سات مرتبہ موت چھو کر گذر گئی۔۔۔

2019 ,اکتوبر 25



 ڈاکٹر عارفہ صبح خان


موت دنیا کی وہ نا قابل تسخیر حقیقت ہے جس کے آگے انسان کی ہر سر کشی دم توڑ جاتی ہے، فرعون ہو یا نمرود، کوئی بھی موت کو شکست نہ دے سکا، جب تک زندگی ہے تب تک ہم دنیا کا حصہ ہیں، جونہی جسم سے روح نکلتی ہے دنیا سے ناطہ ٹوٹ جاتا ہے، نہ دنیا اس کے لئے رہتی اور نہ وہ دنیا کے لئے رہتا، موت وہ طاقت ہے جس کے سامنے انسان کی بے بسی دیدنی ہے، زندگی ہے تو سب کچھ ہے لیکن موت زندگی کو چاٹ جاتی ہے، اس دنیا میں کھربوں لوگ آئے اور چلے گئے، آ رہے ہیں اور جا رہے ہیں، آئینگے اور جائینگے۔۔۔۔۔۔ یہ دنیا زندہ لوگوں کی ہے اور شکر ہے کہ میں ان زندہ لوگوں میں شامل ہوں، اگر خدانخواستہ، مر جاتی تو آج یہ بتانے پر قادر نہ ہوتی، مجھے موت کے ظالم پنجوں نے بار بار دبوچنے کی کوشش کی لیکن خدا نے مجھے اسطرح بچایا کہ موت حسرت سے اپنی ناکامی کا تماشہ دیکھتی رہ گئی، اسکا یہ واضح مطلب ہے کہ دست قضاء سے زیادہ طاقتور دست قدرت ہے۔

میں سات مرتبہ جس طریقے سے موت کے منہ سے نکلی ہوں، وہ سب حیرت انگیز اور انوکھے ہیں۔
میں 2012ء میں ناروے میں اپنی بہن کے پاس اوسلو آئی ہوئی تھی۔ شدید سردی تھی۔ مجھے اگلے دن واپس پاکستان آنا تھا لہٰذا میں اپنی فیملی کے لئے شاپنگ کرنا چاہتی تھی، میں ایک ہفتہ بہت مصروف رہی تھی اور تھکن سے برا حال تھا، شام گہری ہوچکی تھی۔ جب ہم شاپنگ کر کے گاڑی میں بیٹھ گئے تو میں پچھلی سیٹ پر سامان کے ساتھ لیٹ گئی۔ میری بہن نے کہا کہ آپ سو جائیں کیونکہ پھر اتنا لمبا سفر کرنا ہے۔ میری بہن اور بھانجا فرنٹ سیٹ پر تھے جابجا برف ہی برف تھی، راستے میں میری بہن نے پٹرول پمپ پر گاڑی روکیِ، وہ دونوں واش روم چلے گئے، میں نے سوچا کہ میں بھی واش روم ہو آتی ہوں چنانچہ سردی کی شدت کے باوجود ہمت کر کے دو منٹ بعد میں بھی اٹھ کر واش روم کی طرف چلی گئی۔ چار واش رومز تھے اور چاروں کے دروازے بند تھے۔ میں نے سوچا کہ کوئی باہر نکلے گا تو میں اندر چلی جاؤنگی یہ سوچ کر میں ٹہلنے لگی تاکہ مجھے سردی کا احساس نہ ہو، ٹہلتے ٹہلتے میں ذرا آگے بڑھ گئی۔ یہاں برف تھی۔ مجھے اندازہ نہ ہوا اور میرا پاؤں پھسل گیا۔

بس مجھے اتنا یاد رہا کہ میرا سر کسی برفیلی چیز سے ٹکرایا اور میں بیہوش ہو کر گر گئی، یوں لگتا تھا جیسے میں نیچے جاگری ہوں، میری بہن اور بھانجا واپس آکر گاڑی میں بیٹھے اور گھر چلے گئے، گھر آکر دیکھا تو میں نہیں تھی۔ دونوں بہت پریشان ہوئے، سردی بڑھ چکی تھی اور برف گر رہی تھی۔ وہ حیران پریشان پورا راستہ مجھے ڈھونڈھتے رہے۔ میرا موبائل اور میرا پرس بھی گاڑی میں تھا، انہوں نے پٹرول پمپ پر فون کیا تو کسی نے بتایا کہ اس نے مجھے گاڑی سے باہر نکلتے دیکھا تھا، میری بہن سمجھ گئی کہ میں واش روم کیلئے باہر نکلی ہونگی اور اسطرح وہیں رہ گئی ہوں، اسے واپس پہنچنے میں دو گھٹنے لگ گئے، کیونکہ وہ پہلے مجھے راستہ میں ڈھونڈھتی آرہی تھی، پٹرول پمپ پر آکر انہوں نے اور عملے نے سارے واش رومز تلاش کئے مگر کہیں پتہ نہ چلا۔ اچانک میرے بھانجے نے کہا کہ جب ہم آئے تھے تو یہ دوباقی کے واش رومز بند تھے اور باقی دو میں ہم دونوں چلے گئے تھے۔ شاید وہ واش روم خالی ہونے کے انتظار میں باہر نکلی ہوں اور راستہ بھول گئی ہوں، وہ تیزی بڑھ کر دیکھنے لگا اور میرا ایک جوتا اسے پڑا مل گیا۔ سب لوگ ٹارچ لیکر دیکھنے لگے کیونکہ یہاں اندھیرا تھا اور یہ پچھلا حصہ تھا۔ میری بہن نے کہا…… ہائے وہ رہیں آپی…… میں بیہوش پڑی تھی اور مجھ پر کافی برف پڑ چکی تھی۔ فوراً مجھے نکالا گیا۔ میں تقریباً تین گھنٹے یہاں پڑی رہی۔ پٹرول پمپ کے سٹاف نے بتایا کہ اگر دو گھنٹے تاخیر ہو جاتی تو برف میری قبر بن جاتی اور پتہ بھی نہ چلتا کہ میں کہا ہوں مجھے بر وقت طبی امداد نہ ملتی تو آج میں قصہ پارینہ بن چکی ہوتی۔
یہ فروری 2003ء کا واقعہ ہے، اکتوبر 2002ء کے الیکشن سے پہلے میری مشہور کتاب ”اماں حوا سے اماں کونسلر تک شائع ہوئی، اس کتاب میں میں نے دنیا بھر کی سیاسی عورتوں کے متعلق لکھا تھا اور آنیوالے الیکشنز کے حوالے سے اعدادو شمار دئیے تھے۔ اس کتاب نے سیاسی سماجی اور صحافتی حلقوں میں تہلکہ مچا دیا تھا۔ کچھ لوگوں کو اس بات سے بہت حسد ہو رہا تھا، الیکشن ہوئے تو اعدادو شمار سو فیصد صحیح ثابت ہوئے جعلی ڈگریوں پر تقریباً سو سے زائد عورتیں اسمبلیوں میں ایم پی اے ایم این اے بنکر عزت دولت شہرت کے مزے لوٹ رہی تھیں۔ سوائے تنخوائیں بٹورنے۔ مراعات لینے، فنڈز کھانے، ٹی وی ٹاک شوز میں جانے، گاڑی پر جھنڈا لگانے کے ساتھ قیمتی ملبوسات اور بیش قیمت جیولری پہن کر اسمبلیوں میں آکر پروٹوکول کے مزے لے رہی تھیں جبکہ پڑی لکھی عورتیں معمولی تنخواہوں اور معمولی جگہوں پر کام کرنے پر مجبور تھیں۔ کچھ سیاسی خواتین بھی جعلی ڈگری والی عورتوں سے نالاں تھیں۔ مجھے کئی خواتین جن میں گلشن سعید پیش پیش تھیں حالانکہ وہ خود گریجوایٹ نہیں صرف میٹرک پاس ہیں مجھے کہنے لگیں کہ آپ خواتین کی نمائندہ ہیں۔ آپ جعلی ڈگریوں پر کیس کیوں نہیں کرتیں تاکہ اسمبلیوں میں دو نمبر عورتوں کا داخلہ بند ہو۔ اس طرح کی عورتیں حقدار عورتوں کا حق مار رہی ہیں۔ میں نے کہا کہ کیا آپکے پاس کچھ عورتوں کے جعلی ڈگریوں کے ثبوت ہیں۔ گلشن سعید نے مجھے چار سیاسی عورتوں کی جعلی ڈگریوں کے ثبوت لا دئیے۔ پانچ عورتوں کی جعلی ڈگریوں کے ثبوت میں نے خود اکٹھے کئے، ان میں کئی دوست بھی تھیں لیکن یہ سب میٹرک یا انٹر فیل تھیں چنانچہ اس استحصال، لاقانونیت اور نا انصافی کے خلاف میں نے جعلی ڈگریوں پر عدالت میں مقدمہ کردیا۔ یہ کیس میں نے ایم ڈی طاہر ایڈووکیٹ کے ذریعے کیا اوراستدعاکی کہ میرا نام سامنے نہ لائیں کیونکہ کئی سیاسی خواتین سے میرے نہایت اچھے اور قریبی تعلقات تھے، ایم ڈی طاہر مرحوم نے کہا کہ دستخط تو آپکو کرنے پڑینگے اور شناختی کارڈ کی کاپی بھی لگانی پڑے گی۔ خیر میں نے دستخط کردئیے اور پندرہ ہزار روپے فیس دی۔ اس کیس نے ہلچل مچادی۔ یہ پہلا مقدمہ تھا جو میں نے کسی پر کیا اور خواتین کی جعلی ڈگریوں پر ہونیوالا بھی یہ پہلا مقدمہ تھا۔ اس مقدمے کے بہت دورس نتائج نکلے۔ اسمبلیوں میں بحث چھڑ گئی اور یہ کیس ٹاک شوز کا موضوع بن گیا۔ وہ لوگ جومیری تہلکہ خیز کتاب سے خائف تھے۔ ان میں سے دو نے ان بااثر، صاحب حیثیت سیاسی خواتین سے رابطہ کیا اور بتایا کہ یہ مقدمہ میں نے کیا ہے اور اس سے وہ جلد اپنی سیٹوں سے محروم ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے ایم ڈی طاہر کو گواہ بناکر پیش کیا۔ ایم ڈی طاہر نے بتا دیا کہ مقدمہ میں نے کیا ہے اور یہ بھی کہہ دیا کہ مقدمہ ان کی مرضی کے بغیر خارج نہیں ہوسکتا، اس دوران مجھے کئی دھمکی آمیز پیغامات موصول ہوئے لیکن میں نے پروا نہ کی۔ مجھے سبق سکھانے کے لئے عین نوائے وقت کے پرانے دفترکے سامنے میرا ایکسیڈنٹ کرا دیا گیا۔ یہ ایک لمبی پلاننگ تھی جس میں یہ کوشش کی گئی تھی کہ ایکسیڈنٹ اچانک ہوا ہے۔ نوائے وقت کے سامنے سے ایک بس وقت پر گزرتی تھی جو ہمیشہ تیز چلتی تھی۔ پلاننگ یہ تھی کہ جونہی میں سڑک کراس کرونگی تو رکشہ مجھے گرائے گا اور بس میرے اوپر سے گزر جائے گی لیکن اس ٹائمنگ کے حساب سے جونہی وہ رکشہ میری طرف پوری سپیڈ سے بڑھا تو میں ایک دم چونک کر تیزی سے پیچھے ہٹی۔ میں سمجھی کہ جلدی میں رکشہ والا اپنا بیلنس خراب کر بیٹھا ہے۔ میں ابھی سنبھلی بھی نہیں تھی کہ وہ میری طرف پھر تیزی سے بڑھا میں پھر پیچھے ہٹ گئی۔ میں ایک دم حیرت میں آگئی کہ دوسری بار میری طرف رکشہ نے ہٹ کرنے کی کوشش کیوں کی۔ مجھے ابھی صورتحال سمجھ نہیں آرہی تھی لیکن میری چھٹی حس بیدار ہوچکی تھی۔ میں جلدی سے بالکل مخالف سمت ہوگئی۔ اتنے میں بس تیزی سے چلنے لگنے لگی اور ساتھ ہی رکشہ والا پوری سپیڈ سے میری طرف آیا۔ میں پوری کوشش کرکے پیچھے ہورہی تھی کہ رکشہ نے پوری قوت سے مجھے ٹکر ماری۔ میں ٹکرا کر نیچے گری۔ اس دوران بس گزر چکی تھی اور سڑک پر موجود ہر گاڑی، ہر شخص رک گیا۔ میرے سامنے نوائے وقت کا دفتر اور میری پشت پر سول لائنز تھانہ اور چند قدم کے فاصلے پر 90 شاہراہ قائداعظم پر چیف منسٹر ہاؤس اور ریڈکراس کا دفتر تھا۔ رکشہ والا اگلے ہی لمحے بھاگ گیا، سب کی موجودگی میں …… کیونکہ سب لوگ مجھ پر جھک چکے تھے۔ یہ صبح ساڑھے آٹھ بجے کا وقت تھا جب شاہراہ قائداعظم پرانتہائی ٹریفک ہوتا ہے۔ میں چاروں طرف سے خطرے میں تھی کیونکہ اگر بس سے بچ گئی تو ویگنیں گاڑیاں رکشے تانگے تیزی سے گزر رہے تھے اور میرے پیچھے بھی ٹریفک کا یہی حال تھا لیکن جسے خدا سلامت رکھنا چاہے۔ اسے کون مار سکتا ہے۔ مجھے تمام چوٹیں چہرے اور بازو پر آئیں۔ رکشہ کے سامنے شیشے پر کوئی چھریاں یا کیل کانٹے یا تلواریں نہیں ہوتیں لیکن میرے چہرے پر اتنے گہرے گھاؤ آئے کہ ایک جگہ سے میرا گال اندر تک کٹ گیا اور ہونٹ زخمی ہوگئے۔ ڈاکٹروں نے کہا کہ چہرے پر کم از کم پانچ ٹانکے لگیں گے اور یہ زخم زندگی بھر چہرے پر رہے گا لیکن میرا زخم خودبخود بھرنے لگا اور دو ماہ بعد میں بالکل ٹھیک ہوگئی۔ یہ ایسا سوچا سمجھا انتقامی منصوبہ تھا جس میں میری جان لینے کا قصد کیا گیا تھا لیکن خدا نے مجھے محفوظ رکھا ورنہ شاید موت ایسا روپ دھارتی کہ مجھے سڑک کے سینے سے اٹھانا مشکل ہوجاتا۔ 

تیسرا واقعہ میرے بچپن کا ہے، میں تقریباً پانچ چھ سال کی تھی، ہم ان دنوں کچھ عرصہ کیلئے جھنگ رہنے گئے ہوئے تھے، ہمارا گھر جھنگ صدر کے ریلوے سٹیشن سے ذرا فاصلے پر تھا، میں اپنی چار سال کی چھوٹی بہن کی انگلی پکڑ کر ریلوے سٹیشن پہنچ جاتی تھی، میں بچپن سے بہت شرارتی اور ایڈونچر کی شوقین تھی، مجھے ریل گاڑی کی سیٹی، ریل گاڑی کی چھک چھک، مسافروں کا اترنا چڑھنا اورریلوے سٹیشن کی گہما گہمی اچھی لگتی تھی، گھر میں کسی کے فرشتوں کو بھی نہیں معلوم تھا کہ میں اپنی بہن کے ساتھ کہاں پہنچ جاتی ہوں۔ میں اپنی چھوٹی بہن کو لے کر ڈبے میں چلی جاتی اور سیٹوں پر بیٹھ کر کھیلنے لگتی۔ ایک دن گاڑی چل دی اور میں اپنی بہن کے ساتھ کھیل میں مگن رہی ہم کافی آگے نکل گئے۔ اتنے میں ٹکٹ چیکر آیا اور پریشان ہوکر بولا: ارے تم جھنگ سے آگے نکل گئی ہو۔ جب بات سمجھ آئی تو میں رونے والی ہوگئی۔

ٹکٹ چیکر نے گود میں اٹھایا اور کہنے لگا: میں جھنگ کا رہنے والا ہوں، تمہیں تمہارے گھر واپس چھوڑ دوں گا، اس طرح ہم سات آٹھ گھنٹے کے بعد واپس گھر آئے جہاں رو رو کر سب پاگل ہوچکے تھے۔ لیکن اس سے بھی خطرناک بات یہ تھی کہ ہم سارا وقت ٹرین میں دروازے کے پاس بیٹھ کر کھیلتے رہے۔ ایک جھٹکا دو معصوم بچیوں کی ہمیشہ کے لئے جان لے سکتا تھا۔ اب خیال آتا ہے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہمیں خدا نے نئی زندگی دی تھی اورموت کے ہاتھوں سے بچایا تھا۔ 
اسی سٹیشن پر میرا ایک مشغلہ یہ تھا کہ میں اپنی چھوٹی بہن کو پلیٹ فارم پر بٹھا دیتی، وہ چار سال کی چھوٹی سی بچی تھی اور میں بھی ساڑھے چھ سال کی تھی۔ جب سامنے سے گاڑی تیزی سے آنے لگتی تو میں اس کے آگے سے بھاگتی ہوئی دوسری طرف چلی جاتی۔ ٹرین پوری سپیڈ سے آرہی ہوتی تھی اور میں اس کے سامنے پٹڑیوں پر بھاگتی ہوئی گزر جاتی تھی۔ اس طرح میں اپنی بہن کویہ دکھاتی تھی کہ دیکھ تمہاری بہن کتنی ذہین، پھرتیلی اور سمارٹ ہے کہ چلتی گاڑی کے آگے سے گزر جاتی ہے۔ آپ اندازہ کریں کہ یہ کتنی خوفناک بات ہے۔ میری چھوٹی بہن خوشی سے تالیاں بجاتی جس سے میں اور نڈر ہوجاتی تھی۔ ایک دن میں ٹرین قریب آنے پر اس کے سامنے سے بھاگ کر گزرنے لگی مگر ٹرین اس قدر تیز تھی کہ جونہی میں اس پٹڑی کے قریب پہنچی تو ٹرین اس سے گزر گئی…… ٹرین سے ہوا کا پریشر بڑھ جاتا ہے۔ میں اس کے پریشر سے پیچھے جاگری۔ اس طرح میری جان بال بال بچ گئی ورنہ میرے تو پرخچے اڑ جاتے۔ میں ہوا کے زور سے جیسے اگلی پٹڑی پر جاکر گری میری بہن سمجھی کہ میں ٹرین کے نیچے آگئی ہوں۔ وہ ڈر کر رونے لگی۔ یہ میری زندگی کا ایسا واقعہ ہے جس کو سوچ کرمیرے جسم میں جھرجھری آجاتی ہے۔ 
جب ہم جھنگ میں تھے تو امی نے ہمیں سکول داخل کرا دیا۔ جب ہم سکول سے واپس آتے تھے تو بائیس اونٹوں کا قافلہ تیزی سے گزرتا تھا۔ ایکدن ایک لڑکے کو میں نے دیکھا کہ وہ اونٹوں کے نیچے سے نکل کر بھاگ رہا ہے۔ یہ اونٹ والوں کا بیٹا تھا جو ہر وقت اونٹوں کے ساتھ رہتا تھا۔ مجھے اس لڑکے کااونٹوں کے نیچے سے بھاگنا بہت دلچسپ لگا۔ اگلے دن جب اونٹ گزرنے لگے تو میں نے اپنا بیگ اپنی بہن کو پکڑایا اور ایک اونٹ کے نیچے سے بھاگ کر گزر گئی۔ جب دل سے خوف نکل گیا تو میں روزانہ اونٹوں کے نیچے سے بھاگنے لگی۔ مجھے بہت مزہ آتا تھا اور سب لڑکیوں کے سامنے دھاک بھی بیٹھ جاتی تھی۔ میری بڑی بہن بھی میرے ساتھ اس کھیل میں شریک ہوگئیں۔ ہم پہلے اونٹ سے بھاگتے ہوئے بائیسویں اونٹ کے نیچے ترتیب سے بھاگتے جاتے تھے۔ ایک دن ایک اونٹ کی ٹانگ پر شاید سانپ نے کاٹ لیا۔ وہ درد سے تڑپ کر بھاگا تو اونٹوں میں بھگدڑ مچ گئی۔ میں ابھی تیسرے اونٹ کے نیچے سے گزر رہی تھی کہ اونٹ بھاگنے لگے۔ مجھے ایک اونٹ کی ٹانگ لگی اور میں بیچ میں گر گئی۔ اچانک مجھے کسی نے کھینچ کر پیچھے کیا۔ یہ وہی لڑکا تھا لیکن اونٹ بے قابو ہو کر چاروں طرف بھاگ رہے تھے۔ ایک اونٹ میرے اوپر سے گزر گیا۔ اگر اس کے پاؤں کے نیچے میں آ جاتی تو آج میرا نشان بھی نہ ملتا۔
یہ جھنگ کا ہی واقعہ ہے وہاں کپاس اور دھنی ہوئی روئی کے ڈھیر ہوتے تھے۔ ہمارا سہیلیوں کا ایک گروپ ہوتا تھا۔ میں اکثر شرارت سے روئی کے ڈھیر میں چھپ جاتی تھی۔ اس دن میں بہت تھکی ہوئی تھی اور مجھے نیند آ رہی تھی۔ پیدل چلتے چلتے میں تھک گئی تو سوچا کہ یہاں روئی کے ڈھیر میں چھپ جاتی ہوں جب تھکن اترے گی تو بھاگ کر ان کے پاس چلی جاؤنگی۔ یہ سوچ کر روئی کے ڈھیر میں چھپ گئی۔ روئی کی گرمائی ملی تو آنکھ لگ گئی۔ روئی کے گودام پر دو آدمی منوں کے حساب سے توڑی ہوئی کپاس لا کر ڈالتے جاتے تھے۔ میرے اوپر بھی انہوں نے کپاس لا کر ڈال دی۔ شاید مجھے بخار بھی تھا اس لئے غنودگی تھی۔ اسی حالت میں میں نے دیکھا کہ میری امی ہچکیوں کے ساتھ گڑیا کو گود میں لے کر رو رہی ہیں۔
 دہشت سے میری آنکھ کھل گئی۔ مجھے دم گھٹتا محسوس ہوا اور اپنے اوپر بہت زیادہ بوجھ سے گھبرا کر میں نے ہاتھ پاؤں مارے جس سے کپاس ادھر ادھر گری اور میں نے سر نکالا…… عین اسی وقت دونوں آدمیوں نے میرے اوپر وہ منوں کپاس پھنک دی لیکن ایکدم ان کی نظر مجھ پر چلی گئی۔ انہوں نے جلدی سے مجھے نکالا اور کہنے لگے کہ ہم تو ابھی اور کپاس اس پر ڈالنے والے تھے تم ابھی دم گھٹ کر مر جاتیں۔ یہ تو اچانک ہمیں تمہارے بال نظر آگئے یوں خدا نے میری جان بچالی۔
اسی طرح ایک مرتبہ ایک ٹرک آ رہا تھا۔ میں اپنے شوہر کے ساتھ موٹر سائیکل پر تھی۔ ہماری شادی کو ابھی دو ماہ ہی ہوئے تھے اور ہم باتوں میں مست جا رہے تھے۔ٹرک کی صرف ایک ہیڈ لائٹ مدہم سی جل رہی تھی۔ سردی تھی اور رات کے ساڑھے بارہ بج رہے تھے جب ہماری موٹر سائیکل ٹرک کے عین نیچے جا کر گھس گئی ایک زور دار دھماکہ کے ساتھ ٹرک والے نے بریک لگائی۔ جس کی وجہ سے حادثہ ہوتے ہوتے بچ گیا۔ چھٹا واقعہ مون مارکیٹ لاہور میں بم بلاسٹ کا ہے۔ جب بم بلاسٹ ہوا اس سے دو لمحے پہلے میں بہنوں کے ساتھ اسی مقام پر کھڑی تھی جہاں بم دھماکہ ہوا تھا۔ صرف دو سیکنڈ بھی نہیں ہوئے ہوں گے جب ہم وہاں سے سڑک کی طرف آئے اور بم پھٹ گیا۔ لوگوں کے چیتھڑے اڑ گئے اور مون مارکیٹ خون میں نہا گیا۔ میں دو سال وہاں جانے کی ہمت نہ کر سکی کہ اگر صرف دو سیکنڈ اور ٹھہر جاتی تو دنیا میں نہ رہتی۔
میری زندگی کا سب سے حیران کن واقعہ یہ ہے جب میں انڈیا گئی تو اس وقت دو سال کی تھی۔ امی مجھے نانی کے پاس چھوڑ کر نانا کی تیمار داری کیلئے ہسپتال چلی گئیں۔نانی مجھے بستر پر بٹھا کر نہانے چلی گئیں وہاں انکا موتیوں والا پرس پڑا تھا یہ کانچ کے موتی تھے مجھے بچپن سے موتی ستاروں نگینوں سے عشق رہاہے۔ میں نے موتی دیکھے تو مجھے اچھے لگے۔ میں نے موتی توڑ کر منہ میں رکھنے شروع کر دیئے اور اس دوران کئی موتی کھا لئے جب نانی باہر آئیں تو یہ منظر دیکھ کر انکی چیخیں نکل گئیں کیونکہ موتی کانچ کے تھے ڈاکٹر نے کہا کہ اگر بچی ایک موتی بھی دانت سے توڑ لیتی تو اس کے اندر معدے تک زخم پڑ جاتے اور بچی کو مرنے سے نہیں بچایا جا سکتا تھا کیونکہ ٹوٹا ہوا کانچ اندر سب کچھ کاٹ دیتا اور خون جسم میں جگہ جگہ پھیل جاتا ہے۔
٭٭٭

 

متعلقہ خبریں