جنگ ہوکے رہے گی

تحریر: فضل حسین اعوان

| شائع اکتوبر 02, 2016 | 08:04 صبح

کالم نگار فضل حسین اعوان....شفق حالات میں ڈرامائی تبدیلی نہیں آتی تومسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے مابین جنگ تقدیر کی طرح اٹل حقیقت بنی نظر آئیگی۔ جس کشمیر کیلئے جنگ ہوگی وہ اور فریقین میں سے ایک یا دونوں کا صفحہ ہستی سے وجود کا معدوم ہوسکتا ہے۔ بھارت کو اسلحہ کے انبار، پاکستان کو معیار پر ناز ہے۔ دونوں طرف سے جنگ کیلئے جذبات اُمڈ رہے ہیں۔ کون کتنے پانی میں ہے: آنکھوں میں آنکھیں ڈلیں گی، پنجہ آزمائی ہوگی تو پتہ چلے گا۔ جنگ کوئی خالہ جی کا باڑا نہیں، اول و آخر تباہی و بربادی ہوتی ک
ا نام ہے۔ مگر ایک فریق دوسرے کیلئے کوئی آپشن ہی نہ چھوڑے توجنگ کے سوا چارہ ہی نہیں رہتا۔ بھارت نے پاکستان کیلئے یہ صورتحال پیدا کردی ہے۔ حالات کو وزیراعظم نریندر مودی تیزی سے جنگ کی طرف لے جارہے ہیں۔ 18اگست کو اُڑی چھائونی میں 4 کشمیری حریت پسندوں کے حملے میں 18 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے۔ ایک رپورٹ کیمطابق ہلاکتوں کی تعداد 177 بتائی گئی ہے۔ مجاہدین نے بھارتی فوج کو سوتے نہیں جالیاتھا۔ اس رات فوجی یونٹوں کا تبادلہ ہورہا تھا۔ عین موقع پر مجاہدین پہنچ گئے۔ بھارت کیلئے اتنی ہلاکتوں کو ہضم کرنا اور اس پر صبر کرنا ممکن نہیں تھا مگر وہ کرے بھی تو کیا کرے۔ پوری وادی میں پہلے ہی مظاہرے ہورہے ہیں، کرفیو لگا ہے، ہڑتالیں جاری ہیں۔ بھارتی فورسز جدید‘ مہلک اسلحہ اور انسانیت کو شرما دینے والے قوانین سے لیس ہے۔ بچوں اور خواتین تک کو پیلٹ گنوں سے اندھا کیا جارہا ہے۔ یہ بربریت تو پہلے سے سوا نیزے پر ہے۔ پاکستان جدوجہد آزادی کی حمایت کرتا ہے۔ بھارت اس آزادی کی جدوجہد کو دہشتگردی قرار دیتا ہے۔ اس حمایت پر وہ پاکستان کو دہشتگرد کہتا اور پوری دنیا میں اس کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے۔ اُڑی حملے کا الزام بھارت نے حسب ِ روایت پاکستان پر لگایا، انتقام انتقام کی آوازیں شدت پسندوں اور متعصب میڈیا کی طرف سے آنے لگیں، 117 لاشیں بھی شمشان گھاٹ میں پڑی تھیں۔ مودی خود پاکستان کی مخالفت اور دشمنی میں جنونی ہیں، اپنے میڈیا اور شدت پسندوں کو مطمئن کرنے اور اپنی انا کی تسکین کیلئے فوج کو سرجیکل سٹرائیک کا حکم دیدیا۔ سورمے اپنی پناہ گاہوں سے نکلے، ایل او سی پر آئے، باڑ عبور کرکے پاکستانی چوکی پر فائرنگ کی، جس میں دو فوجی شہید9زخمی ہوگئے۔ پاک فوج جاگ رہی تھی جوابی فائرنگ میں 14 سورمے ڈھیر ہوگئے۔ بھارت نے پاکستان کی طرف دو ایکڑ جگہ چھوڑ کر باڑ لگائی ہے۔ باڑ کے اوپر جگہ جگہ لائٹیں لگی ہیں اور لوہے کی تاروں میں کرنٹ چھوڑ اگیا ہے۔ پاکستان کی طرف سے باڑ کراس کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تاہم بھارت جب چاہے دراندازی کرسکتا ہے۔ سو اس نے اُڑی حملے کا اپنی دانست میں بدلہ لینے کیلئے دراندازی کی۔ گو باڑ کے اِس طرف، باڑکے ساتھ ساتھ بھارت نے جگہ چھوڑ رکھی ہے۔ جہاں وہ جب اور جیسے چاہے تعمیرات کرسکتا ہے مگر اس کیلئے یہ پٹی محفوظ نہیں ہوسکتی۔ پاکستان صورتحال کشیدہ ہونے پر نقصان پہنچا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرجیکل سٹرائیک کیلئے آنیوالوں کی لاشیں کئی دن وہاں پڑی رہیں۔ اپنے ہی علاقے میں یہ فوجی کھڑے ہوکر سرجیکل سٹرائیک کرکے بھاگ رہے تھے کہ پاک فوج کی فائرنگ کی زد میں آگئے کچھ بھاگ بھی گئے ہونگے، ایک شاید ٹی بی دمے کامریض تھا جو بھاگ بھی نہ سکا، جسے گرفتار کرلیا گیا۔ بھارت کی اس سرجیکل سٹرائیک پر ذہن کبڈی کی طرف چلا جاتا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے ایک کھلاڑی دوسری طرف جاکر بغیر کسی کو ہاتھ لگائے للکارتے مارتے ہوئے واپس آجائے۔ بھارت کا کشمیر پر قبضہ بلاجواز ہے۔ بھارت کے اس مؤقف کو کون درست قرار دیگا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہونیوالے الیکشن استصواب کا بدل ہیں۔ سشما سوراج دنیا کے اس پلیٹ فارم پر کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ کہہ رہی تھیں جس میں مسئلہ کشمیر کے حل کی قراردادیں موجود ہیں۔ ایک متنازعہ علاقے کو کوئی بھی اس کا تصفیہ ہونے تک کیسے اپنا اٹوٹ انگ کہہ سکتا ہے۔ مگر ہندو جنونی لیڈر شپ یہ سب کچھ کہہ رہی ہے۔ مودی گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر پر بھی اپنا حق جتا رہے ہیں۔ پاکستان نے استصواب کی نہ صرف حمایت کی بلکہ اس پر زور بھی دیا ہے۔ کشمیریوں کو اس کا حق دیا جائے، وہ بھارت کے ساتھ جانا چاہیں تو پاکستان اسکی مخالفت نہیں کریگا۔ مگر بھارت اس طرف نہیں آتا پھر اس کا حل کیا رہ جاتا ہے۔ تنگ آمد بجنگ آمد آج پاکستان اور بھارت کی فوجیں کیل کانٹے سے لیس کھڑی ہیں۔ مودی نے ایل او سی پر فوج لگا دی اور دس ہزار دیہات خالی کرالئے ہیں، مودی کا ہر قدم جنگ کی طرف اُٹھ رہا ہے۔ پاکستان بھی تیار ہے۔ گزشتہ دنوں میں ریڈیو پر ایک رپورٹ سن رہا تھا کہ بھارت کا کونہ کونہ پاکستان کے ایٹمی میزائلوں کی رینج میں ہے۔ چند میٹر سے 4 ہزار پانچ سو کلومیٹر تک مار کرنیوالے ایٹمی میزائلوں کاپاکستان کامیاب تجربات کرچکا ہے۔ آخری میزائل کی تفصیلات جو یاد رہ گئیں وہ یوں ہیں ۔ اس میزائل کا وزن 25 ہزار کلوگرام،جی ہاں! 25,000 کلوگرام اور لمبائی 18میٹر ہے۔ آج پاکستان بھارت کشیدگی ایک بار پھر عروج پر ہے۔ اعتزازاحسن کہتے ہیںکہ ایسا نہ ہو بھارت کی جانب سے ایل او سی پر کشیدگی بڑھانا پانامہ لیکس سے توجہ ہٹانے کیلئے ہو۔ شیخ رشید نے کہا ایل او سی پر سرجیکل آپریشن عمران خان کے جلسے میں لوگوں کو شرکت سے روکنے کیلئے کیا گیا۔ یہ انکی اور ان جیسے کئی لوگوں کی رائے ہوسکتی ہے۔ مگر اقتدار پانے اور بچانے کیلئے کسی بھی حد تک چلے جانا ہمارے اکثر سیاستدانوں کی ذہنیت اور وطیرہ ہے۔ اب جنگ کے بادل چھٹتے نظر آرہے ہیں۔ ایک خبر کے مطابق مودی کی طرف سے کشیدگی میں کمی کیلئے اسلام آباد سے رابطہ کیا گیا ہے۔ اگر اب جنگ ہوئی تو پانی پر ہوسکتی ہے۔ بھارت پاکستان کا پانی روکنا چاہتا ہے مگر سندھ طاس معاہدہ آڑے آرہا ہے۔ ایوب خان نے یہ تو اچھا کیا کہ سندھ طاس معاہدے میں ورلڈ بنک کو ضامن بنوالیا۔ عمران اب تک کہتے رہے‘ قومی مفاد میں ہم متحد ہیں۔ رائیونڈ کے کامیاب جلسے میں عمران نے مودی کو للکارتے ہوئے کہا ہر پاکستانی نوازشریف کی طرح بزدل نہیں جبکہ یواین میں نوازشریف کی تقریر کو کہا کہ جنرل راحیل نے لکھوائی۔ یہ سب نان سنس ہے ۔ قومی مفاد میں آپ کس کی قیادت میں متحد ہیں؟ نوازشریف دشمنی میں اس حد تک نہ جائیں کہ دشمن کو نفاق اور انتشار کا پیغام جائے۔ فی زمانہ جنگ کا خطرہ نہیں مگر یہ خطرہ بدستور برقرار رہے گا۔ پاکستان میں جب بھی کوئی سر پھرا کشمیر اور کشمیریوں کیلئے کمٹڈ حکمران آگیا کشیدگی کی چنگاری جنگ کا شعلہ اور پھر الائو بن جائیگی۔ مسئلہ کشمیر کا پرامن حل نہیں نکلتا تو جنگ ہوکے رہے گی۔ بھارت میں کوئی شدت پسند کے بجائے حقیقت پسند اور جرأت مند حکمران آجائے تو ہی جنگ کے بادل ہمیشہ کیلئے چھٹ سکتے ہیں۔