سفارت کار کیسے پاکستان کو لوٹتے رہے؟ایک سفارت کار جو جرنیل بھی تھا کی دلفگار داستانِ لوٹ مار

2020 ,اگست 25



پاکستان میں احتساب کا جنازہ کیسے نکلتا ہے، مجرم کیسے بچ نکلتے ہیں؟ انڈونیشیائ اور جاپان میں پاکستانی سفارت خانے کی عمارتوں کی فروخت کی چونکا دینے والی داستان سے بڑھ کر اس کی وضاحت ہو سکتی ہے۔ میجر جنرل (ر) مصطفی انورحسین سید اور کامران نیاز وقت کی دھند میں نہ جانے کہاں گم ہوچکے ہیں لیکن قوم کو نقصان پہنچنے اور اس کے ازالے کی لاٹھی جرم کے سانپ نکل جانے کے برسوں بعد بھی برس رہی ہے اور ہنسی اڑا رہی ہے۔ مجرموں کو کٹہرے میں نہ لانے پر اب نیب مجرم بن کر کٹہرے میں کھڑا ہے۔ 
یہ واقعہ جنرل مشرف کے عہد ستم 2002کا ہے۔ یہ سب کچھ کیسے ہوا؟ کیوں ہوا؟ دیگر ادارے اور متعلقہ افراد نے نوٹس کیوں نہ لیا؟ سفارت خانے کی عمارت تھی کوئی بچوں کا کھلونا یا ہاتھ کی گھڑی نہ تھی کہ جیب میں ڈالی اور کسی کو علم نہ ہوا۔ کیا یہ ملی بھگت تھی؟ یہ سب وہ سوالات ہیں جن کے جواب ہمارے اجتماعی حکومتی اور احتساب کے نظام کی حقیقت کو بے لباس کرتے ہیں۔ قوم کو ان سوالات کے جواب درکار ہیں؟
کہتے ہیں کہ مصنف جنرل مصطفی انورحسین سید جنرل YK2 مشرف کے سرپرست تھے اس لئے ان کےخلاف کارروائی نہ ہوسکی تھی۔”جنرل ایوب نے دریا بیچے ، جنرل یحییٰ نے مشرقی پاکستان ، جنرل ضیاء نے سیاچن ، جنرل مشرف نے عافیہ صدیقی اور پاکستانی شہری اور جنرل مصطفیٰ نے پوری ایمبیسی بیچ ڈالی۔“ سینیٹر پرویز رشید طنز کے زہر سے بھرا یہ ٹویٹ کیوں نہ کریں جب ایسی خبریں آئیں گی کہ جکارتہ اور ٹوکیو کے سفارت خانے کی دو عمارتیں فروخت ہوگئیں اور کانوں کان کسی کو خبر نہ ہوئی۔ وزارت خارجہ اور نیب بے بسی کی تصویر بنے رہے۔ برسوں بعد انکشاف ہوا۔ نیب کی ملامت جاری ہے لیکن ہنوز دلی دوراست کے مصداق نجانے ملزم کہاں ہیں؟ قوم کے نقصان کا ازالہ کیونکر ہوگا؟ سوالیہ نشان ہے۔
جنوری 2016 میں پبلک اکاونٹس کمیٹی(پی۔اے۔سی) میں یہ گڑا مردہ برآمد ہوا۔ تشویش کا روایتی اظہار کرتے ہوئے عوامی حسابات کے اس پارلیمانی ادارے (پی۔اے۔سی) کو بتایاگیا کہ چار سال کے عرصے میں انڈونیشیائ اور جاپان کی حکومتوں کو حکومت پاکستان کی طرف سے فقط دو خطوط لکھے گئے ہیں۔ سارا نزلہ نیب پر گرا۔ ذمہ دار ٹھہرایا گیا کہ ان کی مجرمانہ سستی ولاپرواہی کے سبب ملک کی سفارتی وقومی بدنامی کی سنگین واردات میں کچھ نہ ہوسکا۔ پی اے سی نے ڈائریکٹر جنرل نیب راولپنڈی کو طلب کیا کہ وہ معاملے میں بتائیں کہ کیا تحقیقات ہوئیں؟ سانپ نکل گیا اور لٹھ باری جاری ہے۔ 
سید خورشید شاہ پبلک اکاونٹس کمیٹی کے سربراہ تھے جب یہ معاملہ کریدا گیا اور سامنے آیا لیکن اب وہ خود نیب کے احتساب کا شکار جیل یاترا پر ہیں۔ یہ ہے انصاف اور احتساب کی رفتار؟ 
وزارت خارجہ کے آڈٹ سے متعلق جب غوروخوض کیاگیا تو انکشاف ہوا کہ ٹوکیو اور جاپان میں پاکستان کے سفارت خانے کی دو عمارات فروخت ہوگئیں۔ سیاسی طورپر ”لاپتہ“ ہوجانے والے چوہدری نثار علی خان پی اے سی کے چئیرمین تھے جب 2010 میں کممیٹی کو جکارتہ میں پاکستانی سفارت خانہ سے متعلق معاملہ پیش کیاگیا۔ اجلاس کو بتایاگیا تھا کہ میجر جنرل (ر) مصطفی انور حسین 2002ئ میں انڈونیشیائ، جکارتہ میں پاکستان کے سفیر تھے جنہوں نے 3.19 ملین ڈالر کے عوض رہائش اور چانسری کی عمارت فروخت کردی۔ وزارت خارجہ دہائیاں دیتا رہ گئی کہ اس سے سے منظوری نہیں لی گئی لیکن یہ واردات پڑ گئی۔
وزارت خارجہ اور ایس ایم ایچ رضوی کے اعتراضات کے باوجود سفیر صاحب نے خود ہی فیصلہ کیا اور عمارات فروخت کردیں۔ اس زمانے کے چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف نے معاملہ میڈیا میں اچھلنے پر انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی۔ کابینہ سیکریٹری کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے تصدیق کردی کہ معاملے میں گڑبڑ ہوئی اور قاعدے قانون کی پامالی کی گئی۔ دلچسپ امریہ ہے کہ کمیٹی نے کارروائی کے لئے اپنے لب سی لئے۔ جنرل مشرف کے مقرر کردہ سفیر کے خلاف کارروائی گول ہوگئی۔ 
پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ارکان پر مشتمل پبلک اکاونٹس کمیٹی کی ایک خصوصی کمیٹی بھی تشکیل ہوئی لیکن یکم جولائی 2011کو پی اے سی کی اس خصوصی کمیٹی نے ایک اور کمیٹی انکوائری کمیٹی تشکیل دینے کا حکم صادر کیا۔ اس کمیٹی کا سربراہ وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل ایاز حسین کو بنایاگیا۔ اس نے بھی تصدیق کی کہ قاعدے قانون کو کھوہ کھاتے پھینکا گیا ہے۔ اس کمیٹی کا کہنا تھا کہ سفیر نے ایم ایس پالما سٹرا پیرامی کمپنی سے دو جولائی 2001 کو معاہدہ کیا اور سرکاری جائیداد 800 ڈالر فی مربع میٹر فروخت طے پائی۔ لیکن اسی کمپنی کو یہ جائیداد نہایت کم قیمت پر فروخت کردی گئی۔ اسی کمیٹی نے یہ انکشاف بھی کیا کہ اس سکینڈل کے خلاف مزاحمت کرنے والے رضوی صاحب کو ناحق نشانہ بنایا اور سفیر کوبچانے کے لئے رضوی صاحب کو قربانی کا بکرا بنادیاگیا۔ رضوی صاحب کی اہلیہ بھی پی اے سی کے سامنے پیش ہوئیں اور فریاد کی کہ ان کے خاندان کو نہایت مشکلات اور دباﺅ کا سامنا ہے۔ ایک متعصبانہ انکوائری کمیٹی نے ان کے شوہر کے حوالے سے غلط اور جانبدارانہ فیصلہ کیا ہے۔ 
دلچسپ بات یہ ہے کہ پی اے سی کے اس اجلاس میں میجر جنرل (ر) مصطفی حسین بھی شریک ہوئے تھے اور انہوں نے کمیٹی کو بتایاتھا کہ وہ اپنا جواب وزارت خارجہ کو جمع کرائیں گے۔ 
چوہدری نثار علی خان ہی کے زیرسایہ پی اے سی میں ٹوکیو میں پاکستانی سفارت خانے کی عمارت کی فروخت کا معاملہ بھی پیش ہوا۔ 2010 میں یہ انکشاف ہوا کہ پاکستانی سفیر کامران نیاز نے سفارت خانے کو نئے کمپلیکس میں منتقلی کے لئے ایک ادلہ بدلہ کیاگیا ہے اور اس کے تحت پاکستانی سفارت خانے کی عمارت فروخت کردی گئی۔ 
نیب سے معاملے کی تفصیلات طلب کی گئیں۔ بتایاگیا کہ تحقیق جاری ہے۔ وزارت خارجہ ”ملزم“ کے بارے میں تفصیلات جمع کررہا ہے۔ انڈونیشیائ اور جاپان کی حکومتوں کو خطوط بھی لکھے گئے لیکن ’نوٹس ملیا، کھکھ نہ ہلیا‘ کے مشہور ڈائیلاگ کے مصداق ”اب تک جواب نہیں آیا“۔ 
عوامی حسابات کی کمیٹی کے ارکان کا سوال تھا کہ ”جب تک جواب نہ آجائے کیا نیب اس وقت تک تحقیقات نہیں کرسکتا؟“ پی اے سی کا اس وقت یہ بھی موقف تھا کہ ”انڈونیشیائ اور جاپان کی حکومتوں کو خط لکھنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ ملک کا قانون اور طریقہ کار یہی ہے کہ مارکیٹ کے لحاظ سے قیمتوں کا جائزہ لیاجاتا ہے اور اس کے لئے دوسری حکومتوں کو خط نہیں لکھا جاتا۔“
اس زمانے کے سیکریٹری خارجہ نے یہ کہہ کر ذمہ داری پوری کردی تھی کہ ہم نے معاملہ نیب کو بھجوادیا ہے۔ انہیں ہماری کوئی مزید معاونت درکار ہو تو ہم حاضر ہیں۔ ریکارڈ سمیت ہر طرح کی مدد کرنے کے لئے تیار ہیں۔ 
اس زمانے کے پارلیمانی ”محتسب“ اور موجودہ ”ملزم“ سید خورشید کا کہنا تھا کہ جاپان میں پاکستانی سفارت خانے کی عمارت کوڑیوں کے بھاﺅ فروخت کردی گئی حالانکہ یہ بہت مہنگی زمین تھی۔ اس وقت کے سیکریٹری خارجہ نے صاف کہہ دیا تھا کہ ”وزارت خارجہ اس غلط کاری کا دفاع نہیں کررہی۔ کرپشن میں جو بھی ملوث ہے، قانون کے مطابق اس سے نمٹاجائے۔“ 
میجر جنرل (ر) مصطفی حسین سید ”اس سے بہتر نہیں ہوسکتا تھا:میری زندگی کی کہانی“کے عنوان سے انگریزی کتاب کے مصنف بھی ہیں۔ 1935 میں پیدا ہونے والے مصطفی حسین سید آکسفورڈ سے تعلق رکھنے والی اعلی تعلیم یافتہ اشرافیہ کے چشم وچراغ ہیں۔ فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد سفارت کاری ان کی منزل ٹھہری۔ یادداشتوں پر مشتمل اس کتاب میں انہوں نے قیام پاکستان اور بعد کے ان حالات کو قلمبند کیا ہے جس کا ان کے خاندان کو سامنا کرنا پڑا۔ 
اس کتاب پر ناقدین کے تبصرے تھے کہ عموماً ریٹائرڈ جنرل کی کتب میں ذہنی تکان پید اکردینے والے طویل واقعات اور سرکاری حوالے ہی ہوتے ہیں لیکن یہ کتاب ویسی نہیں۔ خاص طورپر اس کا درمیانی حصہ نہایت دلچسپ قرار دیاگیا۔ ان کے اسلوب تحریر کو بھی پزیرائی ملی اور تقسیم برصغیر سے قبل برطانوی سامراج کے دور کی جھلک بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ علاوہ ازیں قیام پاکستان کے اولین دن کیسے تھے، اس کا منظر بھی آپ دیکھ سکتے ہیں۔ 
اس کتاب میں نوجوان فوجی افسران اور سولجرز کی زندگی کے مناظر نظرآتے ہیں، ان کی گفتگو اور کہانیاں ہیں۔ تقرریوں اور تبادلوں کے پیچھے وہ کہانیاں ہیں جن کا عام طورپر ذکر نہیں ہوتا۔ فوج کی تاریخ اور روایات سے آگہی کے شوقین مزاجوں کے لئے بھی اسے ایک اچھی کتاب قرار دیاگیا ہے۔ ڈیرہ دون سکول پہنچنے کی کہانی کا سب سے مزیدار واقعہ بیان کیاگیا ہے۔ 
نیب کرپشن کے سیلاب کے آگے بند باندھنے کے لئے بنا تھا۔ لیکن کرپشن کے سیلاب میں نیب ایک تنکے کی طرح ہچکولے کھارہا ہے۔ بند باندھنا تو دور کی بات ہے ، یہ خود بے بس دکھائی دے رہا ہے۔ پانی پر تیرتے کوڑے کی مانند اس ادارے کی ساکھ ایسے واقعات سے مزید تباہ ہورہی ہے۔ 
اس غلط کاری کی نشاندہی کرنے والے ایس ایم ایچ رضوی کو2002 میں او۔ایس۔ڈی بنادیا گیاتھا۔ ان کا ”جرم“ یہ تھا کہ انہوں نے اس ”لوٹ سیل“ کی خبر میڈیا تک پہنچائی جس سے جرم کرنے والوں کے بارے میں دنیا کو علم ہوگیا۔ ایس ایم ایچ رضوی کی 2008 میں وفات ہوچکی ہے اور ان کی بیوہ انصاف کے لئے دربدر بھٹکتی عبرت کی تصویر بن گئی۔ سچ کا ساتھ دینے پر ان کے شوہر ذہنی اذیت کا شکار ہوئے اور پھر دار فانی سے کوچ کرگئے جبکہ ان کا بیٹا پاکستان چھوڑ کر چلاگیا۔ 
20اگست 2020 کو خبرآئی ہے کہ میجر جنرل (ر) سید مصطفی انور حسین کے خلاف نیب نے ریفرنس دائر کردیا ہے۔ اسلام آباد کی احساب عدالت میں دائر ریفرنس میں نیب کا موقف ہے کہ جکارتہ میں سرکاری جائیداد کی ڈیل میں ابتدائی طورپر 1.32 ملین ڈالر کا قومی خزانے کو نقصان ہوا جو انڈونیشیاءکی کرنسی میں 13.45 ارب کے مساوی رقم ہے۔
جکارتہ میں پاکستانی چانسری کے سربراہ ایس ایم ایچ رضوی اپنی موت کے بعد بھی انصاف کے سوالی ہیں۔ پاکستان اور اس کے عوام انصاف کے متلاشی ہیں۔ انہیں انصاف کون دے گا؟؟

 

متعلقہ خبریں