج میں بیٹھے تھے۔ ہم نے ان سے کہا آپ اس طرح بغیر اجازت گھر میں کیوں داخل ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا ہم سی آئی اے کے لوگ ہیں۔ میری بیٹی نے کہا میں وکیل ہوں آپ مجھے بتائیں اس پر ان چار ڈاکوؤں نے اپنی اپنی گن نکال لی اور ان کو یرغمال بنا لیا۔ میری تو زندگی بھر کی کمائی ڈاکو لوٹ کر لے گئے۔
٭٭٭

عالمی شہرت یافتہ قاری سید صداقت علی
”آج سے 13 چودہ سال قبل میں میاں چنوں سے لاہور آ رہا تھا، ساہیوال بائی پاس پر ان دنوں ایک بڑا خطرناک موڑ تھا۔ جہاں ہونے والے حادثات میں کبھی کوئی بچا نہیں تھا۔ میں گاڑی چلا رہا تھا۔ سپیڈ 120 تھی۔ ہماری کار سامنے سے آنیوالے ٹرالر کو کراس کر رہی تھی۔ اس کے پیچھے ٹریکٹر ٹرالی تھی، اس کا ڈرائیور اور میں موڑ اور ٹرالر کی اوٹ کے باعث ایک دوسرے کو نہ دیکھ سکے۔ ٹرالر گزرتے ہی ٹریکٹر بائیں جاب مڑا تو ہمارے بالکل سامنے آ گیا۔ 120 کی سپیڈ میں آمنے سامنے زور دار دھماکے سے ٹکر ہوئی، ساتھ والی سیٹ پر براجمان ڈرائیور ونڈ سکرین سے باہر یونٹ پر جا گرا اس کا سر بری طرح پھٹ گیا، سٹیرنگ سینے کو بری طرح مجروح کرتا ہے۔ خدا کی قدرت سٹیرنگ ٹوٹ کر نیچے آ گیا جس کا دباؤ پیٹ نے آسانی سے برداشت کر لیا۔ میرا اس موقع پر سانس اکھڑ چکا تھا۔ سانس لینے میں شدید دشواری تھی۔ اللہ نے اس حادثے میں محفوظ رکھا۔ زیادہ اور گہری چوٹیں نہ آئیں۔ میں سمجھتا ہوں ذات باری تعالیٰ نے قرآن کریم کا کام لینا تھا۔ اس کے بعد میں قرآت کیلئے پوری دنیا میں گھوما ہوں۔ قرآن کریم میں برکت اور انرجی ہے۔ اس کے سبب میں لگاتار سفر کرتا ہوں۔ کبھی تھکاوٹ اور اکتاہٹ نہیں ہوئی۔ اس حادثے کے بعد ہی پی ٹی وی پر سورۃ رحمن ویژوئل کے ساتھ ریکارڈ کرائی جسے 70 ملین لوگ دیکھ چکے ہیں۔ اس کو IBN ٹی وی چینل پر ویسٹ انڈیز میں لگاتار دکھایا جا رہا ہے جس سے متاثر ہو کر 8 ہزارلوگ مسلمان ہو چکے ہیں جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔
٭٭٭
چودھری محمد اشرف سپورٹس رپورٹر نوائے وقت
یہ 1992ء کا واقعہ ہے میں اپنے عزیز محسن کو لاری اڈے سے لینے جا رہا تھا، رات کے سیاہ سائے ہر طرف چھائے ہوئے تھے، علامہ اقبال روڈ بوہڑ والا چوک کی سڑک پر میں سرخ ویسپا سکوٹر پر رواں تھا، اچانک سامنے سڑک کھدی دیکھ کر جسم میں خوف کی لہر ابھی پوری طرح دوڑی بھی نہیں ہوگی کہ اچانک بریک لگانا پڑی جس پر سکوٹر کے اوپر سے کھائی میں جا گرا اور میرا ویسپا سکوٹر چھاتی پر آن گرا جس سے میں موقع پر بے ہوش ہو گیا کتنی دیر تک وہاں گرا رہا اس کے بارے میں کچھ پتہ نہیں بس اتنا ہی یاد ہے اس کے بعد اگلے روز ہوش میں آیا تو ہسپتال کے بیڈ پر تھا جسم پر پٹیاں تھیں۔ مین روڈ پر ایسی کھدائی اور اس پر اس کی نشاندہی کا نہ ہونا ایسی کھائی کو قاتل بنا دیتا ہے۔“ میں اپنے بھائیوں سے پوچھتا رہا کہ مجھے کیا ہوا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ محسن کو لینے گئے تھے اس کے بعد صبح ہمیں اطلاع ہوئی کہ آپ ہسپتال میں ہیں۔
٭٭٭
کرنل اسد محمود
یہ کالج دور کا واقعہ ہے۔ میں کراچی میں دوست کیساتھ موٹر سائیکل پر جا رہا تھا۔ موٹر سائیکل  کی  سپیڈ زیادہ نہیں تھی۔ بیک سائیڈ سے آنیوالی تیز رفتار فورڈ ویگن نے ٹکر ماری جس سے موٹر سائیکل ویگن کے سامنے گری۔ حیران کن طور پر ویگن ہمارے اور موٹر سائیکل کے اوپر نہ چڑھی البتہ کئی میٹر تک گھسیٹتے ہوئے لے گئی۔ اس میں ہم دونوں شدید زخمی ہوئے۔ دیکھنے والے دنگ رہ گئے کہ نوجوان بچ کیسے گئے۔ گھسیٹے جانے کے دوران موت بالکل سامنے نظر آ رہی تھی۔ زخموں کی نوعیت اور شدت کے باعث مجھے آئی ایس ایس بی میں ڈراپ ہونے کا خدشہ تھا تاہم اللہ نے کرم فرمایا۔
میں 1987ء میں کیپٹن تھا۔ میری کراچی میں کرفیو ڈیوٹی تھی۔ پاکستان چوک سے جیپ گزر رہی تھی۔ اس پر چاروں طرف سے فائرنگ ہونے لگی۔ یہ کھلی فوجی جیپ تھی تین چار گولیاں اس میں پیوست ہوئیں۔ کوئی بھی گولی ہٹ کر سکتی تھی مگر خدا تعالیٰ نے محفوظ رکھا۔
٭٭٭
 ملک نذر حسین بندے کی جاگیر
میں گنے کی ٹرالی لے کر جڑانوالہ جا رہا تھا۔ ٹرالی لوڈ کرتے ہوئے زیادہ وزن ٹرالی کی پچھلی سائڈ پر ہو گیا۔ یہ دو پہیوں والی ٹرالی تھی۔ جڑانوالہ کے قریب نہر کے پل کے عین اوپر ٹرالی پہنچی تو ”الار“ ہونے کی وجہ سے ٹریکٹر کے پچھلے پہیے اوپر اٹھ گئے۔ ٹریکٹر کے اگلے پہیے تو عموماً اوپر اٹھ جاتے مگر پچھلے پہیے کبھی اس طرح نہیں اٹھے تھے۔ اگلے پہیے بھی کبھی اوپر اٹھتے کبھی نیچے لگتے۔ پل کی اترائی کی وجہ سے سپیڈ بھی تیز ہو رہی تھی۔ ہم تین افراد ٹریکٹر پر بیٹھے تھے۔ ٹریکٹر ہوا میں معلق تھا۔ جو کسی بھی لمحے کسی بھی طرف الٹ سکتا تھا۔ ٹریکٹر تقریباً سو میٹر تک اسی طرح چلتا گیا ہماری جان پر بنی رہی۔ ٹریکٹر کی بریکیں پچھلے پہیوں کے ساتھ ہوتی ہیں۔ سامنے سے ٹریفک کم تھی۔ کچھ بھی ہو سکتا تھا۔ تھوڑی دیر بعد ٹریکٹر اپنی اصل حالت میں آگیا تو ہماری جان میں جان آئی۔
٭٭٭
محمد اسلم اعوان (ر) انسپکٹر پاکستان کسٹمز فیصل آباد
میں گھر میں بجلی درست کر رہا تھا۔ تاریں اوپر نیچے تھیں۔ ان میں سے ایک ننگی تار میری کنپٹی سے چھو گئی۔ ایسا لگا کہ اس نے  چٹکی (چونڈی)بھر لی ہے۔ جھٹکا تو لگا مگر تار جہاں تھی وہیں رہی۔ اللہ تعالیٰ نے زندہ رکھنا تھا۔ اچانک بجلی بند ہو گئی۔ میں نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ یہ معجزے سے کم نہیں تھا۔ بجلی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے بند نہیں ہوئی تھی۔ میں تار سے الگ ہوا تو تھوڑی دیر بعد بجلی پھر آ گئی۔ اس کے بعد میں نے کبھی بجلی ٹھیک کرنے کی کوشش نہیں کی۔ ضرورت پڑی تو مکینک کو بلا لیا۔ جس کا کام اسی کو ساجے!
٭٭٭
محمد علی علوی بحریہ سے ریٹائر ہو کر کراچی میں ہی سیٹل ہو گئے۔ وہاں ایک فیکٹری میں ایم ڈی لگ گئے۔ فیکٹری کا کام اس نوعیت کا ہے کہ جہاں رات کی ڈیوٹی نہیں ہوتی۔فیکٹری کے گرد 12 فٹ دیوار۔ اس کے اوپر تین فٹ خار دار تار لگی ہوئی ہے۔ وسط جنوری میں رات 2 بجے 6 ڈاکو فیکٹری کی عقبی جانب سے دیوار کو پھلانگ کر اندر داخل ہوئے۔ گیٹ پر تین گارڈ تعینات تھے۔ ان میں سے ایک چائے بنا رہا تھا، دوسرا گیس کے ہیٹر کے سامنے بیٹھا تھا۔ تیسرا گارڈ روم میں اونگھ رہا تھا۔ قلعہ نما دیوار اور مضبوط گیٹ تھا۔ گارڈ بے فکر تھے۔ انہوں نے اپنے ہتھیار گارڈ روم کی الماری میں رکھے ہوئے تھے۔ چائے بنانے اور آگ تاپنے والے کوڈاکوؤں نے پکڑ کر ان کی چادر کے ٹکرے کر کے باندھ دیا۔ البتہ تیسرے نے مزاحمت کی جس کی وجہ سے اس کا موبائل دور جا گرا۔ اس کو مزاحم دیکھ کر ایک ڈاکو نے اس کے سر پر سریا دے مارا تو وہ بے ہوش ہو کر گر گیا۔ باقی دو کے ڈاکوؤں نے موبائل چھینے۔ ان سے گاڑیوں کی چابیاں مانگیں جو انہوں نے دے دیں۔ ایک کو کہا کہ اس کمرے تک لے جائے جس میں کیش والاسیف نصب ہے۔ یہ دونوں گارڈ عمر رسیدہ تھے جو نوجوان تھا وہ مزاحمت کے دوران سر پھڑوا کے بے  سُدھ پڑا تھا۔ اتفاق سے 6 کے چھ ڈاکو اور تینوں گارڈ پٹھان تھے۔ایک گارڈ کو ڈاکوؤں نے گن  پوائنٹ پر آگے لگا کر سیف والے کمرے تک جانے کو کہاجو گارڈان ڈاکوؤں کو سیف کی نشاندہی کے لئے  لے جارہا تھا اس نے ایک ڈاکو  سے پوچھا۔ ”تمہارے پاس نسوار ہے؟ اس نے جواب دیا۔”نہیں چرس ہے“۔
”میری جیب میں نسوار ہے۔ وہ میرے منہ میں رکھ دو“
ہم ڈکیت ہیں یزید نہیں،“یہ کہہ کر ایک ڈاکو نے گارڈ کی جیب سے نسوار نکال کر اس کے منہ میں رکھ دی اس پر بوڑھے گارڈ نے ممنونیت اور تشکر کا اظہار کیا، سیف والے کمرے کی طرف جاتے ہوئے چوکیدار نے ڈاکوؤں کو بتایا۔”دفتر کے دروازے اور فیکٹری کا مین گیٹ ہوٹر سے منسلک ہے۔ کمرے کا دروازہ کھولو گے تو ہوٹر بجنے لگے، ہوٹر بجتے ہی پولیس جہاں موجود ہوگی۔ اس انکشاف پر ڈاکو کھڑکی توڑ کر کمرے میں داخل ہوئے، کیش شام کو بینک میں جمع کرا دیا جاتا ہے۔ تجوری ان کو خالی ملی، اب وہ گاڑیاں لے جانے کی پلاننگ کر رہے تھے۔ دروازے سے یہ لوگ کمرے سے نکلنے لگے تو چوکیدار نے کہا اس کو ہاتھ لگایا تو سائرن بج اٹھے گا۔ ان میں سے ایک نے طیش میں آ کر کہا۔ دیکھتا ہوں سائرن کیسے بجتا ہے، یہ کہتے ہوئے اس نے غصے اور زور سے دروازہ کھولا تو سائرن واقعی  چیخنے چنگھاڑنے لگا اس پر خوفزدہ ہو کر ڈاکو جس راستے سے آئے تھے افراتفری میں اسی سے فرار ہو گئے۔
٭٭٭
اس واقعہ کے ڈیڑھ  سال بعد محمد علی علوی کے ساتھ بھی ایسا سانحہ رونما ہو گیا جس میں انہوں نے موت کو اپنی آنکھوں کے سامنے ناچتے ہوئے دیکھا۔ اسی فوڈ فیکٹری میں آڈٹ کی ٹیم آ رہی تھی۔ محمد علی علوی کہتے ہیں۔”میں اس روز سوٹ ٹائی میں اپنے آفس گیا، گاڑی میں رش کی وجہ سے کئی گھنٹے لگ جاتے تھے میں نے بیٹے غالب سلطان اور مہتاب علوی سے موٹر سائیکل خریدنے کو کہا۔ انہوں نے 125  لے کر دیدیا۔ میں نے اس میں بہترین سیف گارڈ لگوایا اور مضبوط ہیلمٹ بھی خرید لیا۔ آڈٹ کے بعد سر شام واپس آ رہا تھا کہ سڑک پر پھسل کر گر گیا۔ پھسلنے کی وجہ سڑک کی ناہمواری تھی۔ اس کا ایک حصہ نیا بنا تھا جو پہلے والی سڑک سے چند اونچ اونچا تھا۔ میں گرتے ہی حواس میں نہ رہا مگر ہوش میں آنے کی بے ہوشی کی کیفیت میں بھی پوری طرح کوشاں رہا۔ شاید اسی کو قوت ارادی کہتے ہیں۔ اسی دوران دو نوجوان میری طرف لپکے انہوں نے مجھے اٹھانے کی کوشش کی۔ اس دوران میں ہوش میں آ رہا تھا۔ میں جلد ہوش میں آگیا مگر سانس نہیں آ رہا تھا۔ دو تین منٹ میں سانس تو بحال ہو گیا مگر بڑی مشکل سے سانس لے رہا تھا۔ ان نوجوانوں نے مجھے کھڑا کر دیا۔ میرے کپڑے جھاڑنے کے بعد ایک نے کہا کہ میں ہیلمٹ اتاردوں ایک نے ہیلمٹ اتارنے کیلئے ہاتھ آگے بڑھائے تو میں نے اسے ایسا کرنے سے منع کر دیا۔ دراصل مجھے ایک واقعہ یاد آ رہا تھا جس میں ایک نوجوان موٹر سائیکل سے گرا، وہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا اسے خاص چوٹیں نہیں آئی تھیں پانی پلانے کیلئے ہیلمٹ اتارا گیا تو اس کا سر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ ان لڑکوں کو میں نے اسی خوف کی وجہ سے ہیلمٹ نہ اتارنے دیا۔ میری پسلیوں میں سیف گارڈ جس کی وجہ سے میری جان بچی، برے طریقے سے ٹکرایا تھا۔ میں موٹر سائیکل پر پھر سوار ہوا اور نزدیک ترین پرائیویٹ ہسپتال جا پہنچا۔ ڈاکٹر نے ابتدائی طبی امداد دینے سے پہلے ہیلمٹ اتارنے کو کہا تو بھی مجھ پر خوف طاری ہو گیا تاہم میرے خدشات کے پیش نظر ڈاکٹر نے احتیاط سے ہیلمٹ اتارا۔
ایک تو سیف گارڈ کی وجہ سے بچت ہو گئی، دوسرے ہیلمٹ مضبوط تھا اور تیسرے میرے کندھوں کی ہڈیوں کو کوٹ نے محفوظ رکھا جس کے کندھوں پر فوم کی موٹی تہہ موجود تھی۔ جب میں ہوش میں آنے کی کوشش کر رہا تھا تو موت بالکل سامنے نظر آ رہی تھی۔ میں سمجھ رہا تھا کہ زندگی کا سفر ختم ہونے کو ہے۔ میرے جسم کی تمام ہڈیاں تو محفوظ رہیں مگر اندر سے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ نچڑ کر رہ گیا جسم ایسے ہو گیا کہ جیسے رسہ  بناتے ہوئے بل دیئے جاتے ہیں۔
٭٭٭
سیشن کورٹ بم دھماکہ 
عابد حسین سینئر فوٹو گرافر نوائے وقت
18 جنوری 1996ء رمضان المبارک کا اٹھارواں روزہ تھا۔اس دن سپاہ صحابہ کے مولانا ضیاء الرحمان فاروقی اور مولانا اعظم  طارق نے سیشن کورٹ عدالت میں پیش ہونا تھا دن گیارہ بجے انکو پیشی کیلئے لایا گیا۔ جیسے ہی وہ پولیس کے ٹرک سے اتر کر کورٹ کے احاطے میں داخل ہوئے، مدرسہ کے طالب علم و کارکن ان پر پھولوں کی پتیاں پھینکنے لگے۔اس موقع پر میں شاٹ لینے لگا تھاکہ زور دار دھماکہ ہوگیا۔اس کے بعد مجھے نہیں پتہ، میں کہاں ہوں۔ایسا محسوس ہوا، میں نیند سے اُٹھ رہا ہوں۔کانوں میں چیخنے چلانے کی آوازیں آنے لگیں۔آنکھ کھلی اور ذرا ہوش میں آیا تو قیامت کا منظر تھا۔ اٹھارہ سے بیس افراد کی نعشیں میرے آگے پڑی تھیں۔ انسانوں کے اعضاء بکھرے  ہوئے تھے۔کچھ کٹے اعضاء درختوں پر لٹکے ہوئے تھے۔ میں خون میں لت پت تھا۔ لوگ جان بچانے کیلئے بھاگ رہے تھے۔میں شدید زخموں سے بے بسی کی تصویر بنا ہوا تھا۔ کوئی اٹھانے والا نہ تھا۔بس اتنا ہی منظر دیکھا اس کے بعد پھر خود کو فراموش کر بیٹھا۔ جب دوبارہ ہوش آیاتو میں میو ہسپتال میں تھا۔ اردگرد پولیس اہلکارتھے اور مولانا ضیاء الرحمان فاروقی کو طبی امداد دینے کیلئے ڈاکٹر جمع تھے مگر مولانا جانبر نہ ہو سکے میں روزہ سے تھا مجھے انجکشن لگ گئے جس کی وجہ سے روزہ بھی ٹوٹ گیا میرا سراورچہرہ شدیدمتاثر ہوا۔سر اور مونچھوں کے بال جل گئے۔ اللہ کی طرف سے زندگی ابھی تھی وگرنہ آج فوت ہوئے کئی برس ہوگئے ہوتے۔اس روز موقع پر 18اور بعد میں زخمیوں میں سے 12افراد جاں بحق ہوئے۔سانحہ کا ملزم موقع سے پکڑا گیا۔دھماکہ ہوا تو لوگ سیشن کورٹ کے احاطے کی طرف صورحال جاننے کے لئے آرہے تھے جبکہ ایک نوجوان باہر کی جانب بھاگ رہا تھا۔اسے لوگوں نے پکڑا تو اس نے کوئی چیز پانی کی ٹینکی کی طرف اچھال دی۔ایک پولیس افسر نے  یہ منظر دیکھ لیا۔وہ ایک ریموٹ تھاجس سے اس نوجوان محرم علی  نے بلاسٹ کیاتھا۔دھماکہ خیز مواد موٹر سائیکل میں نصب کیا گیا تھا۔محرم علی کو پھانسی ہوئی۔اتفاق سے اس کے جنازے کی بھی میں نے کوریج کی۔
میں سیشن کورٹ میں اپنے فرائض منصبی ادا کرنے کیلئے گیا تھا۔ جب مولانا اعظم طارق اور مولانا ضیاء الرحمان فاروقی کمرہ عدالت کے آگے آئے اور کارکنوں کی طرف ہاتھ اٹھایا تو اس وقت میں انکی تصویر بنا رہا تھا۔عین اس موقع پر جیسے ہی کیمرے کا بٹن پش کیا، دھماکہ ہو گیا۔ یہ مولانا ضیاء الرحمن فاروقی کی آخری تصویر تھی جس میں مولانا اعظم طارق اور دیگر لوگ کھڑے تھے۔ یہ تصویر نوائے وقت کے بعد عالمی میڈیا میں اس کیپشن کے ساتھ نشر اور شائع  ہوئی۔”دھماکہ سے قبل آخری لمحے پر لی گئی تصویر“! آج سے چودہ سال قبل ملک پارک کے علاقہ میں ایک سماجی کارکن پھر کونسلر ہونے والے طاہر پرنس پر عید میلاد النبیؐ کی شام چند اشتہاری ملزموں نے اندھا دھند فائر کر کے 13 نو عمر اور نوجوان نہتے شہریوں کو ہلاک کر دیا میں تو راہ گیر تھا،وہاں سے گزر رہا تھا، کلاشنکوف سے ہونے والی فائرنگ کی آواز دہشت کی علامت بن رہی تھی۔ پہلے تو میں چھپ گیا۔اس دوران دیکھا، ہنڈا 125 پر نوجوان کلاشنکوف لئے فائرنگ کر رہے تھے۔ طاہر پرنس تو فائرنگ سے بچ گیا مگر وہ راہ گیر نہ بچ سکے۔میں نے ہلاک و زخمی ہونے والوں کی تصاویربھی بناتا رہا مگر پورے کا پورا علاقہ سنسان ہو گیا۔ صرف مرنے والے اور زخمی موجود تھے یا طاہر پرنس تھا۔اجرتی قاتلوں نے پرنس کا نشانہ لیا تو وہ  دکان کے ستون کے پیچھے ہوگیا۔اس کی طرف آنے والی گولی دکاندار کی جان لے گئی۔ زخمی ہونے والے طبی امداد کیلئے  پکار رہے تھے مگر کوئی ان کو اٹھانے والا نہ تھا۔طاہر پرنس  نے  لند ن اپنے حریف سے سامنا ہونے پر اسے قتل کردیا تھا،وہاں سے تو وہ بچ کے آگیا مگر جہاں مقتول کے لواحقین اس کا تعاقب کرتے رہے۔پولیس نے 13افراد کے اجرتی قاتلوں کو مقابلے میں مارڈالا۔پرنس کو پولیس پی سی سے اس وقت  اپنے ساتھ لے گئی جب وہ سوئمنگ پول میں نہا رہا تھا۔اسے لاہور سے باہر لیجا کر ہلاک کر کے اسے پولیس مقابلہ بنا دیا۔انسپکٹر جرار رضوی نے طاہر پرنس کو کسی اداکارہ کے چکر میں مارڈالا تھا۔
٭٭٭
علامہ زبیر احمد ظہیر
علامہ زبیر احمد ظہیر علامہ احسان الہی ظہیر کے قریبی ساتھیوں میں تھے۔ وہ کہتے ہیں علامہ احسان الہی ظہیر کی شہادت کے بعد احتجاج اور مظاہرے کئے گئے۔ ایک روزنیلا گنبد سے گورنر ہاؤس تک جلوس نکالنا تھا۔ پولیس نے جلوس کے شرکاء پر مسجد شہداء سے آگے جانے پر پابندی لگا دی۔ ہم نے پولیس کا جہاں سے حصار توڑ دیا۔ اس کے آگے دوسرے حصار کو بھی توڑ دیا۔ آگے ایک اور حصار تھا۔ جہاں سے میں تھوڑا پیچھے ہٹا اور پھر ایک سائیڈ سے بھاگتاہواآگے نکل گیا۔ پولیس کی نظر پڑی تو 20پچیس پولیس والوں نے مجھے گھیر کر ڈنڈوں سے یلغار کر دی۔ یقین کریں وہ بے رحمی سے ڈنڈے برسا رہے تھے۔ وہ اپنی ڈیوٹی کی اذیت اور تکلیف کا مجھے ہی سبب سمجھ کر غصہ نکال رہے تھے۔ ڈی ایس پی اسلم ساہی سے میری دوستی تھی۔ انہوں نے  یہ منظردیکھا تو بھاگے آئے  اور ان کو ”لاٹھی چارج“ سے منع کیا۔ میں اٹھا تو یقین نہیں آ رہا تھا کہ زندہ بھی ہوں۔ یہ میرے لئے یقیناً نیا جنم تھا۔ اس سے قبل بھی موت کے منہ میں جانے سے بال بال بچا تھا۔
 ائیر مارشل اصغر خان کی قیادت میں ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف  پی این اے کی تحریک عروج پر تھی۔ اس تحریک میں مار اور تشدد ہمارا مقدر بن چکی تھی۔ بھٹو کے پانچ سالہ دور میں میرے جیسے جوشیلے لوگ زیادہ عرصہ جیل میں رہے۔ ایک مرتبہ اسمبلی سے راوی تک پیپلز پارٹی کا جلوس جا رہا تھا۔ہماری دو گاڑیاں جلوس کے آگے اور دو پیچھے تھیں۔ان پر سپیکر لگے ہوئے تھے۔ بھٹو صاحب جلوس کی خود قیادت کرہے تھے۔ان گاڑیوں سے بھٹو صاحب کو جو برا بھلا کہا جا سکتا تھا ہم کہتے رہے۔بھلا تو نہیں سب بُرا ہی بُرا تھا۔ اس جلوس نے شاید ہماری بدزبانی کو کسی سازش کا حصہ سمجھ کر نظر انداز کیا۔ ورنہ وہ لاکھ سے زیادہ لوگ ہماری تکہ بوٹی کر دیتے۔ پتہ چلا کہ رات کو بھٹو صاحب واپس آئے تو اے سی کینٹ اسمٰعیل قریشی اور ایس پی کو بلا لیا۔ ان سے پوچھا۔”ملا زبیر کو جانتے ہو۔“ انہوں نے ہاں میں جواب دیا تو ان کو حکم دیا۔”اس کا کام تمام کر دو“۔ اگلے روز صبح میں گھر میں ہی نماز فجر ادا کر رہا۔ اے سی صاحب آگئے۔ انہوں نے مجھے سمجھانے کی کوشش کی۔ وہ بھی میرے دوست تھے۔ مجھے کہا ”آپ نے کل جو کچھ کہا اور کیا بہت بُرا تھا۔ میں نے کہا جو ہونا تھا ہو گیا۔آپ اگلی بات کریں۔ انہوں نے کہا اب ”یہ حکم“ ملا ہے۔ برا درانہ مشورہ ہے، آپ ایک دو ماہ کیلئے شہر سے دور کہیں چلے جائیں۔ اسمٰعیل قریشی سے بڑی دوستی تھی۔ میں نے انہیں کہا آپ نے 

دوستی کا حق ادا کر دیا۔ موت کا محکمہ بھٹو کے پاس نہیں۔ اللہ کے پاس ہے تاہم میں نے لبرٹی پارک میں سیر کیلئے جانا چھوڑ دیا۔ اس کے بجائے والٹن ائیرپورٹ کی طرف جانے لگا یہ فوجی علاقہ تھا۔ جہاں فوج کے راڈار لگے ہوئے تھے۔ تین آدمی میرے ساتھ رہتے جن کے پاس پسٹل ہوتے تھے۔ ان معمولات کو شروع ہوئے ابھی چھ دن ہوئے تھے۔ ہم ایک راڈار کے قریب سے گزر رہے تھے۔ سامنے سے ایک نوجوان وردی میں بھاگتا ہوا ہماری طرف آنے لگا۔ میں نے اسے اپنے لئے خطرہ سمجھا اور ساتھیوں کو تیار رہنے کیلئے کہا۔ ان کے ہاتھ اپنے اپنے پسٹل پر چلے گئے۔ اس نوجوان نے تھوڑے فاصلے سے اونچی آواز میں کہا۔”مولانا! مبارک ہو۔رات کو بھٹو کا تختہ الٹ گیا“۔ یہ سن کر میں نے ننگی زمین پر سجدے میں گر کر رب العزت کا شکر ادا کیا۔
٭٭٭

 

متعلقہ خبریں