نبی کریم رووف ورحیم ﷺ نے شب برات کیسے گزاری

2017 ,مئی 11



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک / علامہ منیر احمد یوسفی ): اُمُّ المومنین حضرت سیّدہ عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے‘ رسولِ کریم میرے حجرئہ مبارک میں کملی اوڑھے آرام فرما رہے تھے‘ شعبان المعظم کی پندرہویں شب تھی۔ آپ کملی سے باہر تشریف لائے۔ پچھلی رات رسولِ کریم رووف ورحیم کو بستر پر نہ پا کر میں پریشان ہوئی اور خیال کیا شاید آپ اَزواج مطہراتؓ میں سے کسی کے ہاں تشریف لے گئے ہیں چنانچہ میں اُٹھی پہلے اپنے حجرہ مبارک میں آپ کو تلاش کرنے لگی۔ میرا ہاتھ رسولِ کریم رووف ورحیم کے پاﺅں مبارک کو لگ گیا۔ اُس وقت آپ سجدہ انور میں تھے اور دُعا فرما رہے تھے۔ میں نے یہ دُعا حفظ کرلی ۔ آپ نے نہایت شانِ عبدیت کے ساتھ بارگاہِ صمدیت میں عرض کیا۔ 
”سجدہ کیا تیرے حضور میری آنکھوں کی سیاہی اور میرے خیال نے اور میرا دِل تیرے ساتھ اِیمان لایا۔ تیری نعمتوں کو قبول کیا (اپنے رب کے حضور اِنتہائی اِظہارِعاجزی کرتے ہوئے عرض کیا) اپنی تاریکی گناہ پر تیرے حضور اِقرار کرتا ہوں“ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا، مجھے بخشش (کے تحفے) عطا فرما۔ سوائے تیرے ، گناہوں کا کوئی بخشنے والا نہیں‘ میں تیرے عذاب سے تیری معافی کی پناہ ڈھونڈتا ہوں اور تیرے غضب سے تیری رضا مندی کی پناہ تلاش کرتا ہوں۔ میں تیری حمدو ثناءکو شمار نہیں کر سکتا۔ جیسے تو نے خود اپنی ثناءکی ہے “۔ (مجمع الزوائد، درمنثور ، کنز العمال)
 اُم المو¿منین حضرت سیّدہ عائشہ صدیقہ ؓ‘ فرماتی ہیں‘ رسولِ کریم میرے ہاں تشریف فرما ہوئے‘ آپ کے لئے بستر بچھایا گیا۔ مگر آپ نے بستر پر آرام نہ فرمایا۔ اور آپ میرے حجرہ (اَنور) سے نکلے، میں نے خیال کیا آپ کسی اور زوجہ مطہرہؓ کے ہاں تشریف لے گئے ہیں۔ میں بھی آپ کے پیچھے نکلی مگر میں نے آپکو جنت البقیع میں پایا۔ وہاں آپ مومن مردوں اور مومنہ عورتوں اور شہداءکی بخشش کے لئے اِستغفار فرما رہے تھے۔ تو میں نے دِل میں رسولِ کریم سے عرض کیایا رسول اللہمیرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ تو اللہ پاک کے کام میں لگے ہیں اور میں دنیوی حاجت میں ہوں ۔یہ سوچ کرمیں لوٹ آئی اور اپنے حجرے میں آگئی۔ اُمُّ المومنین حضرت سیّدہ عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں میں نے آپ کو سجدہ میںیہ دُعا کرتے سنا  :ترجمہ: ۔پھر صبح ہوئی تو میں نے اِن دُعائیہ کلمات کا آپ سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا کیا تو نے اِن کلمات کو سیکھ لیا؟ عرض کیا جی ہاں ! یا رسول اللہ فرمایا: تم خود بھی سیکھ لو اور اوروں کو بھی سکھلا دو۔ کیونکہ (حضرت) جبرائیل ؑ نے اللہ ل کی طرف سے مجھے یہ کلمات بتائے اور عرض کیا کہ میں اِن کلمات کو سجدہ میں پڑھوں“۔ ( الترغیب والترہیب )
اُمُّ المومنین حضرت سیّدہ عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں:ایک شعبان (المعظم) کی پندرہویں شب‘ حضور نے نماز اَدا فرمائی جس میں مختصر قیام فرمایا جس میں ایک مرتبہ سورة الحمد شریف اور آیات کے لحاظ سے مختصر سورت پڑھی، پڑھنے کے بعد رکوع کیا اور سجدے میں چلے گئے۔ اتنا لمبا سجدہ فرمایا کہ میں نے گمان کیا شاید آپ کی روح پرواز کر گئی ہے تو میں نے آپ کے پاﺅں مبارک کو ہاتھ لگایا تو آپ نے حرکت دی۔ پھر دوسری رکعت میں‘ پہلی رکعت کی طرح قیام اور قرات فرمائی اور لمبے وقت تک سجدہ میں پڑے رہے اور سجدوں میں یہ دُعا پڑھی:۔ ”اے بارِ خدا یا تیرے عفو کی پناہ ڈھونڈتا ہوں تیرے عذاب سے اور تیری رضا کی پناہ ڈھونڈتا ہوں تیرے قہر سے اور تیرے ساتھ تجھ ہی سے پناہ ڈھونڈتا ہوں۔ تیری ذات بزرگ ہے۔ میں تیری صفت وثناءبیان نہیں کر سکتا جیسی تو نے خود اپنی صفت وثناءبیان فرمائی“۔ 
امیر المومنین حضرت سیّدنا ابو بکر صدیق ؓ سے روایت ہے‘ فرماتے ہیں‘ رسول اللہ نے فرمایا:”جب شعبان (المعظم) کی نصف یعنی پندرہویں رات ہوتی ہے۔ اللہ ل آسمان دُنیا پر نزولِ اَجلال فرماتا ہے۔ پھر اپنے بندوں کی بخشش فرما دیتا ہے۔ سوائے مشرک اور اپنے بھائی سے بغض رکھنے والے کے“۔ 
شعبان المعظم کی پندرہویں رات ایک نماز پڑھی جاتی ہے۔ اِس کو صلاة الخیر ” یا نماز خیر“ کہتے ہیں۔ اِس کی سو رکعتیں ہیں جن میں ہزار مرتبہ سورة اخلاص پڑھی جاتی ہے با یں انداز کہ ہر رکعت میں سورة فاتحہ کے بعد 10 مرتبہ سورة اخلاص ، یہ نماز دو دو رکعت کر کے پڑھی جاتی ہے۔ چار چار رکعت کر کے بھی پڑھی جا سکتی ہے۔ مگر چار رکعت کی صورت میں یہ بات یاد رکھیں کہ جب دو رکعت پڑھ کر بیٹھیں تو التحیات پڑھنے کے بعد دُرود شریف اور دُعا بھی پڑھیں اور جب تیسری رکعت شروع کریں تو پہلی رکعت کی طرح اِس میں بھی ثناءپڑھیں لیکن اَعُوذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیطٰنِ الرَّجِیمِ نہ پڑھیں۔ حضرت حسن بصریؒ فرماتے ہیں:- حَدَّثَنِی ثَلَاثُونَ فِی اَصحَابِ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺاَنَّ مَنصَلّٰی ھٰذِہ الصَّلٰوةَ فِی ھٰذِہِ اللَّیلَةِ نَظَرَ اللّٰہُ اِلَیہِ سَبعِینَ نَظرَةً وَّقَضٰی لَہبِکُلِّ نَظرَةٍ سَبعِینَ حَاجَةً اَدنَا ھَا المَغفِرَةُ ۳۲ ”مجھے تیس صحابہ کرامؓ نے اِس نماز کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص اِس رات اِس نماز کو اَدا کرے گا، اللہ ل اُس کی طرف ۰۷ بار نگاہِ کرم فرمائے گا اور ہر نگاہِ کرم کی برکت سے نماز پڑھنے والے کی ستر حاجتیں پوری فرمائے گا۔ اُن حاجتوں میں سے ایک حاجت اُس کی بخشش ہے“۔
 

متعلقہ خبریں