جنرل صاحب! خدا حافظ

2016 ,اکتوبر 26



پاکستان میں کئی آرمی چیف آئے اور گئے اعلیٰ کارکردگی اور حسن کردار نے چند ایک کو عوام کے دل میں بسا لیا، کچھ عوامی سطح پر معتوب بھی ہوئے۔ ایسے بھی گزرے ہیں جو پہلے محبوب اور امیدوں پر پورا نہ اترنے پر مغضوب ہوئے۔ جنرل مسروی اور جنرل راحیل شریف صرف آرمی چیف ہی نہیں قوم کے محسن بھی ہیں۔ جنرل مسروی پاکستان کے پہلے آرمی چیف تھے۔ آج آزاد کشمیر کی شکل میں جو خطہ موجود ہے۔ اس میں جنرل مسروی کی پلاننگ اور پیشہ ورانہ دیانت شامل ہے۔ انکی ریٹائرمنٹ کی وجہ بھی اس علاقے کی آزادی میں انکا کردار تھا۔ انکی جگہ جنرل گریسی کو لایا گیا تو گریسی نے جنرل مسروی کی پلاننگ کو جاری نہ رکھا حتیٰ کہ قائد اعظم کے مقبوضہ کشمیر پر حملہ کے حکم سے انکار کر دیا اور اسکی وجہ بتائی کہ پاکستان بھارت فوج کا کمانڈر فیلڈ مارشل ایکنلک ہے۔ اسکی کمانڈ میں انگریز کمانڈر ایک دوسرے کیخلاف کیسے لڑ سکتے ہیں۔ اسی فیلڈ مارشل نے جنرل مسروی کو اس بناء پر ریٹائر کر دیا تھا کہ اس نے کشمیر کی آزادی کی منصوبہ بندی سے اپنے کمانڈر کو آگاہ نہیں کیا۔ جنرل مسروی کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کے گورنر جنرل کے احکامات کے پابند اور انہی کو جواب دہ تھے۔

جنرل مسروی کا جاں نشیں ان جیسا ہوتا تو یقیناً کشمیر کی صورتحال وہ نہ ہوتی جو آج ہے۔ جنرل مسروی کو ہٹایا اور گریسی کو لگایا ہی کشمیر کی طرف مجاہدین کی پیش بندی روکنے کیلئے تھا۔ اس دور میں کمانڈر انچیف کی تعیناتی کا طریقہ جو بھی تھا بہرحال ایسا نہیں تھا جیسا آج ہے۔ اب تو فوج باقاعدہ ایسا ایک ادارہ ہے جس میں کمانڈر مل بیٹھ کر پلاننگ کرتے ہیں۔ ایسی پلاننگ صرف کمانڈر کی پلاننگ نہیں فوج کی پلاننگ ہوتی ہے۔ فوج میں آرڈر چلتا ہے۔ آرڈر پر صرف یس کہنا ہوتا ہے۔ اگر کمانڈر اور ماتحت کے مابین ہم آہنگی نہیں تو کمانڈ بدلنے کیساتھ ہی نئے کمانڈر کی مرضی، وہ پلاننگ کو جاری یا نہ رکھے۔

آج جنرل راحیل شریف نہ صرف فوج بلکہ عوام میں کسی بھی سیاستدان سے بڑھ کر مقبول ہیں۔ ایسا مقام و احترام خال ہی کسی کمانڈر کے حصے میں آتا ہے۔ کچھ سیاستدان بلاشبہ جنرل کے حاسد ہونگے اور جن پر ضرب عضب کی بلاواسطہ زد پڑی ہے وہ اندر ہی اندر تلملا رہے ہیں مگر جنرل کو عوام میں چونکہ ہیرو کی سی پذیرائی حاصل ہے اس لئے یہ طبقہ بھی دل کی بات زبان پر لانے سے گریز کرتا ہے۔ جنرل راحیل شریف نے کچھ جرنیلوں کو کرپشن پر فارغ کیا۔ اس پر فوج کے اندر کچھ بے چینی میڈیا میں تشہیر کی وجہ سے پائی جاتی ہے۔ مگر فوج میں بھی جنرل کی مقبولیت کم نہیں ہے۔

آج کہیں سے آواز آرہی ہے جنرل راحیل شریف کو فیلڈ مارشل بنا دیا جائے۔ جنرل کیانی کی چھ سالہ بطور آرمی چیف مدت کے خاتمے پر بھی ایسے مشورے سامنے آئے تھے۔ انکو سپر کمانڈر کا نیا عہدہ تخلیق کر کے اس پر لانے کی تجاویز بھی دی گئیں۔ ایسی تجاویز اور آوازوں کی حیثیت حاشیہ برداری اور چاپلوسی سے زیادہ نہیں۔ ملک میں جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع کا تو ایک غوغا ہے۔ سب سے بڑی دلیل دی جاتی ہے کہ جنگ میں کمانڈر تبدیل نہیں کئے جاتے۔ پاک فوج ضرب عضب میں مصروف ہے۔ یہ آپریشن بارڈر پر لڑی جانیوالی جنگ کی طرح کا نہیں۔ جنگ کے دوران تو سپاہی کو بھی محاذ سے واپس بلا کر ریٹائر نہیں کیا جاتا۔ فوج سے تو موجودہ حالات میں بھی جرنیل تک اپنی مدت پوری ہونے پر ریٹائر ہو رہے ہیں۔ جنرل راحیل شریف اس سال کے آخر تک دہشتگردوں کے مکمل خاتمے کا اعلان کر چکے ہیں۔ اس پر اسلئے بھی یقین کر لینا چاہئیے کہ آج دہشتگردی کی صورتحال تین سال قبل جیسی نہیں ہے۔گو کہ دہشتگرد اب بھی موقع ملتے ہی کاری ضرب لگا جاتے ہیں۔ اسکی ایک مثال کوئٹہ پولیس ٹریننگ کالج پر ہولناک حملہ ہے جس میں 65 جوان شہید اور 110 زخمی ہو گئے، تین دہشتگردوں کو بھی ہلاک کردیا گیا۔ بالفرض دہشتگردی کیخلاف پاکستان کے اندر لڑی جانیوالی جنگ طوالت اختیار کر کے برسوں پر محیط ہو جاتی ہے تو کیا فوج کا ایک ہی کمانڈر رہیگا؟ سری لنکا میں ایسی جنگ کا منطقی انجام 25 سال بعد ہوا تھا۔

جنرل راحیل شریف جن کو ’’آج‘‘ قوم میں ہیرو کا درجہ حاصل ہے۔ کسی بھی سطح پر انکے خلاف کوئی بات کرنے کی جرأت کرتا ہے اور نہ سننا گوارہ کرتا ہے۔ بالکل، ہاں بالکل، ایسا ہی ایوب خان، ضیاء الحق اور مشرف کا ٹیک اوور کے موقع پر عوام میں عمومی احترام تھا پھر انجام اور آج انکا احترام کتنا اور مقام کیا ہے؟ جنرل راحیل شریف اکثر پاکستانیوں کے دل میں مندر اور مسجد کیطرح بسے ہوئے ہیں۔ وہ آج ٹیک اوور کر لیں تو ہر طرف شادیانے بجتے اور مٹھائیاں تقسیم ہوتی نظر آئینگی۔ اسی طرح جیسے ایوب، ضیاء اور مشرف کے ٹیک اوور پر ہوئی تھیں مگر اسکے بعد ان کمانڈروں کیساتھ جو ہوا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔

جنرل راحیل شریف کامیاب کمانڈر اور ہر دلعزیز بھی ہو گئے ہیں مگر وہ سیاست کی بھول بھلیوں اور سیاستدانوں کی چکر بازیوں کو سمجھ نہیں پائیں گے۔ آج وہ تحریم و تکریم کی جس معراج پر ہیں، اسی کے ساتھ ریٹائرمنٹ لے لیں، قومی معاملات میں بہتری کیلئے تھنک ٹینک بنائیں، خود کو سیاست سے دور رکھیں۔

قوم کو ان جیسا کمانڈر چاہئیے۔ ایسا کمانڈر تیار کرنا انکی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اپنے ساتھی کمانڈروں کی مشاورت سے اب تک معاملات چلائے ہیں تو یقیناً یہ فوج کی پالیسی بن چکی ہے۔ جو بھی کمانڈر آئیگا وہ اس پالیسی کو فالو کریگا۔ وزیراعظم کو فوجی سربراہان کی تقرری کا اختیار ہے۔ وہ اپنا اختیار استعمال کرینگے اور پہلے بھی کر چکے ہیں۔ اس پر کسی کو پریشان ہونیکی ضرورت نہیں، انہوں نے کمانڈر فوج ہی سے لینا ہے۔ پہلے وہ ڈی میرٹ کا خمیازہ بھگت چکے ہیں۔

قوم کے دل میں بسنے کیلئے بڑا کمانڈر بننا اور طویل کمانڈری ضروری نہیں، ایم ایم عالم، جنرل ٹکا خان آج بھی اکثر پاکستانیوں کے دلوں میں بستے ہیں۔ جنرل راحیل شریف اپنے عہد اور قول کے پکے ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے نومبر میں ریٹائر ہونے کا وعدہ کیا تھا وہ اسکو نبھائیں، حکومت مدت ملازمت میں توسیع دے تو بھی معذرت کر لیں۔ ہم دلوں میں انکی مورتی بسائے رکھنا چاہتے ہیں۔ جرنیل سیاست میں آئے تو ہم ایسی قوم ہیں احترام کے اولیٰ مقام سے گرا کر مورتی کو پتلا بنا دیتے ہیں۔ سو جنرل صاحب! خدا حافظ۔

 

متعلقہ خبریں